
ایران امریکہ کشیدگی، بحری راستوں کی جنگ اور چار فریقی مذاکرات پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار
کم و بیش ایک ماہ کی جنگ کے بعد مفاہمت پیدا کرنے اور خطے میں امن لانے کی کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے۔ اسلام آباد میں اس سلسلے کی پہلی بیٹھک ہوئی جس میں ترکیہ، مصر اور ایران کے وزرائے خارجہ نے جنگ کے اثرات اور اسے ختم کرنے کے لیے تبادلہ خیال کیا۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت بھی جاری ہے۔ یہ اعتماد سازی کا پہلا مرحلہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے معاملات کے حوالے سے کچھ کامیابی ہوئی ہے، اور اپریل کے وسط تک بہت کچھ واضح ہوجائے گا۔ امن کوششوں میں کامیابی ہوئی تو چین بھی اس میں شامل ہوگا اور سب کچھ منظر عام پر آجائے گا۔ دوسری صورت میں عالمی منظرنامہ مستقبل میں کسی بڑی تباہی اور طویل علاقائی جنگ کی نشاندہی کررہا ہے۔
اس خدشے کے کئی اسباب ہیں جو زمینی حقائق کے قریب ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ بنیادی طور پر ایران کے جوہری ڈھانچے اور علاقائی طاقت کے توازن پر مرکوز ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی حکمت عملی نے عالمی تجارت اور توانائی کے بہاؤ کے جغرافیے کو بدل دیا ہے۔ افریقہ کے لیے اس کے نتائج گہرے ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ بحران بحیرہ احمر کے طاس کے ساتھ خطے میں کئی تنازعات کو بڑھائے گا، جس سے افریقی ممالک اقتصادی جھٹکوں اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات، تجارتی بہاؤ اور جہازرانی کے اخراجات میں رکاوٹیں… خطہ اس بحران کے اثرات سے متاثر ہوگا۔ ایسا ہونے کی صورت میں افریقہ کے لیے ایک نتیجہ بحیرہ احمر کی مرکزیت کی تجدید ہوگا۔ ایران کے مؤثر طریقے سے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے ساتھ، اب عالمی توجہ مغرب کی طرف بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب کی طرف مبذول ہوئی ہے، جو عالمی جہازرانی کے لیے ناگزیر راہداری کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر یہ جنگ یہاں نہ روکی گئی تو مستقبل میں ایران امریکہ جنگ پانیوں اور تیل کی راہداریوں میں ہوگی۔
ماسکو نے ان خطرات کا ادراک کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ میں تیل فروخت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل میں قیمت بڑھنے پر زیادہ منافع حاصل کرسکے۔ یہ واحد ملک ہے جو تیل فروخت کرکے کھربوں ڈالر کماچکا ہے۔
پانیوں میں جنگ کے خدشات کو تقویت اس لیے بھی مل رہی ہے کہ حوثی باغیوں نے آبنائے باب المندب میں بحری جہازوں پر فائرنگ کی ہے، اور تہران نے جنگ کے دوران جہازرانی میں رکاوٹیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خطے میں فوجیوں کی منتقلی کے جواب میں جنگ میں ایک نیا محاذ کھولا جارہا ہے۔ حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد میں اپنا اسلامی فریضہ انجام دینے کے لیے تیار ہیں، اور اس میں انہیں ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ یہ سعودی عرب کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ آبنائے باب المندب بحیرہ احمر کے دہانے پر واقع ہے اور سعودی تیل کی برآمد کے لیے اہم ہے۔ سعودی عرب ایک پائپ لائن کے ذریعے اپنی مشرقی آئل فیلڈ سے روزانہ کئی ملین بیرل خام تیل وہاں بھیج رہا ہے، جو ایران کی آبنائے ہرمز کی رکاوٹ کا متبادل ہے۔ اگرچہ یہ راستہ ہرمز کی اہمیت کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتا، لیکن اس کی اسٹرے ٹیجک اہمیت دوچند ہوگئی ہے، اور راستے کے کنٹرول پر اثر رسوخ کے لیے جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی میں بندرگاہوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ شامل ہے۔ بحیرہ احمر ایرانی بحران کے شروع ہونے سے پہلے ہی جغرافیائی سیاسی مقابلے کا میدان تھا۔ گزشتہ ایک دہائی میں علاقائی طاقتوں کے درمیان دشمنی، خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی خطے کو مقابلے کے محاذ میں بدل چکی ہے۔ اگرچہ ریاض اور ابوظہبی نے ہارن آف افریقہ میں اپنی پالیسیوں کو مربوط کیا تھا، لیکن ان کے نقطہ ہائے نظر آہستہ آہستہ مختلف ہوگئے ہیں۔ سعودی عرب نے جبوتی جیسے ملک میں اپنی اقتصادی مصروفیت مرتکز کی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے سوڈان، ایتھوپیا اور یوگینڈا میں تین گنا زیادہ سرمایہ کاری کے ذریعے قدم بڑھائے۔ متحدہ عرب امارات کی حکمت عملی کا مرکزی آلہ پورٹ ڈپلومیسی ہے، جس کی قیادت دبئی کی لاجسٹک کمپنی ڈی پی ورلڈ کرتی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ کی سفارت کاری کئی رکاوٹوں کا سامنا کررہی ہے، اور لندن کی ثالثی عدالت نے حال ہی میں ڈی پی ورلڈ کے دعوے مسترد کیے۔ بحیرہ احمر کی اہمیت اس کے ساحلوں پر فوجی تنصیبات کے ارتکاز سے بھی بڑھتی ہے۔ چار افریقی ریاستیں مصر، اریٹیریا، جبوتی اور سوڈان بحیرہ احمر سے متصل ہیں، اور ان کی بندرگاہیں بیرونی فوجی موجودگی کا مرکز بن گئی ہیں۔ جبوتی میں امریکہ، فرانس، جاپان اور چین سمیت کئی غیر ملکی بحری اڈے ہیں۔
بیجنگ نے 2017ء میں جبوتی میں اپنی پہلی بحری سہولت قائم کی، جو بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر اسٹرے ٹیجک کردار کو اجاگر کرتی ہے۔ رابطہ اور علاقائی سلامتی اس وقت اہم تھی جب اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف سعودی عرب، پاکستان اور او آئی سی کے اہم ممالک نے سخت ردعمل دیا۔ اسرائیل کا یہ فیصلہ سمندری مفادات کی بنیاد پر تھا۔ بربیرا کے قریب ایک فوجی تنصیب کا ممکنہ اسرائیلی منصوبہ علاقائی کشیدگی میں شدت کا سبب بن سکتا ہے، اور ہارن آف افریقہ کی پیچیدہ سیاست میں نیا محاذ کھول سکتا ہے۔
اس وقت غیر یقینی صورتِ حال بڑھ رہی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ امن معاہدے کی بات کرتے ہیں اور فوجی اضافے کا الٹی میٹم بھی دیتے ہیں۔ ان کے اہداف واضح ہیں یعنی دنیا بھر میں تیل اور معدنیات پر قبضہ کرنا۔ ایران میں زمینی فوج اتارنے کی منصوبہ بندی اسی مقصد کے لیے ہے۔ پاکستان کے پالیسی ساز جانتے ہیں کہ اگر امریکہ ایران پر حاوی ہوا تو اسے آگے بڑھنے سے روکنا مشکل ہوگا۔ پاکستان نے پردے کے پیچھے سرگرمیوں کو سمجھ کر سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔ وزرائے خارجہ اجلاس میں غزہ میں جاری اسرائیلی حملوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فوری جنگ بندی پر زور دیا گیا۔ پاکستان چاہتا ہے کہ اس کا ثالثی کردار کامیاب رہے، تاہم تہران کی جانب سے ابھی کوئی اشارہ نہیں ملا کہ امریکہ ایران بات چیت شروع ہوسکتی ہے۔
اسلام آباد میں چار فریقی مذاکرات ہوئے۔ مصر، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ بحران کے حل کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے۔ سعودی وزیر خارجہ فرحان بن فیصل، مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی اور ترکیہ کے وزیر خارجہ خاقان فیدان نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ اہم مشاورت کی۔ اجلاس میں دفاعی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون میں پیش رفت پر تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں، اور ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی رابطہ ہوا۔ مذاکرات کو بحران کے حل کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا گیا۔ پاکستان میں ملاقات کرنے والے ممالک نے واشنگٹن کو بحری ٹریفک اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں جہازرانی کے بہاؤ کو مؤثر طریقے سے روک دیا تھا۔ پاکستان نے ایران اور واشنگٹن کو قریب لانے اور تنازع حل کرنے کے لیے کوشش کی۔ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب اس آبی گزرگاہ کے ذریعے تیل کے بہاؤ کے انتظام کے لیے ایک کنسورشیم بنا سکتے ہیں، اور پاکستان سے بھی شرکت کی درخواست کی گئی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ساتھ مستقل رابطے میں رہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ترک اور مصری ہم منصبوں کے ساتھ ون آن ون ملاقاتیں کیں، مکالمے اور سفارتی روابط پر زور دیا۔ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کی ملاقات ہوئی، جس میں نائب وزیراعظم، مشیر قومی سلامتی اور معاون خصوصی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے سعودی وزیر خارجہ کو پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے نیک تمناؤں کا پیغام دیا۔
اسحاق ڈار نے دفتر خارجہ میں سعودیہ، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں، اور خطے کی کشیدہ صورتِ حال اور باہمی دلچسپی کے امور پر مشاورت کی۔ سعودی وزیر خارجہ نے امن کے قیام کی ہر کوشش کی حمایت کا وعدہ کیا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات خوشگوار اور دوستانہ ماحول میں ہوئی، اور خطے کی موجودہ صورتِ حال اور امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ کوششوں اور قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا خیرمقدم کیا۔ دونوں نے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور حالیہ اعلیٰ سطحی تبادلوں اور مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔ مصر کے وزیر خارجہ کا یہ دورہ حالیہ اعلیٰ سطحی روابط کا تسلسل اور پاکستان اور مصر کے درمیان قریبی ہم آہنگی کا مظہر ہے۔ نائب وزیراعظم نے فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی۔
وزیراعظم شہبازشریف نے ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا دفتر میں استقبال کیا۔ ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان سے ملاقات میں دوطرفہ امور اور خطے کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال ہوا۔ اسحاق ڈار نے تاریخی، برادرانہ اور مضبوط تعلقات کو اجاگر کیا۔ وزرائے خارجہ نے تعاون کو فروغ دینے اور اسٹرے ٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔ علاقائی و بین الاقوامی صورتِ حال پر بات کی گئی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی تعاون کو وسعت دینے کا عزم دہرایا گیا۔
اس پیش رفت کے بعد پاکستان عالمی سفارت کاری کا اہم مرکز بن گیا ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتِ حال پر غور ہوگا اور امریکہ ایران مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کا اسلام آباد میں سر جوڑ کر بیٹھنا پاکستان کی کامیاب خارجہ پالیسی کا ثبوت ہے۔ یہ چار فریقی بلاک مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اہم ہے اور مستقبل میں دفاعی اور اقتصادی تعاون کے نئے راستے کھولے گا۔ پاکستان کو بیک وقت ایران، امریکہ، سعودی عرب، دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ چین اور روس کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ مذاکرات کی میز پاکستان میں سجی ہے، اور اس پیش رفت سے بھارت کی سفارت کاری بحیرہ ہند میں متاثر ہوئی ہے۔



