مصنوعی ذہانت کے دور میں پرورش پانے والے بچے

Cover of HamQadam magazine for November 2025, featuring a stylized hand pointing upwards against a radiating background. The main title in red reads: "The Political System of the Noble Messenger."

جدید دور میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence – AI) نے بچوں کے پرورش کے طریقے اور ان کے روزمرہ کے تجربات میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ ‘ڈیٹا چائلڈ فیوچرز’ کے 2019 کے ایک مطالعے کے مطابق، اطالوی گھرانوں میں شامل 46 فیصد گھروں میں AI سے چلنے والے اسپیکر نصب تھے، جبکہ 40 فیصد گھرانوں میں انٹرنیٹ سے منسلک کھلونے موجود تھے۔ مزید حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 2023 کے اختتام تک دنیا بھر میں 275 ملین سے زائد انٹیلیجنٹ وائس اسسٹنٹ جیسے کہ Amazon Echoاور Google Homeگھروں میں نصب کیے جائیں گے۔

بچوں اور نوجوانوں پر اثرات

جیسے جیسے نئی نسل AI سے چلنے والے آلات کے ساتھ بڑھتی ہوئی عمر میں پروان چڑھ رہی ہے، اس ٹیکنالوجی کے بچوں، ان کے حقوق، تعلیم اور صحت پر اثرات پر سنجیدہ غور و فکر ضروری ہو گیا ہے۔ AI کے ذریعے بچوں کے سیکھنے کے طریقے، ان کی دلچسپیاں اور علمی صلاحیتوں کی نگرانی ممکن ہو گئی ہے، جس سے ہر طالب علم کے لیے ذاتی نوعیت کا تعلیمی نقطہ نظر فراہم کیا جا سکتا ہے۔

مثال کے طور پر، Knewtonنامی AI لرننگ سوفٹ ویئر طلبہ کے علمی خلا کی نشاندہی کرتا ہے اور ان کی ضروریات کے مطابق تعلیمی مواد فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح، مائیکروسافٹ کا پریزنٹیشن ٹرانسلیٹر الگورتھمز کی مدد سے 60 زبانوں میں ریئل ٹائم ترجمہ فراہم کرتا ہے، جو خاص طور پر سماعت سے محروم طلبہ کے لیے سیکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تعلیمی نظام میں AI کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے ساتھ، گلوبل مارکیٹ انسائٹس کے مطابق 2027 تک تعلیم میں AI کی مارکیٹ ویلیو 20 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

صحت اور فلاح و بہبود میں AI کا کردار

AI بچوں کی صحت اور فلاح و بہبود میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں AI نے آٹزم کے ابتدائی علامات، بچوں کی تقریر سے ڈپریشن کی نشاندہی اور نادر جینیاتی عوارض کی تشخیص میں مدد فراہم کی ہے۔ اس کے علاوہ، بچوں کی آن لائن حفاظت اور ڈیجیٹل نگرانی کے لیے بھی AI کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

چیلنجز اور خدشات

اگرچہ AI کے مثبت استعمالات ہیں، تاہم دنیا کے مختلف حصوں میں والدین اور ماہرین اب بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق، صرف 43 فیصد امریکی اور 33 فیصد برطانوی والدین اپنے بچوں کو ہسپتال میں AI سے چلنے والی ورچوئل نرس کی نگرانی میں مطمئن محسوس کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، چین، بھارت اور برازیل میں والدین زیادہ قبولیت رکھتے ہیں، جہاں بالترتیب 88 فیصد، 83 فیصد اور 63 فیصد والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں AI کی مداخلت سے مطمئن ہیں۔

مزید برآں، بچوں کی پرائیویسی اور ڈیٹا کی حفاظت پر بھی شکوک و شبہات ہیں۔ AI آلات جیسے ورچوئل اسسٹنٹس اور اسمارٹ کھلونے بچوں کی حساس اور بایومیٹرک معلومات جمع کرتے ہیں، جس کے غلط استعمال سے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2017 میں CloudPets کے ٹیڈی بیئرز کے ڈیٹا کی خلاف ورزی کے بعد 20 لاکھ سے زیادہ بچوں کی نجی معلومات افشاں ہو گئی تھیں۔

AI کے استعمال میں بچوں کے مستقبل کی پیش گوئی اور تعصب کے مسائل بھی اہم ہیں، کیونکہ کم عمر بچوں کے ریکارڈ کو غلط استعمال کے ذریعے غیر منصفانہ فیصلوں یا تعلیمی و سماجی تعصب کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بچوں کو مرکزیت دینا اور عالمی اقدامات

AI سسٹمز کو ڈیزائن اور تیار کرتے وقت بچوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کو ترجیح دینا لازمی ہے۔ اس سلسلے میں یونیسیف اور او ایچ سی ایچ آر نے خصوصی ہدایات دی ہیں۔ یونیسیف نے ‘بچوں کے لیے AI’ پروجیکٹ کے تحت ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ مل کر ایسے پالیسی اصول تیار کیے ہیں جو بچوں کی رازداری، تحفظ اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ 2065 تک آج پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے 65 فیصد بچے ایسے پیشوں میں کام کریں گے جو ابھی وجود میں نہیں آئے۔ اس لیے ضروری ہے کہ AI کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، بچوں کو کوڈنگ اور ڈیجیٹل مہارتیں سکھائی جائیں اور انہیں ٹیکنالوجی کے خطرات و مواقع کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔

نتیجہ

مصنوعی ذہانت بلا شبہ بچوں کے سیکھنے، کھیلنے اور نشوونما کے طریقے بدل رہی ہے۔ تاہم ہماری ذمہ داری ہے کہ یہ تبدیلی بچوں کی فلاح اور بھلائی کی طاقت بنے، اور اس کا استعمال محفوظ، شفاف اور ہر بچے کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہو۔