پاکستان کی ثالثی: ٹرمپ کی پسپائی، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کا غیر یقینی مستقبل

byمسعود ابدالیApril 15, 2026
Minar-e-Pakistan in front of a Pakistan flag, with Urdu text "Pakistan was inevitable."

جنگ بندی کی بنیاد نہایت کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور اچانک فیصلوں کی تاریخ اس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے

ایران اور امریکہ و اسرائیل کے مابین جنگ میں عارضی وقفہ آگیا۔ انگریزی اصطلاح میں یہ 11th hourکامیابی ہے کہ ایران کو فنا کردینے کی دھمکی پر عمل درآمد واشنگٹن کے وقت کے مطابق رات 8 بجے شروع ہونا تھا کہ صدر ٹرمپ نے شام ساڑھے 6 بجے وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے 2 ہفتے کی عارضی جنگ کی تجویز پر آمادگی ظاہر کردی۔

پاکستان کی ثالثی اور ٹرمپ کا اچانک فیصلہصدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ (Truth Social) پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مشاورت کے بعد ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کو عارضی طور پر معطل کیا جارہا ہے تاکہ سفارتی حل کی راہ ہموار کی جا سکے۔

ایران کا مشروط مثبت ردعملاس سے پہلے شہبازشریف نے تجویز پیش کی تھی کہ ’’امریکہ، ایران کی شہری تنصیات پر حملہ دو ہفتے کے لیے ملتوی کردے اور ہمارے ایرانی بھائی اس عرصے کے لیے آبنائے ہرمز کھول دیں‘‘۔ اس تجویز پر ایران کی جانب سے مشروط طور پر مثبت ردعمل ملا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ایران پر حملے روک دیے جائیں تو ایران بھی اپنی دفاعی کارروائیاں معطل کرنے پر آمادہ ہے، اور مخصوص شرائط کے تحت آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ فراہم کی جا سکتی ہے۔

عبوری جنگ بندی کا اعلان اور ممکنہ مذاکراتبعد ازاں پاکستان نے عبوری جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے عندیہ دیا کہ یہ جنگ بندی نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ ان کے اتحادیوں پر بھی لاگو ہوگی، جس میں لبنان اور دیگر محاذ بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق براہِ راست امن مذاکرات 10 اپریل سے شروع ہونے کا امکان ہے۔

ٹرمپ کا جارحانہ لہجہ اور داخلی دباؤاگرچہ یہ پیش رفت ایک اہم سفارتی کامیابی ہے، تاہم اس کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل کارفرما تھے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں غیر معمولی سختی اور اشتعال انگیزی پائی جاتی تھی، نہ صرف عالمی سطح پر تنقید کا باعث بنے بلکہ خود امریکہ کے اندر بھی بے چینی پیدا ہوئی۔ شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی باتیں بین الاقوامی قانون کے مطابق جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتی ہیں، جس پر متعدد امریکی صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کیا۔

جوہری خدشات اور خطرناک افواہیںاسی دوران اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک محدود نوعیت کے تزویراتی (Tactical) جوہری حملے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں، اگرچہ امریکی حکام نے اس کی تردید کی، تاہم صدر ٹرمپ کے بعض بیانات سے، جن میں ’’بڑا سرپرائز‘‘ اور ’’تہذیب کو مٹا دینا‘‘ جیسے الفاظ شامل تھے، ان خدشات کو تقویت ملی۔

یہودی حلقوں کا ردعمل اور اخلاقی سوالاتامریکی یہودی حلقوں میں بھی ان بیانات پر تشویش دیکھی گئی۔ جیوش کونسل فار پبلک افیئرز کی سربراہ ایمی اسپیٹل نک(Amy Spitalnick) نے واضح کیا کہ کسی بھی قوم یا تہذیب کو مٹانے کی دھمکیاں نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہیں بلکہ یہ خود یہودی برادری کے لیے نقصان دہ اور سام دشمنی (antisemitism) کو ہوا دے سکتی ہیں۔

ادھر تہران میں ایک قدیم یہودی عبادت گاہ (سیناگوگ) کو اسرائیلی بمباری سے نقصان پہنچنے کی خبر بھی سامنے آئی، جسے اسرائیلی فوج نے ’’ضمنی نقصان‘‘ (collateral damage) قرار دیا، تاہم اس وضاحت کو مذہبی حلقوں میں پزیرائی حاصل نہ ہوسکی۔

سفارتی راستہ: باعزت پسپائی یا حکمت عملی؟ان تمام عوامل کے پیش نظر صدر ٹرمپ کو ممکنہ نتائج کا ادراک ہوا اور انہوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے سفارتی راستہ اپنانے میں عافیت سمجھی۔ اس موقع پر پاکستان کی مداخلت نے نہ صرف کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ فریقین کو باعزت راستہ بھی فراہم کیا۔

