
بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار اور سیکولرازم کا علَم بردار ہے۔ دستوری لحاظ سے بھی بھارت ایک سیکولر ریاست ہے… یعنی لادین ریاست، جہاں ریاستی امور میں مذہب کا کوئی عمل دخل نہیں… سوائے ذاتی امور کے، جن میں ہر شخص اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق عمل کرنے میں آزاد اور بااختیار ہے، البتہ آئین کی رو سے تمام مذاہب سے وابستہ بھارتی شہریوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ تاہم کہنے کی حد تک یہ جملے درست ہیں اور کانوں کو بھلے بھی لگتے ہیں، یا آئین میں اندراج کی خاطر بھی بھارت ضرور ایک ایسی مملکت ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگوں کے ساتھ برابری کی سطح پر سلوک کیا جاتا ہے۔ مگر اس عملی حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ برطانیہ کے دورِ غلامی و استبداد میں بھی اگرچہ حکمرانی تو انگریز کی تھی مگر بھارت جس کا نام بھی اُس وقت ’’ہندوستان‘‘ تھا، اُن دنوں بھی کبھی کسی سطح پر ہندو بالادستی سے آزاد نہیں رہا۔ چنانچہ اس دور کے مسلمان قائدین نے تاریخ کے صفحات کو کھنگالنے، حالاتِ حاضرہ میں ہندو ذہنیت کے گہرے مطالعے اور بار بار کے تجربات کے بعد ہی جدوجہدِ آزادی میں ہندو اکثریت سے الگ راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ متحدہ ہندوستان کی مسلم قیادت نے ہندو عوام اور قیادت کے ’’بغل میں چھری، منہ میں رام رام‘‘ کے منافقانہ طرزعمل کا مشاہدہ کرنے اور بغور جائزہ لینے کے بعد ہی اپنے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا تھا، اور برصغیر کے کونے کونے سے لاہور میں جمع ہوکر فقیدالمثال اجلاس میں 23 مارچ 1940ء کو باقاعدہ ایک قرارداد کے ذریعے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحدہ ہندوستان کو تقسیم کرکے مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کی تحریک چلانے کا فیصلہ سنایا تھا تاکہ برصغیر کے مسلمان ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد رہ کر اپنے دینِ متین کی رہنمائی میں زندگی بسر کرسکیں کہ مسلمانوں کے دین اسلام اور قرآن کی فراہم کردہ اساس کے مطابق قوم ’خطہ زمین‘ یا علاقے، زبان یا ثقافت کی بنیاد پر وجود میں نہیں آتی بلکہ دین کی بنیاد پر وجود پزیر ہوتی ہے۔ چنانچہ اپنی قیادت کی رہنمائی میں مسلمان ’’پاکستان کا مطلب کیا…. لا الٰہ الا اللہ“… ’’لے کے رہیں گے پاکستان… بن کے رہے گا پاکستان‘‘ کے نعرے لگاتے آگے بڑھتے رہے اور ان کی سات برس کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں آخر 14 اگست 1947ء (27 رمضان المبارک) کو پاکستان ایک اسلامی نظریاتی مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر جلوہ گر ہوا۔
تحریکِ آزادیِ ہند کی مسلم قیادت کے فہم و فراست کا اعتراف اور داد دیے بغیر چارہ نہیں کہ جنہوں نے بروقت خطرات کو بھانپ کر جرات و استقامت پر مبنی فیصلہ کیا اور دوراندیشی کا ثبوت دیا، ورنہ آج اس خطے کے مسلمانوں کی حالت بھی شاید غزہ کے مظلوم، مجبور اور محصور مسلمانوں سے مختلف نہ ہوتی، کیونکہ قیام پاکستان سے اب تک کی تاریخ گواہ ہے کہ ہندو کس قدر ظالم اور تنگ نظر قوم ہے۔ قیام پاکستان کے فوری بعد ہی سے بھارتی ہندو قیادت نے پاکستان کے وجود کو مٹانے اور غیر مستحکم کرنے کی کوششیں شروع کردیں اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی خاطر بھارتی حکمرانوں نے بار بار پاکستان پر جنگیں بھی مسلط کیں۔ دوسری جانب بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کی زندگی بھی ہندو اکثریت کے ہاتھوں اجیرن چلی آرہی ہے۔ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ حقِ خودارادیت کا وعدہ پوری عالمی برادری کے سامنے کرنے کے باوجود انہیں آج تک نہ صرف یہ حق دیا نہیں گیا بلکہ اس حق کا مطالبہ کرنے اور آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ بھی ہر ظلم روا رکھا گیا۔ ایک لاکھ کے قریب کشمیری مسلمانوں کو شہید اور لاکھوں کو بے گھر کیا گیا۔ ہزاروں عفت مآب خواتین کو بے آبرو کیا گیا اور ہزاروں کو بیوگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑا، جب کہ آج بھی لاکھوں بچے یتیمی کے کرب سے گزر رہے ہیں۔ جب سے پاکستان وجود میں آیا ہے مسلم کُش فسادات بھارت میں آئے روز کا معمول ہیں جن میں لاکھوں مسلمان جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کے باعث عالمی برادری نے موجودہ بھارتی وزیراعظم کو ”گجرات کا قصائی“ اور باقاعدہ دہشت گرد قرار دیا اور امریکہ سمیت کئی ملکوں میں مودی کے داخلے پر پابندی عائد رہی۔ انتہا پسند ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی عبادت گاہیں اور تاریخی عمارات تک محفوظ نہیں جس کی نمایاں ترین مثال ’’بابری مسجد‘‘ ہے جسے ہندو بلوائیوں نے حکومتی سرپرستی میں شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر تعمیر کرلیا ہے۔ اسی طرح آگرہ کے تاریخی تاج محل کے بارے میں بھی دھمکیاں اکثر ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں کہ مسلمان مغل حکمرانوں کے دورِ اقتدار کی یادگار یہ عجوبہ روزگار عمارت کسی بھی وقت انتہا پسندوں کا نشانہ بن سکتی ہے۔ مسلمانوں کے عبادت کرنے پر بھی جگہ جگہ طرح طرح کی پابندیاں عائد ہیں اور ان کے پرسنل لاء کے حقوق میں بھی اکثریت کے بل پر اکثر و بیشتر مداخلت کی جاتی ہے۔ حال ہی میں گجرات اور اتراکھنڈ میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حالانکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے بھارتی آئین کے منافی سیاسی اقدام اور مذہبی و سیاسی آزادی، مساوات اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا ہے، مگر ؎
کون سنتا ہے فغانِ درویشقہر درویش بر جان درویش
بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ حکومت میں مسلم دشمنی اور انتہا پسندی کو کس طرح فروغ دیا جارہا ہے اس کا اندازہ اِس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کسی فرقہ پرست گروہ کے کسی غیر ذمہ دار رہنما نے نہیں، اترپردیش کے وزیراعلیٰ کے ذمہ دارانہ منصب پر فائز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پیروکار یوگی آدتیہ ناتھ نے آسام میں تقریر کرتے ہوئے تمام حدیں پھلانگتے ہوئے مسلمانوں کو نہ صرف درانداز قرار دیا بلکہ واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ ان کی حکومت مسلمانوں کو ریاست سے نکال دے گی۔ یاد رہے کہ یہ محض گیدڑ بھبکی نہیں بلکہ موصوف پہلے ہی اترپردیش میں سڑکوں پر نمازِ جمعہ و عیدین وغیرہ کی ادائیگی اور مساجد میں بآوازِ بلند اذان دینے پر پابندی عائد کرچکے ہیں۔ اس لیے ان صاحب سے کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنے وزیراعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں اپنے اس مسلم دشمن جارحانہ اعلان پر عمل بھی کر گزریں اور اپنی ریاست میں اقتدار کی طاقت کے نشے میں مسلمانوں کی زندگی محال کردیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ ان جارحانہ اور انتہا پسندانہ بیانات اور اقدامات کے باوجود بھارت اور بین الاقوامی برادری کے رواداری، مساوات، انصاف، مذہبی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے نام لیوا حلقے اور تنظیمیں خاموش کیوں ہیں؟ کاش مسلمان ملک ہی اس قابل ہوتے کہ ’’کرتا کوئی اس گستاخ کا منہ بند‘‘!



