
کچھ خریداروں کے لیے شاپنگ مال صرف وہ جگہ ہے جہاں سے وہ اپنی ضرورت کی چیزیں خریدتے ہیں، جبکہ کچھ کے لیے یہ خریداری کے ساتھ کھانے پینے اور دوستوں یا اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزارنے کی ایک منزل بھی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران روایتی بازاروں کی جگہ ایسے عظیم الشان شاپنگ مالز نے لے لی ہے جن میں سپر مارکیٹوں اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز کے ساتھ سینما گھر، ہوٹل، یہاں تک کہ تفریحی پارک بھی موجود ہوتے ہیں۔ لاکھوں مربع فٹ پر پھیلے ہوئے یہ مراکز اُن ممالک میں شاپنگ کلچر کی علامت بن چکے ہیں جہاں ’’جتنا بڑا، اتنا بہتر‘‘کا تصور نمایاں ہے۔
ذیل میں دیے گئے 10 شاپنگ مالز کو گراس لیزیبل ایریا (GLA) کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا ہے، کیونکہ یہ اس بات کا نسبتاً منصفانہ پیمانہ ہے کہ کسی مال میں خریداری اور تفریح کے لیے قابلِ استعمال جگہ کتنی ہے۔
1 ) ایران: ایران مال (21,000,000 رقبہ مربع فٹ)2 ) ایران : اصفہان سٹی سینٹر (7,000,000 رقبہ مربع فٹ)3) ملائشیا : آئی او آئی سٹی مال(8,840,000 رقبہ مربع فٹ )4 ) چین: ساؤتھ چائنامال7,100,000) رقبہ مربع فٹ (5) چین: ایس ایم تیان جن ( 6,080,000 رقبہ مربع فٹ )6) چین : گولڈن ریسورسز مال (6,000,010 ’’ رقبہ مربع فٹ )7) فلپائن: ایس ایم مال آف ایشیا 6,349,530) رقبہ مربع فٹ (8) تھائی لینڈ : سینٹرل پلازا ویسٹ گیٹ (5,923,140 رقبہ مربع فٹ((9 تھائی لینڈ: سینٹرل ورلڈ (5,900,000 ’’مربع فٹ)10 ) تھائی لینڈ:آئیکون سیام (5,650,000 ’’مربع فٹ)
ایران مال ۔21,000,000 مربع فٹکُل رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال ایران مال ہے، جو ایران کے شمال مغربی شہر تہران میں واقع ہے۔ اس کا مجموعی رقبہ تقریباً 21 ملین مربع فٹ (تقریباً 1.95 ملین مربع میٹر) ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے تجارتی، ثقافتی اور سماجی مراکز میں سے ایک شمار ہوتا ہے، جہاں خریداری کے لیے دکانوں کے علاوہ ثقافتی سہولیات، تفریحی مقامات، ایک فائیو اسٹار ہوٹل، نمائشی ہال، ایرانی قرونِ وسطیٰ کے کتب خانوں کے طرز پر تعمیر کی گئی ایک لائبریری اور پندرہ ہزار سے زائد گاڑیوں کی گنجائش رکھنے والی پارکنگ موجود ہے۔ یہ مال 7 منزلوں پر مشتمل ہے اور اس میں تقریباً 708 ریٹیل اسٹور قائم ہیں۔ اس کا روایتی بازار شیراز، اصفہان اور تبریز جیسے ایرانی شہروں کے تاریخی بازاروں سے متاثر ہوکر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ منصوبے کا دوسرا مرحلہ جو 2024ء میں مکمل ہوا، اس میں تقریباً 350,000 مربع میٹر نمائشی جگہ اور شمسی توانائی سے چلنے والی چھت کا اضافہ کیا گیا۔ ایران مال کو 2017ء سے 2020ء کے درمیان مختلف مراحل میں عوام کے لیے کھولا گیا۔
آئی او آئی سٹی مال۔8,840,000 مربع فٹملائشیا کے پوتراجایا کے علاقے میں واقع آئی او آئی سٹی مال دنیا کا دوسرا بڑا شاپنگ مال ہے، جس کا رقبہ 8.84 ملین مربع فٹ سے زیادہ ہے۔ اس میں 650 سے زائد دکانیں موجود ہیں۔ اس مال میں عام ڈپارٹمنٹل اسٹورز، ریستوران اور کیفے کے علاوہ District 21 نامی پوسٹ اپوکلیپٹک طرز کا انڈور ایڈونچر پارک،ملائشیا کا سب سے بڑا اولمپک معیار کا آئس رِنک (Icescape Ice Rink) اور Komtag نامی انڈور کھیل کا میدان بھی موجود ہے۔
