
یہ کیس واضح کرتا ہے کہ سرداری اور وڈیرہ شاہی نظام میں انصاف مظلوم کے حق میں ہونے کے بجائے طاقتور کے اثر رسوخ کے تابع ہوجاتا ہے
آج کا حُسین اور آج کی زنیب دونوں کربلا میں آج بھی اکیلے ہیں۔ عوام طاقت وروں کے ساتھ مل کر مظلوم کی شکست کا جشن منارہے ہیں۔ اور یہی حال ہمارے عدالتی اور سیاسی نظام کا بھی ہے۔
قیام پاکستان کے بعد عدلیہ نے نہ جانے کتنے ’’اہم‘‘ مقدمات کا بوجھ اٹھایا ہے، جیسے لیاقت علی خان، مرتضیٰ بھٹو، بے نظیر بھٹو، ناظم جوکھیو، اور ام رباب کے کیسز۔ اور نتیجہ؟ عدالتیں بڑی سنجیدگی سے اعلان کرتی ہیں ’’کیس کمزور تھا‘‘۔
واہ، کیا خوب فیصلہ ہے! کیس کمزور تھا تو ظاہر ہے عوام کا وقت، وکیلوں کی راتیں، بیوروکریسی کی مشقت اور شہریوں کے پیسے سب بیکار گئے۔ لیکن فکر نہ کریں، یہ سب تو معمول کی بات ہے۔ آخر انصاف کے لیے قربانی دینا ہی مقدس عمل ہے، چاہے یہ قربانی صرف سائل کی جیب اور اعتماد کی صورت میں ہو۔
ایسی ہی بے مثال جدوجہد کا مظہر ہے ام رباب چانڈیو کا کیس۔ 17 جنوری 2018ء کو سندھ کے ضلع دادو کے علاقے میہڑ میں کرم اللہ چانڈیو، اُن کے والد غلام مرتضیٰ چانڈیو، اور بھائی کامران چانڈیو کو دن دہاڑے ان کے گھر کے قریب قتل کردیا گیا۔ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ یہ قتل سردارانہ نظام کے خلاف مزاحمت کے سبب ہوئے، کیونکہ مقتولین ایک متبادل تمندار کونسل بنانے کی کوشش کررہے تھے۔
واقعے کے وقت ام رباب کی عمر صرف 19 یا 20 سال تھی، لیکن انہوں نے نہ صرف اپنے خاندان کے لیے، بلکہ انصاف کے نظام کے لیے ایک طویل اور بے خوف قانونی جنگ شروع کی۔ انہوں نے پولیس، عدالتوں اور بااثر سیاسی عناصر کے خلاف مقدمے کی پیروی کی، جبکہ نامزد ملزمان میں بااثر شخصیات بھی شامل تھیں، جنہیں عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری مل گئی۔
ام رباب نے بارہا الزام لگایا کہ تفتیش میں دانستہ سستی برتی گئی، شواہد کمزور کیے گئے اور بعض ملزمان کو تحفظ فراہم کیا گیا۔ انہیں اور ان کے خاندان کو دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ایک موقع پر وہ عدالت میں ننگے پیر پیش ہوئیں، جو انصاف کی جدوجہد میں ان کی بے سروسامانی کا واضح اظہار تھا۔
مقدمہ مختلف عدالتوں میں منتقل ہوتا رہا، انسدادِ دہشت گردی عدالت سے سیشن کورٹ دادو منتقل ہوا، جس سے مقدمے کی طوالت اور سست روی مزید بڑھ گئی۔ آخرکار 30 مارچ 2026ء کو دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے تمام ملزمان کو بری قرار دیا، لیکن اس کے ساتھ عدالت نے دراصل فیصلہ نہیں بلکہ ایک ’’سرٹیفکیٹ‘‘ دیا کہ جسے چاہو قتل کرو، جسے چاہو یرغمال بنا لو۔ یہ آٹھ سال کی جدوجہد، عوام کے وقت اور وسائل کی قربانی، محض کاغذی تسلیم کی صورت میں بدل گئی۔