جنگ بندی کا پھیلاؤ… لبنان اور دیگر محاذاس عبوری جنگ بندی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا اطلاق لبنان اور دیگر محاذوں پر بھی ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ خطے میں جاری دیگر جھڑپوں میں بھی وقتی کمی آسکتی ہے۔ اگر یہ مفروضہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کے اثرات غزہ سمیت دیگر حساس علاقوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کی برتریبلاشبہ اسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس وقت دو متوازی جنگیں جاری تھیں… ایک عسکری اور دوسری سفارتیِ… اور پاکستان نے سفارتی محاذ پر بظاہر پہلا مرحلہ اپنے نام کرلیا ہے۔

نازک امن اور غیر یقینی مستقبلتاہم اس جنگ بندی کی بنیاد نہایت کمزور ہے۔ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور اچانک فیصلوں کی تاریخ اس معاہدے کے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے۔ مزید برآں اسرائیل کا مؤقف بھی مکمل طور پر ہم آہنگ نظر نہیں آتا۔ اس طرح یہ جنگ بندی شاخِ نازک پر بنا آشیانہ ہے جو کسی بھی لمحے بکھر سکتا ہے۔

فی الحال یہ عارضی جنگ بندی ایک سانس لینے کا موقع ضرور فراہم کرتی ہے، مگر اسے مستقل امن کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں اعتماد کا فقدان، طاقت کا عدم توازن اور علاقائی رقابتیں ایسی بارودی سرنگیں ہیں جو کسی بھی وقت اس امن کو نگل سکتی ہیں تاہم اس مختصر وقفے نے یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ سنجیدہ سفارت کاری بندوق کی گھن گرج کو وقتی طور پر خاموش کرسکتی ہے۔ اصل امتحان اب اس خاموشی کو پائیدار امن میں بدلنے کا ہے۔ خونریزی کے وقتی خاتمے کی پہلی برکت تیل کی قیمتوں میں 16 ڈالر فی بیرل کی کمی کی صورت میں ظاہر ہوئی جو مشرق وسطیٰ کے تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ملکوں کے لیے وقتی راحت کا باعث ہے۔

تہذیبی جواب… تاریخ بمقابلہ طاقتیہ بیان ایک ہفتہ پہلے جاری ہونے والے اُس بیان کا تسلسل ہے جس میں انھوں نے اتوار کو فحش گالی کا تڑکا بھی لگادیا۔ دلچسپ بات کہ اس پر مشتعل ہونے کے بجائے گرم دمِ جستجو، نرم دمِ گفتگو ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے جواب میں تاریخ کا دروازہ کھول کر کہا:

’’جب آپ غاروں میں آگ تلاش کررہے تھے، اُس وقت ہم Cyrus Cylinder پر انسانی حقوق لکھ رہے تھے۔ ایران صرف ایک ملک نہیں، ایک تہذیب ہے۔‘‘

ایک طرف طاقت کے بل پر دھمکیاں، دوسری جانب ہزاروں سال پرانی تہذیبی یاددہانی۔ اس تضاد نے تاریخ و تہذیب اور ٹیکنالوجی سے مزین وحشت کا فرق واضح کردیا۔

گڈ فرائیڈے… امریکی فوج کا سیاہ جمعہگڈ فرائیڈے، امریکی فضائیہ کے لیے یومِ سیاہ ثابت ہوا کہ اس دن ایران نے امریکہ کے 2طیارے مارگرائے اور ایک ہیلی کاپٹر کو شدید نقصان پہنچایا۔ امریکی F15-E طیارے کی تباہی کا دو دہائیوں کے دوران یہ پہلا واقعہ ہے۔ تاہم امریکی جس مہارت اور جرات سے اپنے دونوں پائلٹوں کو ایرانی حدود سے بحفاظت باہر نکال لے گئے وہ بھی اس ہفتے کا اہم واقعہ تھا۔ ایرانیوں نے ایک C-130 طیارہ گرانے کا دعویٰ بھی کیا اور ثبوت کے طور پر اس کے ملبے کی تصویر شایع کی ہے، لیکن امریکہ نے ابھی تک اس کا اعتراف نہیں کیا۔

26 ہزار بم… طاقت کا اظہار یا بیانیہ سازی؟امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے مطابق 26 مارچ تک امریکی فضائیہ نے ایران پر 11ہزار بم گرائے۔ جنرل صاحب نے بہت فخرسے کہا کہ فضائی برتری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے B-52 بمبار ایرانی سرزمین پر مسلسل بمباری کررہے ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ اسی عرصے میں اسرائیلی طیاروں نے 15ہزار بم برسائے۔

ان ہولناک اعدادو شمار کا سرکاری اجرا عسکری برتری کے اظہار کے ساتھ ایران کو مرعوب و خوف زدہ کرنے کی مہم یا جارحانہ بیانیہ سازی کا حصہ نظر آتا ہے۔

