ارضِ مقدس

The golden-domed Dome of the Rock and another historic building under a dark, bird-filled sky, with a lone figure walking on wet ground.

کسی نئے سے نقصان سے دوچار ہوئے ہیں
اس غم سے تو لاچار ہم ہر بار ہوئے ہیں

یہ ڈھیر دیکھ رہے ہو، اس کو وجہ سنو!
ہزاروں لاشیں گرنے سے یہ انبار ہویے ہیں

اے ارضِ مقدس تیرے یہ سارے مکین
اک اُمت کی بیماری سے بیمار ہوئے ہیں

کوئی یہ نا کہے کہ ہم محرومِ سفر رہے
یہ سبھی قصے ظلم کے پرچار ہوئے ہیں

یہ بےوفائی اک ذہنی کشمکش کا ثمر ہے
یوں یہ سبھی چہرے نا ہنجار ہوئے ہیں

ہم نے شمشیر نہیں اُٹھائی قلم اُٹھائی ہے
یوں ہم سے جانثاروں میں شمار ہوئے ہیں