
آج ہر طاقتور ملک قدرتی وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ چاہتا ہے
انسان کا تو بس ایک ہی مسئلہ ہے… کمیاب وسائل اور بے حساب مسائل۔ انسان ہو یا معاشرہ، مملکت ہو یا کوئی بین المملکتی اتحاد… سبھی کو اِس انتہائی بنیادی مسئلے کا ہر وقت سامنا رہتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں جتنی بھی کشمکش ہے، جتنی بھی لڑائیاں، خانہ جنگیاں اور جنگیں ہیں وہ سب کی سب اس ایک انتہائی بنیادی مسئلے سے جڑی ہوئی ہیں۔
آج کی دنیا میں قدرتی وسائل کی اہمیت غیر معمولی درجے کی ہوچکی ہے۔ ہر ملک کو ڈھنگ سے جینے کے لیے توانائی کی بھی ضرورت ہے اور ایسی معدنیات کی بھی جو صنعتوں میں بنیادی خام مال کا درجہ رکھتی ہیں۔ امریکہ، چین، جاپان، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، برازیل، بھارت اور دیگر ترقی یافتہ و ترقی پزیر ممالک کو معدنیات کی بہت بڑے پیمانے پر ضرورت پڑتی ہے۔ یہ ضرورت چونکہ مستقل نوعیت کی ہے اِس لیے لازم ہے کہ سپلائی لائن میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
ہر ترقی یافتہ ملک کو اپنی مینوفیکچرنگ مشین چالو حالت میں رکھنے کے لیے بہت بڑے پیمانے پر خام مال درکار ہوتا ہے۔ امریکہ، چین اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی فولاد کی صنعت کو مستحکم رکھنے کے لیے خام لوہے کی فراہمی کا جاری رہنا لازم ہے۔ چین نے افریقہ میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرکے معدنیات کے ذخائر کا حصول یقینی بنایا ہے۔ وہ کئی افریقی ممالک کے وسیع علاقوں پر تصرف کا اختیار حاصل کرچکا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اسے بڑے پیمانے پر تیل بھی تواتر سے درکار ہوتا ہے۔ اِس کے لیے اُس نے خلیجی ممالک اور سعودی عرب سے معاہدے کررکھے ہیں۔
فی زمانہ بہت سے معاملات پر بڑے ملکوں کے درمیان طرح طرح کے اختلافات اور تنازعات پائے جاتے ہیں۔ خام مال اور تیل کی رسد کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ ہر بڑا ملک چاہتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مقدار میں تیل اور معدنیات کا حصول یقینی بنائے اور دیگر بڑے ممالک کو ایسا کرنے سے روکے۔ اِس وقت شمالی امریکہ اور یورپ مل کر چین کی راہ روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یورپ معاملات کو سمجھ چکا ہے اور امریکہ کا ساتھ دینے کے معاملے میں زیادہ پُرجوش نہیں، تاہم اُس کی بھی خواہش ہے کہ چین کا زور ٹوٹے۔ ہاں، وہ کسی عسکری تنازع کا فریق نہیں بننا چاہتا۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کو بھی اِسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کو کنٹرول کرکے امریکہ دراصل چین کو ناکوں چنے چبوانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیل کی کچھ زیادہ ہم نوائی کرکے بھارت بھی اِس معاملے میں خواہ مخواہ فریق بننے کی کوشش کررہا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ پوری دنیا ہی جنگ کی سی صورتِ حال میں گھرگئی ہے۔ ایک دور تھا کہ جب زمانے دو قسم کے ہوا کرتے تھے۔ ایک جنگ کا زمانہ اور دوسرا امن کا۔ اب وہ تخصیص اور امتیاز ختم ہوچکا ہے۔ جنگ کا زمانہ گزرنے کے بعد جنگ کی تیاریوں کا زمانہ ہوا کرتا تھا۔ وہ معاملہ بھی ختم ہوچکا۔ اب صرف جنگ کا زمانہ چلتا رہتا ہے۔ ہر ملک کسی نہ کسی حوالے سے محاذ پر ہی رہنے لگا ہے۔ بڑے ممالک کو اپنی بڑائی برقرار رکھنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑرہا ہے، اور چھوٹے ممالک کے لیے سلامتی اور سالمیت برقرار رکھنا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ایک طرف یوکرین میں وہ جنگ جاری ہے جو روس نے مسلط کی ہے اور دوسری طرف غزہ کی تباہی کے بعد اب اسرائیل اور امریکہ مل کر ایران کو کچلنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ یہ تو ہوئی جنگوں کی بات۔ اور خانہ جنگیاں؟ الحفیظ والاماں! دنیا بھر میں خانہ جنگیاں ہورہی ہیں۔ افریقہ اِس معاملے میں ’’مالامال‘‘ ہے۔ ایشیا میں بھی بہت سے ممالک خانہ جنگی یا خانہ جنگی کی سی کیفیت کا شکار ہیں۔ بیسیوں ممالک میں ریاستی ڈھانچے سے ٹکرانے والے ایسے عسکریت پسند گروپ ہیں جو ملک کا امن و سکون غارت کیے رکھتے ہیں۔
ہر طرف قتل و غارت دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں کوئی جنگ چل رہی ہے نہ خانہ جنگی، وہاں بھی لوگ شدید خوف زدہ ہیں۔ وہ یہی سوچتے رہتے ہیں کہ خدا جانے کب قتل و غارت کا سلسلہ اُن کے گھروں تک پہنچ جائے۔ یہ سب کچھ ہورہا ہے مگر جنگ اور خانہ جنگی کے حقیقی محرکات کے بارے میں کم ہی لوگ سوچتے اور معاملات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
جنگوں اور خانہ جنگیوں کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں۔ کوئی چاہتا ہے کہ شر کے خلاف برسرِ پیکار ہوکر خیر کو پھیلنے میں مدد دے۔ کوئی ملک چاہتا ہے کہ پوری دنیا کی سربراہی اُس کے ہاتھ لگے۔ کوئی بہت زیادہ طاقتور ہونا چاہتا ہے تو کوئی اپنے دشمنوں کو سبق سکھانے کی غرض سے جنگ کے میدان میں قدم رکھتا ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں ہمیں جنگ کے مختلف محرکات دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری جنگ ِ عظیم میں امریکہ نے فیصلہ کن فتح یقینی بنانے کے لیے انتہائی اوچھی حرکت کی، یعنی دو جاپانی شہروں پر ایٹم بم گرا دیے۔ لاکھوں افراد ہلاک ہوئے اور دوسرے لاکھوں زخمی ہوئے۔ تابکاری کے اثرات اُن لوگوں کی نسل میں آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔ اِس کے بعد تو ایٹمی ہتھیاروں سے انسانیت کو نفرت ہوجانی چاہیے تھی، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کی دوڑ مزید تیز ہوتی گئی ہے۔ دنیا بھر میں یہ تصور عام ہے کہ ایٹمی ہتھیار سے بڑھ کر ردِّ جارحیت کچھ بھی نہیں۔ بڑی طاقتوں کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیار کھلونوں کی سی شکل اختیار کرگئے ہیں۔
ایک زمانہ تھا کہ جنگ زمین پر لڑی جاتی تھی۔ پھر سمندروں میں بھی دادِ شجاعت دی جانے لگی۔ اِس کے بعد گزشتہ صدی میں فضائی معرکہ آرائی کا دور شروع ہوا۔ اب جنگ کا بیشتر حصہ فضائی اور خلائی لڑائی پر مشتمل ہے۔ زمینی جنگ یا دوبدو لڑائی کا زمانہ گیا۔ فضائی جنگ میں جو جتنا زیادہ ماہر ہوتا ہے اُس کی فتح کا امکان اُسی قدر قوی ہوتا ہے۔
