
پاکستان میں ایک دہائی قبل اسکولوں میں سمارٹ ایجوکیشن سسٹم متعارف کروایا گیا، جسے طلبہ اور والدین نے خوش آمدید کہا۔ یہ نیا طریقہ تدریس اس لیے مقبول ہوا کیونکہ دیکھی گئی چیزیں سنائی گئی معلومات کے مقابلے میں بہتر یاد رہتی ہیں۔ تاہم کسی نے یہ تصور نہیں کیا تھا کہ مستقبل قریب میں یہ سسٹم دنیا کی ضرورت بن جائے گا۔
مارچ 2020ء میں کورونا وبا نے عالمی سطح پر زندگی کو روک دیا۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں اور مدارس بند ہو گئے اور بچوں کی تعلیم رک گئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس وبا نے 1.6 بلین بچوں کو اسکول سے دور کر دیا۔ ماہرین تعلیم اور معیشت دانوں نے فوری طور پر اقدامات پر غور کیا تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان کم کیا جا سکے۔
آن لائن تعلیم کی ابتدا اور عالمی تناظر
حصول تعلیم کے لیے ممالک نے اپنی استعداد کے مطابق اقدامات کیے، اور یوں آن لائن کلاسز کا نظام سامنے آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آن لائن تعلیم کوئی نیا رجحان نہیں ہے۔ 1800ء کے وسط میں لندن یونیورسٹی نے خط و کتابت اور فاصلاتی تعلیمی پروگرام شروع کیے، جو 1873ء میں بوسٹن میں “سوسائٹی ٹو ہوم اسٹڈیز” کے تحت جاری رہے۔ اس کے بعد تکنیکی ترقیوں نے فاصلاتی تعلیم کی رسائی اور معیار کو بہتر بنایا۔
موجودہ دور میں آن لائن تدریس وبائی امراض کے پیش نظر زیادہ مؤثر ہوا۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نے تیزی سے اس نظام کو اپنایا۔ پاکستان میں مارچ 2020ء میں اسکول، کالج، یونیورسٹی بند کرنے کے ساتھ آن لائن تدریسی عمل شروع کیا گیا۔
پاکستان میں چیلنجز
نجی اور غیر سرکاری اسکولوں نے تکنیکی وسائل کی بدولت آسانی سے آن لائن تعلیم اپنائی، کیونکہ وہاں طلبہ کے پاس انٹرنیٹ، اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ موجود تھے۔ تاہم سرکاری اسکولوں کے حالات مختلف ہیں؛ اکثر طلبہ تکنیکی وسائل سے محروم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اور نجی اداروں کے طلبہ کے درمیان تکنیکی صلاحیت اور رسائی میں واضح فرق موجود ہے۔
کالجوں میں سرکاری سطح پر تدریسی عمل کی بہتری کے بجائے صرف دعوے سامنے آئے، جبکہ نجی کالجوں نے اپنے وسائل سے تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کی۔ یونیورسٹیوں میں سمیسٹر سسٹم کی موجودگی کے سبب آن لائن کلاسز میں پیچیدگیاں زیادہ تھیں۔
اساتذہ اور طلبہ کے لیے مشکلات
آن لائن تعلیم کے لیے اساتذہ کی مناسب تربیت فراہم نہیں کی گئی۔ طلبہ بھی اس نظام کے عادی نہیں تھے، اور کئی اضلاع میں انٹرنیٹ کی دستیابی ممکن نہیں تھی۔ طبقاتی تفاوت بھی آن لائن تعلیم میں رکاوٹ بنی۔ پاکستان میں آن لائن تدریس مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔ وائس چانسلرز کمیٹی کے سربراہ محمد علی شاہ کے مطابق، آن لائن کلاسز اور امتحانات میں مسائل موجود ہیں، لیکن کوشش ہے کہ طلبہ متاثر نہ ہوں۔
اساتذہ کی باقاعدہ تربیت اور تکنیکی مہارت بڑھانا وقت کی ضرورت ہے۔ کچھ طلبہ کے پاس اسمارٹ فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر تک رسائی نہیں، اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ہارڈویئر اپ گریڈ کرنا بھی مشکل ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے مستحق طلبہ کو تکنیکی مدد فراہم کی جائے تو یہ مسئلہ آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
فوائد اور مستقبل
آن لائن تدریسی عمل کے کچھ واضح فوائد بھی ہیں، جیسے طلبہ کے پاس ریکارڈ شدہ لیکچرز موجود ہوتے ہیں جنہیں بار بار سنا جا سکتا ہے، اور اساتذہ کے ساتھ آن لائن رابطہ آسان ہو گیا ہے۔ تاہم انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور تکنیکی وسائل کی کمی کچھ طلبہ کے لیے رکاوٹ بنی۔
آن لائن تعلیم نے عالمی سطح پر تعلیم کے انداز کو تبدیل کیا ہے۔ اساتذہ چیٹ گروپس، ویڈیو میٹنگز اور دستاویزات کی شیئرنگ کے ذریعے طلبہ تک زیادہ مؤثر انداز میں رسائی حاصل کر رہے ہیں، خاص طور پر وبائی امراض کے دوران۔
نتیجہ
ریاست کو مستقبل کے لیے واضح کرنا ہوگا کہ طلبہ کو روایتی کلاس روم میں واپس لایا جائے یا آن لائن سسٹم کو بہتر بنا کر مستقل بنیادوں پر رائج کیا جائے۔ آن لائن تعلیم موجودہ دور کی ضرورت ہے، مگر اس میں اصلاحات اور تکنیکی مدد کے بغیر تمام طلبہ کی شمولیت ممکن نہیں۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ نظام کس حد تک مؤثر اور مستقل ثابت ہو سکتا ہے۔

