خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل

A collage showing a mountainous mining operation, rough colorful gemstones, and a geologist examining a mineral specimen.

خیبر پختون خوا کو قدرت نے شاندار جغرافیائی، آبی، جنگلاتی اور سیاحتی وسائل کے ساتھ ساتھ پہاڑوں اور زیرِزمین چھپی […]

خیبر پختون خوا کو قدرت نے شاندار جغرافیائی، آبی، جنگلاتی اور سیاحتی وسائل کے ساتھ ساتھ پہاڑوں اور زیرِزمین چھپی معدنی دولت سے بھی نوازا ہے۔ ماربل، گرینائٹ، کرومائٹ، تانبا، سونا، لوہا، کوئلہ، چونا پتھر، جپسم، صابن پتھر، ڈولومائٹ اور قیمتی و نیم قیمتی پتھروں سمیت متعدد معدنیات صوبے کے مختلف اضلاع میں پائی جاتی ہیں۔ سرکاری معدنی ترقیاتی پالیسی کے مطابق صوبے میں معدنی وسائل کی وسیع اقسام موجود ہیں اور ماربل کے شعبے میں ایسے بڑے ذخائر کی بھی نشاندہی ہوچکی ہے جو طویل عرصے تک صنعتی پیمانے پر خام مال فراہم کرسکتے ہیں۔ اس کے باوجود صوبائی معیشت میں معدنی شعبے کا حصہ اس کی حقیقی استعداد کے مقابلے میں انتہائی محدود ہے۔ سوال یہ ہے کہ وسائل کی اس فراوانی کے باوجود ان سے پیدا ہونے والی معاشی قدر اتنی کم کیوں ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ معدنی وسائل کی کمی کا نہیں بلکہ ان کے مؤثر، شفاف، سائنسی اور پائیدار انتظام کا ہے۔ صوبے میں معدنی دولت موجود ہے، مگر اسے صنعتی ترقی، برآمدات، روزگار اور مقامی خوشحالی میں تبدیل کرنے کے لیے درکار ادارہ جاتی استعداد، جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور بہتر انتظامی نظام ابھی مطلوبہ سطح پر نہیں پہنچ سکے۔ اس لیے خیبر پختون خوا کو محض زیادہ کان کنی کے تصور سے آگے بڑھ کر معدنی وسائل سے زیادہ معاشی قدر پیدا کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔

خیبر پختون خوا کی ارضیاتی ساخت اسے معدنی اعتبار سے منفرد بناتی ہے۔ یہ جغرافیائی تنوع ایک طرف معاشی موقع ہے تو دوسری طرف انتظامی چیلنج بھی۔ معدنی وسائل کا بڑا حصہ پہاڑی اور دورافتادہ علاقوں میں موجود ہے جہاں زراعت کے مواقع محدود، صنعت نہ ہونے کے برابر اور روزگار کے متبادل ذرائع کم ہیں۔ اگر یہاں معدنی سرگرمیوں کو جدید، منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں فروغ دیا جائے تو کان کنی مقامی معیشت کو متحرک کرسکتی ہے، سڑکوں اور بجلی کے نظام کو بہتر بنا سکتی ہے، ٹرانسپورٹ و مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دے سکتی ہے اور ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرسکتی ہے۔ بالخصوص نئے ضم شدہ اضلاع میں معدنی شعبہ معاشی بحالی اور پائیدار ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ معدنی ترقی مقامی آبادی کے مفادات اور ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔

صوبے کے معدنی شعبے کی ایک بڑی کمزوری خام معدنیات پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ کانوں سے معدنیات نکال کر انہیں خام یا نیم تیار شکل میں فروخت کرنے سے پیداوار اور روزگار دونوں محدود رہتے ہیں۔ اصل معاشی فائدہ اُس وقت حاصل ہوتا ہے جب خام مال کو مقامی سطح پر صاف، تیار اور قابلِ استعمال مصنوعات میں تبدیل کیا جائے۔ مثال کے طور پر ماربل کو خام بلاک کی شکل میں فروخت کرنے کے بجائے جدید مشینوں سے کاٹ کر، پالش کرکے اور مختلف اشکال میں ڈھال کر تعمیراتی مصنوعات کی صورت میں عالمی منڈی میں برآمد کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح قیمتی پتھروں کو خام شکل میں فروخت کرنے کے بجائے ان کی تراش خراش، صفائی، معیار بندی، جانچ اور زیورات سازی کا مکمل نظام صوبے میں قائم کیا جاسکتا ہے۔

