تعلیمی اداروں میں منشیات: ایک خاموش قومی بحران

byDr. Waseem HaiderJune 24, 2026
Pills spill from the back of a person's head in a graphic illustration against a red background.

پاکستان اس وقت نوجوان آبادی کے اعتبار سے دنیا کے اہم ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ملک کی تقریباً دو تہائی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ یہی نوجوان مستقبل کے سائنسدان، ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، محققین، پالیسی ساز اور قومی رہنما بنتے ہیں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہماری نوجوان نسل ایک ایسے خطرے کی زد میں ہے جو نہ صرف ان کے مستقبل بلکہ پورے معاشرے اور ریاست کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ یہ خطرہ تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کا ہے۔

حال ہی میں شفاء تعمیرِ ملت یونیورسٹی اسلام آباد میں "طلبہ اور تعلیمی اداروں میں منشیات کی لت: ایک قومی ایمرجنسی" کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں شرکت کا موقع ملا۔ اس موقع پر ماہرین، اساتذہ، طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی۔ اس مباحثے سے ایک حقیقت واضح ہوئی کہ منشیات کا مسئلہ اب چند انفرادی واقعات تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم (UNODC) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں _6.7 ملین افراد_ منشیات استعمال کرتے ہیں، جبکہ _8,60,000 افراد_ ہیروئن کے عادی ہیں۔

جامعات کسی بھی قوم کے علمی، فکری اور تحقیقی مراکز ہوتی ہیں۔ یہ وہ ادارے ہوتے ہیں جہاں سے قوم کی فکری رہنمائی ہوتی ہے اور مستقبل کی قیادت تیار ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے آج بعض جامعات کی شناخت علم، تحقیق اور کردار سازی کے بجائے دیگر منفی حوالوں سے ہونے لگی ہے۔ کئی شہروں میں طلبہ کے درمیان یہ تاثر عام ہے کہ اگر کسی کو منشیات درکار ہوں تو بعض جامعات کے مخصوص ہاسٹلز، کیفیٹیریاز یا دیگر مقامات سے ان تک رسائی ممکن ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک بلکہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ _2025ء کے دوران پاکستان بھر کی 58 اعلیٰ تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کے 385 کیسز_ رپورٹ ہوئے، جن میں وفاقی دارالحکومت کی 9 جامعات سے _143 کیسز_ شامل تھے، جن میں _10 طالبات_ بھی تھیں۔

بحیثیتِ طلبہ کارکن مختلف جامعات کے دوروں اور طلبہ سے ملاقاتوں کے دوران بارہا اس مسئلے کی سنگینی کا احساس ہوا۔ متعدد طلبہ نے اس امر کی نشاندہی کی کہ منشیات تک رسائی پہلے کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے۔ نئے آنے والے طلبہ کو ابتدا میں دوستی، تفریح، جدید طرزِ زندگی، ذہنی دباؤ سے نجات یا محض تجسس کے نام پر منشیات کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں یہ عمل ایک معمولی تجربہ محسوس ہوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ یہی چیز ایک خطرناک لت میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ایک باصلاحیت طالب علم کے تعلیمی کیریئر، ذہنی صحت اور معاشرتی زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ تحقیق کے مطابق منشیات کا پہلا تجربہ اکثر دوستوں کی محفلوں میں _14 سال کی عمر_ میں ہوتا ہے اور تناؤ کی صورتحال میں یہ رجحان بڑھ جاتا ہے۔

اس پورے عمل میں بعض غیر ذمہ دار سینئر طلبہ کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ مختلف جامعات سے موصول ہونے والی معلومات اور طلبہ کے مشاہدات کے مطابق بعض عناصر نئے طلبہ کو منشیات سے متعارف کرانے اور انہیں مخصوص حلقوں میں شامل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ عناصر طلبہ کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتے، لیکن ان کی سرگرمیاں سینکڑوں نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ منشیات کا مسئلہ صرف چند افراد کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم مافیا کارفرما ہوتا ہے۔ یہ مافیا نوجوان نسل کو اپنا آسان ہدف سمجھتا ہے اور مالی مفادات کے لیے ان کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ متعدد طلبہ اور اساتذہ کی آراء سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض مقامات پر منشیات فروشی کے نیٹ ورکس اس قدر مضبوط ہو چکے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی کرنا آسان نہیں رہتا۔ بعض اوقات کارروائیاں تو ہوتی ہیں لیکن اصل نیٹ ورکس تک پہنچنا مشکل ثابت ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) نے تعلیمی اداروں کے لیے _1,453 کلوگرام_ منشیات ضبط کیں اور _300 سے زائد_ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا، تاہم منظم نیٹ ورکس اب بھی فعال ہیں۔

