
ایک سوال جو آج بھی زندہ ہے
یونیورسٹی کے کیمپس میں بیٹھا ایک طالب علم آج یہ سوال خود سے ضرور پوچھتا ہے: “کیا میں صرف ڈگری لینے آیا ہوں یا اس ملک کے مستقبل میں میرا بھی کوئی حصہ ہے؟”
یہ سوال نیا نہیں۔ یہی سوال قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقاریر میں نوجوانوں کے سامنے رکھا تھا—فرق صرف یہ ہے کہ اُس وقت قوم غلامی سے نکل رہی تھی، اور آج قوم فکری، معاشی اور اخلاقی آزمائشوں میں گھری ہوئی ہے۔
قائدِ اعظم کے نزدیک پاکستان کا مستقبل کسی ایک ادارے، حکومت یا شخصیت کے ہاتھ میں نہیں تھا، بلکہ نوجوانوں کی سوچ کے معیار، کردار کی مضبوطی اور عمل کی دیانت پر منحصر تھا۔
آج کی نئی پاکستانی نسل ڈیجیٹل دنیا، عالمی سیاست، معاشی دباؤ اور شناختی کشمکش کے بیچ کھڑی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حالات مشکل ہیں یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس مقام پر کھڑے ہو کر بھی قائد کے خواب سے جڑ سکتے ہیں؟
یہ مسئلہ کیوں موجود ہے؟
پاکستان کی نوجوان آبادی دنیا کی بڑی نوجوان آبادیوں میں شامل ہے، مگر اسی کے ساتھ یہ نسل بے یقینی، بے روزگاری، تعلیمی عدم توازن اور اعتماد کے بحران کا شکار بھی ہے۔
قائدِ اعظم نے نوجوانوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ہنگامہ آرائی، وقتی نعروں اور غیر تعمیری سیاست کا ایندھن نہ بنیں۔ مگر آج کا نوجوان اکثر یا تو مکمل لاتعلقی اختیار کر لیتا ہے، یا جذباتی وابستگی میں اپنی اصل ذمہ داری بھول جاتا ہے۔
طلبہ عام طور پر کیا غلطی کرتے ہیں؟
- تعلیم کو محض نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھنا
- سیاست یا سماجی معاملات سے یا تو حد سے زیادہ جذباتی ہونا، یا مکمل کنارہ کشی
- بیرونی فکری سانچوں کو بغیر تنقید اپنانا
- اپنی تہذیبی اور اخلاقی بنیادوں سے کٹ جانا
قائدِ اعظم نے واضح کیا تھا کہ طالب علم کا اولین فرض علم کا حصول ہے، مگر ایسا علم جو قوم اور انسانیت دونوں کے کام آئے۔
قائدِ اعظم کا وژن: نوجوان کی اصل پہچان
قائدِ اعظم کے خطابات میں نوجوان محض سامع نہیں، بلکہ معمارِ پاکستان ہیں۔
وہ نوجوانوں کو فولادی عزم، بلند کردار اور خود انحصاری کی تلقین کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک آزادی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ بیرونی غلامی ختم ہو جائے، بلکہ یہ کہ فکری اور اخلاقی خود مختاری پیدا ہو۔
انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا بیرونی مفاد کے آلہ کار نہ بنیں، بلکہ آزاد قوم کے آزاد فرد بن کر سوچیں اور فیصلہ کریں۔
یہی نکتہ آج سب سے زیادہ نظر انداز ہو رہا ہے۔
قیادت اور ذمہ داری کا تصور
اسلام نوجوانی کو توانائی، امانت اور جواب دہی کا دور قرار دیتا ہے۔ قرآن انسان کو محض فرد نہیں بلکہ خلیفہ کے تصور سے جوڑتا ہے—یعنی ذمہ دار، باخبر اور بااخلاق۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں نوجوان صحابہؓ علم، کردار اور خدمت کے ذریعے قیادت سنبھالتے نظر آتے ہیں۔ یہ قیادت شور سے نہیں، کردار کی خاموش طاقت سے بنتی ہے۔
قائدِ اعظم کا وژن بھی اسی اسلامی اصول سے ہم آہنگ تھا:
- کردار، نہ کہ محض نعرہ
- علم، نہ کہ محض جوش
- خدمت، نہ کہ ذاتی مفاد
قومی و عالمی تناظر
آج کا نوجوان صرف پاکستانی نہیں، بلکہ ایک عالمی شہری بھی ہے۔ ٹیکنالوجی، عالمی سیاست اور معاشی نظام اسے دنیا سے جوڑتے ہیں۔
قائدِ اعظم چاہتے تھے کہ نوجوان دنیا کے حالات سے باخبر ہوں، مگر اپنی شناخت پر مضبوطی سے قائم رہیں۔ مغرب سے سیکھنا جرم نہیں، مغرب میں گم ہو جانا نقصان ہے۔
یہی توازن آج کی نسل کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھی ہے اور سب سے بڑا موقع بھی۔…
انفرادی سطح پر
- اپنی تعلیم کو قوم کی خدمت کے تناظر میں دیکھیں
- تنقیدی سوچ (critical thinking) کو فروغ دیں، اندھی تقلید سے بچیں
- اپنی تہذیب، تاریخ اور اسلامی اقدار کا شعوری مطالعہ کریں
- نظم و ضبط، دیانت اور محنت کو اپنی شناخت بنائیں
اجتماعی سطح پر
- کیمپس میں مثبت مکالمہ اور علمی سرگرمیوں کو فروغ دیں
- نوجوانوں کے مسائل پر سنجیدہ اور پُرامن آواز اٹھائیں
- سماجی خدمت، تحقیق اور اختراع کے منصوبوں میں حصہ لیں
یہی وہ راستہ ہے جو قائد کے خواب کو وعدے میں بدل سکتا ہے۔
خواب اب بھی زندہ ہے
قائدِ اعظم کا خواب کسی ماضی کی تقریر میں دفن نہیں، وہ آج بھی نئی پاکستانی نسل کے ضمیر سے سوال کرتا ہے۔
یہ نسل اگر محض شکوہ کرنے کے بجائے خود کو سنوار لے، اگر آزادی کو ذمہ داری اور علم کو خدمت سے جوڑ دے، تو پاکستان کا مستقبل محض محفوظ ہی نہیں بلکہ باوقار بھی ہو سکتا ہے۔
یاد رکھیے، قومیں وسائل سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں—اور کردار ہمیشہ نوجوان بناتے ہیں۔
قائدِ اعظم نے ہم پر یقین کیا تھا، اب سوال یہ ہے: کیا ہم اس یقین پر پورا اترنے کو تیار ہیں؟