اس واقعے کے پس منظر میں زمین اور مقامی وسائل پر تنازع بھی اہم عنصر تھا۔ ام رباب کے والد، دادا اور بھائی نے علاقے میں ایک متبادل تمندار کونسل قائم کرنے کی کوشش کی، تاکہ مقامی زمین، پانی اور انتظامی وسائل کے فیصلے خود کیے جا سکیں اور طاقتور سرداروں کے قبضے کو محدود کیا جا سکے۔ یہ اقدام روایتی سردارانہ نظام کے لیے براہِ راست خطرہ تھا، کیونکہ اس سے ان کے اثر رسوخ اور کنٹرول پر سوال اٹھتا تھا۔ علاقے میں زمین کے تنازعات، وراثتی حقوق اور زرعی وسائل پر اختلافات عام ہیں، اور اکثر طاقتور سردار اس پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ جب بھی کسی نے اس نظام کو چیلنج کیا، تو ردعمل صرف سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ طاقتوروں کے مفادات کی حفاظت کے لیے بھی سامنے آیا۔ اس طرح ام رباب کے خاندان کی جدوجہد نہ صرف انصاف بلکہ زمین اور مقامی وسائل کے منصفانہ انتظام کی علامت بھی بن گئی۔
سندھ میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ غریبوں کی زمینوں پر قبضے، ’’غیرت‘‘ کے نام پر قتل، جانوروں کی چوری، عورتوں کے اغواء اور زبردستی کی شادیوں جیسے واقعات سرداروں کی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ یہ واقعات عام ہیں اور اکثر متاثرہ خاندان انصاف کے لیے بھی لڑنے کی حالت میں نہیں رہ پاتے۔ اکثر یہ وڈیرے سندھ کی سیاسی حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ صرف طاقتور ہی نہیں بلکہ بااثر بھی ہیں۔ اس اثر رسوخ کی بدولت عدالتی اور انتظامی عمل پر ان کا دباؤ برقرار رہتا ہے، اور مظلوم کے لیے انصاف کے حصول کے امکانات محدود ہوجاتے ہیں۔
یہ کیس واضح کرتا ہے کہ سرداری اور وڈیرہ شاہی نظام میں انصاف مظلوم کے حق میں ہونے کے بجائے طاقتور کے اثر رسوخ کے تابع ہوجاتا ہے۔ باہر مسلح افراد دن دہاڑے فائرنگ کرکے قانون کی محدودیت واضح کردیتے ہیں، اور عدالتیں جج اور وکیل کے تسبیح پڑھنے تک محدود رہ جاتی ہیں۔
مزید برآں الزام ہے کہ بعض ملزمان نے خفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران سے ملاقاتیں کیں تاکہ مقدمے پر اثر ڈال سکیں، جس سے عدالتی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ عدالت میں ملزمان پروٹوکول کے ساتھ پیش ہوئے، جبکہ سرِعام فائرنگ سے یہ واضح ہوا کہ عدالت کے باہر طاقتور افراد کی گرفت برقرار ہے۔
مقدمے کے فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی لہر اُٹھی۔ صارفین نے عدالت اور جج کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ فیصلہ ممکنہ طور پر دباؤ میں دیا گیا۔ عوامی حلقوں نے الزام لگایا کہ طاقتور سردار اور بعض بااثر شخصیات نے نہ صرف عدالتی عمل پر اثر ڈالنے کی کوشش کی بلکہ خفیہ ملاقاتوں کے ذریعے اداروں کا دباؤ بھی ڈالوا کر فیصلہ اپنے حق میں کروایا۔
یہ تضاد نمایاں ہے: اگر 2500 روپے کی بکری کے مقدمے میں غلام مرتضیٰ جتوئی کو ہتھکڑی لگائی جا سکتی ہے، تو سنگین قتل کیس میں ملزمان آزاد گھوم سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال عدالت کے اندر اور باہر انصاف کی کیفیت کو شدید متاثر کرتی ہے۔
سرِعام فائرنگ پاکستانی قانون کے مطابق جرم ہے، چاہے کسی کی موت نہ بھی ہوئی ہو۔ عدالت کے باہر فائرنگ عوام کے جان و مال کے لیے خطرہ پیدا کرتی ہے، اور یہ عدالت کے اصولوں کے ساتھ تضاد پیدا کرتی ہے۔ ام رباب کی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انصاف صرف قانونی فیصلے کا نام نہیں، بلکہ عوام کے اعتماد کا نام ہے۔ جب یہ اعتماد متزلزل ہوجائے تو پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ آج بھی زینب اکیلی ہے۔ ہر مظلوم کو انصاف کے حصول کے لیے طویل انتظار اور مسلسل آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ طاقت وروں کے ساتھ ملنے والوں کی بھلائی کی محفلیں جاری رہتی ہیں۔
