
سننے اور سنانے کے حوالے سے ہماری نیت خراب ہوچلی ہے۔ باتیں تو اب بھی اِس بات کی منتظر ہیں […]
سننے اور سنانے کے حوالے سے ہماری نیت خراب ہوچلی ہے۔ باتیں تو اب بھی اِس بات کی منتظر ہیں کہ وہ کہی جائیں، کہہ سنائی جائیں اور سنی جائیں۔ جس طرح الفاظ کے بغیر مفہوم ناکارہ ہے بالکل اُسی طور مکالمے کے بغیر تعلقات کسی کام کے نہیں۔
فی زمانہ ایک بہت بڑا بحران یہ بھی ہے کہ ایک ہی گھر کے لوگ آپس میں گفتگو سے گریز کرتے ہیں۔ کیوں؟ اِس کا جواب کسی کے پاس نہیں کیونکہ کسی کے پاس اِتنا بتانے کا وقت بھی نہیں! بات بہت عجیب ہے مگر سچ ہے۔ یہ ایسا سچ ہے جس نے گھرانوں اور خاندانوں کو شدید الجھنوں سے دوچار کردیا ہے اور بعض معاملات میں تو تباہ بھی کرڈالا ہے۔ تعطل ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔ رشتوں میں بھی تعطل ہے اور لگاوٹ بھی تعطل ہی کی نذر ہوکر رہ گئی ہے۔ یہ بھیانک ذہنیت ہے۔ لوگوں کی سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا کہ بات کیا کرنی چاہیے، اور کیا بات کرنے کی ضرورت بھی باقی بچی ہے!
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں ربط قائم کرنے کے لیے ٹیکنالوجی اور آلات کی کمی نہیں۔ اسمارٹ فون بھی ہے، تیز رفتار انٹرنیٹ بھی ہے اور سوشل میڈیا کی سہولت بھی میسر ہے۔ فوری طور پر پیغام بھیجنا اب کوئی مسئلہ رہا ہی نہیں، مگر اِس کے باوجود تعلقات میں پہلی سی گرم جوشی نہیں رہی۔ انسان پل بھر میں ہزاروں میل دور بیٹھے کسی فرد سے تو رابطہ کرسکتا ہے مگر پڑوس کے کمرے میں موجود والدین یا بھائی بہن سے رابطے میں الجھن محسوس کررہا ہے۔ یہ الجھن کیوں ہے؟ اِس کا جواب بھی کسی کے پاس نہیں۔ رابطہ قائم کرنے اور گفتگو کے مرحلے سے گزرنے کے لیے بہت کچھ ہے مگر پھر بھی ہم تاریخ کی ریکارڈ تنہائی اور احساسِ تنہائی سے دوچار ہیں۔
ایک ہی گھر میں موجود چار افراد الگ الگ کونوں میں بیٹھے اپنی فون اسکرین پر جھکے رہتے ہیں۔ دور سے دیکھنے والوں کو ایسا گھرانہ بہت خاموش، پُرسکون اور سُکھی محسوس ہوتا ہوگا مگر ایسا ہے نہیں۔ ایسی بھرپور خاموشی انسان کے ظاہر و باطن کو یکساں طور پر نقصان پہنچاتی ہے۔ وقت کی کمی کا مسئلہ اپنی جگہ، مگر اُس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اگر آپس میں بات کی جائے تو کیا بات کی جائے۔
غلط مفروضاتیہ محض بات چیت کی کمی نہیں بلکہ مکالمے کا بحران ہے۔ اس بحران کے اسباب اور اُن کی پشت پر کام کرنے والی ذہنیت کا پتا لگاکر تعلقات میں گرم جوشی پیدا کی جاسکتی ہے، مکالمے کا ماحول پیدا کرکے گھریلو اور خاندانی زندگی کو بھرپور توانائی فراہم کی جاسکتی ہے۔
مکالمے کے تعطل کی کوئی بڑی وجہ نہیں ہوتی۔ بات صرف اتنی ہے کہ انسان کسی جواز کے بغیر بہت سے مفروضے قائم کرلیتا ہے اور پھر اُن مفروضوں کو پروان چڑھاتا رہتا ہے۔ جدید دور کے اس بحران کے لیے بہت سی خصوصیات جواب دہ ہیں۔ عام طور پر انسان یہ سوچتا ہے کہ میں جو کچھ بھی جانتا ہوں اُسے بیان کرنے کی ضرورت کیا ہے! عام نوجوان یہ بھی سوچتا ہے کہ میں کوڈنگ، ٹیکنالوجی، عالمی سیاست یا ثقافت کے بارے میں جو کچھ بھی جانتا ہوں وہ میرے والدین یا دادا دادی کہاں سمجھنے والے ہیں! تو پھر یہ ساری باتیں اُن کے سامنے بیان کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے؟
