لال بیگ نے دہلی پر بول دیا دھاوا

byمحمد امین اللہ•August 14, 2026•
A large crowd of protestors pushes against yellow police barricades, confronting police officers, with some holding "Resign" signs.

دنیا بھر میں جب بھی انقلابات آتے ہیں وہ برسوں سے حکمرانوں کی جانب سے ظلم و جبر کا طویل […]

دنیا بھر میں جب بھی انقلابات آتے ہیں وہ برسوں سے حکمرانوں کی جانب سے ظلم و جبر کا طویل سلسلہ ہوتا ہے۔ عوام حکمرانوں کے استحصال کا شکار ہو کر سسک رہی ہوتی ہے۔ اچانک اک دن کوئی حادثہ ہوتا ہے اور لوگوں کا غم وغصہ آتش فشاں بن کر پھٹ پڑتا ہے اور حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہو جاتا ہے۔ تیونس کے اندر عوامی غم وغصہ اس وقت پھوٹ پڑا جب اک پولیس والے نے اک پھل فروش کی ریڑی الٹ دی اور اس پھل فروش نے خود سوزی کرلی پھر کیا تھا عوام کا سیلاب تھا اور حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہو گیا۔ عرب بہار کا آغاز ہوا مصر میں حسنی مبارک گیا عوامی حکومت بنی مگر فوجی آپریشن نے منتخب صدر مرسی کی حکومت کو ختم کر دیا۔ حال ہی میں سری لنکا میں عوامی بغاوت ہوئی اور حکومتی جبر کا خاتمہ ہوا۔ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف طلبہ کی تحریک چلی اور حسینہ واجد کو بھارت فرار ہو کر جان بچانی پڑی۔

بھارت جو نریندر مودی کی ناکام اور فسطائیت پر مبنی حکمرانی کے زیر سایہ سسک رہا ہے آج بھارت کا تعلیم یافتہ نوجوانوں کی اکثریت بیکاری اور ہندوتوا کے نفرت انگیز سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ جب بھی تعلیم، صحت، روزگار امن و امان کا مطالبہ کسی جانب سے ہوتا ہے اسے ملک دشمنی قرار دے کر دبا دیا جاتا ہے۔ تمام اقلیتوں با لخصوص مسلمانوں سے جینے کا حق چھینا جا رہا ہے۔ ان کے مساجد اور وقف کی زمینوں پر سرکاری بلڈوزر چلایا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ SIR کے ذریعے ان سے ان کے ووٹ دینے کا جمہوری حق بھی چھینا جا رہا ہے۔

بھارت میں NEET کے ذریعے میڈیکل کالجوں میں داخلے کا امتحان لیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں امتحان کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ امتحانی سوال نامہ پہلے ہی Leak ہو چکا ہے حکومت نے امتحان ملتوی کر دیا اور دوسرا امتحان لینے کا اعلان کیا جس سے لاکھوں طلبا کا سال ضائع ہو گیا۔ 20 طلبا نے دل برداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔ ڈھائی لاکھ کے قریب طلبا دوبارہ امتحان نہیں دیے۔ اس بدانتظامی کے خلاف جب طلبا کی اک بڑی تعداد نے احتجاج شروع کیا اور معاملہ عدالت تک پہنچا تو بھارت کے چیف جسٹس نے طلبا کے بارے میں نہایت ہی نا مناسب تنقید کی کہ یہ ’’نا اہل ہیں اور کاکروچ کی طرح ہیں‘‘ اس ریمارکس نے طلبا میں غم وغصہ کی لہر دوڑا دی اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ اسی دوران بھارت سے باہر رہنے والے نوجوان ابھیجیت دیپکے نے تحریک کا آغاز کیا اور مزاحیہ انداز میں کاکروچ جنتا پارٹی کا اعلان کیا۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے ہیں۔ یہ بھارت میں نوجوانوں کی ایک طنزیہ سیاسی تحریک اور مہم ہے۔جیسا کہ بی بی سی اردو نے رپورٹ کیا ہے، ’’کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا ہے کہ اگر مرکزی وزیر تعلیم مستعفی نہیں ہوئے تو ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کیا جائے گا۔‘‘ یہ مہم مئی 2026ء میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب بھارتی چیف جسٹس کے ایک بیان، جس میں مبینہ طور پر نوجوان نسل کے حالات کا موازنہ کاکروچ سے کیا گیا تھا، کے ردعمل میں طلبا اور نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر اسے بطور مزاحیہ و سیاسی استعارہ استعمال کرنا شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے لاکھوں نوجوان اس مہم میں شریک ہو گئے اور سوشل میڈیا پر اک طوفان برپا ہو گیا۔

