انتہا پسندی کے خلاف نوجوان قیادت: آگاہی اور عملی اقدامات

An Urdu publication cover showing a stressed man in glasses rubbing his nose bridge while looking at a laptop, titled "Challenges of starting a business for youth."

آج کے ڈیجیٹل دور میں، ایک سادہ فیک نیوز یا اشتعال انگیز پوسٹ نوجوانوں کی سوچ اور فیصلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ کوئٹہ میں حال ہی میں منعقدہ انسدادِ پرتشدد انتہا پسندی سیمینار میں یہ حقیقت اجاگر ہوئی کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی تیزی سے تشہیر نوجوان ذہنوں میں خوف، نفرت اور الجھن پیدا کر رہی ہے۔ طلبہ اکثر اس معلوماتی طوفان میں حقیقت اور افواہ میں فرق کرنا بھول جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں نوجوانوں کو بروقت اور ٹھوس آگاہی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ معاشرتی ناسور، یعنی انتہا پسندی، سے محفوظ رہ سکیں اور اپنی مسلم شناخت کے مطابق ذمہ دار شہری بن سکیں۔

مسئلہ کی گہرائی

سوشل میڈیا اور انتہا پسندی کا تعلق

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے جہاں معلومات کے نئے راستے کھولے ہیں، وہیں فیک نیوز اور پرتشدد پروپیگنڈا کے پھیلاؤ کا ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔ نوجوان اکثر بغیر تصدیق کے خبریں آگے بڑھاتے ہیں، جس سے غلط فہمیاں بڑھتی ہیں اور سماجی تقسیم کو ہوا ملتی ہے۔

طلبہ میں عام غلطیاں

بہت سے نوجوان صرف جذباتی ردعمل میں خبریں شیئر کرتے ہیں یا سوشل میڈیا کے مبہم مواد پر اعتماد کر لیتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ذاتی طور پر نقصان ہوتا ہے بلکہ معاشرے میں انتہا پسندی کو بھی فروغ ملتا ہے۔

معاشرتی اور اسلامی اثرات

اسلام ہمیں خبروں کی تصدیق اور عدل و انصاف کی تاکید سکھاتا ہے۔ قرآن میں فرمایا گیا:

"اے ایمان والو! بعض باتوں میں جلد بازی نہ کرو، اور ہر خبر کی تصدیق کرو۔" (الحجرات: 6)
یہ اصول آج کے نوجوانوں کے لیے بھی عین مناسب رہنمائی ہے تاکہ وہ اجتماعی سطح پر ذمہ دار شہری بنیں اور معاشرتی توازن قائم رکھیں۔

پاکستانی اور عالمی سیاق و سباق

پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں نوجوان آبادی کی اکثریت ہے، انتہا پسندی کے اثرات تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر بھی فیک نیوز، پروپیگنڈا اور انتہا پسندی کے فروغ کی صورت میں معاشرتی انتشار دیکھا جا رہا ہے۔ یہ نوجوانوں کے لیے چیلنج ہے کہ وہ اپنی علمی اور اخلاقی تربیت کے ذریعے معاشرتی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

لائحہ عمل

  • خبروں کی تصدیق کریں:سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کے ذرائع چیک کریں۔
  • تعلیمی اور آگاہی سیمینارز میں حصہ لیں:کوئٹہ سیمینار جیسے پروگرام آپ کو عملی علم اور تربیت فراہم کرتے ہیں۔
  • ڈیجیٹل دانشمندی اختیار کریں:فیک نیوز یا افواہوں کو نہ پھیلائیں اور اپنی پوسٹس مثبت مواد پر مرکوز رکھیں۔
  • سوشل میڈیا پر مثبت گفتگو کو فروغ دیں:نفرت انگیز تبصروں اور اشتعال انگیز مواد سے اجتناب کریں۔
  • اسلامی اخلاقیات کے اصول اپنائیں:عدل، انصاف، اور حقائق کی تصدیق پر زور دیں۔
  • نوجوان قیادت کی مشق کریں:اپنے دوستوں، کلاس فیلو، اور کمیونٹی میں ذمہ داری کے ساتھ علم پھیلائیں۔

اختتامی سوچ

انتہا پسندی صرف دوسروں کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر نوجوان کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم دانشمندانہ فیصلے کریں، اسلام کی رہنمائی سے آگاہ رہیں، اور معاشرتی شعور میں اضافہ کریں، تو نہ صرف اپنی حفاظت کر سکیں گے بلکہ اپنے معاشرے کو بھی مضبوط بنا سکیں گے۔ نوجوان قیادت وہ راستہ ہے جو معاشرتی توازن، امن اور اخلاقی ترقی کو یقینی بناتی ہے۔ آج کا علم اور آگاہی کل کی سلامتی کی ضمانت ہے۔