
پہلے میں نے سوچا کہ مجھے اپنا تعارف نہیں کروانا چاہیے، مگر پھر خیال آیا کہ شاید میں اپنی بات کی سنگینی کو سمجھا نہ سکوں۔ عام طور پر تو مجھے تعارف کی ضرورت نہیں ہے مگر ابا جی کیلئے گدھا ہوں، امی کیلئے نکما اور رشتہ دار مجھے بے روزگاری کی وجہ سے خاندان کا حصہ نہیں سمجھتے، اور معاشرے کیلئے میں بوجھ سا بن گیا ہوں۔ یہ میری وہ نجی حقیقت ہے جسے میں روزانہ آئینے میں دیکھتا ہوں اور ہر صبح جب بیدار ہوتا ہوں تو یہ احساس میرے سینے پر پتھر بن کر رکھا ہوتا ہے۔ معاف کیجیے گا، میں نے اپنا دائرہ کار پاکستان تک ہی محدود کر لیا ہے، ورنہ عالمی سطح پر تو بڑی بڑی طاقتیں اور عوامی شخصیات بڑے بڑے فیصلے لیتے وقت بھی میری پسند اور ناپسند کا خیال رکھتی ہیں۔ ایوان بھی کچھ طے کرنے سے پہلے میرا ردعمل سوچتے ہیں۔ سات سمندر پار بیٹھے لوگ میرے لیے ایک جدید اصطلاح استعمال کرتے ہیں جسے 'Gen-Z' کہتے ہیں، اور اگر یہی لفظ استعمال کر کے کوئی میرا اپنا مجھے بلاتا تو میں اسے گالی سمجھتا۔ ان کے نزدیک میں ایک ایسی نسل ہوں جو دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے، لیکن میرے لیے یہ شناخت محض ایک تضاد ہے، کیونکہ میرے ہاتھ میں پوری دنیا کا علم تو ہے، لیکن اپنی زندگی کا ایک فیصلہ بھی میرے اختیار میں نہیں۔ خیر، تعارف چل رہا ہے تو کیوں نہ خوبیوں اور خامیوں پر بھی نظر ڈال لی جائے۔
بڑے کہتے ہیں کہ میرے اندر برداشت والا عنصر موجود ہی نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں میری سب سے بڑی خوبی ہی یہ ہے اور اس کی مثال ڈھونڈنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ میں نے اپنے ساتھ ہونے والی تمام تر زیادتیاں بڑے تحمل اور وقار کے ساتھ برداشت کی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میرا برداشت کا پیمانہ ماپنے کیلئے مجھ پر سرکاری تجربات کیے گئے اور آج بھی جاری ہیں۔ کبھی سرکاری ملازمتیں ختم کی گئیں اور کبھی میری فیسوں کو آسمانوں تک پہنچا دیا گیا، اور جب میں نے اس پر صبر کا پہلو تھامے رکھا تو طلبہ یونین پر پابندی لگا کر مجھ سے بولنے کا حق بھی چھین لیا گیا۔ یہ صرف ایک پالیسی نہیں تھی، بلکہ یہ میری پوری نسل کے مستقبل کو تاریک کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے خوابوں کو ایک نئی شرط کے ساتھ مشروط کر دیا گیا۔
یہ تجربے کا پہلا مرحلہ تھا جو ذاتی نوعیت کا تھا۔ میں نے سوچا کوئی بات نہیں میری خیر ہے، اور مجھے لگتا تھا کہ اگر بات میرے گھر والوں تک پہنچی تو کسی کو معاف نہیں کروں گا۔ لیکن میرا یہ خیال غلط نکلا کیونکہ دوسرے مرحلے میں میرا باپ جو کسان ہے، مزدور ہے، اہلکار ہے یا کبھی تاجر ہے اور اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے، اسے بھی اس تجربے میں میری برداشت ماپنے کیلئے گھسیٹا گیا۔ میں تب بھی چپ رہا اور سوچا مردوں پر مشکل تو آتی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی میری ماں، جو کبھی سکول میں درس و تدریس کے فرائض ادا کرتی ہیں اور کبھی کسی بینک میں دوسروں کا حساب کرتی نظر آتی ہیں یا ہسپتال میں لوگوں کی دیکھ بھال کیلئے بھاگتی ہیں، انہیں بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور میں پھر بھی خاموش رہا۔ ان کی محنت کی کمائی، ان کی راتوں کی نیند اور ان کی امیدیں سب اس تجربے کی نذر ہو گئیں۔ اس میں میرا کوئی قصور نہیں بلکہ اللہ نے مجھے اس خاص چیز سے نوازا ہی بہت ہے، اور اس خوبی کے ساتھ مجھ پر کمزوری کا اعتراف لازم ہوچکا ہے۔