یہ ذہنیت انسان کو اپنے ہی خیالات کے پنجرے میں بند کردیتی ہے۔ نوجوان یہ بھول جاتے ہیں کہ مکالمہ محض معلومات کا تبادلہ نہیں بلکہ یہ تو جذبات کے اظہار کا نام ہے۔ مکالمے کا مطلب فریقِ ثانی کے وجود کو قبول کرنا ہے۔ آپ پیشہ ورانہ سطح پر جو کچھ سوچتے ہیں وہ ساری باتیں آپ کے والدین یا دادا دادی شاید نہ سمجھیں مگر کام کے دوران جو تھکن ہوتی ہے، جو تناؤ پیدا ہوتا ہے یا جو خوشی محسوس ہوتی ہے اُسے تو سب ہی سمجھ سکتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔
شک اور بدگمانی کا زہرفی زمانہ دوستی جیسے رشتے اور جذبے میں بھی شک کا زہر گھل چکا ہے۔ کوئی یہ سوچتا ہے کہ میں اپنی روزمرہ زندگی میں جو کچھ سہتا ہوں اگر اُسے تفصیل سے بیان کرنے بیٹھوں تو فریقِ ثانی بیزاری محسوس کرے گا۔ اس خوف سے وہ کچھ زیادہ کہنے کو ترجیح نہیں دیتا۔ فریقِ ثانی بھی پوچھتا نہیں۔ وہ خود بھی ایسے ہی کسی خوف کے زیرِاثر خاموش رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اچھی خاصی دیرینہ رفاقت بھی سالگرہ پر مبارک باد یا رسمی نوعیت کے پیغامات کے تبادلے تک محدود ہوکر رہ جاتی ہے۔
معلومات کی ’’سیاست‘‘کبھی کبھی ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ اچھے خاصے تعلقات کے ہوتے ہوئے بھی کوئی اہم بات شیئر نہیں کرتے، بیان نہیں کرتے۔ لوگ اپنے عدمِ اطمینان، حسد، رشک اور کسی بھی حوالے سے پائی جانے والی الجھن کو چھپاتے ہیں۔ انسان سوچتا ہے کہ جو لوگ مجھے سب کچھ نہیں بتاتے میں اُنہیں سب کچھ کیوں بتاؤں؟ اِس نوعیت کی انا مکالمے کی زنجیر کو توڑ دیتی ہے۔
کبھی کبھی انسان یہ بھی سوچتا ہے کہ میں اگر گھر کے تمام افراد اور احباب سے بہت سی باتیں کروں اور کبھی کوئی ناقابلِ بیان بات بیان نہ کروں تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ میں کچھ چھپا رہا ہوں اِس لیے صرف اُتنا ہی بولنا بہتر ہے جتنا ضروری دکھائی دے۔ یہ ایک طرح کی سیاست ہے۔ معلومات کی اِس سیاست میں انسان کچھ باتیں چھپاتا ہے، کچھ باتوں کو فلٹر کرتا ہے اور پھر اِسی سیاست کی دلدل میں دھنس کر رہ جاتا ہے۔ کبھی کبھی یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ کسی کو اگر سبھی کچھ بتادیا تو اُسے دُکھ ہوگا۔ بس یہی سوچ کر لوگ مکالمے کے معاملے میں حدود کا تعین کرتے ہیں اور فلٹر اور سینسر استعمال کرتے ہیں۔ یوں انسان مکالمے سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ بہت سے مواقع پر انسان خود ہی، بلا جواز طور پر، طے کرلیتا ہے کہ فلاں بات کہنی ہی نہیں ہے اور کسی معاملے میں ستائش کے مرحلے سے گزرنا ہی نہیں ہے۔ جب انسان کسی بھی معاملے میں بات کو سینسر کرتا ہے، فلٹر کرتا ہے تو فریقِ ثانی کو تھوڑا بہت اندازہ تو ہو ہی جاتا ہے، اور یوں دلوں میں شک کے بیج پروان چڑھتے ہیں۔
