یومِ القدس: احتجاج سے آگے، نوجوان شعور کی آزمائش

Magazine cover with a sketch of Muhammad Ali Jinnah over a green silhouette of cheering youth, featuring Urdu text and the HamQadam logo.

جب دنیا بھر میں یومِ القدس کے جلوس نکلتے ہیں، بینرز اٹھتے ہیں اور نعرے گونجتے ہیں، تو ایک باشعور طالب علم کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے: “کیا میرا کردار صرف احتجاج تک محدود ہے؟”
سوشل میڈیا پر ٹرینڈز، کیمپس میں تقاریر اور گھروں میں ہونے والی گفتگو—سب فلسطین کے دکھ سے جڑی ہیں۔ مگر اس جذباتی وابستگی کے باوجود، بے بسی اور تھکن کا احساس بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ ایسا کیوں ہے کہ اتنی بڑی امت ہونے کے باوجود قبلۂ اول آج بھی قید ہے؟
یہ سوال محض سیاسی نہیں، فکری اور اخلاقی بھی ہے۔ یومِ القدس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ یہ مسئلہ صرف فلسطین کا نہیں بلکہ مسلم اُمہ کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ اور اس امتحان میں سب سے زیادہ سوالات آج کی نوجوان نسل سے پوچھے جا رہے ہیں۔

یہ مسئلہ کیوں موجود ہے؟

فلسطین کا مسئلہ سات دہائیوں پر محیط ہے، مگر اس کی طوالت نے اسے معمول بنا دیا ہے۔ عالمی طاقتوں کے مفادات، مسلم دنیا کی سیاسی تقسیم، اور مسلسل داخلی اختلافات نے اس مسئلے کو الجھا دیا۔
یومِ القدس اسی جمود کو توڑنے کی علامت کے طور پر سامنے آیا—ایک یاد دہانی کہ ظلم کو معمول سمجھ لینا سب سے خطرناک رویہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس دن کو سوچ کی تحریک بنایا یا صرف سالانہ رسم؟

طلبہ عام طور پر کہاں غلطی کرتے ہیں؟

  • فلسطین کو صرف جذباتی یا فرقہ وارانہ مسئلہ سمجھ لینا
  • ساری ذمہ داری حکمرانوں یا عالمی اداروں پر ڈال دینا
  • سوشل میڈیا سرگرمی کو عملی شعور کا متبادل سمجھنا
  • اپنی تعلیمی اور فکری تیاری کو اس مسئلے سے غیر متعلق سمجھنا

یہ رویے وقتی جذبات تو پیدا کرتے ہیں، مگر دیرپا اثر نہیں چھوڑتے۔

مسلمان شناخت اور اجتماعی اثرات

بیت المقدس محض ایک شہر نہیں، بلکہ مسلمانوں کی تاریخی، روحانی اور اخلاقی شناخت کا حصہ ہے۔ قبلۂ اول کا تقدس ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اسلام عبادت اور سماج، روحانیت اور سیاست کو الگ الگ خانوں میں نہیں بانٹتا۔
جب مسجدِ اقصیٰ کی بے حرمتی ہوتی ہے تو اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ کون سا ملک خاموش ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ امت کا اجتماعی ضمیر کہاں کھڑا ہے؟
یومِ القدس اسی ضمیر کو جگانے کی کوشش ہے—بغیر نفرت، بغیر انتہا پسندی، مگر واضح اخلاقی مؤقف کے ساتھ۔

اتحاد اور ذمہ داری

اسلام میں اتحاد کا مطلب اختلافات مٹانا نہیں، بلکہ اختلاف کے باوجود مشترکہ مقصد پر اکٹھا ہونا ہے۔ قرآن کا تصورِ امت ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کمزور کا ساتھ دینا ایمان کا تقاضا ہے۔
سیرتِ نبوی ﷺ میں مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حکمت، صبر اور مستقل جدوجہد کے ساتھ جڑا ہوا عمل ہے۔
یومِ القدس اسی اسلامی اصول کی یاد دہانی ہے کہ طاقت صرف ہتھیار میں نہیں، بلکہ اخلاقی موقف اور اجتماعی شعور میں بھی ہوتی ہے۔

عالمی تناظر: صرف مسلم مسئلہ نہیں

آج فلسطین کا مسئلہ عالمی انسانی حقوق کا استعارہ بن چکا ہے۔ غیر مسلم دانشور، طلبہ اور سول سوسائٹی بھی اس پر آواز اٹھا رہی ہے۔
یہ حقیقت نوجوان مسلمانوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اس مسئلے کو عالمی زبان—قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار—میں پیش کریں۔ اگر ہم خود اسے صرف داخلی یا فرقہ وارانہ مسئلہ بنائے رکھیں گے تو عالمی ضمیر تک بات کیسے پہنچے گی؟

اخلاقی کشمکش: غصہ یا حکمت؟

غصہ فطری ہے، مگر اندھا غصہ راستہ نہیں بناتا۔ یومِ القدس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ احتجاج اگر حکمت، علم اور اخلاق سے جڑ جائے تو وہ تحریک بن جاتا ہے، ورنہ صرف ردِعمل رہ جاتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ وہ اس غصے کو کس سمت لے جاتے ہیں۔

عمل کا خاکہ | اگر آپ طالب علم ہیں، تو…

  • فلسطین کے مسئلے کو تاریخی، قانونی اور اخلاقی زاویوں سے سمجھیں
  • جذبات کے ساتھ علم کو بھی اپنا ہتھیار بنائیں
  • کیمپس میں بامقصد مکالمہ، مباحثے اور آگاہی پروگرام منعقد کریں
  • سوشل میڈیا پر شائستگی، دلیل اور انسان دوستی کے ساتھ بات کریں
  • مظلوموں کے لیے آواز کو اپنی مجموعی کردار سازی سے جوڑیں

یہی وہ راستہ ہے جو احتجاج کو شعور میں بدلتا ہے۔

یومِ القدس اور مستقبل

یومِ القدس کیلنڈر کا ایک دن نہیں، بلکہ یہ سوال ہے جو ہر سال ہمارے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے: “کیا ہم صرف دیکھنے والے ہیں یا ذمہ داری اٹھانے والے؟”
اگر نوجوان نسل اس دن کو محض نعرے کے بجائے فکری بیداری کا موقع بنا لے، اگر وہ اتحاد کو نعروں کے بجائے عملی شعور میں ڈھال دے، تو قبلۂ اول کی آزادی محض ایک خواب نہیں رہے گی بلکہ ایک منظم جدوجہد کی سمت بن سکتی ہے۔
امت کی تاریخ گواہ ہے—جب نوجوان جاگتے ہیں، تو قبلے آزاد ہوتے ہیں۔