عام طور پر میرے بارے میں مشہور ہے کہ میں اپنے حقوق چھین لیتا ہوں مگر پاکستان میں گنگا نیچے سے اوپر کو بہتی ہے۔ یہ کوئی کشش ثقل کا مسئلہ نہیں بلکہ میں جیسے ہی اپنے بارے میں سوچتا ہوں تو میرا دماغ فوراً حاضر ہوجاتا ہے اور مجھے یاد دلاتا ہے کہ "جب تو پیدا ہوا تھا تو تیرے ماں باپ نے اپنے لیے جینا چھوڑ دیا تھا، وہ اس دن سے تیرے لیے زندہ ہیں، اور اگر تو اس وقت انہیں چھوڑ کر اپنے بارے میں سوچے گا تو یہ غلط ہے۔" اور نتیجتاً یہ کہتا ہے کہ انہیں تمہاری ضرورت ہے۔ اس کے بعد مجھ سے وابستہ کی گئی ساری امیدیں ایک ایک کر کے یاد دلاتا ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے جیسے میری اپنی سوچ ہی میرے خلاف گواہی دے رہی ہو۔ ایک دفعہ میں نے ان سب پر قابو پا لیا اور تیاری کر لی، مگر اچانک دماغ نے بچائ ہوئ طاقت کو استعمال کیا، اور مجھے یادداشت میں زیادہ پیچھے نہیں جانا پڑا اور مجھے 'سانحہ مرید کے' یاد آگیا۔ وہ منظر، وہ چیخیں اور وہ خاموشی آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے جو مجھے بتاتی ہے کہ سچ بولنا یہاں کتنا مہنگا سودا ہے۔
اسے میری بدقسمتی سمجھیں یا کچھ اور کہ میں ایک ایسے ملک میں پیدا ہوگیا ہوں جس کے بنانے والے (قائداعظم) نے سالوں پہلے رولٹ ایکٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور احتجاجاً وائسرائے کی کونسل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ آج اسی ملک میں 'Surveillance and Seizure Law' کے نام پر رولٹ ایکٹ 2.0 پر غور کیا جارہا ہے۔ اس دفعہ سیاسی سائنسدانوں نے تجربے میں بڑا 'Reactive Chemical' ڈالا ہے۔ اس کے تحت اگر میں نے باہر نکلنے کا سوچا بھی تو میری جائیداد، جمع پونجی، موبائل اور حتیٰ کہ شناخت بھی ضبط کر لی جائے گی، اور مجھے بغیر کسی عدالت میں پیش کیے بغیر سزا سنائی جاسکتی ہے جو موت بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گھر والوں کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ خوف کا یہ نیا نظام صرف قوانین تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہماری سانسوں پر پہرہ بٹھانے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ہم اپنے حق کے لیے سوچنے کی جسارت بھی نہ کر سکیں۔ چلیں چھوڑیں! خاک کے ذرے قانون کی باتیں کرتے اچھے نہیں لگتے۔
اس دنیا میں جتنے بھی انقلاب آئے، ان کی بنیادی اور مشترک چیزیں پاکستان میں آچکی ہیں۔ لیکن کچھ مسائل ایسے ہیں جن کی بنا پر مجھے آج بھی ڈر لگتا ہے۔ پہلا اور سب سے بڑا مسئلہ تو یہ ہے کہ لوگوں کی سوچ کو تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس کی مثال کچھ اس طرح سے لے لیں کہ وہ سیاسی سائنسدان جو یہ تجربہ کر رہا ہے اس نے 'Flask' کے اوپر ڈھکن دے رکھا ہے کہ کہیں 'Reaction' اس کا چہرہ ہی نہ جلا دے۔ ہم سب الگ الگ تھلگ، ایک ایک کر کے جلائے جا رہے ہیں، لیکن ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم ایک ہی برتن کا حصہ ہیں۔ اگر اس کیلئے میں ثبوت ڈھونڈوں تو حال ہی میں کشمیر کی ایکشن کمیٹی نے حقوق کیلئے آواز اٹھائی مگر تنہا ہونے کی وجہ سے انہیں خاموش کروا لیا گیا۔ بالکل اسی دوران ماہ رنگ بلوچ بلوچستان میں قیادت کر رہی تھیں مگر اکیلے ہونے کی بنیاد پر انہیں قید و بند کی اذیتیں جھیلنا پڑ رہی ہیں۔ مطالبات دونوں کے تقریباً ایک جیسے تھے مگر سوچ علیحدہ علیحدہ تھی۔ اسے بس مثال کی حد تک ہی رکھیے گا، کیونکہ ہماری یہی تقسیم دراصل حکمرانوں کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