یک طرفہ کوششیںگھر، خاندان یا حلقۂ احباب میں بہت سے مواقع پر دیکھا جاتا ہے کہ کوئی ایک فرد ہی مکالمے کا آغاز کرتا ہے۔ وہی فون کرکے خیریت دریافت کرتا ہے، وہی ہنستا بولتا ہے، وہی ملاقات کا اہتمام کرتا ہے۔ دوسرے لوگ صرف رسپانس دیتے ہیں، پہل نہیں کرتے۔ جب اس نوعیت کی یک طرفہ کوششیں طویل مدت تک کی جاتی ہیں تب انسان تھک جاتا ہے، بیزار ہوجاتا ہے اور اُسے یہ احساس ہونے لگتا ہے کہ صرف اُس کے دل میں تعلقات زندہ رکھنے کی لگن ہے، فریقِ ثانی کو تو کوئی دلچسپی ہی نہیں۔ ایسے میں وہ یہ بھی سوچتا ہے کہ صرف میں ہی تعلقات کو زندہ رکھنے کی کوششیں کیوں کروں! یوں مکالمے کا سلسلہ پہلے اٹکتا ہے، پھر ٹوٹ جاتا ہے۔
مکالمے کا فلسفہمکالمہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں۔ آسٹریلوی پروفیسر مارٹن بیوبر کے مطابق انسانی تعلقات دو طرح کے ہوتے ہیں:
1۔ میں اور وہ۔ اِس میں فریقِ ثانی کو کسی چیز، کارگر آلے یا محض معلومات فراہم کرنے کے ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آج ہماری بیشتر بات چیت بنیادی طور پر کاروباری نوعیت کی ہوگئی ہے۔ جب کوئی کام ہو تب ہی بات کرنے کا رجحان قوی سے قوی تر ہوتا جارہا ہے۔ ایسی بات چیت چند ایک مفادات کے تابع ہوتی ہے۔ انسان جب یہ طے کرلے کہ کسی سے اُسی وقت بات کرنی ہے جب کوئی کام ہو تو پھر تعلقات کو بگڑتے زیادہ دیر نہیں لگتی۔
2۔ میں اور آپ۔ اِس نوعیت کے تعلق میں فریقِ ثانی کو ایک زندہ، باشعور اور روح سے بہرہ ور وجود کے طور پر دیکھا اور برتا جاتا ہے۔ ایسے تعلق اور مکالمے میں کوئی مادی مفاد نہیں ہوتا بلکہ ایک طرح کی روحانی گہرائی دکھائی دیتی ہے۔ جہاں اخلاص ہو وہاں بات دل سے کہی جاتی ہے اور دل تک پہنچتی ہے۔
جب ہم اپنے اہلِ خانہ یا احباب کو زندگی، شعور اور روح سے آراستہ وجود کے طور پر دیکھتے ہیں تب یہ سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ بات کیا کریں؟ ایسے میں انسان خود بہ خود بولنا شروع کردیتا ہے۔ جہاں جذبات پاکیزہ اور خالص ہوں وہاں الفاظ کی زیادہ ضرورت محسوس ہی نہیں ہوتی۔ ایسے میں انسان بولتا ہی چلا جاتا ہے۔
آئیے، اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک ایسی تصوراتی کہانی کا سہارا لیتے ہیں جو ہمارے ماحول سے غیرمعمولی مطابقت رکھتی ہے۔
اور خاموشی ختم ہوئی …ایک پُرسکون علاقے میں واقع وسیع و عریض بنگلے میں 65 سال کے سخاوت بھائی اپنی اہلیہ رضیہ، 32 سالہ آئی ٹی انجینئر بیٹے کاشف اور بہو رضوانہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ باہر سے دیکھنے والوں کو یہ گھرانہ بہت آدرش، پُرسکون اور سُکھی دکھائی دیتا تھا مگر گھر کے ماحول پر سناٹے کا راج تھا۔ جب یہ لوگ کھانے کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر جمع ہوتے تھے تب بھی ماحول میں صرف پلیٹوں، جگ اور گلاس کی آواز گونجتی تھی۔
کاشف سوچتا رہتا تھا کہ میں دن بھر مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں مصروف رہتا ہوں۔ پاپا کو اِس سے کیا؟ نیہا کے ساتھ تو میں ویک اینڈ پر بات کر ہی لیتا ہوں۔ ابھی کھاکر کمرے میں او ٹی ٹی پر کوئی سیریز دیکھوں گا!
