
پنجاب میں آئندہ تعلیمی سال کے لیے نصابی تبدیلیوں کا ایک اہم اور تاریخی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب ایجوکیشن کریکولم ٹریننگ اینڈ اسسمنٹ اتھارٹی (پیکٹا) نے کلاس ششم سے نہم جماعت تک پڑھائی جانے والی 29 نصابی کتابوں میں جامع ترامیم اور اپڈیٹس کی تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم طلبہ کے لیے معیاری، یکساں اور جدید تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔
محکمہ تعلیم کے مطابق نئی کتابیں نہ صرف موجودہ تعلیمی تقاضوں اور عالمی معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جا رہی ہیں بلکہ ان میں اپ ڈیٹڈ معلومات اور جدید تدریسی طریقے بھی شامل کیے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر نویں جماعت کی 18 کتابیں مکمل طور پر تبدیل یا ازسرِنو مرتب کی جا رہی ہیں، تاکہ طلبہ کو مضبوط علمی بنیادیں فراہم کی جا سکیں اور تدریسی معیار میں واضح بہتری آئے۔
نصاب کی یہ تبدیلیاں طلبہ میں صرف علم کی فراہمی تک محدود نہیں ہیں بلکہ ان کا مقصد بچوں میں تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تجزیاتی قابلیت اور دور حاضر کے مطابق علمی سمجھ بوجھ پیدا کرنا بھی ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اپ ڈیٹیشن طلبہ کی ذہنی نشوونما کے لیے نہایت اہم ہے اور اس سے وہ موجودہ دور کی بدلتی ہوئی دنیا میں بہتر طور پر خود کو منوا سکیں گے۔
پیکٹا نے اس سلسلے میں پبلیشرز کو ہدایت دی ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے تمام کتابیں صرف نئی ترامیم کے مطابق چھاپی جائیں، تاکہ تعلیمی معیار میں یکسانیت برقرار رہے اور صوبے کے تمام طلبہ یکساں تعلیمی مواد حاصل کر سکیں۔
تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو انتہائی مثبت قرار دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نئے نصاب سے طلبہ کی تعلیمی قابلیت میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کے تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنایا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ، ماہرین نے کہا کہ نصاب میں اس طرح کی تبدیلیاں نہ صرف طلبہ کی علمی صلاحیتوں کو فروغ دیتی ہیں بلکہ انہیں جدید علوم، ٹیکنالوجی اور سائنسی سوچ سے بھی روشناس کراتی ہیں۔