اس صورتحال کا ایک اور تشویشناک پہلو نگرانی کے نظام کی کمزوری، جوابدہی کے فقدان اور بعض بااثر عناصر کی مبینہ سرپرستی ہے۔ جب قانون کا نفاذ کمزور ہو، احتساب مؤثر نہ ہو اور تعلیمی اداروں کے گرد منشیات فروش عناصر آزادانہ سرگرم ہوں تو ایسے گروہوں کے حوصلے بڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کا حل صرف وقتی کارروائیوں میں نہیں بلکہ مستقل اور جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تعلیمی اداروں میں منشیات کی روک تھام کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس اور پولیس کو مانیٹرنگ کمیٹی میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔

منشیات کا پھیلاؤ دراصل ہمارے تعلیمی نظام میں موجود دیگر خرابیوں کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ بڑھتی ہوئی فیسیں، ہاسٹلز کی کمی، ذہنی دباؤ، تعلیمی بوجھ، بے روزگاری کے خدشات، مثبت سرگرمیوں کا فقدان اور طلبہ کے مسائل کے حل کے مؤثر نظام کا نہ ہونا نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیتا ہے۔ جب نوجوان خود کو تنہا اور غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں تو منفی رجحانات کے فروغ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق _تعلیمی دباؤ اور ساتھیوں کا دباؤ_ منشیات استعمال کرنے کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

منشیات صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتیں بلکہ پورے خاندان، تعلیمی ماحول اور معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایک طالب علم کی تباہی دراصل ایک خاندان کے خوابوں کی تباہی، قومی سرمایہ کے ضیاع اور مستقبل کی قیادت سے محرومی کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مسئلے کو محض ایک انتظامی یا انضباطی معاملہ سمجھنے کے بجائے _قومی ایمرجنسی_ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اس بحران سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر ہے۔ تعلیمی اداروں میں مؤثر اینٹی ڈرگ پالیسی نافذ کی جائے، کیمپسز اور ہاسٹلز میں نگرانی کے نظام کو مضبوط بنایا جائے، کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں، نفسیاتی معاونت کے مراکز بنائے جائیں اور منشیات فروشی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے _245 پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں_ میں "اینٹی ڈرگ اینڈ ٹوبیکو کمیٹیاں" قائم کی ہیں جو منشیات مخالف قوانین کے نفاذ اور آگاہی مہمات کو یقینی بناتی ہیں۔ والدین، اساتذہ، تعلیمی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور طلبہ سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اسی طرح ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں مثبت طلبہ سرگرمیوں، مکالمے اور طلبہ کی نمائندگی کے مواقع کو فروغ دیا جائے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب طلبہ کو ذمہ دارانہ اور منظم پلیٹ فارمز میسر ہوتے ہیں تو تعلیمی ماحول زیادہ فعال، محفوظ اور جوابدہ بنتا ہے۔ اس تناظر میں _طلبہ یونینز کی بحالی_ پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ اپنے اداروں کے مسائل، تعلیمی معیار، کیمپس ماحول اور منشیات جیسے سنگین چیلنجز کے حل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکیں۔ طلبہ کی منظم نمائندگی نہ صرف تعلیمی اداروں میں احتساب اور شفافیت کو فروغ دے سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

پاکستان کے مستقبل کا انحصار اس کی نوجوان نسل پر ہے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے کا سنجیدگی سے تدارک نہ کیا تو آنے والے برسوں میں اس کے نتائج کہیں زیادہ خطرناک ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ منشیات کے خلاف قومی سطح پر مؤثر، مستقل اور غیر سیاسی اقدامات کیے جائیں تاکہ ہماری جامعات دوبارہ علم، تحقیق، کردار سازی اور قومی رہنمائی کے مراکز بن سکیں، نہ کہ منشیات اور دیگر سماجی برائیوں کی پہچان۔

---
_وسیم حیدر_
پی ایچ ڈی سکالر، جامعہ پشاور
ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان
(سابق فیکلٹی ممبر، جامعہ پشاور)