سخاوت بھائی سوچتے کہ کاشف تو اپنی دنیا میں مست ہے۔ میں اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں یا صبح باغ میں چہل قدمی یا جاگنگ کے وقت ہم ریٹائرڈ افراد جو باتیں کرتے ہیں اُن کے بارے میں بتاکر کاشف کو بور کیوں کروں؟ جب رضوانہ اپنی بیٹی کی اسکول کی باتیں یا اپنی سہیلی سے ہونے والی گفتگو بھی کاشف کو نہیں بتاتی تو گھر کے بزرگوں کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اپنی باتیں اُس سے کہیں؟
یہ نکتہ ذہن نشین رہے کہ گھر کے تمام افراد مہذب اور شائستہ مزاج کے حامل ہیں۔ ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں، مگر اِس کے باوجود گھر کا ماحول ایسے لیموں جیسا لگتا تھا جس کا رس نچوڑ لیا گیا ہو یا سُوکھ گیا ہو۔
ایک دن سخاوت بھائی کے ایک دیرینہ رفیق ڈاکٹر رفیق ملنے آئے۔ اُنہیں شام کے وقت گھر کا ماحول بہت ’’بے رَس‘‘ معلوم ہوا۔ وہ ایسی گہری خاموشی دیکھ کر پریشان سے ہو اُٹھے۔ چائے پینے کے بعد ڈاکٹر رفیق نے سخاوت بھائی اور کاشف کو اپنے پاس بٹھایا اور اُن سے ایک چھوٹا سا کھیل کھیلنے کو کہا۔ انہوں نے کہا کہ اس کھیل کا ایک اصول طے کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی فرد کوئی گہری، سیاسی یا علمی بات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کاشف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تمہیں دن بھر میں رونما ہونے والے معاملات میں سے سب سے چھوٹا معاملہ بیان کرنا ہوگا۔ پھر سخاوت بھائی سے مخاطب ہوکر انہوں نے کہا کہ تمہیں بھی کوئی چھوٹی سی بات کرنی ہے یا بچپن کی کوئی ایسی غلطی بیان کرنی ہے جسے یاد کرکے اب ہنسی آتی ہے۔
ابتدا میں تو کاشف ہچکچایا مگر پھر اُس نے کہا کہ پاپا، آج آفس کینٹین میں چائے والا چینی ڈالنا بھول گیا اور چینی کے بجائے چائے میں نمک ڈال بیٹھا اور میں نے وہ چائے پی۔ یہ بات سُن کر سخاوت بھائی بے اختیار ہنس پڑے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ایک بار وہ اسکول جانے کے لیے نکلے مگر دوستوں کے ساتھ فلم دیکھنے چلے گئے اور پھر ایک بھونڈا سا بہانا کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔
بس، اُسی رات گھر کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ کاشف سمجھ گیا کہ پاپا سے بات کرنے کے لیے لازم نہیں کہ اُنہیں کمپیوٹرز کے بارے میں کچھ معلوم ہو۔ گھر میں گفتگو کے دوران پروفیشنل زندگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرنی بلکہ صرف سماجی تعلقات کے قصے ہی بیان کرنے ہیں۔ سخاوت کو اندازہ ہوا کہ بیٹے سے گفتگو کے دوران اُسے کوئی نصیحت کرنا لازم نہیں بلکہ دوست کے سے انداز سے کچھ کہنا ہے۔
مکالمے کی ضرورتہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جان بوجھ کر سبھی کچھ بیان کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ انسان معاشرتی اور حساس حیوان ہے۔ جب وہ اپنے خیالات اور احساسات کو بیان کرنے سے گریز کرتا ہے تب اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے، اور یوں رفتہ رفتہ ذہنی مریض بن جاتا ہے۔ مکالمہ دراصل ذہن کے کچرے کو عمدگی سے باہر نکالنے کا ایک اچھا، معقول طریقہ ہے۔ جب ہم کسی کو اپنی خوشیوں، خوف اور ناکامیوں کے بارے میں بتاتے ہیں تب دل پر سے اچھا خاصا بوجھ اُتر جاتا ہے۔ دوسروں کا بھی یہی معاملہ ہوتا ہے۔
