
مسئلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے؟
جامعات کی راہداریوں، ہاسٹل کے کمروں اور سوشل میڈیا کی اسکرینوں پر ایک مشترک خاموشی پھیلی ہوئی ہے—ذہنی دباؤ، گھبراہٹ، بےچینی، افسردگی اور موڈ سوئنگز۔ یہ محض چند نفسیاتی اصطلاحات نہیں رہیں، بلکہ نوجوانوں کی روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں۔ تیز رفتار مادّی دور، غیر یقینی مستقبل، مقابلے کی دوڑ، ڈیجیٹل شور، اقدار کی کمزوری اور مقصدیت سے دوری نے نسلِ نو کے باطن میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے۔
جدید نفسیات ادویات اور تھراپی کی طرف رہنمائی کرتی ہے—جو اپنی جگہ ضروری بھی ہیں—مگر سوال یہ ہے کہ کیا سکونِ قلب، مقصدِ حیات اور داخلی توازن کے لیے کوئی پائیدار اخلاقی و روحانی فریم ورک بھی موجود ہے؟
اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ انسان کے ذہن، دل اور رویّوں کی اصلاح کا جامع نظام ہے۔ قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں وہ زاویۂ نظر عطا کرتے ہیں جو نفسیاتی الجھنوں کو جڑ سے سمجھتا اور متوازن حل پیش کرتا ہے—وعظ نہیں، زندگی۔
ذہنی صحت کیا ہے؟ اسلامی فہم
ذہنی صحت اس باطنی سکون کا نام ہے جس کے ساتھ انسان حقیقت پسند، متوازن اور باوقار رہتا ہے۔ جیسے جسمانی صحت کے لیے غذا، ورزش اور صفائی لازم ہیں، ویسے ہی ذہنی صحت کے لیے کارآمد افکار، جذبات پر ضبط، اور مقصد کی وضاحت ضروری ہے۔ اسلام اس توازن کو خوف و رجاء، صبر و شکر اور ذکر و توکل کے ذریعے قائم کرتا ہے۔
مسئلہ کیوں بڑھ رہا ہے؟
- ٹیکنالوجی کا بےمحابا استعمال اور سوشل میڈیا پر موازنہ
- کامیابی کے غیر حقیقی معیارات
- اقدار کی کمزوری اور روحانی خلاء
- شناخت اور مقصدِ حیات کا بحران
یہ عوامل نوجوان کو یا حد سے زیادہ خوش فہمی (Optimism) یا شدید مایوسی (Pessimism) میں دھکیل دیتے ہیں—جبکہ اسلام اعتدال سکھاتا ہے۔
اسلامی عدسہ: قرآن و سیرت ﷺ بطور علاج
1) ذہنی دباؤ (Depression): امید کی بازیافت
قرآن مایوسی کو فکری لغزش قرار دیتا ہے:
“اور اپنے رب کی رحمت سے گمراہ لوگ ہی ناامید ہوتے ہیں” (الحجر: 56)
نماز اور صبر نفسیاتی مضبوطی کے ستون ہیں:
“صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو” (البقرہ: 45)
سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں دعا، استغفار اور توکل کی عملی تربیت دیتی ہے—غم کے لمحے میں بھی معنی تلاش کرنا۔
2) احساسِ کمتری: وقارِ انسان کی بحالی
احساسِ کمتری ظاہری پیمانوں سے خود کو ناپنے کا نتیجہ ہے۔ قرآن انسان کو اس کی اصل قدر یاد دلاتا ہے:
“یقیناً ہم نے انسان کو بہترین انداز میں پیدا کیا” (التین: 4)
اور معیارِ عزت واضح کرتا ہے:
“اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے” (الحجرات: 13)
سیرت ﷺ میں خودی (Self-respect)، اعتماد اور اخلاقی قوت کا نمونہ ملتا ہے—طاقتور مؤمن، باوقار مؤمن۔
3) مقصدِ حیات کا بحران
بے مقصد زندگی ذہنی تھکن کو جنم دیتی ہے۔ قرآن معرفت کی دعوت دیتا ہے:
“پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں” (محمد: 19)
ذکرِ الٰہی سے دوری زندگی کو تنگ کر دیتی ہے (طٰہٰ: 124)۔ مقصد واضح ہو تو ذہن مضبوط، دل مطمئن اور راستہ روشن ہوتا ہے۔
4) بے راہ روی اور فحاشی: نفسیاتی تحفظ
اسلام حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے اور نکاح کو پاکیزہ، عملی حل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہ تعلیمات محض اخلاقی نہیں، بلکہ ذہنی و جذباتی تحفظ کی ضمانت ہیں۔
طلبہ عام طور پر کہاں غلطی کرتے ہیں؟
- فوری حل کی تلاش، گہرے معنی سے غفلت
- موازنہ اور خود الزام تراشی
- روحانی تربیت کو “غیر عملی” سمجھنا
- ماہرینِ نفسیات سے رجوع میں ہچکچاہٹ
اسلام توازن سکھاتا ہے: روحانی اصلاح + پیشہ ورانہ مدد—دونوں لازم۔
عمل کا خاکہ | اگر آپ طالب علم ہیں تو…
انفرادی سطح پر
- روزمرہ میں مختصر ذکر/دعا اور باقاعدہ نماز
- اسکرین ٹائم کی حد، نیند اور جسمانی حرکت
- اپنی قدر کو تقویٰ، محنت اور نیت سے ناپیں
- ضرورت پڑے تو مستند ماہرِ نفسیات سے رجوع
اجتماعی سطح پر
- کیمپس میں ذہنی صحت مکالمے اور سپورٹ گروپس
- نکاح کو آسان بنانے اور اخلاقی فضا کے فروغ کی وکالت
- ڈیجیٹل لٹریسی اور میڈیا تنقید کی تربیت
اختتامی سوچ | امید کی بنیاد
قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ نوجوان کو یہ یقین عطا کرتے ہیں کہ ذہنی سکون محض حالات کی تبدیلی سے نہیں، زاویۂ نظر کی اصلاح سے آتا ہے۔ جب روحانیت، مقصد اور اخلاق جدید نفسیاتی بصیرت کے ساتھ جڑ جائیں تو ایک ہمہ جہتی حل سامنے آتا ہے—ایسا حل جو نوجوان کو بحران سے نکال کر قیادت، وقار اور خدمت کی راہ دکھاتا ہے۔
نسلِ نو محض مسائل کی فہرست نہیں—وہ حل کی صلاحیت بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی فہم کو زندگی میں اتاریں، اور ذہنی صحت کو شرمندگی نہیں، ذمہ داری سمجھیں۔