2022ء کے آخر میں مکمل ہونے والے فیز 2 کی توسیع سے مال کا حجم تقریباً دوگنا ہوگیا اور اس میں جنوبی کوریا سے باہر ملک کا پہلا Lotte Department Store بھی قائم کیا گیا۔ عالمی معیار کے متعدد لگژری برانڈز کی موجودگی نے اس مال کو پورے جنوب مشرقی ایشیا میں خریداری کا ایک اہم مرکز بنادیا ہے۔
ساؤتھ چائنا مال۔ 7,100,000 مربع فٹ :دنیا کا تیسرا بڑا شاپنگ مال ساؤتھ چائنا مال ہے، جو چین کے شہر ڈونگ گوان میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ 7.1 ملین مربع فٹ ہے۔ اس شاپنگ مال کو دنیا کے مختلف شہروں سے متاثر سات موضوعاتی حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں Arc de Triomphe کی نقل اور گونڈولا کشتیوں کے ساتھ ایک اندرونی نہر بھی شامل ہے۔
اگرچہ یہ مال اپنے وسیع رقبے اور متعدد سہولیات کی وجہ سے نمایاں تھا، لیکن 2005ء میں افتتاح کے بعد کئی برسوں تک یہاں خریداروں کی تعداد کم رہی۔ 2000ء اور 2010ء کی دہائی کے بیشتر حصے میں اس کے سات میں سے پانچ حصے بڑی حد تک خالی رہے، جس کی وجہ سے اسے ’’گھوسٹ مال‘‘ (Ghost Mall) کا لقب دیا گیا۔
2010ء کی دہائی کے آخر اور 2020ء کی دہائی کے آغاز میں وسیع پیمانے پر تزئین و آرائش کی گئی، جس کے بعد نئے کرایہ دار، تفریحی سرگرمیاں، انڈور کارٹنگ ٹریک اور IMAX سینما شامل کیے گئے۔ اس کے نتیجے میں 2020ء کی دہائی کے وسط تک مال کی دکانوں کے بھرنے کی شرح تقریباً 98 فیصد تک پہنچ گئی۔
گولڈن ریسورسز مال، چین ۔6,000,010 مربع فٹ :بیجنگ کے ہائیڈیان ضلع میں واقع گولڈن ریسورسز مال تقریباً 60 لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہے اور اس کی چھ منزلیں ہیں، جس کی وجہ سے یہ دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مالز میں ساتویں نمبر پر آتا ہے۔ یہ مال اکتوبر 2004ء میں تقریباً 1.3 ارب امریکی ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہوکر کھولا گیا۔ اس کے مرکزی حصے میں 206 فٹ بلند داخلی دروازہ واقع ہے، جو اس عمارت کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے۔ مال کے افتتاح کے بعد بیجنگ میٹرو کی دو لائنیں (لائن 6 اور لائن 16) اس کے قریب تعمیر کی گئیں، جس کے نتیجے میں یہاں آنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا اور اب ہر سال لاکھوں افراد اس مال کا رخ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ مال اپنے وسیع رقبے کی وجہ سے مشہور ہے لیکن ماضی میں یہاں بیجنگ کے مرکزی تجارتی مراکز، خصوصاً SKP Beijing کے مقابلے میں نسبتاً کم رش دیکھا گیا۔
سینٹرل پلازا ویسٹ گیٹ۔ تھائی لینڈ۔5,923,140 مربع فٹ :سینٹرل پلازہ ویسٹ گیٹ تھائی لینڈ کے سب سے بڑے شاپنگ مالز میں سے ایک ہے۔ یہ نانتھابوری صوبے میں، بینکاک کے مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔ یہ کمپلیکس 59 لاکھ مربع فٹ سے زیادہ رقبے پر محیط ہے اور متعدد منزلوں پر مشتمل ہے۔ اسے سپر ریجنل مال کا درجہ حاصل ہے، جہاں 500 سے زیادہ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز اور 200 سے زائد ریستوران موجود ہیں۔ اسی مال میں جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا IKEA اسٹور بھی قائم ہے، جو مال کے کُل رقبے کا تقریباً 10 فیصد حصہ گھیرے ہوئے ہے۔
سینٹرل پلازا ویسٹ گیٹ کا افتتاح اگست 2015ء میں کیا گیا تھا اور یہ ایم آر ٹی پرپل لائن کے ذریعے گریٹر بینکاک کے رہائشیوں کو سہولت فراہم کرتا ہے۔
سینٹرل ورلڈ۔ تھائی لینڈ۔5,900,000 مربع فٹ:سینٹرل ورلڈ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے وسط میں رچاڈمری روڈ اور راما اول روڈ کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کمپلیکس میں 500 دکانیں، 100 ریستوران اور کیفے، اور 15 سینما اسکرینیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے مخصوص زون، ایک تعلیمی مرکز، دو بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور (جن میں Zen اور Isetan شامل تھے، جن کی جگہ 2020ء میں Central نے لے لی) اور ایک انڈور آئس اسکیٹنگ رِنک بھی موجود ہے۔ مال کے سامنے واقع وسیع میدان میں ہر سال جنوب مشرقی ایشیا کی نئے سال کی سب سے بڑی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ یہ مال 1990ء میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر بینکاک کے نام سے کھولا گیا تھا، جبکہ 2006ء میں اس کی ازسرِنو تعمیر کے بعد اسے موجودہ نام سینٹرل ورلڈ دیا گیا۔
آئیکون سیام۔تھائی لینڈ۔ 5,650,000 مربع فٹ:آئیکون سیام اس فہرست میں شامل بینکاک کا تیسرا شاپنگ مال ہے۔ یہ دریائے چاؤ فرایا کے مغربی کنارے، تھون بوری کے علاقے میں واقع ایک دریائی کنارے پر قائم مخلوط استعمال کا عظیم منصوبہ ہے، جس کا افتتاح نومبر 2018ء میں کیا گیا۔اس منصوبے کی تعمیر پر تقریباً 54 ارب بھات (تقریباً 1.7 ارب امریکی ڈالر) لاگت آئی۔ عام ریٹیل اسٹورز کے علاوہ یہاں سوک سیام (Sook Siam) بھی قائم ہے، جو ایک انڈور فلوٹنگ مارکیٹ ہے، جہاں کشتی نما اسٹالوں پر تھائی لینڈ کے تمام 77 صوبوں کی نمائندگی کرنے والے روایتی کھانے اور دیگر اشیا فروخت کی جاتی ہیں۔ یہ کمپلیکس 56 لاکھ مربع فٹ سے زیادہ رقبے اور سات منزلوں پر مشتمل ہے۔ اسی مال میں تھائی لینڈ کا پہلا Apple Store قائم کیا گیا جبکہ ہر سال دسمبر میں جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا انڈور کرسمس ٹری بھی یہیں سجایا جاتا ہے۔
دنیا کے بیشتر بڑے شاپنگ مالز ایشیا میں واقع ہیں جس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایشیا کے بہت سے ممالک میں شاپنگ مال صرف خریداری کی جگہ نہیں بلکہ ایک اہم تجارتی اور سماجی مرکز سمجھے جاتے ہیں جہاں ہر بڑے مال میں ہزاروں مقامی افراد کو روزگار ملتا ہے۔ جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک میں گرم اور مرطوب موسم کے باعث ائیرکنڈیشنڈ شاپنگ مال لوگوں کو باہر کی گرمی سے راحت فراہم کرتے ہیں، جس کی وجہ سے روزانہ بڑی تعداد میں لوگ ان مراکز کا رخ کرتے ہیں۔
اگرچہ کویت سٹی میں واقع The Mall Avenuesرقبے کے لحاظ سے دنیا کے دس بڑے مالز میں شامل نہیں تاہم تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ مربع فٹ تعمیر شدہ رقبے کی وجہ سے اسے مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے تجارتی مراکز میں شمار کیا جاسکتاہے۔خواہ مقصد خریداری ہو یا صرف سیر و تفریح، اس فہرست میں شامل یہ عظیم الشان شاپنگ مالز اپنے مہمانوں کو گھنٹوں مصروف رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سخت غیر جانب داری کا دور بتدریج ختم ہوتا جارہا ہے کیونکہ جنگیں، علاقائی رقابتیں اور طاقت کے بدلتے ہوئے توازن ممالک کو بحران کے وقت زیادہ مضبوط فوجی شراکت داری اور واضح سیکیورٹی ضمانتوں کی تلاش پر مجبور کررہے ہیں۔ فوجی اتحادوں کی اہمیت اس وقت بڑھ رہی ہے جب عالمی تنازعات کے خطرات میں اضافہ ہورہا ہے اور ممالک واضح سیکیورٹی شراکت داروں اور ضمانتوں کی تلاش کررہے ہیں۔ ناٹو جیسے بڑے اتحاد، چین۔شمالی کوریا کے تعلقات اور سعودی عرب۔پاکستان۔ترکی جیسے نئے معاہدے علاقائی اور عالمی طاقت کے توازن کو مسلسل تشکیل دے رہے ہیں۔ افریقہ کے سیکیورٹی نظام بھی تبدیل ہورہے ہیں۔ ساحل کی اتحادی ریاستیں روس کی طرف رخ کررہی ہیں جبکہ بعض ارکان کی علیحدگی کے بعد ایکواس نئی سیکیورٹی صورتِ حال کے مطابق خود کو ڈھال رہی ہے۔ مجموعی طور پر فوجی طاقت کا اندازہ اب صرف دفاعی بجٹ یا ہتھیاروں سے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس بات سے بھی لگایا جاتا ہے کہ بحران کے وقت کسی ملک کے اتحادی کتنے قابلِ اعتماد اور مضبوط ہیں۔
2026ء میں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ نے عالمی سلامتی کی ایک سخت حقیقت کو آشکار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوا کہ قریبی سفارتی تعلقات ہمیشہ اس بات کی ضمانت نہیں ہوتے کہ جنگ چھڑنے کی صورت میں فوجی مدد بھی حاصل ہوگی۔ ایران کے چین اور روس کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں، لیکن ان میں سے کوئی بھی تعلق ناٹو طرز کی ایسی پابندی نہیں رکھتا جس کے تحت بیجنگ یا ماسکو کو تہران کی جانب سے جنگ میں داخل ہونا ضروری ہو۔ یہ فرق اب زیادہ اہمیت اختیار کررہا ہے کیونکہ حکومتیں باقاعدہ دفاعی معاہدوں کی اہمیت کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہیں اور پرانے اتحادوں کو مضبوط بنانے یا نئے سیکیورٹی انتظامات تشکیل دینے کے لیے تیزی سے اقدامات کررہی ہیں۔ اس پس منظر میں فوجی طاقت کا اندازہ اب صرف دفاعی بجٹ اور ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اُن اتحادوں کی مضبوطی سے بھی لگایا جارہا ہے جن پر جنگ چھڑنے کی صورت میں ممالک بھروسا کرسکتے ہیں۔ یہاں 10 بڑے فوجی اتحاد اور سیکیورٹی نظام پیش کیے جارہے ہیں جو 2026ء میں عالمی طاقت تشکیل دے رہے ہیں۔
1۔ ناٹو (NATO)ناٹو دنیا کا سب سے بڑا باضابطہ اجتماعی دفاعی اتحاد ہے۔ اس کے آرٹیکل 5 کا اصول یہ قرار دیتا ہے کہ کسی ایک رکن پر حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
تاہم روس کی جانب سے 2022ء میں یوکرین پر حملے نے غیر رکن ممالک کو درپیش حدود کو نمایاں کیا، کیوں کہ ناٹو نے یوکرین کو وسیع پیمانے پر فوجی مدد فراہم کی لیکن آرٹیکل 5 کے تحت اس پر براہِ راست جنگ میں داخل ہونے کی کوئی ذمے داری عائد نہیں ہوتی تھی۔ اجتماعی طور پر ناٹو کے رکن ممالک کے پاس جوہری دفاعی صلاحیت، طاقت ور فضائی اور بحری افواج، میزائل دفاعی نظام، سیٹلائٹس اور یورپ و شمالی امریکا میں وسیع فوجی بنیادی ڈھانچہ موجود ہے۔ دریں اثناSIPRI کے اندازے کے مطابق نیٹو ممالک نے 2025ء میں اپنی افواج پر مجموعی طور پر 1.581 ٹریلین ڈالر خرچ کیے جو عالمی فوجی اخراجات کا تقریباً 55 فیصد بنتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ نے بھی اتحادی ممالک کو زیادہ خرچ کرنے پر مجبور کیا ہے۔ 2025ء میں نیٹو کے رکن ممالک نے 2035ء تک دفاع اور سیکیورٹی پر اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 5 فیصد خرچ کرنے کی سمت میں کام کرنے پر اتفاق کیا۔
11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد اس اتحاد کو سب سے بڑے امتحان کا سامنا ہوا، جب ناٹو نے آرٹیکل 5 نافذ کیا۔ یہ اس کی تاریخ کی اب تک پہلی اور واحد مثال تھی۔
2۔ روس، شمالی کوریا اتحاد:روس اور شمالی کوریا نے 2024ء میں جامع اسٹرے ٹیجک شراکت داری کے معاہدے کے ذریعے باہمی دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دی۔ اس معاہدے کے تحت اگر دونوں میں سے کسی ملک پر مسلح حملہ ہو تو دوسرا ملک فوجی اور دیگر امداد فراہم کرے گا۔ یہ شراکت داری روس کی جوہری اور روایتی فوجی طاقت کو شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کے ساتھ جوڑتی ہے۔ اسے ماسکو کے 2025ء میں دفاع پر خرچ کیے جانے والے اندازاً 149 ارب ڈالر سے مزید تقویت ملتی ہے۔ یوکرین کی جنگ میں اس اتحاد کا پہلے ہی امتحان ہوچکا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق شمالی کوریا نے روس کے کورسک خطے میں اندازاً 14 ہزار فوجی بھیجے ہیں اور مزید 50 ہزار تک فوجی بھیجنے کی تیاری کرسکتا ہے۔ شمالی کوریا نے روس کو KN-23 اور KN-24 بیلسٹک میزائل اور بڑی مقدار میں توپ خانے کا گولہ بارود بھی فراہم کیا ہے، جب کہ اطلاعات کے مطابق پیانگ یانگ کو اس کے بدلے روس سے فوجی ٹیکنالوجی، تربیت اور تکنیکی معاونت حاصل ہوئی ہے۔
3۔ چین،شمالی کوریا اتحاد:چین اور شمالی کوریا ایشیا کے قدیم ترین باضابطہ دفاعی تعلقات رکھتے ہیں۔ اس کی جڑیں 1950ء سے 1953ء کی کوریائی جنگ کے دوران فوجی تعاون میں ہیں، جب چین نے پیانگ یانگ کی جانب سے براہِ راست مداخلت کی اور اس کی شکست روکنے میں مدد کی۔ بعد میں دونوں ممالک نے1961ء کے دوستی، تعاون اور باہمی امداد کے معاہدے کے ذریعے اس تعلق کو باضابطہ شکل دی۔ اس معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک کو مسلح حملے کے نتیجے میں جنگ میں گھسیٹا جائے تو دوسرا ملک امداد فراہم کرے گا۔ آج یہ اتحاد چین کی بڑی روایتی فوجی قوت، جوہری ہتھیاروں، جدید لڑاکا طیاروں، آبدوزوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل نظام کو شمالی کوریا کے جوہری ذخیرے، بیلسٹک میزائلوں اور انتہائی عسکری نوعیت کی مسلح افواج کے ساتھ جوڑتا ہے۔
4۔ سعودی عرب، پاکستان، ترکی دفاعی معاہدہ:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026ء کو تینوں حکومتوں کے دستخط کے بعد دنیا کے جدید ترین اجتماعی دفاعی انتظامات میں شامل ہوگیا۔ اس معاہدے کے تحت ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا، جب کہ مصر کو مستقبل میں ممکنہ طور پر اس میں شامل ہونے والے ملک کے طور پر بھی منسلک کیا گیا ہے۔ تینوں شراکت دار ایک دوسرے کے لیے مختلف نوعیت کی طاقتیں رکھتے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کے سب سے زیادہ فوجی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل ہے، پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاست ہے، جب کہ ترکی ناٹو کی سب سے بڑی افواج میں سے ایک رکھتا ہے اور اس کی دفاعی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے۔ ترکی نے 2025ء میں دفاع پر تقریباً 30 ارب ڈالر خرچ کیے، جب کہ پاکستان نے 11.9 ارب ڈالر اور سعودی عرب نے 83.2 ارب ڈالر خرچ کیے، جس کے باعث سعودی عرب دنیا کا آٹھواں سب سے زیادہ فوجی اخراجات کرنے والا ملک بن گیا۔ تاہم اس معاہدے کو ابھی کسی بڑے سیکیورٹی امتحان کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیوں کہ یہ حال ہی میں قائم ہوا ہے۔ اس لیے بحران کی صورت میں اس کے عملی ردِعمل کا ابھی بڑے پیمانے پر تجربہ نہیں ہوا۔
5۔ اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (CSTO)(ارکان: روس، بیلارس، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور آرمینیا)
اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم یوریشیا میں روس کا بنیادی باضابطہ سیکیورٹی اتحاد ہے۔ اس معاہدے میں رکن ممالک کے درمیان اجتماعی دفاع کی ذمہ داریاں طے کی گئی ہیں، جب کہ روس اس اتحاد کی زیادہ تر فوجی طاقت فراہم کرتا ہے، جس میں جوہری دفاعی صلاحیت اور بڑی روایتی فوجی قوت شامل ہے۔
تنظیم کو جنوری 2022ء میں اُس وقت اپنے سب سے اہم عملی امتحان کا سامنا کرنا پڑا جب صدر قاسم جومارت توکایف کی درخواست پر ملک میں وسیع پیمانے پر ہونے والی بدامنی کے دوران اس نے قازقستان میں 2 ہزار سے زیادہ اہل کار تعینات کیے۔ تاہم اس کے بعد سیاسی اختلافات نے تنظیم کے اتحاد کو کمزور کردیا ہے۔ آرمینیا نے تنظیم سے فاصلہ اختیار کرلیا ہے اگرچہ وہ اب بھی باضابطہ طور پر رکن ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ اس کے باوجود CSTO نے 2026ء سے 2030ء تک کے لیے فوجی تعاون کا ایک نیا منصوبہ اپنایا ہے، جب کہ ماسکو تنظیم کی باری باری آنے والی سربراہی سنبھالے ہوئے ہے۔
6۔ امریکا، جاپان اتحاد:یہ اتحاد بحرالکاہل کی سیکیورٹی کا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ امریکی جوہری دفاعی صلاحیت اور عالمی فوجی رسائی کو جاپان کی جدید بحری، فضائی اور میزائل دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ جوڑتا ہے، جب کہ چین، شمالی کوریا اور روس سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ جاپان نے 2025ء میں اپنی فوج پر 62.2 ارب ڈالر خرچ کیے، جب کہ مالی سال 2026ء کے لیے دفاعی توسیع کے اخراجات 8.809 ٹریلین ین مقرر کیے گئے ہیں۔ اتحاد کو درپیش مستقل مسائل میں سے ایک متنازع سینکاکو جزائر کا معاملہ ہے، جہاں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے کئی مرتبہ واشنگٹن کو یہ یقین دہانی پر مجبور کیا ہے کہ یہ جزائر دوطرفہ سیکیورٹی معاہدے کے دائرے میں آتے ہیں۔ ٹوکیو جاپان میں امریکی افواج کی میزبانی کے اخراجات میں بھی حصہ ڈالتا ہے، جس سے دونوں ممالک کے سیکیورٹی ڈھانچے مزید مربوط ہوتے ہیں۔
7۔ امریکا، جنوبی کوریا اتحاد:امریکا، جنوبی کوریا اتحاد جزیرہ نما کوریا کی سیکیورٹی کا ایک بنیادی ستون ہے اور اس کا بنیادی مقصد شمالی کوریا کو روکنا ہے۔ یہ تعلق 1950ء سے1953ء کی کوریائی جنگ کے دوران قائم ہوا، جب امریکی افواج نے جنوبی کوریا کے ساتھ مل کر شمالی کوریا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جنگ لڑی۔ بعد میں دونوں ممالک نے 1953ء کے باہمی دفاعی معاہدے کے ذریعے اپنے دفاعی تعلقات کو باضابطہ شکل دی۔آج جنوبی کوریا میں 28 ہزار سے زیادہ امریکی فوجی اہل کار تعینات ہیں جب کہ دونوں ممالک وسیع دفاعی تعاون، مشترکہ فوجی مشقوں اور مربوط کمانڈ نظام کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اس شراکت داری کو امریکا کی جانب سے سیول کو بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فراہمی سے بھی تقویت ملتی ہے، جن میں F-35 لڑاکا طیارے، پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور اپاچی ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔2010ء میں بھی اس اتحاد کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہوا، جب شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے جنگی بحری جہاز چیونان کو ڈبو دیا اور بعد میں یون پیونگ جزیرے پر گولہ باری کی، جس سے جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا۔
8۔ امریکا‘ فلپائن اتحاد:1951ء کے باہمی دفاعی معاہدے کے تحت قائم ہونے والے امریکا، فلپائن اتحاد کو بحیرہ جنوبی چین میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایک مرتبہ پھر اسٹرے ٹیجک اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ حالیہ برسوں میں واشنگٹن اور منیلا نے مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی تعاون اور فوجی رسائی کے انتظامات میں اضافہ کیا ہے۔ اس اتحاد کو حالیہ عرصے میں سب سے سنگین امتحانات چین کے ساتھ سیکنڈ تھامس شول جیسے متنازع علاقوں میں ہونے والی کشیدگی کی صورت میں پیش آئے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا نے متعدد مرتبہ یقین دہانی کرائی کہ دفاعی معاہدہ ان حالات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔1951ء میں واشنگٹن نے ایک مرتبہ پھر اپنے عزم کو ’’آہنی‘‘ قرار دیا اور افزودہ دفاعی تعاون معاہدے (EDCA) کے تحت مقامات کے لیے مزید 144 ملین ڈالر مختص کیے۔
9۔ ساحل کی اتحادی:ساحل کی اتحادی ریاستیں ان تین ممالک کی جانب سے ایکواس سے علیحدگی اور مغربی طاقتوں کے ساتھ سیکیورٹی تعاون میں کمی کے بعد افریقہ کے جدید ترین اجتماعی سیکیورٹی انتظامات میں سے ایک کے طور پر ابھری ہیں۔ یہ اتحاد ساحل کے خطے میں سرگرم مسلح گروہوں کے خلاف فوجی مدد حاصل کرنے کے لیے تیزی سے روس کی طرف متوجہ ہوا ہے۔ AES نے تقریباً 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ایک مشترکہ فورس قائم کی ہے جس میں زمینی، فضائی اور انٹیلی جنس صلاحیتیں شامل ہیں، جب کہ روس نے اضافی فوجی اور تکنیکی مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اسے سب سے بڑا امتحان پہلے ہی درپیش ہے، کیوں کہ برکینا فاسو، مالی اور نائیجر مسلسل شورشوں کا مقابلہ کررہے ہیں، جب کہ ساتھ ہی سابق مغربی سیکیورٹی شراکت داروں، خصوصاً فرانس کے اثر رسوخ کو پیچھے دھکیلتے ہوئے روس پر اپنے انحصار میں اضافہ کررہے ہیں۔
10۔ ایکواس کا اجتماعی سیکیورٹی نظام:ایکواس بنیادی طور پر ایک اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے جس کے ارکان میں برکینا فاسو، مالی اور نائیجر کی علیحدگی کے بعد مغربی افریقہ کے 12 ممالک شامل ہیں۔ لیکن مغربی افریقہ میں دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام اور سرحد پار جرائم بڑھنے کے ساتھ اس کا سیکیورٹی کردار بھی وسیع ہوگیا ہے۔
یہ تنظیم اپنی ایکواس اسٹینڈ بائی فورس کو مضبوط اور عملی بنانے کے لیے کام کررہی ہے جب کہ علاقائی دفاعی سربراہان اجتماعی ردِعمل کو مزید مضبوط بنانے کے منصوبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
اسے حالیہ عرصے میں سب سے بڑے امتحانات میں سے ایک کا سامنا جولائی 2023ء میں نائیجر میں ہونے والی فوجی بغاوت کے بعد ہوا، جب ایکواس نے فوجی مداخلت کی دھمکی دی اور اسٹینڈ بائی فورس کی تیاریوں کو فعال کیا، لیکن آخرکار فوج تعینات کرنے سے گریز کیا۔ اس کے بعد برکینا فاسو، مالی اور نائیجر کی علیحدگی نے مغربی افریقہ کے سکیورٹی منظرنامے کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا۔
مجموعی طور پر دنیا کے موجودہ اور ابھرتے ہوئے دفاعی اتحاد ایک زیادہ پیچیدہ عالمی سیکیورٹی نظام کی نشاندہی کرتے ہیں، کیوں کہ روایتی اتحاد وسعت اختیار کررہے ہیں، نئی شراکت داریاں تشکیل پارہی ہیں اور امریکا اور روس کے درمیان غیر جانب داری کی گنجائش مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔



