جنگ اور پاکستان کی مشکلات

by. سلمان عابد April 15, 2026
Minar-e-Pakistan monument in front of a flowing Pakistani flag with Urdu text.

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی واضح اور مضبوط معاشی حکمتِ عملی موجود نہیں

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ چھٹے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی شرائط تسلیم نہ کیں تو اُسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، اور اس معاملے میں امریکہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ امریکی صدر اپنے مؤقف پر اس قدر سختی سے قائم ہیں کہ گزشتہ چند دنوں میں انہوں نے اپنی سیاسی و دفاعی ٹیم کے کئی اہم اراکین کو عہدوں سے ہٹادیا ہے۔ وہ حکومتی اور دفاعی ماہرین جو ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کررہے تھے، انہیں بھی عملی طور پر دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ یہ طرزِعمل ظاہر کرتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے پر کسی بھی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ اسے اب ایران سے کسی سطح پر مذاکرات کی ضرورت نہیں، اور جنگ کے ذریعے اپنے بیشتر اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی اہداف بھی آنے والے دنوں میں حاصل کرلیے جائیں گے۔

دوسری جانب ایران کی قیادت بھی سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے مبینہ طور پر پاکستان کے ذریعے پیش کیے گئے 15 نکاتی ایجنڈے کو بھی مسترد کردیا ہے۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ نہ تو اسے امریکہ پر اعتماد ہے اور نہ ہی وہ کسی سطح پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ایران بار بار اس خدشے کا اظہار کررہا ہے کہ امریکہ مذاکرات کی آڑ میں کسی بڑے حملے کی تیاری کررہا ہے، اور وہ اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

اگرچہ اس جنگ میں امریکہ اپنے اتحادی ممالک سے کسی حد تک فاصلے پر دکھائی دیتا ہے، اور نیٹو ممالک بھی اس کے ساتھ کھل کر شامل نہیں ہیں بلکہ امریکی پالیسی پر تنقید کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر نیٹو ممالک پر بھی سخت تنقید کررہے ہیں۔

سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک میں بھی امریکہ کے حوالے سے تحفظات بڑھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ امریکہ ایران سے نمٹنے میں مؤثر حکمتِ عملی اختیار نہیں کررہا۔ سعودی قیادت کے بارے میں امریکی صدر کے سخت لب و لہجے کو بھی وہاں ناپسند کیا گیا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات بھی امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں سے ناخوش دکھائی دیتا ہے۔ ایران کے حوالے سے کمزور حکمتِ عملی نے یو اے ای کے لیے بھی مسائل پیدا کیے ہیں۔

پاکستان، مصر اور ترکی بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کررہے تھے، مگر اب ان کوششوں کے امکانات کمزور ہوتے نظر آرہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران کسی بھی سطح پر امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ اگر کوئی بات چیت ہو بھی رہی ہے تو وہ پسِ پردہ اور خفیہ سفارت کاری تک محدود ہے۔ ایران کسی بھی صورت میں یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ وہ امریکی دباؤ سے گھبرا گیا ہے، یا دوست ممالک کے ذریعے امریکہ سے رعایت طلب کررہا ہے۔ اسی طرح امریکہ بھی یہ تاثر دینے سے گریزاں ہے کہ وہ کمزور پوزیشن میں ہے یا ایران کی مزاحمت اسے دباؤ میں لے آئی ہے۔ لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ جنگ جو کئی ہفتوں پر محیط ہوچکی ہے اور مزید طویل ہونے کے امکانات بھی ظاہر ہورہے ہیں، اس نے پوری دنیا کی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہ صرف پیٹرول کا بحران نہیں بلکہ ڈیزل اور دیگر تیل کی قلت، خوراک کی کمی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور گیس و توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل بھی شدت اختیار کرچکے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان میں حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 127روپے کا اضافہ کیا گیا، جس سے اس کی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔ اس اعلان پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ اس عوامی دباؤ کے نتیجے میں وزیراعظم کو اگلے ہی روز اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا اور پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا گیا۔ اسی طرح ڈیزل اور دیگر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی عوام کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ہماری سفارت کاری کامیاب ہورہی ہے اور دنیا ہماری تعریف کررہی ہے، جبکہ دوسری طرف اس جنگ کے معاشی اثرات کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔ اگرچہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے کچھ حد تک ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، مگر عوام اس سے مطمئن نظر نہیں آتے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس کوئی واضح اور مضبوط معاشی حکمتِ عملی موجود نہیں، جس کے ذریعے عوام کو مستحکم کیا جا سکے۔ روزانہ کی بنیاد پر فیصلوں میں تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ حکومت خود بھی داخلی سطح پر کئی سنگین مسائل سے دوچار ہے۔ حکومت میں شامل بعض وزرا نجی محافل میں اس بات کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ موجودہ حالات میں نہ صرف حکومت چلانا مشکل ہوگیا ہے بلکہ عوام میں اپنی ساکھ بحال رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بعض وفاقی وزرا نے اس بات کا بھی گلہ کیا ہے کہ جب قیمتوں میں اضافہ کرنا ہوتا ہے تو وزیراعظم وزرا کو آگے کردیتے ہیں، جبکہ ریلیف دینے کی صورت میں خود قوم سے خطاب کرتے ہیں۔ اس طرزِعمل سے وزرا کا اعتماد متاثر ہوتا ہے اور یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وزیراعظم سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