آج یہ طنزیہ احتجاجی مہم اب باضابطہ طلبا تحریک کی صورت ڈھل چکی ہے۔ ایک ماہ قبل جب کاکروچ جنتا پارٹی کے طلبا نے دہلی جنترمنتر پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے پر دھرنا شروع کیا تو مودی سرکار نے اسے کوئی اہمیت نہ دی مگر جب ملک کے نامور شخصیت سونم وانچوک طلبا کی حمایت میں آ کر دھرنے میں شامل ہو گئے اور مطالبے کے حق میں بھوک ہڑتال شروع کیا تو 17‘18 دنوں تک حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی سونو وانگ چوک کی حالت بگڑتی گئی اور تیزی سے ملک کے نامور شخصیات جس میں بولی ووڈکے اداکار اور اداکارائیں شامل ہیں دھرنے کی اور سونو وانگ چوک کی حمایت میں آنے لگیں حتیٰ کہ تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ بھی آئے، آم جنتا پارٹی کے سربراہ ارویند کیجروال اور دیگر حزب مخالف کے لیڈران آنے لگے تو پورے ملک میں ہاہا کار مچ گیا اور بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے لڑکیاں ملک کے دیگر شہروں سے آکر شریک ہوئے لگے۔ انیسویں دن دہلی ہائی کورٹ کے حکم پر سونو وانگ چوک کو پولیس زبردستی سفید چادروں میں لپیٹ کر علاج کرنے کے بہانے اسپتال لے گئے۔

طلباء نے 20 جولائی کو اپنے مطالبات کے حق میں پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا۔ طلبا کی بڑی تعداد نے جب مارچ کا آغاز کیا تو پارلیمنٹ کے چند فرلانگ کے فاصلے پر پولیس نے نہایت بے دردی سے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ بہت سے پولیس والے پولیس اہلکاروں کا لباس تو پہنے ہوئے تھے مگر ان کی کوئی پہچان نہیں تھی۔ لڑکیوں پر بھی بہیمانہ تشدد کیا گیا ہے ان کے کپڑے تار تار کیے گئے اور تو اور ایک 21 سال کی لڑکی ICU میں ہے۔ ایک لڑکی کو سات گھنٹے تک ٹارچر کیا گیا۔ یہ تمام مناظر اور پولیس گردی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پورے بھارت میں مظاہرے شروع ہو چکے ہیں سیکڑوں طلبا و طالبات زخمی ہوئے ہیں اور سیکڑوں گرفتار ہیں۔ مجمع بڑھتا جا رہا ہے۔ طلبا کا جوش و خروش بڑھتا جا رہا ہے۔ زخمی طلباوطالبات گھر جانے کے بجائے احتجاج میں شریک ہیں جس نے تحریک میں ایک نیا ولولہ پیدا کر دیا ہے۔ پنجاب کے کسان اپنے ٹریکٹر کے ساتھ دہلی کی جانب مارچ شروع کر چکے ہیں۔ اک طالب علم کا ویڈیو وائرل ہوا ہے جو آسٹریلیا سے احتجاج میں شریک ہونے آیا ہے۔ باہر سے لوگ احتجاجیوں کے لیے آن لائن کھانا بھیج رہے ہیں۔ راجیو گاندھی نے طلبا کے حق میں اور تعلیم کے اصلاح اور دیگر مطالبات کے حق میں مودی کے گھر کے سامنے دھرنا دیا اور گرفتاری دی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تحریک مودی سرکار کی حکومت کا بوریا بستر گول کر پائے گی یا ماضی قریب میں چلنے والی دیگر تحریکوں کی طرح ناکام ہو جائے گی۔ اس کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