ویسے تو خیر ہر دور میں جنگ کسی نہ کسی بڑے اور واضح مفاد کے تحت ہی لڑی جاتی رہی ہے، مگر آج کی جنگ خالص کاروباری معاملہ بن کر رہ گئی ہے۔ چین کو افریقہ سے بڑے پیمانے پر معدنیات درکار ہیں۔ وہ بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری بھی کرچکا ہے۔ امریکہ اور یورپ اِس خطے میں خانہ جنگیوں کی آگ بھڑکائے رہتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے چین کی راہ میں دیواریں کھڑی ہوتی ہیں۔ جہاں ٹیرف سے کام چل سکتا ہے وہاں ٹیرف لگائے جاتے ہیں، مگر جب یہ حربہ کام نہیں کرتا تو خانہ جنگی کروائی جاتی ہے تاکہ ملک اندرونی طور پر کمزور ہوجائے۔
آج کی سیاسی بحث میں ہمیں جیو پالیٹکس کی اصطلاح بہت سنائی دیتی ہے۔ بات کچھ یوں ہے کہ آج ہر طاقتور ملک قدرتی وسائل میں زیادہ سے زیادہ حصہ چاہتا ہے۔ معاملات خریداری سے کہیں آگے بڑھ کر قبضے تک پہنچ چکے ہیں۔ عراق کو خانہ جنگی کے ذریعے تباہ کرکے اُس کے تیل پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔ یہی معاملہ لیبیا کے ساتھ بھی کیا گیا۔ شمالی امریکہ اور یورپ نے مل کر ایسے حالات پیدا کیے ہیں کہ بیشتر ترقی پزیر اور پس ماندہ ممالک اپنے قدرتی وسائل کو اپنی مرضی سے نکال سکتے ہیں نہ بیچ سکتے ہیں۔ اُن کے قدرتی وسائل کی برآمد سے ہونے والی آمدنی میں بڑا حصہ مغربی ممالک لے اُڑتے ہیں۔ امریکہ اور یورپ اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ جن ممالک کو وہ کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے اُن سے خام تیل اور معدنیات بھی نہ خریدی جائیں۔ روس اور ایران سے تیل خریدنے کی صورت میں بہت سے ملکوں کو تادیبی نوعیت کے اقدامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حد یہ ہے کہ جب عمران خان نے روس جاکر خام تیل خریدنے کی بات کی تو اقتدار ہی سے ہاتھ دھونا پڑے۔ امریکہ نے حال ہی میں وینزویلا پر ہاتھ ڈالا ہے۔ اُس کے صدر کو گرفتار کرنے کے بعد اُس کے تیل کے کنوئوں پر قبضہ کرلیا گیا۔ مقصد صرف یہ تھا کہ وینزویلا کا تیل امریکہ کی مرضی سے فروخت ہو اور اُس کی آمدنی میں امریکہ کا حصہ بہت نمایاں ہو۔
امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک پس ماندہ ممالک میں پائے جانے والے قدرتی وسائل پر اپنا زیادہ سے زیادہ تصرف یقینی بنانے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ چین اس معاملے میں دولت کو بروئے کار لارہا ہے، جبکہ امریکہ صرف طاقت استعمال کررہا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے قدرتی وسائل کو خریدنے کی سکت نہیں رکھتا اِس لیے آئی ایم ایف، عالمی بینک اور دیگر عالمی اداروں کا نیٹ ورک استعمال کرکے متعلقہ ملک کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل مغربی اور بالخصوص امریکی اداروں کے ذریعے نکالے اور اُن کی فروخت میں اِن اداروں کی رائلٹی غیر معمولی نوعیت کی ہو۔ ترقی پزیر ممالک خام تیل صاف کرنے کے کارخانے لگاکر بھی بہت کچھ حاصل کررہے ہیں۔ تیل صاف کرنے کے عمل میں بچ رہنے والے کچرے سے بھی بہت کچھ تیار ہوتا ہے اور ملک میں ہزاروں لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔
جیو پالیٹکس کے نئے پہلو سامنے آتے رہتے ہیں۔ اِس وقت جیو پالیٹکس کا سب سے نیا یا تازہ ترین پہلو معدنیات ہے۔ دنیا بھر میں کمیاب معدنیات کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ چین، امریکہ، کینیڈا اور یورپی ملکوں کو زیادہ سے زیادہ مقدار میں کمیاب معدنیات (Rare Earths) درکار ہیں۔ یہ معدنیات الیکٹرانکس آئٹمز میں استعمال ہوتی ہیں۔ چین کی ضرورت اِس معاملے میں بہت زیادہ ہے۔