کرومائٹ، تانبا، چونا پتھر، جپسم اور دیگر صنعتی معدنیات کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر معدنیات کو مقامی سطح پر تیار کرنے والی صنعتیں قائم ہوں تو کان کنی کے ساتھ انجینئرنگ، مشینری، تعمیرات، بجلی، ٹرانسپورٹ، پیکیجنگ، بینکاری، بیمہ اور برآمدی خدمات سمیت متعدد شعبوں میں معاشی سرگرمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ یوں معدنی شعبہ محض زمین سے وسائل نکالنے کا ذریعہ نہیں رہے گا بلکہ صوبے میں صنعتی ترقی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ معدنی ترقیاتی پالیسی میں بھی معدنیات کی مقامی سطح پر تیاری، روزگار، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور متعلقہ صنعتوں کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ مستقبل کی حکمتِ عملی کا بنیادی اصول یہی ہونا چاہیے کہ معدنیات کو صرف نکالا نہ جائے بلکہ ان سے زیادہ سے زیادہ معاشی قدر پیدا کی جائے۔

اس تناظر میں معدنی راہداری کا تصور اہمیت رکھتا ہے۔ اسے صرف کانوں کو منڈیوں سے ملانے والی سڑک سمجھنا اس تصور کو محدود کردینا ہوگا۔ ایک مؤثر معدنی راہداری دراصل کان کنی، نقل و حمل، بجلی، پانی، معدنیات کی تیاری، صنعتی پیداوار، ٹیکنالوجی، تحقیق، ہنرمند افرادی قوت اور برآمدی سہولیات پر مشتمل مکمل معاشی نظام ہوتی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان اہم معدنیات اور نایاب ارضیاتی عناصر کے شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون نے بھی خیبر پختون خوا کے معدنی امکانات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ پاکستانی کمپنی ہمالین ارتھ ایکسپلوریشن اور امریکی کمپنی نووا منرلز کے درمیان تعاون سے متعلق منصوبوں میں خیبر پختون خوا میں تقریباً 111 کلومیٹر کی ممکنہ معدنی راہداری کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔

تاہم کسی بھی معدنی راہداری کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس کے ساتھ مقامی سطح پر معدنیات کی تیاری اور متعلقہ صنعتیں کس حد تک قائم کی جاتی ہیں۔ اگر معدنی راہداری صرف خام مال کو صوبے سے باہر منتقل کرنے کا ذریعہ بن گئی تو اس کا بڑا معاشی فائدہ بھی صوبے سے باہر منتقل ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اگر اس کے ساتھ خصوصی صنعتی علاقے، معدنیات کی تیاری کے کارخانے، ماربل تراشنے اور پالش کرنے کے مراکز، قیمتی پتھروں کے مراکز، معیاری جانچ کی تجربہ گاہیں اور برآمدی سہولیات قائم کی جائیں تو یہ منصوبہ خیبر پختون خوا کو ایک حقیقی صنعتی مرکز میں تبدیل کرسکتا ہے۔

معدنی شعبہ روزگار اور صوبائی آمدن کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ اس شعبے میں ماہرینِ ارضیات، کان کنی کے انجینئرز، سروے اور نقشہ سازی کے ماہرین، مشین آپریٹرز، ہنرمندوں اور مزدوروں کے علاوہ ٹرانسپورٹرز، ٹھیکیداروں، تاجروں، تعمیراتی کمپنیوں، مالیاتی و بیمہ اداروں اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے بھی مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کان کنی قانونی اور شفاف طریقے سے ہو تو صوبائی حکومت کو شاہی محصول، لائسنس فیس، ٹیکس اور دیگر محصولات کی صورت میں خاطر خواہ آمدن حاصل ہوسکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے غیر قانونی کان کنی، محصول چوری، غیر قانونی نقل و حمل اور غیر شفاف لیزنگ کا خاتمہ ضروری ہے۔