قارئین کو یہ یاد کر لینا چاہیے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پوری قیادت RSS کے احکامات کی پابند ہے جو فسطائیت کی علم بردار قاتلوں اور ہندوتوا کے اکھنڈ بھارت کی تکمیل کی جد وجہد کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی سرکار اپنے ان نیتاوں کی وارث ہے جو آزادیٔ ہند کی جنگ میں انگریزوں کے ساتھ تھے۔ یہ نتھورام گوڈزے کے جانشین ہیں‘ جس نے بھارت کے قومی باپ گاندھی کا قاتل تھا۔ آج مودی سرکار اس لیے توانا اور جارحیت پسند ہے کہ ریاست کے تمام ادارے RSS کے رضاکاروں کی گرفت میں ہے۔ پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج، پولیس اور بیوروکریسی پر فائز تمام لوگ RSS کے کٹر شدت پسند کیڈر ہیں۔ انتخابات میں مودی کو شکست دینا خواب و خیال کی بات ہے کیوں کہ الیکشن کمیشن مودی سرکار کے ہاتھوں میں ہے۔ ماضی میں اٹھنے والی جتنی تحریکیں تھیں سب کو ریاستی طاقت کے ظالمانہ اقدامات کے ذریعے ہی ختم کیا گیا۔ خالصتان کی تحریک کو گولڈن ٹیمپل پر فوجی آپریشن اور دسیوں ہزار سکھوں کو قتل کر کے کیا گیا۔ آج بھی پنجاب کے ہزاروں نوجوان ماورائے عدالت غائب ہیں۔ حتیٰ کہ حقیقت پر مبنی فلم Satluz پر پابندی عائد ہے۔ ماضی قریب میں ہریانہ اور پنجاب کے کسانوں کی تحریک کو نہایت بہیمانہ طریقے سے کچل دیا گیا۔

ملک کی 22 فیصد آبادی دلت ہندوؤں پر مشتمل ہے جن کی صدیوں کی محرومی آج بھی برقرار ہے۔ 25 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کی تیاری کی جا رہی ہے گھر واپسی کے نام پر جبری ہندو بنانے کا منصوبہ رو بہ عمل ہے۔ منی پور میں تو مکمل طور پر مسلح علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ بہار، بنگال، جھارکھنڈ، اترا کھنڈ یوپی کے پس ماندہ علاقوں میں نکسلیوں کی تحریک بھی فوجی آپریشن کے ذریعے ختم کیا جا رہا ہے۔ یہ وہ مجموعی مگر مختصر صورت حال ہے جو بھارت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک شورش کی صورت میں موجود ہے مگر مودی سرکار کے پاس ٹریمپ کارڈ کی صورت میں پاکستان اور ہندوتوا کا حربہ موجود ہے۔