سلامتی اور تحفظ کا احساسجب گھر کے افراد اپنے چھوٹے چھوٹے فیصلوں اور خیالات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرتے ہیں تب آپس میں جُڑے رہنے کا احساس توانا ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں کسی خول نے حفاظتی حصار میں لے رکھا ہو۔ جب گفتگو باقاعدگی سے ہوتی ہے تب گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کو عزتِ نفس، وجود اور شمولیت کا احساس ہوتا ہے۔
مکالمے سے غلط فہمیوں کا خاتمہ یا ازالہ ہوتا ہے۔ جب ہم نہیں بولتے تب کوئی بھی شخص ہماری خاموشی کو اپنی مرضی کا کوئی بھی مطلب دے سکتا ہے۔
کوشش لازم ٹھہریگھر یا دوستوں کے حلقے میں اٹکے ہوئے مکالمے کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے ہر شخص کو اپنی انا، ہٹ دھرمی اور کاہلی ایک طرف ہٹاکر اپنے حصے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔ گفتگو کا آغاز بڑی بڑی نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیجیے۔ بات کرنے کے لیے لازم نہیں کہ آپ کے پاس کوئی بڑی اور فلسفیانہ بات ہو۔
گفتگو کسی بھی بات سے شروع کی جاسکتی ہے۔ کوئی چھوٹا موٹا واقعہ۔ کوئی عجیب بات۔ کسی کی جدوجہد۔ کسی دیرینہ رفیق سے ملاقات۔ کسی بھی بات سے گفتگو کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔
نوجوانوں کو اپنے کام کاج سے ہٹ کر دوستوں اور جان پہچان والوں کے بارے میں والدین کو بتانا چاہیے، اور بزرگوں کو اپنے بچپن کی باتیں ناصحانہ انداز کے بجائے دوستانہ انداز سے بیان کرنی چاہئیں۔ مکالمے کا مطلب رپورٹنگ نہیں بلکہ محض تذکرہ ہے۔ بات سلیس انداز میں ہونی چاہیے۔ اگر کسی کی کامیابی کا ذکر ہو تو اُسے سراہنا بھی چاہیے تاکہ شخصیت کے بارے میں اچھا پیغام جائے۔ کسی کو اُس کی کامیابی پر محض سوشل میڈیا کے ذریعے مبارک باد دینے کے بجائے فون کرکے مبارک دینے سے بہت فرق پڑتا ہے، اور اگر ملاقات کرکے سراہا جائے تو کیا ہی کہنے۔
مکالمے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ کسی کی بات پوری توجہ سے سنی جائے اور اُس کی بات پوری ہونے ہی پر ردِعمل ظاہر کیا جائے۔ بہت سے لوگ کسی کی پوری بات سنے بغیر ہی داد دینے لگتے ہیں یا تنقید کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے معاملات بگڑتے ہیں۔ قطع کلامی تعلقات کو خراب کرنے والے عوامل میں نمایاں ہے۔ جواب دینے کی جلدی نہیں ہونی چاہیے۔ پوری بات سننے کے بعد ہی زبان کھولنی چاہیے۔
کسی کی بات سننے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اُسے جانچنے بیٹھ جائیں۔ پوری توجہ اور دلچسپی سے کسی کی بات سننا بھی بہت بڑا وصف ہے جو انسان کو سب کی نظر میں قابلِ احترام بناتا ہے۔ دوسروں کو جانچنا ایک طرح کا ذہنی مرض ہے اور اِس سے احساسِ کمتری کا اندازہ ہوتا ہے۔ کبھی کبھی کسی کو مشورے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ صرف اپنی بات ہی سنانا چاہتا ہے۔
اگر کوئی دوست یا رشتہ دار آپ کو فون نہیں کرتا تو اپنی انا کو بیچ میں لائے بغیر رابطے میں پہل کیجیے۔ ساتھ ہی ساتھ فریقِ ثانی کو بھی سمجھائیے کہ تعلقات بھی سائیکل کے دو پہیوں کے اصول پر کام کرتے ہیں۔
خاموشی بھی انسان کے لیے ضروری ہوتی ہے، اُس کا بھی ایک حُسن ہوتا ہے۔ جہاں خاموش رہنا لازم ہو وہاں بولنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے مگر جہاں بولنا لازم ہے وہاں تو بولنا ہی ہوگا۔ یہی مکالمے کی بنیاد اور فلسفہ ہے۔