یہیں سے معدنی شعبے کی ایک بنیادی کمزوری، یعنی بہتر حکمرانی کا سوال سامنے آتا ہے۔ اگر لائسنس کے اجرا، معدنی حقوق، لیز، پیداوار، محصول اور نقل و حمل کی نگرانی کا نظام پیچیدہ، کاغذی اور صوابدیدی رہے تو سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کے ساتھ بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے خیبر پختون خوا میں معدنی حقوق کے برقی اندراج اور انتظام کا نظام ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تاہم اسے مزید جامع بناکر درخواست سے لائسنس کے اجرا، پیداوار، محصول اور نگرانی تک پورے عمل کو برقی، شفاف اور قابلِ تصدیق بنانا ہوگا۔

معدنی اصلاحات کا ایک اہم پہلو قانون سازی بھی ہے۔ خیبر پختون خوا اسمبلی میں کان کنی اور معدنیات سے متعلق نیا قانون 2025 پیش کیا گیا، جس کا مقصد شعبے میں سرمایہ کاری، شفافیت، ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتر انتظام کو فروغ دینا ہے۔ تاہم معدنی قانون سازی محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ صوبائی خودمختاری، مقامی حقوق، سرمایہ کاری اور وفاقی و صوبائی اختیارات سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد قدرتی وسائل کے حوالے سے صوبائی اختیارات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ اس لیے نئی قانون سازی کو وفاق، صوبے، مقامی آبادی، معدنی صنعت، سرمایہ کاروں، ماہرینِ ماحولیات اور سول سوسائٹی کی بامعنی مشاورت سے آگے بڑھانا ضروری ہے۔

مقامی آبادی کی شمولیت اس پورے عمل کا بنیادی ستون ہونی چاہیے۔ اگر کسی علاقے سے قیمتی معدنیات نکلیں، سیکڑوں ٹرک وہاں سے گزریں اور کمپنیوں کو منافع حاصل ہو، مگر مقامی لوگوں کو روزگار، سڑک، تعلیم، صحت، پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات میسر نہ ہوں تو معدنی سرگرمی معاشی ترقی کے بجائے احساسِ محرومی پیدا کرے گی۔ اس لیے معدنی آمدن میں معدنی علاقوں کے لوگوں کے لیے واضح اور قابلِ نگرانی حصہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ مقامی نوجوانوں کو ہنرمندی کی تربیت، روزگار اور کاروباری مواقع میں ترجیح دی جائے اور کمپنیوں کے لیے مقامی ترقی سے متعلق قانونی ذمہ داریاں متعین کی جائیں۔ مقامی آبادی کو متاثرہ فریق کے بجائے معدنی ترقی کا حقیقی شراکت دار بنانا ہوگا۔

اسی طرح ماحولیاتی تحفظ اور کان کنوں کی سلامتی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بے ہنگم کان کنی جنگلات کی کٹائی، زمین کے کٹاؤ، پانی کی آلودگی، گردوغبار، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور قدرتی مناظر کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ زیرِزمین کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو حادثات، دھماکوں، ناقص ہوا اور مشینری سے متعلق خطرات لاحق رہتے ہیں۔ اس لیے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، کانوں کی بحالی، مزدوروں کی حفاظت، حفاظتی سامان، ہنگامی تیاری اور کان کنی کے بعد زمین کی بحالی کو اجازت نامے کے لازمی تقاضوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ معدنی ترقی کا پیمانہ صرف نکالی گئی معدنیات کی مقدار نہیں، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس سے کتنے لوگوں کی زندگی بہتر ہوئی اور ماحول کو کتنا محفوظ رکھا گیا۔