دوسری جانب یو اے ای نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ 17 اپریل تک اپنا قرض واپس کرے۔ حکومت نے یو اے ای کے تقریباً 3.5 ارب ڈالر کے قرض کی واپسی کا فیصلہ کیا ہے، کیونکہ یو اے ای اس قرض کو رول اوور کرنے سے گریزاں تھا۔ اگرچہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہیں اور آئندہ بھی بہتر رہیں گے، تاہم بعض مبصرین کے مطابق ان تعلقات میں وہ گرمجوشی نہیں رہی جو ماضی میں دیکھی جاتی تھی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ یو اے ای کی قیادت اس وقت بھارت اور اسرائیل کے زیادہ قریب دکھائی دیتی ہے، جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے کوئی خوش آئند اشارہ نہیں۔

پاکستان، ترکی اور مصر کی جانب سے جاری سفارتی کوششیں تاحال کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں، اور نہ ہی امریکہ اور ایران کے درمیان کسی باقاعدہ مذاکراتی شیڈول کا اعلان ہوسکا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا غیر متوقع طرزِعمل ہے، کیونکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کی ضمانت کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ ایرانی قیادت بھی امریکی صدر پر شدید عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے۔ ابتدا میں یہ خبر آئی تھی کہ ایران نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے، تاہم بعد ازاں ایران نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات اچھے ہیں، اور اگر کوئی ملک کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہے تو وہ اس کی حمایت کرے گا۔

تاہم جس طرح یہ توقع کی جارہی تھی کہ پاکستان، ترکی اور مصر فوری طور پر کوئی قابلِ عمل فارمولا پیش کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے، جس کے نتیجے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوجائے گی، ایسا ممکن نہیں ہوسکا۔ اسی طرح پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے پانچ نکاتی فارمولے میں بھی فوری جنگ بندی کو ترجیح دی گئی تھی، مگر اس حوالے سے تاحال کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

پاکستان میں مسئلہ صرف پیٹرول، ڈیزل اور دیگر تیل کی قیمتوں میں اضافے تک محدود نہیں، بلکہ ان حالات میں مہنگائی کے ایک شدید طوفان نے بھی سر اٹھا لیا ہے، جس نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تقریباً ہر شعبے میں مہنگائی کا اثر دیکھنے کو ملتا ہے، اور مختلف شعبے اپنی خدمات اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ اضافے کے بعد پبلک گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 65 فیصد تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ اسی تناظر میں امیر جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے طاقتور طبقات پر ذمہ داری عائد کرے۔

اگرچہ جماعتِ اسلامی کے احتجاجی اعلان کے بعد وزیراعظم نے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، تاہم اس کے باوجود قیمتیں اب بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہیں۔ مزید یہ کہ پیٹرول پر عائد بھاری لیوی ٹیکس نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس سے عوام کی زندگی مزید مشکل ہوجائے گی۔ پاکستان کی معیشت پہلے ہی بیرونی امداد پر انحصار کرتی ہے، اور موجودہ جنگ کے باعث عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا براہِ راست دباؤ پاکستان پر بھی پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی لہر سامنے آئی ہے، جس کا اعتراف خود حکومتی سطح پر بھی کیا جا رہا ہے۔ حکومتی وزرا اس صورتِ حال کا جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ یہ جنگ پاکستان کی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسلط کردہ بحران ہے، اس لیے اس کے اثرات سے پاکستان کا محفوظ رہنا ممکن نہیں۔

اب ایک بڑا خطرہ یہ بھی ہے کہ جس انداز سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو دھمکیاں دے رہے ہیں، خصوصاً 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن اور آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق بیانات… وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عالمی اور علاقائی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک رخ اختیار کررہی ہے۔ اگر اس تنازع کا کوئی پُرامن حل نہ نکلا تو اس کے سنگین نتائج پوری دنیا، خصوصاً خطے کے ممالک کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک کو پیغام دیا ہے کہ اگر وہ مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں تو ایران ان کے ساتھ کھڑا ہوگا، اور مسائل کا حل امریکہ سے ہٹ کر تلاش کرنا ہوگا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کے کئی ممالک کسی نہ کسی سطح پر امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں، اس لیے وہ کسی ایسی حکمتِ عملی کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں جس سے امریکہ کی مخالفت کا تاثر پیدا ہو۔

بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ جنگ کس رخ پر جاتی ہے اور آیا آنے والے دنوں میں اس کی شدت میں کمی آتی ہے یا نہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت مؤقف اور جارحانہ لب و لہجے کے باعث صورتِ حال مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ تاہم جاری سفارتی کوششوں کے نتائج بھی اہم ہوں گے، اور یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ کس حد تک مؤثر ثابت ہوپاتی ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ اگر ترکی، مصر اور پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی جنگ بندی میں کامیاب نہ ہوسکیں تو اس کے مزید منفی اور دوررس اثرات سامنے آسکتے ہیں۔