اس چیز کا سیدھا سیدھا حل یہ ہے کہ جو بھی مزاحمت کر رہا ہے اور آپ کیلئے آواز اٹھا رہا ہے، اس کا ساتھ دیجیے۔ ووٹ کس کو دینا ہے یہ آپ کا ذاتی معاملہ ہے اور آپ اس معاملے میں بااختیار ہیں، لیکن اخلاقیات اور انسانیت کے معاملے میں کوئی غیر جانبداری نہیں ہوتی۔ ایک اور اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ جن لوگوں کو عوام سنتی اور دیکھتی ہے، یا جن کی آواز مضبوط ہے، انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اور ہم اندھے ہوکر اپنا وقت ان کے پیچھے ضائع کر رہے ہوتے ہیں، اس امید میں کہ شاید وہ ہمارے دکھوں کا مداوا بنیں گے، حالانکہ انہیں ہماری تکلیف سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
اسلامی معاشرے میں قیادت کا کردار علماء ادا کرتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہمارے پاس علمائے حق ہیں ہی نہیں، اور صرف ایک مفاد پرستانہ سوچ ہے جس پر مولوی اپنی دوکان چلا رہا ہے۔ وہ ظالموں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کی بجائے آپس میں مقابلہ بازی شروع کر دیتے ہیں اور حلال اور حرام کے فتوے دے رہے ہوتے ہیں۔ ان کو کون سمجھائے کہ پہلے ہمیں انسانی حقوق دے کر ہمارا انسانی درجہ بحال کیا جائے اور پھر انسانوں کو کوئی اور سبق دیا جائے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ظالم کی چوکھٹ پر پہرہ دیتے ہیں تاکہ باہر کسی کو پتہ نہ چلے۔ دراصل یہ لوگ ظلم میں برابر شریک ہیں اور پوری قوم کے مجرم ہیں۔ اس کی مثال اس طرح ہے کہ ایک ملک لوگوں کو نہ تحفظ فراہم کرے اور روٹی بھی ہمارے منہ سے چھینیں اور بدلے میں ملک سے وفاداری کا تقاضا بھی کرے۔ مذہبی ٹھیکدار اگر خود کو پیش نہیں بھی کرتے تو اس کے بعد مشہور عوامی شخصیات کا حق بنتا تھا کہ وہ عوام کی امنگوں پر پورا اترتے کیونکہ Fan following کے کچھ فرائض ہوتے ہیں۔ یہاں قصور میرا اور آپ کا بھی ہے کہ مولوی اور یہ شخصیات میرے اور آپ کے سروں پر روٹی کھاتے ہیں۔ مگر ہمیں کون سمجھائے کہ ایک مزدور اور نعمان اعجاز کی آواز میں فرق ہے۔
ان کے چکر میں ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں اور آج پھر ایک بڑی اہم بات بھول گیا کہ پنجاب کی عزت مآب ڈاکٹر صاحبہ کے نزدیک میں ایک بیماری ہوں اور اس کیلیے انہوں نے CCD اور CTD نامی دوایاں تیار کر رکھی ہیں جن کے امتحانی دورانیہ میں تو عادی مجرموں کو رکھا ہے لیکن یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ میں ان کیلیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہوں۔ ایران میں انقلاب سے پہلے بالکل ان کا پرانا version کام کر رہا تھا جسے WASKA کہتے تھے۔ خوف کا یہ نیا دور مجھے یہ بتاتا ہے کہ انسان کی آواز اب قانون کی نظر میں ایک جرم بن چکی ہے، اور مجھے اس جرم کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
خیر، یہ سب لکھتے لکھتے میرے ہاتھ اچانک رک گئے ہیں اور مجھے اپنی اوقات کا احساس واپس آ گیا ہے۔ وہ جو میرے اندر کا انقلاب تھوڑی دیر کے لیے جاگا تھا، اس نے کان پکڑ کر فوراً معافی مانگ لی ہے۔ مجھے ڈر لگنے لگا ہے کہ شاید میری دیواروں کے کان ہیں اور میری ہر بات کسی ریکارڈ کا حصہ بن رہی ہے۔ ایک سوال ذہن میں الجھ رہا ہے... کیا محض ان حالات کا شعور رکھنا اور انہیں لفظوں میں اتار دینا بھی کسی نامعلوم کھاتے میں درج ہو چکا ہے، یا ابھی بھی میری یہ نئی خاموشی مجھے اس نظام کی نظروں میں محفوظ رکھ پائے گی؟ "ہم تو خاموشی سے حالات کے دھارے پر بہنے والے لوگ ہیں۔ بس اب جاتے جاتے ایک چھوٹا سا، معصومانہ سا سوال الجھن میں ڈال رہا ہے... کیا میری اس 'بروقت پسپائی' کو دیکھتے ہوئے مجھے واپس 'فرمانبردار اور شریف شہریوں' کی صف میں کھڑے ہونے کی اجازت مل جائے گی، یا سچ بولنے کے اس 'مختصر سے حادثے' کا بل مجھے کسی نہ کسی شکل میں ادا کرنا ہی پڑے گا؟" اب بس یہی سوال مجھے سونے نہیں دیتا کہ میری خاموشی کب تک میری ڈھال بنے گی؟