بدلتے اہداف… جوہری پروگرام سے وسائل تکابتدائی طور پر اس جنگ کا ہدف ایران کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور سیاسی تبدیلی بتایا گیا، مگر اب امریکی بیانات میں توانائی کے وسائل، خصوصاً تیل اور آبنائے ہرمز کا ذکر نمایاں ہوچکا ہے۔ صدر ٹرمپ کے بیانات میں اس حوالے سے تضاد بھی صاف ظاہر ہے۔ کبھی وہ آبنائے ہرمز کو بنیادی مسئلہ کہتے ہیں تو کبھی وہ لاتعلق نظر آتے ہیں کہ جن ممالک کو آبنائے ہرمز کی بندش سے بحران کا سامنا ہے وہ خود اسے کھلوائیں۔

متضاد بیانات اور سفارتی ابہامصدر ٹرمپ کی جانب سے ایک ہی وقت میں جنگ بندی کے امکانات، فوری فتح کے دعوے اور سخت دھمکیوں کا امتزاج اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن کی حکمت عملی میں واضح تسلسل موجود نہیں۔ کبھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے تو کبھی مکمل عسکری غلبے کی۔

زمینی حقیقت یا مبالغہ؟صدر ٹرمپ کے مؤقف کے ساتھ اُن کے دعووں کی ساکھ بھی مشکوک ہے۔ قوم سے خطاب میں انھوں نے بہت اعتماد سے کہا کہ ایران کے میزائیل داغنے والے لانچرز کوخاک (Obliterate) کردیا گیا ہے، لیکن دوسرے ہی دن امریکی محکمہ سراغ رسانی کے حوالے سے CNN نے انکشاف کیا کہ 37 دن کی مسلسل بمباری کے باوجود ایران کے 50 فیصد سے زیادہ لانچر فعال ہیں۔ یہ تضاد اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ بیانات مبالغہ آرائی ہیں یا جنگی حکمتِ عملی کے تحت نفسیاتی دباؤ بڑھانے کی کوشش؟

شہری تنصیبات… جنگ کا پھیلتا دائرہصدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ اب ایران میں بجلی بنانے والے کارخانوں، جامعات، اسپتالوں، تیل کے کنوؤں، جزیرہ خارگ اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والی تنصیات کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہ مہم عملاً شروع بھی کردی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتے متعدی امراض پر تحقیق کا سوا صدی پرانا تحقیقی مرکز Pasteur Medical Research Center ملیامیٹ کردیا گیا۔ اس کے دودن بعد جامعہ بہشتی اور ایران کی مایہ ناز دانشگاہِ صنعتی شریف (Sharif University of Technology)بھی ملبہ بنی۔ سائنس پر تحقیق و جستجو کا یہ ادارہ ایران کا MITکہلاتا ہے۔ تہران کا جدید ترین گاندھی اسپتال، کرمان شہر کا فارابی اسپتال اور ویکسین بنانے والے ادارے توفیق دارو فیکٹری سمیت صحتِ عامہ کی 316 سے زیادہ تنصیبات تباہ کی جاچکی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بہت فخر سے سوشل میڈیا پر لکھا کہ تہران کو کرج سے ملانے والا پل بمباری سے توڑ دیا گیا۔ مشرق وسطیٰ کا یہ سب سے بلند پل اس سال کے آغاز پر مکمل ہوا تھا۔ بحر خزر (Caspian) کے قریب واقع اس تاریخی شہر اور اس کے مضافاتی علاقے فردیس میں بلندو بالا رہائشی عمارات پر بمباری کی گئی۔ تادمِ تحریر 90 ہزار مکانات اور 760 اسکول ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیے گئے۔ یہ حملے جنگ کے دائرۂ کار میں خطرناک توسیع کی نشاندہی کرتے ہیں، جس کے انسانی اثرات نہایت سنگین ہوسکتے ہیں۔

خلیجی پانی کا بحران… ایک نیا محاذ؟اسرائیلی بمباروں نے ایران کے جزیرہ قشم پر سمندرکے پانی کو میٹھا بنانے کے کارخانے (Desalination Plant)کو تباہ کردیا۔ اسے کویت کے Desalination Plantپر حملے کا جواب قراردیا گیا ہے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ کویت پر حملہ اسرائیل نے کیا ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس کے Desalinationوسائل پر حملہ ہوا تو وہ علاقے کے دوسرے ممالک کے ان منصوبوں کو بھی نہیں چھوڑے گا۔ خلیجی ممالک دنیا کے خشک ترین علاقے سمجھے جاتے ہیں اور وہاں سمندر کے پانی کو میٹھا بناکر آب نوشی کی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ متحدہ عرب امارات میں 42 فیصد، سعودی عرب میں 70، عُمان میں 86 اور کویت میں پینے کا 90 فیصد پانی Desalination سے حاصل ہوتا ہے۔ اس تناظر میں ان تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے یا ان پر حملوں کے خدشات خطے کے لیے ایک بڑے انسانی بحران کا پیش خیمہ بن سکتے ہیں۔