دھرنا میں اوقت نیا موڑ آیا جب 18 جولائی کو بھوک ہڑتال پر بیٹھے سونو وانگ چوک کو پولیس زبردستی اٹھا کر اسپتال میں داخل کر دی۔ اس وجہ سے کاکروچ جنتا پارٹی کے لیڈر سودھیر دیپکے نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ کے گھیراؤ کا اعلان کردیا۔ پولیس حرکت میں آئی اور 19 تاریخ کی شام سے ہی طلبا اور طالبات پر بہیمانہ طریقے سے کریک ڈاؤن شروع کر دیا جس کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد پورے بھارت میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اسی دوران نامور اداکار نصیرالدین شاہ جن کا بیٹا اس دھرنے میں شامل تھا‘ نے سخت وڈیو بیان دیا۔ پورے ملک کے تمام بڑے شہروں، کولکتہ، پٹنہ، ممبئی، جیسل میر میں ہزاروں طلبا سڑکوں پر نکل آئے اور پولیس سے جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ پٹنہ کے مظاہرے نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا جہاں مظاہرین پولیس کی لگائی گئی رکائوتوں کو اٹھا کر لے گئے، واٹر کینن سے بھاگنے کے بجائے اس میں نہانے لگے۔ مظاہرین پولیس سے اشک آور گیس کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہاں ایک بات یہ ہوئی کہ 23 جولائی کو سونو وانگ چوک نے بھوک ہڑتال ختم کر دی۔ جس سے ان پر تنقید شروع ہو گئی اور ماضی میں ان کا اور ان کے خاندان کے افراد کا RSS سی تعلق کی تصویریں سوشل میڈیا پر جاری ہونے لگیں حالانکہ وانگ چوک بھوک ہڑتال ختم کرکے دھرنے میں شامل ہوگئے۔ طلبا اپنے مطالبے پر ڈٹے رہے اور 25 جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے اور 25 تا 27 پورے ملک میں بھارت بند کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران طلبا اور حکومتی وزراء کے دوران دو میٹنگز ہوئی۔ حالات بگڑتے جا رہے تھے۔ مودی نے 23 جولائی رات دو بجے انسٹا گرام پر طلبا سے ہمدردی کا اظہار کیا اور پیپر لیک کے بارے میں اقدامات کا اعلان کیا مگر طلبا نے اسے مسترد کردیا اور اپنے اعلانات پر ڈٹے رہے۔ ملک کے دیگر شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے شروع ہوگئے۔ اور ہزاروں طلبادہلی کی جانب مارچ میں شریک ہونے کے لیے چل پڑے۔ لیکن 25 جولائی 2 بجے دن کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک طویل خط میں اپنے استعفیٰ کا اعلان کردیا۔ طلبا کے چار بنیادی مطالبات تھے۔

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ دے۔ پیپر لیک کے واقعہ کے بعد جن طلبا نے خودکشیاں کی ہیں ان کے خاندان والوں کو اک اک کروڑ معاوضہ دیا جائے۔ تمام گرفتار طلبا کو رہا کرکے ان کے مقدمات ختم کیے جائیں اور زیادتیاں کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ حکومت نے ابھی صرف استعفیٰ والا مطالبہ تسلیم کیا ہے۔

پہلی بات یہ ہوئی ہے کہ دھرنے میں بھارت کا ایک سیکولر چہرہ سامنے آیا اور بغیر کسی تفریق کے دھرنے میں ہندو مسلم اور دیگر اقلیتوں کی شرکت سے ہندوتوا کی زہر آلود فضا میں کمی محسوس ہوئی ہے حالانکہ حکومت کی گودی میڈیا حسب معمول پاکستان اور ISI کو مورد الزام ٹھہراتے کی مجموعی کوشش کرتی رہی۔ مگر عوام نے اسے قبول نہیں کیا۔

دوسری اہم بات یہ ہوئی ہے کہ پہلی بار مودی سرکار کی ضد اور ہٹ دھرمی ٹوٹی ہے اور خوف کا خاتمہ ہوا ہے جو اس سے پہلے ممکن نہیں تھا۔ایک مسلمان سوشل ورکر جنید جو دھرنے کے اوّل دن سے طلبا کی خدمت اور ان کو کھانا کھلانا اور دیگر خدمات میں پیش پیش تھا اس کے گھر پر پولیس نے چھاپہ مارا اور اس کے بوڑھے باپ اور چھوٹے بھائی کو گرفتار کیا ہے‘ اس کی بہن کے سسرال والوں کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔ پولیس کی کوشش ہے کہ اس کو پاکستان کا ایجنٹ ثابت کر دے۔

اس دھرنے کے دوران سوشل میڈیا پر مودی کو جو غلیظ گالیاں دی گئیں ہیں وہ ضبط تحریر نہیں لایا جا سکتا۔ اس دھرنے میں عوامی شمولیت نے یہ واضح کر دیا کہ انتخابات میں مودی کی فتح بالکل مصنوعی اور انتخابی ادارے کی مرہون منت ہے اور EVM مشین کا کارنامہ ہے۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق فوج میں بھی بے چینی موجود ہے اور کوئی بیس ہزار فوجیوں نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد مودی کے استعفیٰ کی آوازیں بھی آنی شروع ہو گئی ہیں۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا کردار مضبوط ہو رہا ہے۔ راجیو گاندھی نے جس طرح بچوں کے ساتھ یکجتی کا اظہار کیا ہے نوجوانوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ مستقبل قریب میں بھارت کے اندر مودی سرکار کے خلاف کس طرح کا عوامی ردعمل پیدا ہونے جا رہا ہے اور اس کے امکانات کتنے ہیں۔ ایک بات جو اس دھرنے سے واضح ہو گئی کہ عوام اگر جبر کے سامنے ڈٹ جانے تو حکومتیں مجبور ہو جاتی ہیں۔

مذاق مذاق میں شروع ہونے والی Cockroach پارٹی تحریک نے بھارت کے اندر اندھیرے میں جگنو کی روشنی بن کر ابھری ہے۔ یہ ہزاروں مظلوم کشمیریوں، اور فسادات میں مارے گئے مسلمانوں اور صدیوں سے پستے ہوئے دلتوں کی آہ ہے جو رنگ لا رہی ہے۔

اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی سازشی پالیسی نے کاکروچ جنتا پارٹی کی قائد ابھیجیت دیپکے جو اتفاق سے سوشل میڈیا کی شہرت اور ملک میں موجود پہلے سے تعلیمی بے چینی نے طلبا کے لیے اسے نجات دہندہ سمجھا اور اس کی پکار پر اکٹھے ہو گئے۔ مگر دیپکے کو سونو وانگ چوک کی بھی سابقہ کردار کا علم نہیں تھا لہٰذا جب تحریک جوبن پر تھی تو اچانک وزیر تعلیم کا استعفیٰ آ گیا مگر ان کے دیگر مطالبات جس میں خود کشیاں کرنے والے طالب علموں کو ایک ایک کروڑ معاوضہ دینا، گرفتار طالب علموں کو رہا کرنا، مقدمات ختم کرنا اور زیادتی کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنا شامل تھا یہ زبانی جمع خرچ بن گئے کیونکہ حکومت سے نہایت مکاری سے دھرنا اور احتجاج کو ختم کروا دیا۔ اب ان طلبا کے خلاف انتقامی کارروائی شروع کردی گئی ہے جو فعال کردار ادا کر رہے تھے۔ انہیں گرفتاریاں اور ہراساں کیا جا رہا ہے اس میںنمایاں نام جنید کا ہے جو اوّل روز سے دھرنا والوں کی خدمت میں لگا ہوا تھا۔ سب سے بری حالت مغربی بنگال میں ہے جہاں اب تک درجنوں مسلمانوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ بہار کے ضلع سوان میں تین طلبا کو کلاشنکوف کی گولیوں سے پولیس نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ اسی اثنا رام پور یوپی کے مولانا جوہر علی یونیورسٹی کو منہدم کرنے کے لیے بلڈوزر اور پیرا ملٹری فورس بھی تیاریاں کر رہے ہیں جہاں عوام کا جم غفیرموجودہے اور کسی وقت بھی بڑے تصادم اور ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ یوپی کا وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ یوگی ایک انتہائی متعصب ہے جس نے اب تک یوپی میں سینکڑوں مساجد اور مسلمانوں کے املاک کو بلڈوز کر دیا ہے اس کے بیانات زہر آلود ہوتے ہیں وہ کھلم کھلا اسلام اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی بات کرتا ہے سب سے زیادہ اسی صوبے میں اجتماعی تشدد اور گائے کے نام پر مسلمانوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ موجودہ کاکروچ جنتا پارٹی کے صف اول کے لیڈروں کی باتوں میں بھی وہ گھن گرج نہیں ہے۔مودی سرکار اس مرتبہ بھی اک بڑے طوفان سے خود کو بچانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