
مصنف: شجاع ملک
ہر بچے کے خواب میں یہ شامل ہوتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر کچھ ایسا کرے کہ دنیا اسے پہچانے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوں نوجوان ہر سال ورک فورس میں شامل ہوتے ہیں، اور زیادہ تر اپنی سی وی کے لیے نوکری تلاش کرتے ہیں، جب کہ اپنا کاروبار شروع کرنا کم ہی سوچتے ہیں۔
اس مضمون میں ہم جانیں گے کہ نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے میں کون سی بڑی مشکلات درپیش ہیں اور ان کے حل کے ممکنہ طریقے کیا ہیں۔
پیچیدہ قوانین اور عدالتی نظام
مرتضیٰ زیدی، جو کراچی اور پشاور میں نیشنل انکیوبیشن سنٹر قائم کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ نوجوان کاروبار شروع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اکثر ان کے پاس قوانین، لائسنس اور اجازت ناموں کی مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔
"نوجوان یہ نہیں جان پاتے کہ کس محکمے سے کون سی این او سی یا لائسنس لینا ہے۔ اگر کاروبار کے لیے این او سی یا لائسنس میں رکاوٹ آئے تو وہ یا ناکام ہوگا یا تاخیر کا شکار ہوگا۔"
قوانین کی پیچیدگی کے ساتھ عدالتی نظام کی کمزوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی وینڈر یا کسٹمر معاہدہ توڑ دے، تو نوجوان کے پاس فوری قانونی کارروائی کا مؤثر ذریعہ نہیں ہوتا، اور عدالتوں میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
سرمایہ کاری اور مالی مشکلات
نوجوانوں کے لیے کاروبار شروع کرنے میں سرمایہ کاری کی آسان رسائی بھی ایک چیلنج ہے۔
حسن رضا کہتے ہیں:
"بینکوں سے قرضہ لینا مشکل ہے، شرح سود بہت زیادہ ہے اور اکثر بینک صرف ان لوگوں کو قرض دیتے ہیں جن کے پاس پہلے سے پیسے ہوں۔ نئے آئیڈیاز یا کیش فلو پر قرض دینا تقریباً ناممکن ہے۔"
وینچر کیپیٹلسٹ موجود ہیں مگر اکثر وہ کاروبار کے 70 سے 90 فیصد حصے پر قابض ہونا چاہتے ہیں، جس سے نوجوان بانی کے لیے کاروبار میں دل جمعی اور محنت کم ہو سکتی ہے۔
غیر ہنر مند ورک فورس
پاکستان میں نوجوانوں کے لیے قابل اور ہنر مند ملازمین تلاش کرنا بھی ایک چیلنج ہے۔
شفیق اکبر، گرانا گروپ کے سی ای او، کہتے ہیں:
"ہیومن ریسورس مارکیٹ میں موجود ہے، مگر اچھے کام کرنے والے کم ہیں۔"
محمد ہادی، رومر کار رینٹل ایپ کے سی ای او، کہتے ہیں کہ پاکستان میں ابھی اسٹارٹ اپ کلچر مکمل طور پر قائم نہیں ہوا، اور لوگ نائن ٹو فائیو ذہنیت کے مطابق کام کرتے ہیں، جس سے کاروبار کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔
تعلیمی نظام اور ہنر کی کمی
تعلیمی ادارے زیادہ تر ڈگریوں پر توجہ دیتے ہیں اور طلبہ کو عملی ہنر سکھانے پر کم زور دیتے ہیں۔
حسن رضا کہتے ہیں:
"ہم یونیورسٹیوں میں انٹرپرینیورشپ کورسز پڑھاتے ہیں، مگر اساتذہ نے خود کبھی کمپنی نہیں چلائی، تو وہ نہیں جانتے کہ کاروبار کے مسائل کیا ہیں۔"
تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو عملی تجربہ فراہم کریں، مثلاً چھٹیوں میں فیکٹریوں یا کمپنیوں میں کام کروائیں تاکہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد طلبہ کے پاس حقیقی ہنر موجود ہو۔
حل اور سفارشات
ماہرین کے مطابق نوجوانوں کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنانے کے چند بنیادی اقدامات درج ذیل ہیں:
- قوانین کی آسانی اور شفافیت
حکومت کو چاہیے کہ وہ ایک ایسا پورٹل یا دفتر قائم کرے جہاں نوجوان آسانی سے تمام قانونی معلومات حاصل کر سکیں۔ - سرمایہ کاری تک بہتر رسائی
قرضوں کے نظام کو مؤثر بنایا جائے، اور کامیاب جوان پروگرام جیسی سکیموں میں جدت پسند آئیڈیاز کو ترجیح دی جائے تاکہ کامیاب کمپنیاں پیدا ہو سکیں۔ - تعلیمی ادارے اور صنعت کا رشتہ مضبوط کریں
طلبہ کو عملی ہنر سکھانے کے لیے یونیورسٹیوں اور فیکٹریوں/کمپنیوں کے درمیان تعلق بڑھایا جائے، تاکہ طلبہ مارکیٹ میں داخل ہونے سے پہلے مہارت حاصل کر سکیں۔
نتیجہ
پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کے لیے نوجوانوں کو کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے، مگر یہ مارکیٹ کافی فائدہ مند بھی ہے۔ پیچیدہ قوانین، سرمایہ کاری کی کمی، غیر ہنر مند ورک فورس اور عملی تجربے کی کمی جیسے چیلنجز موجود ہیں، مگر مناسب حکومتی اقدامات، تعلیمی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر کے یہ مسائل کم کیے جا سکتے ہیں۔
نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہمت نہ ہاریں اور اپنے آئیڈیاز کو عملی شکل دینے کی کوشش جاری رکھیں، کیونکہ کامیاب کاروبار نہ صرف ان کے لیے بلکہ پاکستان کی معیشت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔



