
اسلام
تعارف: مرکزی سوال
ایسا کیوں ہے کہ ہم زکوٰۃ کو اکثر رمضان کی ایک رسم یا ذاتی نیکی سمجھ کر ادا کر دیتے ہیں، مگر اسے ایک مکمل معاشی نظام کے طور پر سنجیدگی سے نہیں لیتے؟
جب کہ ہم مہنگائی، بے روزگاری، طبقاتی فرق اور معاشی عدم استحکام پر مسلسل گفتگو کرتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا اسلام نے ہمیں اس بحران کے حل کا خاکہ پہلے ہی نہیں دے دیا؟
جامعات کے طلبہ اور نوجوان اس بحث سے اس لیے بھی جڑے ہیں کہ آج کی معیشت میں سب سے زیادہ متاثر یہی طبقہ ہے—تعلیم کے اخراجات، روزگار کی کمی اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال۔ اس مضمون میں ہم زکوٰۃ و صدقات کو ایک عبادت سے بڑھ کر ایک عملی، قابلِ نفاذ اسلامی معاشی ماڈل کے طور پر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
اصل داؤ پر کیا ہے؟
اصل مسئلہ صرف غربت نہیں، بلکہ دولت کا ارتکاز ہے۔ جدید سرمایہ دارانہ نظام میں دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جاتی ہے، جب کہ اکثریت بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کرتی ہے۔
اسلام اس عدم توازن کو محض اخلاقی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی خطرہ سمجھتا ہے۔ اسی لیے قرآن واضح کرتا ہے کہ مال “مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے”۔
زکوٰۃ اسی گردش کو ممکن بناتی ہے—یہ دولت کو روکتی نہیں، بلکہ صاف کرتی اور بہاؤ میں رکھتی ہے۔
موجودہ صورتِ حال سے کس کو فائدہ پہنچتا ہے؟
جب زکوٰۃ کو صرف انفرادی خیرات بنا دیا جاتا ہے تو:
- ریاست اپنی فلاحی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جاتی ہے
- غربت وقتی طور پر کم تو ہوتی ہے، مگر ختم نہیں
- مستحق فرد مستقل خودمختاری کے بجائے مسلسل محتاجی میں رہتا ہے
یہ صورتِ حال ایک ایسے نظام کو فائدہ دیتی ہے جو انحصار پیدا کرتا ہے، خود کفالت نہیں۔ اسلام کا تصور اس کے برعکس ہے—زکوٰۃ کا مقصد لینے والے کو دینے والا بنانا ہے۔
اسلام دراصل کیا کہتا ہے؟
اسلام میں زکوٰۃ:
- مال کی سزا نہیں، بلکہ تزکیہ ہے
- صرف رقم کی منتقلی نہیں، بلکہ معاشی توازن ہے
- فرد کی نیکی نہیں، بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے
سیرتِ نبوی ﷺ اور خلافتِ راشدہ کے ادوار میں زکوٰۃ کو باقاعدہ نظام کے تحت جمع اور تقسیم کیا گیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور میں یہ صورتِ حال پیدا ہوئی کہ مستحق ملنا مشکل ہو گیا—یہ کسی معجزے نہیں، منظم حکمرانی کا نتیجہ تھا۔
ہم نوجوان کہاں ناکام ہو رہے ہیں؟
بطور نوجوان اور طالب علم:
- ہم زکوٰۃ کو امتحان کے نصاب میں تو پڑھتے ہیں، مگر زندگی کے نظام میں نہیں
- ہم معاشی انصاف کی بات تو کرتے ہیں، مگر اس کے اسلامی اوزار نہیں سیکھتے
- ہم جذباتی خیرات پر مطمئن ہو جاتے ہیں، پائیدار حل کا مطالبہ نہیں کرتے
یہ ناکامی لاعلمی سے زیادہ غفلت کی ہے—اور غفلت ہی وہ مقام ہے جہاں سے نظام کمزور ہوتے ہیں۔
حقیقت کا جائزہ: چند غلط فہمیاں
- ❌زکوٰۃ صرف غریب کو پیسے دینے کا نام ہے
✔️نہیں، یہ تعلیم، ہنر، صحت اور روزگار میں سرمایہ کاری کا ذریعہ بھی ہے - ❌جدید معیشت میں زکوٰۃ ناکافی ہے
✔️ناکافی زکوٰۃ نہیں، اس کا غیر منظم نفاذ ہے - ❌یہ صرف مذہبی مسئلہ ہے
✔️یہ ایک سماجی و اقتصادی پالیسی بھی ہے
طلبہ ایکشن زون
انفرادی سطح پر:
- زکوٰۃ کے فقہی اور معاشی اصول سمجھیں
- حساب کتاب کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنے کی عادت ڈالیں
- صدقات کو اسکل ڈیولپمنٹ اور تعلیم سے جوڑیں
اجتماعی سطح پر:
- کیمپس میں اسلامک اکنامکس سرکلز یا مباحثے شروع کریں
- شفاف زکوٰۃ فنڈز اور ڈیجیٹل ماڈلز کی وکالت کریں
- ریاستی سطح پر منظم زکوٰۃ سسٹم کے لیے آواز اٹھائیں
یہی نوجوان قیادت کی ابتدائی شکل ہے—نعروں سے نہیں، فہم سے۔
نتیجہ
زکوٰۃ محض ایک عبادت نہیں، بلکہ ایک وژن ہے—ایسا وژن جو معیشت کو اخلاق سے، اور دولت کو ذمہ داری سے جوڑتا ہے۔
اگر نوجوان مسلمان اس نظام کو سمجھ لیں، اپنائیں اور اس کے نفاذ کا مطالبہ کریں، تو ہم صرف صدقہ دینے والی قوم نہیں بلکہ خود کفیل، باوقار اور منصف معاشرہ بن سکتے ہیں۔
یاد رکھیے، نوجوان صرف بحران کے متاثر نہیں—حل کے معمار بھی ہیں



