تحریک لبیک کا اسلام آباد مارچ اور قومی و سماجی مسائل

byعبد اللہ گجر October 3, 2025
A stressed young man in glasses rubs his eyes while looking at a laptop, with Urdu text "For Youth: Challenges of Starting a Business" overlaid.

تحریک لبیک پاکستان کے اسلام آباد مارچ کے دوران لاہور میں پولیس اور کارکنوں کے درمیان شدید جھڑپیں، متعدد زخمی ہونے، اور شہریوں کی زندگی متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک سیاسی تحریک کی کارروائی ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان میں شہری حقوق، جمہوری اقدار، قانون کی حکمرانی اور قومی سلامتی جیسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کا قافلہ امیر جماعت حافظ سعد رضوی کی قیادت میں چوک یتیم خانہ سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔ قافلہ رات گئے شاہدرہ میں قیام کرے گا اور پھر اسلام آباد کی جانب روانہ ہوگا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں راستے مکمل بند کرنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے، جس سے شہری سڑکوں پر گھنٹوں پھنس گئے اور عوامی زندگی شدید متاثر ہوئی۔ گجرات میں 200 کارکن گرفتار ہوئے۔ جمعہ کے روز جب سعد رضوی اور ان کے بھائی کنٹینر پر سوار ہوئے تو کارکنوں نے تجاوزات ہٹانے کی کوشش کی اور پتھراؤ کے ذریعے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا۔ قافلہ ملتان روڈ سے لوئر مال کا راستہ اختیار کر کے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا، جس سے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔

یہ واقعہ کئی اہم قومی مسائل کی عکاسی کرتا ہے:

  1. قانون کی حکمرانی اور جمہوری اصول:
    شہری آزادی اور احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاہم، قانون کی خلاف ورزی اور عوامی زندگی کو متاثر کرنا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ لاہور میں راستے بند کرنا اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں، یہ ظاہر کرتا ہے کہ احتجاج کا منظم اور قانونی طریقہ اختیار نہ کرنا جمہوری اقدار کے لیے خطرہ ہے۔
  2. شہری زندگی اور روزمرہ مسائل:
    شہر میں کنٹینرز لگانے اور اہم سڑکیں بند کرنے کے باعث شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوئی۔ طلبہ، کام کرنے والے افراد، اور عام شہری گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنس گئے۔ اس سے اقتصادی نقصان، صحت کے مسائل، اور ذہنی دباؤ پیدا ہوا۔
  3. امن و سلامتی:
    بڑے پیمانے پر احتجاج کے دوران پولیس اور کارکنوں کے درمیان جھڑپیں اور پتھراؤ شہری امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس قسم کے حالات ملک میں داخلی استحکام اور امن و امان کے لیے چیلنج پیدا کرتے ہیں۔
  4. سیاسی اور مذہبی حساسیت:
    تحریک لبیک پاکستان کے مارچ میں مذہبی جذبات اور سیاسی مطالبات شامل ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت اور سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ احتجاج کو قانونی دائرے میں رہ کر منظم کریں اور عوام کو تحفظ فراہم کریں۔
  5. قومی سطح پر اثرات:
    بڑے شہروں میں اس قسم کے احتجاجات معاشی سرگرمیوں، تعلیم، تجارت، اور ٹرانسپورٹ کے نظام پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ یہ صورتحال ملک میں جمہوری اداروں، سول سوسائٹی، اور شہری شعور کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

نتیجہ:
تحریک لبیک کا اسلام آباد مارچ اور لاہور میں ہونے والی جھڑپیں ایک بڑے سماجی، سیاسی اور قانونی مسئلے کی عکاسی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ احتجاج کے حق کو تسلیم کرنا جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے، لیکن قانون کی پاسداری، شہری زندگی کی حفاظت، اور امن و امان کے تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھنا لازمی ہے۔ حکومت، سیکیورٹی ادارے، اور سول سوسائٹی کو مل کر ایسا نظام وضع کرنا ہوگا جو احتجاج کے حق اور عوامی زندگی کے تحفظ کو متوازن کرے۔