
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ (وہ دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جنہیں دنیا میں جنت کی بشارت دی گئی) میں شامل، اور دامادِ رسول ﷺ ہونے کا اعزاز پانے والے قابل اور عظیم المرتبت صحابی تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ قریش کے معزز قبیلے بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے اور زمانہ جاہلیت میں بھی آپ کو آپ کی دیانت، صداقت اور نرم خوئی کے باعث معزز سمجھے جاتے تھے۔ آپ کا نسب رسول اللہ ﷺ سے پانچویں پشت میں جا کر ملتا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ابتدائی دور میں اسلام قبول کیا اور نہ صرف اپنے مال و دولت سے اسلام کی خدمت کی، بلکہ ہر مشکل وقت میں دین کی سربلندی کے لیے آگے بڑھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت دس سال سے زائد عرصے پر محیط رہا، جو فتوحات، عدل و انصاف، اور قرآن کریم کی تدوین جیسے بے شمار اہم کارناموں سے عبارت ہے۔ آپ کی شخصیت حیاء، سخاوت اور صبر کا پیکر تھی۔آپ کا نام عثمان رضی اللہ عنہ جبکہ کنیت ابو عبد اللہ اور لقب ذوالنورین تھا، (دو نوروں والا)پورا نسب نامہ درج ذیل ہے۔نام: عثمان بن عفّان بن أبی العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف القرشی الأموی. اسی اعتبار سے عثمان رضی اللہ عنہ کا نسب مبارک آٹھویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جاملتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا نسب یوں ہے: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف.یعنی دونوں بزرگ عبد مناف پر جا کر ملتے ہیں۔ چونکہ ہاشم بن عبدمناف قریش کے سب معزز ترین قبیلہ سمجھا جاتا تھا اور عرب میں انتہائی عقیدت والا مانا جاتا تھا اس اعتبار سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ قریش کے معزز قبیلے بنی امیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ذوالنورین کا معنی و مطلب: ذوالنورین (ذُو ٱلنُّورَيْن) کا مطلب ہے: دو نوروں والا۔ لقب کی وجہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ عظیم لقب اس لیے دیا گیا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی دو بیٹیوں سے نکاح یکے بعد دیگرے کیا، یعنی ایک کے بعد دوسری سے، اور تمام صحابہ کرام میں یہ شرف کسی اور صحابی کو حاصل نہیں ہوا۔پہلے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا نکاح رسول اللہ ﷺ کی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا۔ان کے انتقال کے بعد نبی کریم ﷺ نے اپنی دوسری بیٹی حضرت اُمّ کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔اس لیے آپ کو ذوالنورین یعنی دو نوروں والا کہا جانے لگا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: اگر رسول اللہ ﷺ کی تیسری بیٹی بھی ہوتی اور عثمان رضی اللہ عنہ چاہتے، تو آپ ﷺ وہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بیاہ دیتے۔(بحوالہ: تاریخ الخلفاء، امام سیوطی)یہ لقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قربت اور مقام کی علامت ہے۔حضر ت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا قبولِ اسلام ایک عظیم واقعہ ہے، جو ابتدائی اسلام کی روشنی میں نہایت اہمیت رکھتا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔ وہ اسلام قبول کرنے والے چوتھے یا پانچویں شخص تھے، اور ابتدائی دور ہی میں ایمان لے آئے تھے۔قبولِ اسلام پس منظر :حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں:”میں شام کے سفر پر گیا۔ راستے میں خواب میں دیکھا کہ چاند آسمان سے زمین پر اتر آیا، اور میں نے اسے اپنی جھولی میں لے لیا۔ جب میں واپس آیا تو لوگوں سے اس خواب کا ذکر کیا۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ محمد بن عبد اللہ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، جنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ (محمد ﷺ) سچے اور امین ہیں۔ انہوں نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور میں نے فوراً کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔(بحوالہ: طبقات ابن سعد، الاستیعاب، الاصابہ)حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کنواں:حضرت عثمان غنی نے اپنے دور خلافت میں مسجد نبوی کی توسیع اور قرآن پاک کو یکجا فرمایا۔مدینہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کو میٹھے پانی کی بڑی تکلیف تھی۔شہر مدینہ میں بئررومہ کے نام سے میٹھے پانی کاایک کنواں تھا حضرت عثمان نے ۳۵ ہزاردرہم کے عوض یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کردیا جس پر نبی اکرم نے آپ کو جنت کی بشارت دی۔اسلام لانے کی خصوصیات،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بلا کسی جبر یا لالچ کے خود اپنی خوشی سے مشرف بااسلام ہوئے اور مسلمان ہونے کا پروانہ اللہ تعالیٰ ان کو عطا فرمایا. آپ کا تعلق مکہ کے معزز ترین قبیلے بنی امیہ سے تھا، اور قبیلے کی امتیازی خصوصیات آپ میں بدرجہ اتم موجود تھیں. اور آپ رضی اللہ عنہ مالدار، نرم مزاج اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔اسلام لانے کے بعد آپ نے خاندان اور قبیلے کی سخت مخالفت کا سامنا کیا، لیکن ثابت قدم رہے۔بیعت رضوان :سن 6 ہجری میں واقعہ حدیبیہ کے موقع پریہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی تھے جنہوں نے سفارت کے فرائض انجام دیے اوراپنی جان کی پرواکئے بغیر حضور نبی اکرم ﷺ کے نمائندے کی حیثیت سے آپ ﷺ کاپیغام قریش مکہ تک پہنچایا۔ اسی موقع پر جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی افواہ پھیلی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چودہ سو کے قریب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص پر بیعت لی اور جب آپ ﷺ بیعت لے رہے تھے تو آپ ﷺ نے اپنے بائیں دستِ مبارک کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا۔ اسی بیعت کو بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔ اس کے بارے میں اللہ رب العزت نے سورۃٔ فتح کی آیت نمبر 18 میں فرمایا:’’اللہ یقینا اُن مؤمنین سے راضی ہو گیا جنہوں نے درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی۔‘‘الفتح: 18گویا ان چودہ سو صحابہ کو حضرتِ عثمان کی وجہ سے اللہ کی رضا کا پروانہ ملا۔
بغض عثمان رضی اللہ عنہ کا انجام :سنن ترمذی میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کے باب میں لکھا ہے کہ حضور ﷺ نے ایک شخص کی نمازِ جنازہ اس لیے چھوڑ دی کہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا جس وجہ سے اللہ نے بھی اسے اپنی رحمت سے دور کر دیا۔رفیق رسول اللہ ﷺ ،امام ترمذی حضرت طلحہ بن عبید اﷲ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کرتے ہیں ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:لِکُلِّ نَبِیِّ رَفِیْقٌ وَ رَفِیْقِیْ یَعْنِی فِی الْجَنَّةِ عُثْمَانُ.(ترمذی، السنن، 5: 624، رقم: 3698)’’ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان رضی اللہ عنہ ہے۔خلافت،حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلافت کا تاج داماد رسول حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے سر پر سجایا گیا. چونکہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے مقام اور عزت ومرتبت سے واقف تھے اس لیے اتفاق رائے سے آپ کو خلیفہ ثالث کے طور منتخب فرمایا، خلافت کا پس منظر:حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد، مسلمانوں نے ایک کمیٹی بنائی تھی جو نیا خلیفہ منتخب کرے گی۔اس کمیٹی میں سات اہم صحابہ شامل تھے جن میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سب کی طرف سے اعتماد حاصل تھا اور آپ کی سیرت، کردار اور علم میں کوئی شک نہ تھا، اس لیے انہیں خلافت کے لیے منتخب کیا گیا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا آغاز 12 ہجری میں ہوا، یعنی نبی ﷺ کی وفات کے تقریباً 23 سال بعد۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلافت کی ذمہ داری حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد دی گئی۔طریقہ انتخاب: حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کی مشاورت (شوراء) اور اکثریتی رائے سے خلیفہ منتخب کیا گیا۔خلافت کا دور: تقریباً 12 سال (12 ہجری سے 24 ہجری تک) حضرت عثمان غنیؓ کی مظلومانہ شہادت:اسلام کی تاریخ ایسے درخشاں ستاروں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے دینِ محمدی ﷺ کی خاطر اپنی جان، مال، وقت اور راحتیں سب قربان کر دیں۔ انہی عظیم شخصیات میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام نہایت نمایاں ہے۔ آپ نہ صرف عشرہ مبشرہ میں شامل تھے بلکہ رسول اللہ ﷺ کے داماد اور دو مرتبہ آپ کی بیٹیوں کے شوہر ہونے کے باعث ’’ذوالنورین‘‘ کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔ اتنے بڑے اعزازات کے باوجود بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے دین اسلام کی سربلندی کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کیا۔حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کی خلافت کے آخری ایام فتنوں سے بھر گئے۔ خارجیوں نے مختلف علاقوں میں بغاوت اور پروپیگنڈہ پھیلایا، جس کا مقصد خلافت کی بنیادوں کو ہلانا تھا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ کے حلم اور صبر کو کمزوری سمجھا گیا، حالانکہ آپ رضی اللہ عنہ ہر قدم پر رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے۔ مخالفین کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدے سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کو اس وقت کے فتنوں میں صبر و استقامت کی وصیت فرمائی تھی۔آپ رضی اللہ عنہ کا زمانہ خلافت بارہ سال کے عرصہ پر محیط ہے، جس میں آخری کے چھ سالوں میں کچھ ناخوشگوار حادثات پیش آئے، جو بالآخر ان کی شہادت پر منتج ہوئے۔سن 35ھ، 18 ذی الحجہ، بروز جمعہ بیاسی سال کی عمر میں انھیں ان کے گھر میں قرآن کریم کی تلاوت کے دوران میں شہید کر دیا گیا، آپ کی شہادت کے وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اور مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع میں دفن ہوئے. قاتلوں نے نہ صرف آپ کا قتل کیا بلکہ آپ کے گھر کا محاصرہ کرکے پانی تک بند کر دیا، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں امیرالمومنین کے گھر پر حملہ کرکے اس مقدس وجود کو شہید کر دیا گیا، جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: اَلَا أَسْتَحِی مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِی مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ(کیا میں اُس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں)۔آپ کی شہادت اسلام کی تاریخ کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جو نہ صرف امت مسلمہ کے لیے المیہ تھا بلکہ مسلمانوں کی وحدت و یگانگت میں دراڑ ڈالنے کی پہلی بڑی سازش بھی تھی۔


