اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا

by مجلسِ ادارتApril 15, 2026
Minar-e-Pakistan in front of a waving Pakistani flag with Urdu text that reads "Pakistan was inevitable."

تاریخ اسلام میں ہم نے پڑھا ہے کہ ابوجہل سے پوچھا گیا کہ ”محمد بن عبداللہ کے بارے میں تیری کیا رائے ہے‘‘۔ اس نے جواب دیا کہ ’’وہ جو کچھ کہتے ہیں سچ کہتے ہیں‘‘۔ پوچھنے والے نے پھر پوچھا ’’تو پھر ان سے لڑتا کیوں ہے؟‘‘ اس سوال کے جواب میں تاریخ اسلام کے اندر ابوجہل کے جو قول ہیں وہ یہ ہیں:

’’خدا کی قسم میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) سے عمر بھر لڑتا رہوں گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ ابن ہشام (ابوجہل کا نام ہے) کا ٹخنہ بلال کے ٹخنہ سے ٹچ ہوجائے‘‘۔ (واقعہ جنگ بدر)۔ ابوجہل کا دوسرا تاثر یہ ہے کہ ’’بنو ہاشم (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان والوں) نے حجاج کو پانی پلایا، ہم نے بھی پلایا، انہوں نے اونٹ ذبح کیے، ہم نے بھی کیے، انہوں نے مہمانوں کا حق ادا کیا، ہم نے بھی کیا، ہم نے ہر معاملے میں ان کے برابر حصہ لیا۔ اب بنو ہاشم کا ایک فرد کہتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ آخری درجہ ہے۔ اب میں اس کے جواب میں کیا پیش کروں؟ خدا کی قسم بنو ہاشم کو آگے نہ بڑھنے دوں گا‘‘۔

ابوجہل کی اسلام دشمنی کے یہی دو قول معروف ہیں۔ ان دونوں اقوال میں یہ بات صاف پائی جاتی ہے کہ حقیقت میں ابوجہل زچ ہوکر رہ گیا تھا، مگر تکبر اور ”تیری دیوار سے اونچی میری دیوار رہے“ کے باعث وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی اس سے آگے بڑھ جائے۔ یہ نفسیاتی پہلو ہر زمانے میں کام کرتا نظر آتا ہے۔ آج ہم برادر وطن کے ایک متعصب اور شرپسند اور پدرم سلطان بود طبقے کو دیکھتے ہیں کہ جانتے بوجھتے مسلم دشمنی بلکہ اسلام دشمنی میں حقیقت سمجھتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ذلیل سے ذلیل پروپیگنڈا کرتا رہتا ہے۔ جنونی طبقہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کو فرقہ پرست کہتے ہوئے نہیں تھکتا۔

اب میں عرض کروں اورنگ زیب عالمگیر عرصہ دراز تک دلی سے دور دکن میں شرپسند صوبیداروں اور دشمنوں سے برسرپیکار رہا۔ اس عرصے میں شمالی ہند کے کسی رجواڑے نے بغاوت کی اور نہ رعایا میں نسل اور دھرم کے مطابق کسی قسم کا فساد برپا ہوا۔ سنیے کیپٹن ہملٹن اپنے سفرنامے میں کیا کہتا ہے: ’’بے شک اورنگ زیب اپنے مذہب کا پابند تھا، لیکن یہ اسلام کی تعلیم کا اثر تھا کہ اس نے کبھی کسی کو ہندو ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا۔ ہندو اور مسلم مل جل کر سکون سے رہتے تھے“۔ مؤرخ لین پول لکھتا ہے کہ ’’اورنگ زیب کے پچاس سالہ دورِ حکومت میں ایک بھی ظالمانہ فعل سرزد نہیں ہوا‘‘۔ مشہور صحافی خشونت سنگھ کا کہنا تھا کہ اورنگ زیب نے درجنوں مندروں، گوردواروں اور کلیسائوں کے لیے بڑی بڑی رقمیں دیں۔ اس کے احکام آج بھی مہر و دستاویزات کے ساتھ موجود ہیں۔ بے شک اس نے کچھ مندروں کو مسمار کیا تو مسجدوں کو بھی نہیں بخشا۔ ایسا کیوں کیا؟ اس کی مثال بنارس کے وشوناتھ مندر اور گول کنڈہ کی مسجد کی ہے۔ ان دونوں کے بارے میں شری شمبھو ناتھ پانڈے فرماتے ہیں کہ اورنگ زیب بنگال کی مہم پر جارہا تھا۔ اس کے ساتھ بہت سے ہندو راجے مہاراجے بھی تھے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ایک دن بنارس میں قیام کیا جائے تاکہ ان کی رانیاں گنگا اشنان کرکے وشوناتھ مندر میں پوجا کرسکیں۔ یہ درخواست منظور ہوئی۔ بنارس سے پانچ میل دور پڑائو ڈالا گیا۔ رانیاں پالکیوں میں بیٹھ کر گنگا اشنان کرنے چلیں۔ گھاٹ پر پہنچ کر اشنان کیا اور پوجا کے بعد رانیاں واپس آگئیں لیکن بعض کا پتا نہ چلا۔ ہندو راجائوں نے اورنگ زیب سے فریاد کی۔ اورنگ زیب نے کچھ اعلیٰ درجے کے ہندو مہاراجوں کو تحقیق کے لیے بھیجا۔ انہیں مختارِ مطلق قرار دے کر حکم دیا کہ اگر کسی مسلمان نے یہ حرکت کی ہے تو اسے بخشا نہ جائے۔ محقق دستے کے ذمہ داروں نے دیکھا کہ گنیش جی کی مورتی جو دیوار میں نصب ہے وہ حرکت کرتی رہتی ہے۔ اسے ہاتھ لگایا تو آسانی سے ہٹ گئی۔ دیکھا تو زینہ ہے جو تہہ خانے کو گیا ہے۔ تہہ خانے میں گئے تو وہاں چند رانیوں کو روتے پایا۔ رانیوں نے بتایا کہ ان کی آبروریزی بری طرح ہوچکی ہے۔ مہنتوں نے یکے بعد دیگرے فعلِ بد کیا۔

اس واقعے کے بالمقابل بشمٹھیر ناتھ پانڈے نے گول کنڈہ کے حاکم نانا شاہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ محصول وصول کرکے دہلی نہیں بھیجتا تھا۔ چند برس میں کروڑوں کی رقم جمع ہوگئی تھی۔ نانا شاہ نے اسے زمین میں دفن کرکے اوپر جامع مسجد بنوادی تھی۔ اورنگ زیب کے پاس رپورٹ پہنچی تو اس نے جامع مسجد ڈھادی۔ خزانے کو ضبط کرکے رفاہ عام کے کاموں میں صرف کردیا۔ یہ واقعات ہیں جو ہندو مورخین اور انگریز محققین کے بیانات سے ماخوذ ہیں۔ ان کو تمام مؤرخین بلکہ راجندر بابو صدر اول نے بھی صحیح تسلیم کیا ہے۔ لیکن ابوجہل کے چیلے بضد ہیں کہ بنارس کے مندر کو تعصب کی بنا پر اورنگ زیب نے مسمار کیا تھا۔ ایسے مندروں کو نامزد کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں مندر توڑے گئے لہٰذا ہم وہاں کی جامع مسجدوں کو بھی ختم کردیں گے۔

(مائل خیر آبادی)

فلسطین عرب سے

زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغمیں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہےتری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میںفرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہےسُنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوں کی نجاتخودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!