1787ء میں سوئیڈن کے ایک اعلیٰ فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل ایکسیل ارینیوس نے کمیاب معدنیات کا تصور دیا تھا اور دنیا کو بتایا تھا کہ ایک زمانہ آئے گا جب بہت کم مقدار میں پائی جانے والی بعض معدنیات کی طلب اِس قدر بڑھے گی کہ اِس معاملے پر جنگوں کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکے گا۔ اِس کے بعد 1803ء میں جرمنی کے جان جیکب نے خام شکل میں سیریم دریافت کیا جو انتہائی کمیاب معدنیات میں سے ہے۔ ماہرین کی تحقیق اور عملی کاوشوں کے نتیجے میں کمیاب معدنیات دریافت ہوتی گئیں اور اُن کی صنعتی اہمیت میں اضافہ ہوتا گیا۔ سیریم کے علاوہ نیوڈیم، لانتھانیوم، ایٹربیم، پراسوڈیم، سماریم اور پرومیتھیم کا شمار کمیاب ترین معدنیات میں ہوتا ہے جن کے حصول کا معاملہ اب تصادم کی راہ پر گامزن ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ دیگر اہم معدنیات میں اسپینڈیم، ڈسپروسیم، ٹربیم، یوروپیم اور کوبالٹ نمایاں ہیں۔ اِس وقت سب سے کمیاب معدنی شے کیاتھوآئٹ (Kyawthuite) سمجھی جاتی ہے۔ دنیا بھر میں کمیاب معدنیات کے ذخائر کا حجم 130 ملین ٹن بتایا جاتا ہے۔
امریکہ، چین اور دیگر بڑے ترقی یافتہ ممالک زیادہ سے زیادہ مقدار میں کمیاب معدنیات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ معاملہ کشیدگی بھی پیدا کررہا ہے۔ امریکہ نے اس معاملے کو اسٹرے ٹیجک معاملات سے جوڑ دیا ہے۔ وہ ہر حریف کو اپنی سلامتی اور بقا کے لیے خطرہ قرار دینے پر تُلا ہوا ہے۔ امریکہ چند معدنیات چین سے بھی حاصل کرتا ہے۔ اِس کے لیے اُسے ٹیرف کے ہتھیار کو ایک طرف رکھنا پڑا ہے۔
آج چین کی بھرپور ترقی اور خوش حالی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ اُس کے پاس صنعتی استعمال کے لیے نہایت اہم گردانی جانے والی معدنیات کے ذخائر بہت بڑے پیمانے پر ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بہت سے پس ماندہ ممالک سے یہ معدنیات حاصل کرنے کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اِس کے لیے وہ بہت سے دائو پیچ استعمال کرتا ہے۔ چین نے افریقہ میں بہت بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اب دوسرے خطوں میں بھی سرمایہ کاری پر کمربستہ ہے۔ امریکہ اور یورپ کو یہ بات بہت کَھل رہی ہے۔ وہ چین کو اس معاملے میں بہت پیچھے رکھنا چاہتے ہیں مگر ایسا ہو نہیں پارہا۔ چین ایک طرف منگولیا سے اور دوسری طرف میانمر (برما) سے بھی زیادہ سے زیادہ معدنیات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اِس وقت دنیا بھر کے 195 میں سے صرف 36 ملکوں میں کمیاب معدنیات کے ذخائر ہیں۔ اِن میں سے بھی نصف ممالک کے پاس 2 فیصد سے بھی کم ذخائر ہیں۔ ایسی تھوڑی بہت معدنیات پاکستان میں بھی ہیں تاہم بنگلادیش، بھوٹان، نیپال، مالدیپ وغیرہ اِس معاملے میں غیر اہم ہیں۔
آخر دنیا بھر میں کمیاب معدنیات کے حصول کی دوڑ اِتنی شدت کیوں اختیار کرگئی ہے؟ بات یہ ہے کہ یہ معدنیات الیکٹرانکس آئٹمز کے علاوہ ڈرون، روبوٹس، اسمارٹ فون، برقی گاڑیوں، بیٹری، ایل ای ڈی لائٹس، ایٹمی بھٹی، سینسرز، جنگی جہازوں، مواصلاتی سیاروں، مشینوں، آلات، ہوا سے چلنے والے بجلی گھروں، دوائوں اور کھانے پینے کی بہت سی اشیا تیار کرنے والی صنعتوں میں بھی استعمال ہوتی ہیں۔
آئیے، دیکھتے ہیں کہ کہاں کمیاب معدنیات کتنی ہیں۔ چین میں ان معدنیات کے ذخائر 4 کروڑ 40 لاکھ ٹن، برازیل میں 2 کروڑ 10 لاکھ ٹن، بھارت میں 69 لاکھ ٹن، آسٹریلیا میں 57 لاکھ ٹن، روس میں 38 لاکھ ٹن، ویت نام میں 34 لاکھ ٹن، امریکہ میں 19 لاکھ ٹن، کینیڈا میں 15 لاکھ ٹن اور تنزانیہ میں 10 لاکھ ٹن ہیں۔
امریکہ نے 1859 ء میں زمین سے تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو اِس کے نتیجے میں دنیا بھر میں صنعتی سطح پر ایک انقلاب برپا ہوا۔ امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں نے پس ماندہ ممالک میں خام تیل اور گیس کی تلاش کے ساتھ ساتھ معدنیات کی تلاش اور کھدائی کا کام سنبھالا اور بھاری رائلٹی بٹورنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ پس ماندہ ممالک محض تیل بیچ کر خوش حالی یقینی بنانے میں لگے جبکہ بہت سے ترقی پزیر ممالک نے تیل صاف کرنے کے کارخانے لگاکر اپنے ہاں کئی ذیلی صنعتیں کھڑی کرلیں۔
اس وقت کمیاب معدنیات سولر پینلز، برقی گاڑیوں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے کارخانوں، توانائی کو ذخیرہ کرنے والی چیزوں اور مختلف معدنیات کو ملاکر کچھ نیا بنانے کے عمل میں استعمال کی جارہی ہیں۔ دفاعی ساز و سامان میں بھی کمیاب معدنیات استعمال ہوتی ہیں۔ ماس ٹرانزٹ کی گاڑیوں میں بھی یہ معدنیات بڑے پیمانے پر استعمال کی جارہی ہیں۔ دوائوں، کاسمیٹکس اور دوسری بہت سی چیزوں کی تیاری میں بھی کمیاب معدنیات کام کی ثابت ہوئی ہیں۔
آئیے، کمیاب معدنیات کے استعمال پر ایک نظر ڈالیں۔ نیوڈیم برقی گاڑیوں، وِن ملز، ہیڈ فون، دوائوں، پیلے رنگ کا شیشہ بنانے اور ویلڈنگ کے شیشے بنانے میں استعمال ہوتا ہے۔ سیریم کی افادیت جان کر تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ سیریم کو سیریم آکسائڈ بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ ڈیزل میں شامل کرنے سے ڈیزل کے سالمے کم پیدا ہوتے ہیں۔ شیشے پر کی جانے والی پالش میں بھی سیریم استعمال ہوتا ہے۔ ایلومینیم، میگنیشیم اور فولاد بنانے کے علاوہ سیریم کو لائٹر، ٹیلی وژن، فلوریسنٹ لائٹس اور دیگر بہت سی اشیا کی تیاری اور جھلسے ہوئے لوگوں کو انفیکشن سے بچانے کے لیے تیار کیے جانے والے مرہم میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
لانتھانیوم بالعموم شیشہ، برقی گاڑیوں کی بیٹری، تیل صاف کرنے کے کارخانوں، فولاد کی مضبوطی، بجلی کے آلات، پانی سے فاسفیٹ دور کرنے اور گردوں کی دوائیں تیار کرنے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اِسی طور لانتھانیوم، پیسوڈیم، سماریم، ڈایاسپوزیم، گیڈولینیم، ٹربیم، یوروپیم، اسپینڈیم، ڈسپروزیم، کوبالٹ اور کواتھوآئٹ جیسی معدنیات بھی بہت سی چیزوں کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔ بہت سے ممالک کمیاب معدنیات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیشِ نظر اس حوالے سے تحقیق پر زیادہ فنڈنگ کررہے ہیں۔



