سوشل میڈیا پر فحش مواد،نسلوں کے لئے خطرہ

Warning against obscene social media content: A youth looks at blurred images on a phone, another person at a laptop with similar content, surrounded by social media icons and a warning sign above child silhouettes.

آج کا دور ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا […]

آج کا دور ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، علم، تحقیق، کاروبار، تعلیم اور رابطے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں مگر جہاں اس کے بے شمار فوائد ہیں، وہیں اس کا غلط استعمال معاشرے کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ انہی چیلنجز میں سے ایک سوشل میڈیا پر فحش، غیر اخلاقی اور بے حیائی پر مبنی مواد کی تیزی سے بڑھتی ہوئی موجودگی ہے جو خاموشی سے افراد، خاندانوں اور پوری نسل کی اخلاقی، ذہنی اور سماجی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فحش مواد صرف بچوں یا نوجوانوں کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ بالغ افراد بھی اس کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں۔ آج بہت سے نوجوان، شادی شدہ افراد، پیشہ ور افراد اور حتیٰ کہ عمر رسیدہ لوگ بھی اس لت کا شکار ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی سوچ، کردار، ازدواجی زندگی، خاندانی تعلقات اور معاشرتی ذمے داریوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر چند لمحوں کی تفریح کے نام پر ایسا مواد عام کیا جا رہا ہے جو حیا، پاکیزگی اور اخلاقی اقدار کو کمزور کرتا ہے، مسلسل ایسے مواد کو دیکھنے سے انسان کی سوچ بدلنے لگتی ہے، گناہ معمولی محسوس ہونے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ انسان حقیقت اور اخلاقی حدود سے دور ہوتا چلا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ اس کی عادت یا لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، جس سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔

اس رجحان کے نتیجے میں خاندانوں میں اعتماد کمزور پڑتا ہے، میاں بیوی کے تعلقات متاثر ہوتے ہیں، طلاق کی شرح میں اضافہ، ذہنی دباؤ، بے چینی، تنہائی، ڈپریشن اور غیر حقیقی توقعات جیسے مسائل جنم لیتے ہیں، بعض افراد اس لت کی وجہ سے اپنے تعلیمی، پیشہ وارانہ اور سماجی فرائض سے بھی غفلت برتنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی کارکردگی اور شخصیت دونوں متاثر ہوتی ہیں۔

بچوں اور نوعمر افراد کے لیے اس خطرے کی شدت اور بھی زیادہ ہے۔ کم عمری میں غیر اخلاقی مواد دیکھنے سے ان کی معصوم ذہنیت، کردار سازی اور اخلاقی تربیت متاثر ہوتی ہے۔ وہ صحیح اور غلط میں فرق کرنے سے قاصر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کی شخصیت، تعلیم اور مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے والدین کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ بچوں کو موبائل یا انٹرنیٹ فراہم کریں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ان کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی رکھیں، ان سے دوستانہ انداز میں گفتگو کریں اور انہیں حیا، احترام، ذمہ داری اور اسلامی و اخلاقی اقدار کی تعلیم دیں۔

اس مسئلے کی ذمہ داری صرف والدین پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔ تعلیمی ادارے، اساتذہ، مذہبی و سماجی رہنما، میڈیا اور ہر باشعور شہری کو نوجوان نسل کی مثبت تربیت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ مدارس، اسکولوں اور کالجوں میں ڈیجیٹل اخلاقیات، ذمہ دارانہ سوشل میڈیا استعمال، اور آن لائن تحفظ کے موضوعات پر آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہییں تاکہ نئی نسل ٹیکنالوجی کے فوائد سے مستفید ہو سکے اور اس کے نقصانات سے محفوظ رہ سکے۔

افراد کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے وقت اور توجہ کی حفاظت کریں۔ سوشل میڈیا کو علم حاصل کرنے، مثبت معلومات، ہنر سیکھنے، دینی و اخلاقی رہنمائی، صحت مند تفریح اور تعمیری سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں۔ غیر اخلاقی صفحات، وڈیوز اور اکاؤنٹس سے اجتناب کریں، اپنے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے حدود مقرر کریں اور اگر کسی کو اس حوالے سے لت یا مشکل کا سامنا ہو تو قابلِ اعتماد اہلِ خانہ، اساتذہ یا ماہرین سے رہنمائی لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ایک مہذب معاشرہ صرف ترقی یافتہ ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ مضبوط اخلاق، حیا، ذمہ داری اور باہمی احترام سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہم اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ، باکردار اور بااعتماد دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں شعور، احتیاط اور ذمہ داری کو فروغ دینا ہوگا۔

سوشل میڈیا بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا‘ اس کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ ہم اسے کس مقصد اور کس انداز سے استعمال کرتے ہیں۔ اگر اسے علم، تعلیم، اصلاح اور مثبت سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کا بہترین ذریعہ ہے، لیکن اگر اسے فحش اور غیر اخلاقی مواد کے فروغ کا ذریعہ بنا دیا جائے تو یہ فرد، خاندان اور پوری نسل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی اخلاقی اقدار کی حفاظت کریں، اپنے بچوں اور نوجوانوں کی مثبت تربیت کریں، اور خود بھی ذمے دارانہ ڈیجیٹل طرزِ عملے اختیار کریں تاکہ ایک باوقار، محفوظ اور بااخلاق معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