
اللہ تعالیٰ بذاتِ خود تمام کائنات پر نظر رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بے شک اللہ اپنے بندوں پر […]
اللہ تعالیٰ بذاتِ خود تمام کائنات پر نظر رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بے شک اللہ اپنے بندوں پر نظر رکھتا ہے۔‘‘(سورہ المؤمن 44)
آسمان و زمین پر اسی کا اقتدارِ کلی ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے۔ اس کے باوجود اُس نے نظام کائنات کو چلانے کے لیے مختلف مخلوقات کو ان کی استعداد کے مطابق ذمہ داریاں تفویض فرمائی ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کو زمین پر بھیجنے سے پہلے ہی ملائکہ اور جنوں سے یہ کہہ کر سجدہ کرایا کہ ’’میں نے آدم کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اسے اور اس کی اولاد کو اشرف المخلوقات بنایا ہے‘‘۔ یعنی تمام مخلوقات سے بہتر بنایا ہے۔ آدم علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسانوں کے لیے تمام تر ضروریات سے مالامال کردیا۔ تاقیامت انسان اس سے استفادہ کرتا رہے گا۔ انسان کی خدمت کے لیے ہوا چلانے والے، بارش برسانے والے فرشتے مقرر کیے۔
جچتے نہیں کنجشک و حمام اس کی نظر میںجبریل و سرافیل کا صیاد ہے مومن(علامہ اقبال)
اللہ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام اور رسول بھیجے اور جبریل علیہ السلام کو اپنا پیغام رساں بنایا۔ اس سے یہ بنیادی تصور سامنے آتا ہے کہ بڑے نظام کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے ذمہ داریوں کی تقسیم اور اختیارات کی تفویض ضروری ہے۔ انسانی معاشرہ وجود میں آنے کے بعد حکومتوں نے بھی اسی اصول کے تحت بڑے جغرافیائی خطوں کو مختلف انتظامی اکائیوں، علاقوں اور صوبوں میں تقسیم کرکے نظم و نسق چلانے کی کوشش کی۔ برطانیہ نے بھی اپنی وسیع سلطنت کے انتظام کے لیے مختلف انتظامی اکائیاں قائم کیں اور اپنے مقبوضہ علاقوں میں انتظامی ڈھانچے تشکیل دیے۔ برطانوی دور میں برصغیر میں بھی ایک باقاعدہ صوبائی اور علاقائی نظام قائم ہوا، جس کے ذریعے وسیع علاقے پر حکمرانی کی جاتی رہی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد نوآبادیاتی نظام کے خاتمے اور آزادی کی تحریکوں کے نتیجے میں برصغیر بھی تقسیم ہوا اور 1947ء میں پاکستان اور بھارت دو آزاد ریاستوں کے طور پر وجود میں آئے۔
آزادی کے وقت برصغیر کا انتظامی نقشہ آج کے پاکستان اور بھارت سے بالکل مختلف تھا۔ برطانوی ہند میں براہِ راست برطانوی انتظام کے تحت متعدد صوبے تھے، جبکہ بڑی تعداد میں ریاستیں نوابی یا شاہی حکمرانوں کے زیرِ انتظام تھیں۔ آزادی کے بعد بھارت نے ان ریاستوں کے الحاق اور انتظامی تنظیمِ نو کے ذریعے اپنے وفاقی ڈھانچے کو بتدریج مستحکم کیا۔ 1956ء کے States Reorganisation Act کے بعد بھارت کو 14 ریاستوں اور 6 وفاقی علاقوں میں منظم کیا گیا۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں نئی ریاستیں وجود میں آتی رہیں۔آج بھارت میں 28 ریاستیں اور 8 وفاقی علاقے ہیں۔ 2019ء میں بھارتی حکومت نے سابق ریاست جموں و کشمیر کی آئینی و انتظامی حیثیت تبدیل کرتے ہوئے اسے دو وفاقی علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیا۔ یہ دونوں وفاقی علاقے 31 اکتوبر 2019ء کو وجود میں آئے۔
پاکستان اپنی تشکیل سے ہی انتظام اور طرزِ حکمرانی کے حوالے سے گوناگوں مسائل سے دوچار رہا ہے۔ یہ اپنی تاریخ کے تقریباً 33 سے زائد سال براہِ راست فوجی ڈکٹیٹروں کی حکمرانی اور مارشل لا کے تحت رہا ہے۔ ملک میں بنیادی طور پر چار فوجی حکمران براہ راست اقتدار میں رہے: ایوب خان (1958ء سے 1969ء) تقریباً 11 سال، یحییٰ خان (1969ء سے 1971ء) تقریباً ڈھائی سال، ضیاء الحق (1977ء سے 1988ء) تقریباً 11 سال، پرویز مشرف (1999ء سے 2008ء) تقریباً 9 سال۔
79 برس میں بیشتر وقت پاکستان پر آمریت کا سایہ رہا۔ اس کے علاوہ جب بھی انتخابات کے بعد ’’عوامی حکومتوں‘‘ کا قیام عمل میں آیا، پردے کے پیچھے فوجی جنتا ہی حکمرانی کرتی رہی ہے۔ جب بھی اُن کی مرضی کے خلاف کسی سیاسی حکمران نے کام کرنے یا فیصلہ کرنے کی کوشش کی اُس کا تختہ الٹ دیا گیا۔ ایوب خان نے بہتر انتظامی صورت پیدا کرنے کے لیے ’’ون یونٹ‘‘ قائم کیا جس نے مشرقی پاکستان کے لوگوں میں پہلے سے موجود بے چینی کو بڑھانے اور انہیں وفاق سے متنفر کرنے کا کام کیا، اور بالآخر 1971ء میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔ کبھی صدارتی طرزِ حکمرانی رہی، کبھی پارلیمانی، مگر ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مصداق صوبوں میں بے چینی بڑھتی گئی اور آج یہ حال ہے کہ پاکستان توڑنے کی سازش کرنے والی بیرونی قوتوں نے بلوچستان، خیبرپختون خوا اور اب آزاد کشمیر میں بھی علیحدگی پسند قوتوں کو اتنا زیادہ مضبوط اور مسلح کردیا ہے کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے اپنی سلامتی کی جنگ اپنے اندرونی دشمنوں سے لڑ رہا ہے اور دہشت گردی کی وجہ سے ایک لاکھ سے زائد معصوم شہری اور فوجی شہید کیے جا چکے ہیں، اور اس تعداد میں آئے روز تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ سندھ میں پہلے سے موجود سندھو دیش کی تحریک سر ابھارتی رہتی ہے، جب بھی پیپلز پارٹی کی بدانتظامی کا وفاقی حکومت نوٹس لیتی ہے، یہ سندھو دیش والے متحرک ہوجاتے ہیں جو خرد مندوں کے سمجھنے کے لیے کافی ہے۔
گزشتہ دنوں وزیر داخلہ محسن نقوی نے سسٹم کی ناکامی اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بیان دے کر ایک ایسا پنڈورا باکس کھول دیا جس میں پہلے سے ہی پنجاب اور سندھ کے مطالبات کی گونج موجود تھی۔ اس پر طرفہ تماشا یہ کہ آئی ایس پی آر کے ذمہ دار لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے یہ کہہ کر جلتی پر تیل ڈال دیا کہ ’’گزشتہ 47 سال سے ملک پر دو خاندانوں کی حکمرانی ہے۔ یہ انتخابات جیت جاتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ دھاندلی کا رونا روتے ہیں‘‘۔ پاکستان کا ووٹر جانتا ہے کہ یہ پارٹیاں جیتتی ہیں یا جتوائی جاتی ہیں! کبھی RTS ناکام کرکے فوج کے پسندیدہ عمران خان کو 2018ء میں اقتدار حوالے کیا جاتا ہے اور امید بر نہیں آتی اور ملک کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے تو عدم اعتماد کا ڈنڈا، پھر تخت سے اڈیالہ کا سفر۔ 2024ء کے انتخابات میں فارم 47کی جادو گری ہوتی ہے اور شہبازشریف کی حکومت پیپلز پارٹی کی حمایت سے بنا دی جاتی ہے۔