ام رباب کیس کا 223 صفحات پر مبنی فیصلہ آیا تو پاکستان بھر کی سیاسی، سماجی، صحافتی، انسانی حقوق اور وکلا برادری کی جانب سے بھی ردعمل آیا جو قارئین کرام کے لیے پیش خدمت ہے۔ اگرچہ مسلم فنکشنل، ایم کیو ایم پاکستان، پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کی جانب سے وہ ردعمل نہیں آیا جو جماعت اسلامی پاکستان کی جانب سے آیا۔
خواجہ سعد رفیقمسلم لیگ (ن) کے رہنما، سابق وفاقی وزیر برائے ریلوے
دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے تہرے قتل کے آٹھ سال پرانے مقدمے میں ملوث نہایت بااثر وڈیروں سمیت پیپلز پارٹی کے دو اراکین صوبائی اسمبلی کو بری کرکے انصاف کا جنازہ نکل دیا ہے۔
سندھ کی ایک مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو نے اپنے دادا، والد اور چچا کے طاقت ور قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے آٹھ سال تن تنہا جدوجہد کی۔ سیاسی اثر رسوخ، طاقت، دولت جیت گئے، اور مظلوم خاک چھانتے رہ گئے
درحقیقت ام رباب چانڈیو نہیں، عدالت ہار گئی ہے۔
دادو کی ماڈل کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے ناکام، جانب دار اور انصاف سے عاری نظام ِ عدل پر ایک اور بدنما داغ ہے۔
اس شرمناک فیصلے نے سیاسی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی کرپٹ وڈیرہ شاہی کے مکروہ چہرے سے نقاب نوچ لیا ہے۔ام رباب کے دادا، والد اور چچا کے قاتل رب ذوالجلال کے غضب سے یقیناً نہیں بچ سکتے۔
پاکستانیوں کا سب سے بڑا مسئلہ کرپٹ اور جانب دار نظام عدل ہے جو کمزور کو روند ڈالتا ہے اور ہمیشہ مدمقابل طاقتور کے ہاتھ کی چھڑی بن جاتا ہے۔
آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے من حیث القوم جہدِ مسلسل نہ کی گئی تو ذلت کے طوق پاکستانیوں کے گلے کا ہار بنے رہیں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰنامیر جماعت اسلامی پاکستانعدالت نے تہرے قتل میں ملوث بااثر سردار، فرعون وڈیرہ خاندان کو بری کردیا۔ ملزمان باعزت بری نہیں ہوئے عدالت کی اپنی عزت خاک میں مل گئی۔ نظامِ عدل پر ایک مرتبہ پھر سوال کھڑا ہوگیا۔ سندھ کی بہادر بیٹی ام رباب خاندان کے بزرگوں، اپنے پیاروں کے وحشت ناک قتل پر انصاف کے حصول کے لیے بہادری سے جنگ لڑرہی ہے… لیکن مظلوم مقتول خاندان مقدمہ ہار گیا…دولت، اثررسوخ، ظالم وڈیرہ شاہی جیت گئی۔
حکومت سندھ کا عوام کو پیغام کہ جیو تو وڈیروں کے غلام بن کر۔
عدالتی نظام پہلے ہی زمین بوس تھا، اب درگور ہوگیا۔
سپریم کورٹ جانب دارانہ، ظالمانہ اندھے فیصلے کا ازخود نوٹس لے۔
بی بی آصفہ بھٹو زرداری آپ تو مظلوم خاندان کی سنیں۔
عوام شدید اضطراب اور غصے میں ہیں۔
مظلوم خاندان تنہا نہیں ہے…ام رباب! تم مظلوم ہو لیکن بہادر ہو، سندھ کے عوام، پورے ملک کے انصاف پسند عوام تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
