نیرِ دعوتِ حق تیری تجلّی کے نثار

An ornate blue shield with white and gold Urdu calligraphy ("Light of the Call to Truth") is central, set against a backdrop of a sunrise over mountains and a mosque. In the foreground, stacked Islamic books, a lit lantern, a black flag with Arabic text, and a scroll with a quill are visible.

یہ نظم ۱۹۷۴ء میں منعقد ہونے والے جماعتِ اسلامی ہند کے کل ہند اجتماع (دہلی)

کے لیے لکھی گئی تھی

رہروو! جشن کہ منزل کے نشاں ابھرے ہیں

مے کشو! رقص کہ میخانہ نظر آیا ہے

کوہِ فاراں کی بلندی پہ جو چمکا تھا کبھی

پھر وہی جلوۂ جانانہ نظر آیا ہے

جس سے چھلکی تھی کبھی وحدتِ آدم کی شراب

مدتوں بعد وہ پیمانہ نظر آیا ہے

چھوڑ کر شہرِِ ہوس عشق کے ویرانے میں

کوئی وحشی کوئی دیوانہ نظر آیا ہے

عشق اک محفل فردا کو سجانے کے لیے

عیشِ امروز سے بیگانہ نظر آیا ہے

یہ مرا حسنِ نظر ہے کہ تمنا کا فریب

فقر باسطوتِ شاہانہ نظر آیا ہے

گھُپ اندھیرے میں چمکتے ہوئے جگنو کی طرح

ایک بھولا ہوا افسانہ نظر آیا ہے

اک ذرا غُرفۂ ظلمت سے جو پردہ سرکا

نگہِ شوق کو کیا کیا نہ نظر آیا ہے

نیرِِ دعوتِ حق تیری تجلّی کے نثار

اپنے اندر کا صنم خانہ نظر آیا ہے