
اج کا دور اپنی تمام تر رعناٸیوں اور سہولتوں کے باوجود ایک عجیب نفسیاتی کشمکش کا شکار ہے۔ ہم ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں مادی ترقی نے زندگی کی رفتارکو تیز کر دیا ہے لیکن انسانی رشتوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔اسی ترقی نے بہت سے گناہوں کو زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس پر فتن اور جدید وقت میں نسل نو بے حیاٸ کو فیشن اور تمباکو نوشی کو ذائقہ کہتی ہے۔اس کے علاوہ بہت سی حدود کو تجربے کے نام پر پار کرتی ہے۔
اور یہ کرتے ہوۓمحسوس کرتی ہے کہ ہم آزاد ہیں جبکہ حلات بلکل اس کے بر عکس ہیں۔ یہ اسی طرح ہے کہ کوٸ ہمیں قید کرنا چاہے اور ہم قید بھی ہونا چاہیں لیکن ہنستے اور سلاخوں کے ساتھ کھیلتے ہوۓ۔ پھر یہاں ایک سوال کھڑا ہوتا ہے ہمیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے؟
یہ ذمہ داری ہم سب کی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل اور پہلے خود کو ایک جنگجو کی طرح تیار کریں ۔ جو ہر وقت اپنی نسلوں کی حفاظت کیلیے تیار رہے۔ لیکن آج والدین اور اولاد کے درمیان ایک لمبا فاصلہ جسے اگر ختم نہ کیا گیا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے!
اگر ہماری نسل دوسروں کے ہاتھوں میں چلی گٸ جس کیلیے مشرق و مغرب ہر تدبیر آزما رہے ہیں تو پھر نہ خدا ملے گا نہ وصال صنم !
پھر یہاں ایک سوال کھڑا ہوتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ہم اپنے اور اگلی نسل کے دلوں میں دشمنوں کیلیے ایسی نفرت پیدا کر دیں جو بطور ایند ھن استعمال کی جا سکے۔
ہم خود کو یہ بات سمجھالیں ہم ہر وقت حالت جنگ میں ہیں اور جس طرح سامنے جانی دشمن کو دیکھ کر تھکاوٹ اتر جاتی ہے بلکل اسی طرح ہمیں چوکنا رہنا ہے۔
لیکن ہم ہیں کہ تفریح کیلیے جیتے ہیں اور ہمارے اندر کوٸ سنجیدگی باقی ہی نہیں رہی۔ ہم جانتے ہیں کہ اگر ہم کسی وجہ سے زیر ہو گۓ تو ہم پر کوٸ ترس نہیں کھایا جاۓ گا اور ہماری چیخیں سننے والا بھی کوٸ نہیں ہو گا۔ لہٰذا ہمیں ابھی سے صف آرا ہونا لیکن بغیر کسی شور شرابے کے
ورنہ ہمارے لیے مشکلات اور بھی بڑھ سکتی ہیں ۔
اب کرنا کیسے ہے؟
انہوں نے جدت کی جنگ کا آغاز کیا تو ہے لیکن ابھی اختتام ابھی طے نہیں ہوا۔ ہمیں جنگ کا ایسا مورچا سنبھالنا ہے جہاں سے وار کیا بھی جا سکے اور روکا بھی جا سکے۔ مزے کی بات یہ کہ اس جنگ میں کسی چیز کی کوٸ قید نہیں ۔ اس کے بعد شاید ہمارا مستقبل تھوڑا محفوظ ہو جاۓ۔
لیکن یہ تب تک ممکن نہیں جب تک ہمارے لیے کتا بیں بوجھ کی بجا ۓ زادہ راہ اور درسگا ہیں قید خانوں کی بجاۓ مورچے نہ بن جا ٸیں۔ ہمیں ایسا کھیلاڑی بننا ہے جو کھیل کے درمیان میں آکر جیت جاۓ ۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے کیو نکہ ہمیں نہ کوٸ راہ دیکھانے والا نہ کوٸ مخلص دوست ہے اور ملکی حلات اور بھی مایوس کن ہیں لیکن اگر زندہ رہنا ہے تو یہ سب کر نا ہو گا ۔
نفسیات کے نزدیک سب سے آسان طریقہ یہی ہے کہ ہم تعلیم کو اپنے اس پسندیدہ کھا نے کے طور پر اپنا ٸیں جس کا ذائقہ ہمیں قدرت کا شکر ادا کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔ لیکن ہمارے مساٸل ہی اور ہیں۔ ہم کبھی اپنی ذات اور شخصیت سے باہر نکلنے کیلیے تیار ہی نہیں اور ہم ریت کے ذروں کو پہاڑ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں۔
ہم نے تو کامیابی کا معیار بھی معاشرے سے لیا ہے اور ہم جب معاشی طور پر خود کفیل ہو جاتے ہیں تو خود کو کامیاب سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں خود کو بدلنا ہو گا اور مطلوبہ منزل کو ہر حال میں پانا ہو گا جو بلکل لازمی ہے۔ اگر منزل مل بھی جاۓ تب بھی اس سے آگے کا سوچنا ہو گا۔اب صرف ایک ہی چیز کے بارے میں فکر کرنی ہے اور وہ ہے تعلیم اور صرف تعلیم ۔
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں والدین کا فخر بناۓ اور ہمیں ایک عظیم نسل کا معمار بناۓ جو باد مخالف میں بھی فتح حاصل کرے۔