لیاقت بلوچنائب امیر جماعت اسلامی پاکستانقوم کی بیٹی ام رباب چانڈیو کی تاریخی جدوجہد کو سلام۔ پیپلزپارٹی جو قوم پرستی کی سیاست کرتی ہے اس کے وڈیرہ چیئرمین سے سوال ہے کہ کیا ام رباب چانڈیو سندھ کی بیٹی نہیں ہے؟ طاقتور اور جاگیردار ہی آپ کے چہیتے ہیں؟ سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو ام رباب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔
علامہ راشد محمود سومرورہنما جمعیت علمائے اسلام (ف)عوام کا عدالتوں پر سے اعتماد ختم ہوتا جارہا ہے۔ عدالتوں کا بنیادی فرض انصاف کی فراہمی ہے، نہ کہ طاقتور عناصر کے اشاروں پر فیصلے دینا۔
ام رباب کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اس کیس میں بظاہر سزا بھی متاثرہ فریق کو ہی ملی، جو کہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔ حقیقی انصاف تب ہی ممکن تھا جب ام رباب کے اہلِ خانہ کے قاتلوں کو سخت سزا، خصوصاً سزائے موت دی جاتی۔
ایسے فیصلے عوام کے اندر مایوسی کو جنم دیتے ہیں اور عدالتی نظام پر اعتماد کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ عدالتیں مکمل خودمختاری کے ساتھ، بغیر کسی دباؤ کے، شفاف اور منصفانہ فیصلے کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔
حلیم عادل شیخصدر پاکستان تحریک انصاف سندھایک بیٹی مسلسل انصاف کے لیے پکارتی رہی مگر نظام خاموش تماشائی بنا رہا۔ کیا قانون صرف کمزور لوگوں کے لیے ہی رہ گیا ہے؟ پہلے ام رباب کے دادا، چچا اور والد کو قتل کیا گیا اور آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انصاف کا بھی قتل ہوچکا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
سندھ کے عوام مظلوم بیٹی ام رباب چانڈیو کے ساتھ کھڑے ہیں اور انصاف کے حصول کے لیے اس کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے اور عوام کا اعتماد بحال ہوسکے۔
سفارتکار اطہر عباسمجھے ام رباب کے سانحے پر شدید افسوس ہے۔ ایسے واقعات ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ انصاف کے لیے جدوجہد کتنی اہم ہے اور معاشرے میں خواتین کی حفاظت اور حقوق کو یقینی بنانا ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ میری خواہش ہے کہ میری بیٹیاں، اور تمام نوجوان لڑکیاں ام رباب کی طرح دلیر، حوصلہ مند اور حق کے لیے کھڑی ہونے والی ہوں۔ ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہوگا جہاں ہر عورت بلا خوف اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرسکے۔
ہیومن رائٹس کونسل پاکستانتہرے قتل کیس میں ملزمان کی بریت ام رباب کے خاندان کے لیے ایک شدید صدمہ ہے اور اس سے پاکستان کے نظامِ انصاف پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تفتیش اور عدالتی عمل میں کمزوریاں موجود ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے اور عدالتی و تفتیشی اداروں کی کارروائی کی سنجیدہ جانچ پڑتال کی جائے۔
اس بیان میں انصاف کے حصول، متاثرین کے حقوق کی حفاظت، اور عدالتی عمل کی شفافیت پر زور دیا گیا ہے۔ تنظیم نے معاشرے سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ انصاف کے تقاضوں کے لیے آواز بلند کرے اور خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے فعال رہے۔