مستقبل کی کان کنی جدید ٹیکنالوجی کے بغیر ممکن نہیں۔ جغرافیائی نقشہ سازی، مصنوعی سیاروں سے حاصل ہونے والی معلومات، دور سے مشاہدہ، جدید پیمائش اور سائنسی تحقیق معدنی ذخائر کی بہتر شناخت اور نگرانی میں مدد دے سکتے ہیں، جبکہ جدید مشینری کے استعمال سے معدنی ضیاع کو کم اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ خیبر پختون خوا کی جامعات بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ارضیات، کان کنی کی انجینئرنگ، معدنیات کی تیاری، ماحولیاتی علوم، جغرافیائی نقشہ سازی اور معدنی معیشت میں خصوصی پروگرام شروع کرکے حکومت، صنعت اور جامعات کے درمیان تحقیقی روابط قائم کیے جائیں تو صوبہ خام مال فراہم کرنے والے خطے سے علم اور ٹیکنالوجی پر مبنی معدنی معیشت کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن اور سابق قبائلی اضلاع کی معاشی صورتِ حال بھی معدنی ترقی کے تناظر میں خاص توجہ کی متقاضی ہے۔ ان علاقوں کی تاریخی ٹیکس رعایتیں، کمزور بنیادی ڈھانچہ اور محدود صنعتی بنیادیں ایک پیچیدہ معاشی پس منظر پیدا کرتی ہیں۔ 2018ء کے آئینی انضمام کے بعد انتظامی اور قانونی نظام میں بنیادی تبدیلی آئی، تاہم معاشی انضمام کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ایسے علاقوں میں ٹیکس اور دیگر مالیاتی بوجھ کے ساتھ سرمایہ کاری، روزگار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو بھی ترجیح دینا ہوگی۔ معدنی وسائل کو مقامی صنعت سے جوڑنا ان علاقوں کو پائیدار معاشی سرگرمی کا مرکز بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔

خیبر پختون خوا کے لیے اب وقت آگیا ہے کہ معدنی پالیسی کو پانچ بنیادی اصولوں شفافیت، ٹیکنالوجی، معدنیات میں قدر افزائی، ماحولیاتی پائیداری اور مقامی شراکت داری پر استوار کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جامع اور قابلِ اعتماد ارضیاتی معلوماتی نظام تیار کیا جائے، لائسنسنگ اور لیزنگ کو شفاف اور مسابقتی بنایا جائے، غیر قانونی کان کنی اور محصول چوری کے خلاف جدید نگرانی کا نظام قائم کیا جائے، معدنیات کی تیاری اور متعلقہ صنعتوں کے لیے خصوصی صنعتی علاقے قائم کیے جائیں اور مقامی آبادی کو معدنی دولت میں واضح معاشی حصہ دیا جائے۔ ساتھ ہی سیاسی تسلسل بھی ضروری ہے تاکہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ بنیادی حکمتِ عملی تبدیل نہ ہو۔

خیبر پختون خوا اس وقت ایک اہم معاشی دوراہے پر کھڑا ہے۔ اس کے پہاڑوں میں چھپی معدنی دولت ایک نعمت بھی بن سکتی ہے اور ایک المیہ بھی۔ اگر غیر قانونی کان کنی، بدعنوانی، ماحولیاتی تباہی، مقامی محرومی اور غیر شفاف انتظام غالب رہا تو یہی دولت تنازعات، عدم مساوات اور وسائل کے ضیاع کو بڑھا سکتی ہے۔ لیکن اگر ان وسائل کو شفاف حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی، مقامی سطح پر قدر افزائی، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کی شراکت داری کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو یہی ذخائر صوبے کی صنعتی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

خیبر پختون خوا کو اب صرف ’’کانیں کھولنے‘‘ نہیں بلکہ کان سے کارخانے تک، خام مال سے تیار مصنوعات تک اور معدنی دولت سے انسانی ترقی تک کا سفر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل کامیابی اس بات میں نہیں کہ صوبہ کتنی معدنیات زمین سے نکالتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ ان سے کتنی صنعت، روزگار، ٹیکنالوجی، برآمدات، سرکاری آمدن اور مقامی خوشحالی پیدا ہوتی ہے۔ اگر صوبہ محض معدنیات نکالنے کے بجائے ان سے زیادہ سے زیادہ معاشی قدر پیدا کرنے کو بنیادی حکمت ِ عملی بنا لے تو اس کے پہاڑ زیرِزمین دولت کے ذخیرے ہی نہیں رہیں گے بلکہ صنعتی ترقی، روزگار، برآمدات اور پائیدار معاشی خودمختاری کے ستون بن سکتے ہیں۔ یہی خیبر پختون خوا کی پوشیدہ معدنی دولت کو حقیقی اور دیرپا ترقی میں تبدیل کرنے کا راستہ ہے۔