سیاسی کٹھ پتلیاں نچانے والوں نے جمہوریت کے نام پر اس ملک کے اندر ایسا تماشا لگا رکھا ہے کہ ہر دو ڈھائی سال کے بعد لوگوں کا دل بھر جاتا ہے اور یہ سیاسی بلونگڑے ناپسندیدہ بن جاتے ہیں، اور ان کو گھر بھیجنے کی تیاری شروع ہوجاتی ہے۔ محسن نقوی کے بیان اور ڈائریکٹر جنرلISPR احمد شریف کی بالواسطہ تصدیق نے حکمران ٹولے میں ہلچل مچا دی ہے۔ پاکستان کے اندر بچہ بچہ اس بات سے واقف ہے کہ پوری دنیا میں بہتر انتظامی کارکردگی اور عوامی سہولیات و خدمات کے لیے چھوٹے انتظامی علاقے اور جغرافیائی حد بندیاں مناسب ہوتی ہیں اور ترقی کی ضمانت بھی دیتی ہیں۔ دوسری بات جو تسلیم شدہ ہے وہ یہ کہ بلدیاتی اور گاؤں دیہات پر مشتمل پنچایتی اختیارات ہی عوام کی روزمرہ سہولیات کی فراہمی کی ضمانت ہیں۔ لیکن پاکستان میں حکمران تمام سہولیات اور اختیارات میں ذاتی مفاد کے لیے کمی بیشی کرتے رہتے ہیں اور اسی غرض سے صوبوں کو زیادہ مگر حکمرانوں کو سب سے زیادہ بااختیار بنانے کے لیے 18 ویں آئینی ترمیم کی گئی جس کی وجہ سے آج وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے سامنے بے بس ہے۔ صحت، تعلیم، بلدیاتی اختیارات اور دیگر وفاقی اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوگئے۔ ملک میں پہلے سے موجود علاقائی سیاست کرنے والے قوم پرست اور لسانی گروہوں کے سامنے ملکی سیاست کرنے والی سیاسی جماعتوں کو حکومت سازی میں مجبور کردیا گیا۔ اس کے باوجود مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی ایسے الیکٹ ایبل جاگیرداروں، وڈیروں اور چودھریوں کی پارٹیاں بن چکی ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے جب چاہتے ہیں اِدھر سے اُدھر ہوجاتے ہیں۔ پنجاب جو ملک کا سب سے بڑا اور 70 فیصد آبادی رکھنے والا صوبہ ہے، اس کا سرائیکی حصہ محرومیوں اور بدانتظامی کا شکار رہا ہے۔ بہاولپور جو ایک ریاست تھی، جس نے پاکستان کے ساتھ انضمام کیا وہ بھی سراپا احتجاج ہے۔ قبائلی علاقے امن و امان کے حوالے سے ناقابلِ بیان صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ جو نظام گزشتہ 78 سال سے تختِ لاہور سے کنٹرول کیا جاتا رہا ہے اب بے دم ہوچکا ہے۔ لہٰذا یہاں اس صوبے کو تقسیم کرنے کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے اندر نیم رضامندی اس لیے ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا غالب حصہ جو پنجاب سے تعلق رکھتا ہے یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوجائے۔ لیکن سندھ پر حکمرانی کرنے والی پیپلز پارٹی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ سونے کا انڈا دینے والا کراچی جس کو اُس نے بدین، سانگھڑ اور لاڑکانہ کی طرح موئن جودڑو بنا دیا ہے، امس سے چھن جائے، کیوں کہ سندھ کی حکمران جماعت کے تمام وزراء اور پارلیمانی نمائندوں کی دال روٹی کراچی سے وابستہ ہے۔ اسی تقسیمِ کار کو روکنے کے لیے انہوں نے اپنے Proxy عناصر قوم پرستوں کو جو ’سندھو دیش‘ کا نعرہ لگاتے ہیں، متحرک کردیا ہے اور وہ زہر آلود بیانات دینا شروع کرچکے ہیں۔ یہ حکمران کبھی نہیں چاہیں گے کہ سندھ کے کروڑوں ہاری اور غریب عوام خوش حال ہوں۔ سندھ کے اصل باشندے سماٹ، کوہلی اور دراوڑی تو بنجارے بن چکے، باقی تعلیم، صحت اور روزگار سے محروم ہیں اور ان وڈیروں کے غلام بن چکے ہیں۔ ماضیِ قریب میں یہ دیکھا گیا کہ جس نہری منصوبے پر زرداری صاحب صدرِ پاکستان کے طور پر دستخط کرچکے تھے اس کو ناکام بنانے کے لیے قوم پرستوں کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی سڑکوں پر آگئی اور مہینہ بھر قومی شاہراہوں پر ٹریفک معطل رہا، لہٰذا مجبور ہوکر وفاقی حکومت کو یہ منصوبہ روکنا پڑا۔ اسی طرح کالا باغ ڈیم اور پانی کی تقسیم پر قوم پرستی کو ہوا دی گئی۔ سندھ کے عوام کی ترقی کے راستے میں یہ حکمران اس لیے رکاوٹ ہیں کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے بعد ان کی حکمرانی ختم ہوجائے گی اور یہ سونے کا انڈا دینے والے کراچی سے محروم ہوجائیں گے، اور جیسے ہی ان کی حکمرانی ختم ہوگی یہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے نظر آئیں گے، کیوں کہ انہوں نے گدھوں کی طرح صوبے کو نوچ نوچ کر کھایا ہے۔
بلوچستان کا حکمران سردار علیحدگی پسند دہشت گردوں سے خوف زدہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ بلوچستان جو پاکستان کا اسٹرے ٹیجک حب ہے‘ تقسیم ہو تاکہ اسے کچھ سکون ملے۔ لہٰذا آبادی اور جغرافیائی وسعت کے لحاظ سے یہ صوبہ پشتون اور بلوچ اکائیوں میں تقسیم ہوجائے تو محرومیاں بھی دور ہوں گی اور صدیوں سے محروم عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع میسر ہوں گے۔ خیبر پختون خوا جو فتنۃ الخوارج اور گزشتہ ادوار کی بدانتظامی اور PTI کی تیسری مرتبہ کی حکمرانی کے باوجود سسک رہا ہے‘ تقسیم کا متقاضی ہے، اور PTI کے بیرسٹر گوہر نے تقسیم کے حق میں بیان بھی دے دیا ہے۔ اس راستے کی اصل رکاوٹ وہ آئینی شق ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ جب تک صوبہ جات کی اسمبلیاں دو تہائی اکثریت سے تقسیم کے حق میں فیصلہ نہیں کرتیں اُس وقت تک صوبہ تقسیم نہیں ہوگا۔ انہی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے 28 ویں ترمیم کی تیاری ہورہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کیا گل کھلاتی ہے اور جیل میں قید عمران خان کیا فیصلہ کرتے ہیں؟ یا اسٹیبلشمنٹ کے پاس کون سی ایسی جادو کی چھڑی ہے جس کے ذریعے وہ ہر مرتبہ کی طرح اپنے فیصلے کو کامیاب کرپائے گی۔ کیا اس کے لیے عوامی ریفرنڈم ہوگا یا پیپلز پارٹی کے سربراہ اور لیڈروں کے ساتھ ساتھ مخالفت کرنے والے سیاسی لیڈروں کی فائلیں کھولی جائیں گی، یا ماضی کی طرح یہ پنڈورا باکس بند ہوجائے گا۔ آس پاس کے سوا دنیا کے تمام ممالک چھوٹے انتظامی صوبوں کے ذریعے ترقی کررہے ہیں، مگر ان ممالک میں جب بھی تقسیم ہوتی ہے تو وہاں ملک توڑنے کی باتیں نہیں ہوتیں۔ مگر پاکستان میں سندھ سے سب سے پہلے یہ مکروہ آواز اٹھتی ہے جس کی وجہ یہاں کے حکمرانوں کے ذاتی مفادات ہیں۔
اے روحِ عصر جاگ کہاں سو گئی ہے تُوآواز دے رہے ہیں پیمبر صلیب سےاس رینگتی حیات کا کب تک اُٹھائیں باربیمار اب الجھنے لگے ہیں طبیب سے(ساحر لدھیانوی)



