
امتِ مسلمہ اس وقت سنگین آزمائش اور ناقابلِ بیان ابتلا کے دور سے گزر رہی ہے۔ طاغوت پوری قوت سے عالمِ اسلام پر حملہ آور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتابِ ہدایت قرآن حکیم میں مسلمانوں کو باہم اتحاد اور اتفاق کا دامن تھامے رکھنے اور اختلاف و تفرقہ سے دور رہنے کا حکم دیا۔ سورۂ آل عمران کی آیات 102 سے 107 تک میں صاف صاف الفاظ میں حکم ربی ہے: ’’سب مل کر اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔‘‘ پھر مسلمانوں کی باہمی محبت و الفت اور اخوت کو ایک عظیم نعمت اور اپنا احسان بتلایا اور ہدایت فرمائی: ’’اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے، تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔‘‘ اگلی آیت میں پھر ارشاد ہوتا ہے: ’’کہیں تم اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے‘‘۔ سورۂ انعام کی آیت 159 میں واضح کیا گیا: ’’جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے، یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہ ہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔‘‘ سورۂ الروم آیات 32-31 میں گروہوں میں منقسم ہونے کو مشرکین کا طرزِعمل قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ ’’اور نہ ہوجائو اُن مشرکین میں سے، جنہوں نے اپنا دین الگ الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اس میں وہ مگن ہے۔‘‘
آیئے عالم اسلام کی حالت کا جائزہ لیں کہ دشمن کی سازشوں، اپنی نااہلیوں اور عاقبت نااندیشیوں کے سبب آج کیا ملتِ اسلامیہ سورۂ روم کی اس آیت کی عملی تصویر پیش نہیں کررہی جسے خالق و مالکِ کائنات نے مشرکین کا فعل قرار دیا ہے۔ کیا مسلمان، سامراج کی خواہشات اور اُس کے تیار کردہ عالمی نقشے کے عین مطابق چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم نہیں ہوچکے، اور ان ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی الگ الگ مساجد میں بھی کیا علامہ اقبالؒ کے الفاظ میں ’’کہیں فرقہ بندی ہے کہیں ذاتیں ہیں‘‘ کی کیفیت نمایاں نہیں! بلکہ اس سے بھی بڑھ کر معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ علامہ مرحوم کو استفسار کرنا پڑا:
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو!تم سبھی کچھ ہو، یہ تو بتلائو کہ مسلمان بھی ہو؟
آج جب کہ ابلیسی نظام کا علَم بردار امریکہ اور اُس کی سرپرستی میں دورِ حاضر کا فرعون اسرائیل پوری دنیا میں بدمست ہاتھی کی طرح دندناتے پھر رہے ہیں تو امت اب بھی متحد ہوکر ان کا مقابلہ کرنے کے بجائے باہم طرح طرح کے اختلافات کا شکار ہے، بلکہ بدقسمتی کی انتہا ہے کہ مسلمان امت دشمن کی عیاری اور مکاری کا شکار ہوکر باہم دست و گریباں ہے اور عالمِ اسلام کے حکمران ایک دوسرے پر تلواریں تانے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی کو یاد نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور قرآن و حدیث کی رہنمائی اور ہدایت ایسے حالات کے لیے کیا ہے۔ قرآن بار بار ہمیں متنبہ کررہا ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہوسکتے، مگر ہم اس انتباہ کو فراموش کرکے اُن سے محبت کی پینگیں بڑھاتے نظر آتے ہیں۔
ملتِ اسلامیہ جو منظر نہایت بے بسی سے دیکھنے پر مجبور ہے اور امت میں انتشار کی موجودہ کیفیت جاری رہی تو مستقبل میں جو تباہی و بربادی عالمِ اسلام کا مقدر بنتی دکھائی دے رہی ہے، اس صورتِ حال کا لازمی تقاضا ہے کہ مسلمان قرآنِ حکیم کی اس پکار کو سنیں کہ: ’’مومن توایک دوسرے کے بھائی ہیں، لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات درست کرو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا‘‘ (الحجرات، آیت10)۔ جنگ کے منظرنامے میں بھی قرآن حکیم امتِ مسلمہ کی صاف الفاظ میں رہنمائی فرماتا ہے کہ: ’’اے ایمان لانے والو! جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ یوں قرآن حکیم قدم قدم پر مسلمانانِ عالم کو رہنمائی فراہم کررہا ہے اور امت کے ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑ رہا ہے، مگر اس کے باوجود ہم اپنی روش بدلنے پر تیار دکھائی نہیں دیتے، حالانکہ ہمارا اللہ ایک، رسولؐ ایک، دین ایک، قرآن ایک اور مفاد بھی ایک ہے۔ اس قدر وسیع و عریض یکسانی و یک جائی کے ہوتے ہوئے ’’کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک‘‘۔ علامہ اقبالؒ گزشتہ ڈیڑھ صدی سے پکار پکار کر ہمیں متوجہ کررہے ہیں اور آج بھی ہماری بقا و سلامتی اور سالمیت کا تقاضا یہی ہے کہ:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیےنیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر



