
موجودہ صورتحال کے اعداد و شمار
پاکستان میں طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے بین الاقوامی اور مقامی اداروں کی رپورٹس تشویشناک اشارے دے رہی ہیں:
مطالعات کے اہم نتائج:
- عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان میں 15-35 سال کی عمر کے 34% افراد ذہنی دباؤ کا شکار ہیں
- اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (UNICEF) کی 2021 کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی طلبہ کا تقریباً 40% ڈپریشن اور بے چینی کا شکار ہے
- انٹرنیشنل جرنل آف مینٹل ہیلتھ سسٹمز کے ایک مطالعے میں 50% سے زائد پاکستانی طلبہ نے تعلیمی دباؤ کو اپنی ذہنی صحت کی خرابی کا بنیادی سبب قرار دیا
بنیادی وجوہات
1. تعلیمی نظام سے متعلق دباؤ
- فیصلہ کن امتحانات: میٹرک، انٹرمیڈیٹ اور داخلہ امتحانات کا شدید دباؤ
- گریڈ پر غیر ضروری زور: نمبروں کی دوڑ اور "اول آنے" کی ثقافت
- ناکافی تعلیمی سہولیات: بجٹ کا صرف 2.4% تعلیم پر خرچ کیا جانا (ایجوکیشن ٹسٹ 2022)
2. معاشی و سماجی عوامل
- بے روزگاری کا خوف: نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 8.5% (پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس 2023)
- خاندانی توقعات: روایتی پیشوں (ڈاکٹر، انجینئر) پر اصرار
- مستقبل کی غیر یقینی: معاشی عدم استحکام کا خوف
3. تکنیکی اور معاشرتی تبدیلیاں
- سوشل میڈیا کا دباؤ: "مثالی زندگی" کا موازنہ اور سائبر ہراسانی
- روایتی سماجی ڈھانچے کی تبدیلی: مشترکہ خاندانی نظام کے تحلیل ہونے سے سماجی حمایت میں کمی
مضر اثرات
1. نفسیاتی اثرات
- بڑھتا ہوا ڈپریشن اور اضطراب
- خودکشی کے رجحانات میں اضافہ: پاکستان میں 15-29 سال کی عمر کے افراد میں موت کی تیسری بڑی وجہ خودکشی ہے (WHO 2023)
- نیند کے مسائل: طلبہ کا تقریباً 60% نیند کی خرابی کا شکار
2. تعلیمی کارکردگی پر اثرات
- توجہ مرکوز کرنے میں دشواری
- یادداشت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت متاثر
- امتحانات میں ناکامی یا اوسط سے کم کارکردگی
3. جسمانی صحت پر اثرات
- خود کو نظرانداز کرنا: غیر صحت مند کھانے اور نیند کے اوقات
- منشیات کے غلط استعمال کا رجحان
- مدافعتی نظام کی کمزوری
حل کے لیے تجاویز
1. ادارہ جاری سطح پر تبدیلی
- تعلیمی نظام میں اصلاحات: تخلیقی صلاحیتوں پر مبنی تعلیم کی طرف منتقلی
- ذہنی صحت کی خدمات: ہر تعلیمی ادارے میں کاؤنسلنگ سینٹرز کا قیام
- اساتذہ کی تربیت: ذہنی صحت کے بارے میں بنیادی تربیت
2. حکومتی اقدامات
- قومی ذہنی صحت پالیسی پر مؤثر عملدرآمد
- تعلیمی بجٹ میں اضافہ: موجودہ 2.4% سے کم از کم 4% تک
- آگاہی مہمات: میڈیا کے ذریعے ذہنی صحت کے بارے میں شعور بیداری
3. طلبہ کی اپنی مدد
- ڈیجیٹل ڈیٹاکس: سوشل میڈیا کے محدود استعمال
- ورزش اور صحت مند سرگرمیوں کو معمول بنانا
- اپنے جذبات کا اظہار: دوستوں، خاندان یا پیشہ ور افراد سے بات چیت
- حقیقت پسندانہ اہداف کا تعین
4. خاندانی کردار
- معاون ماحول کی تخلیق
- تعلیمی کارکردگی پر دباؤ میں کمی
- کھلے ذہن سے بات چیت کی حوصلہ افزائی
خوش آئند پیشرفتیں
- پاکستانی حکومت نے نیشنل ہیلتھ سروس پالیسی میں ذہنی صحت کو ترجیح دی ہے
- نجی شعبے میں متعدد آن لائن کاؤنسلنگ پلیٹ فارمز کا آغاز (مثلاً "ترانہ"، "مایا")
- تعلیمی اداروں میں آہستہ آہستہ ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے
نتیجہ
پاکستانی طلبہ برادری کا ذہنی دباؤ ایک ہمہ گیر مسئلہ ہے جس کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔ یہ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، تعلیمی اور معاشی چیلنج ہے۔ ہر طالب علم کی ذہنی صحت قومی ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہمیں ایک ایسا ماحول بنانا ہوگا جہاں ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کی جا سکے، پیشہ ورانہ مدد دستیاب ہو، اور طلبہ کی کامیابی کا پیمانہ صرف نمبر نہ رہے بلکہ ان کی مجموعی صحت اور خوشی بھی ہو۔
یاد رکھیں: ذہنی صحت جسمانی صحت جتنی ہی اہم ہے۔ مدد مانگنا طاقت کی علامت ہے، کمزوری نہیں۔

