
’’دیکھا! کل ساتھ والی آنٹی گھور گھور کر میرے کپڑوں کو دیکھ رہی تھیں اور آج میرا نیا جوڑا جل […]
’’دیکھا! کل ساتھ والی آنٹی گھور گھور کر میرے کپڑوں کو دیکھ رہی تھیں اور آج میرا نیا جوڑا جل گیا۔‘‘
’’میرا بچہ اُس دن بھری محفل میں بہت ہنس رہا تھا، اب دو دنوں سے بخار میں بھن رہا ہے۔‘‘
’’میں نے اپنے رشتے کا اسٹیٹس لگایا تھا اور اب لڑکے والے ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔‘‘
’’میرے بیٹے نے انسٹا پر اپنی نئی نئی نوکری کی پوسٹ لگائی تھی اور اب کمپنی والوں نے اچانک انکار کردیا۔‘‘
ایسی اور بہت سی مزید باتیں ہم اپنے اردگرد سنتے رہتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو اور کبھی کبھی خود کو کوستے اور قصوروار ٹھہراتے ہیں، اور کبھی اپنی قسمت کا رونا بھی روتے ہیں۔ مگر کیا کبھی ہم نے سوچا کہ نظرِ بد کو تو برحق کہا گیا ہے، اور یہ بھی کہ اپنی ہر خوشی کی تشہیر نہ کی جائے کیوں کہ ہر دیکھنے والی آنکھ ہمارے بھلے کی آنکھ نہیں ہوتی اور نہ ہر کوئی ہمارا خیر خواہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سب سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے کہا گیا بلکہ مکمل حفاظتی ڈھال بھی عطا کی گئی ہے۔
قرآن و سنت میں بہت سے مقامات پر مختلف صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے آسان طریقے بتائے گئے ہیں۔ مگر ان سب میں ایک مکمل اور جامع حصار ’’صبح وشام‘‘ کے اذکار کی شکل میں ہمیں فراہم کیا گیا ہے جس سے صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک فرشتے ہماری حفاظت پر مامور رہتے ہیں۔ نظرِ بد، حسد، جادو اور جنات… غرض ہر قسم کی برائی سے بچاؤ اور حفاظت کے لیے مکمل راہنمائی ہے۔ صبح و شام کے اذکار کے بارے میں بہت تاکید آئی ہے۔ یہ اذکار رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہیں اور ان سے اللہ عزوجل کی برکت، حفاظت اور مغفرت طلب کی جاتی ہے۔
یہ صرف دعائیہ کلمات نہیں ہیں بلکہ ان میں صبح و شام ہر اُس شر سے پناہ مانگی گئی ہے جسے اللہ عزوجل نے تخلیق کیا ہے اور جو نقصان دہ ہیں ( صحیح مسلم6880) اور ہر چیز میں عافیت بھی طلب کی گئی ہے۔ ( سنن ابی داؤد5090)
معوذتین، آیت الکرسی جو انسان کو اپنی پناہ اور کفایت میں رکھتی ہیں، درود شریف کا ورد، اس کے ساتھ اللہ کی کبریائی، بڑائی اور پاکیزگی بیان کرنا… غرض اس کی ہر دعا اور ذکر کی خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرامؓ کو تعلیم دی ہے کہ تم میں جو صبح کرے وہ یہ پڑھے اور جو شام کرے وہ یہ پڑھے۔ صرف یہی نہیں کہ شرور اور حاسدوں سے ہی پناہ مانگنا سکھایا گیا ہے بلکہ ایک بہت ہی خوب صورت دعا بھی شامل ہے:
’’اے زندہ، اے قائم رہنے والے! تیری رحمت کے سبب سے میں فریاد کرتا ہوں کہ میرے لیے میرے سب کاموں کی اصلاح فرما دے اور پلک جھپکنے تک کے لیے بھی مجھے میرے نفس کے حوالے نہ کر۔‘‘ (المستدرک للحاکم2044)
یعنی ہم اللہ عزوجل سے اپنے نفس سے بھی پناہ مانگتے ہیں کہ اے رب ذوالجلال ہمیں پلک جھپکنے تک بھی اپنے نفس کے حوالے نہ کرنا، اتنی سی مہلت بھی ہمیں نہ دینا کہ ہم اس کی غلامی میں آجائیں اور پھر ایسے کام کردیں کہ دنیا و آخرت تباہ ہوجائے۔ صبح و شام کے اذکار میں ہر وہ ذکر اور دعا شامل ہے جو چوبیس گھنٹے ہمیں اللہ کی پناہ اور ایک مضبوط حصار میں رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ان اذکار سے ہماری زندگیوں میں رحمتوں اور برکتوں کا نزول بھی ہوتا ہے۔
ہمیں اللہ عزوجل نے پیدا کیا ہے اور اِس دنیا کو ہمارے لیے امتحان اور آزمائش کی جگہ قرار دیا ہے تو ساتھ ہی ساتھ ان مصائب و آزمائشوں سے محفوظ رہنے کے طریقے بھی سکھائے ہیں۔ ہمیں بے آسرا اور تنہا نہیں چھوڑا کہ جاؤ جیسے مرضی زندگی گزارو، بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات فراہم کیا ہے کہ اس دنیا میں کیسے رہنا ہے اور اس کے بعد کی دائمی زندگی کو کیسے کامیاب بنانا ہے۔ اس کے لیے سیدھا راستہ بھی دکھایا ہے کہ اس کو پکڑلو تو کبھی نہیں بھٹکو گے۔



