بیٹے کو خط

by Editorial BoardJune 20, 2026
A father and son watch a sunset over a valley, with an open book displaying Urdu text offering guidance and wisdom.

بسم ﷲ

پيارے بيٹے !

ﷲ تعالٰی تم سب کو سلامتی اور رحمتوں ميں رکھے، ہدايت اور دُنيا و آخرت کی کاميابياں عطا فرمائے۔ آمين !!!

قالين پر لُڑکھتی گيند، کبھی کسی چيز سے ٹکرا جائے تو اُچھل کر ميرے دِل کو اُچک ليتی ہے، ٹہر جاتا ہوں، لمحوں ميں سالوں کا سفر طے ہو جاتا ہے، ديکھتا ہوں يہ وہی گيند ہے جسے تم اُچھالا کرتے تھے، کبھی ديواروں سے مارتے اور کبھی زمين پر، ميرے سامنے چہکتے اور ميرے سامنے کِھل کِھلاتے، تمھاری وه پياری اٹھکيلياں ميری تنہائی اور پرديس کی اس اُداسی کا سہارا ہيں، کوئی اِکيس برس ماضی ميں چلا جاؤں تو رات کے ايک دو بجے کا وقت ہے، ننھا اور پيارا سا اِک بچّہ ہے مگر طوفان اُٹھا رکھا ہے، نہ ماں کو سونے ديتا ہے اور نہ باپ کو، روئے جاتا ہے، ماں بڑی کوشش کرتی ہے مگر قابو ہی نہيں آتا، باپ کو اُسکے صبح سويرے ڈيوٹی پہ جانا ہے، سنبھلتا ہی نہيں، بہلتا ہی نہيں، آخر ماں کی مَمتا ہار جاتی ہے، تو شقتِ پدری جاگ اُٹھتی ہے اور اُسکے باپ کو بھی جگا ليتی ہے، ہاتھوں کا اپنے جُھولا بناتا ہے وه، اور لورياں لاالٰہ الّا ﷲ کی سُناتا ہے وه، مَستی لا الٰہ کی جو چھاتی ہے، نيند کی آغوش ميں اُسے لے جاتی ہے، سکون پاتا ہے ہر روز يونہی، پر ابھی تک حرکتوں پہ اپنی ستاتا ہے يونہی، کھوتا ہے اِک چھوٹا سا ابھی تک، رستے سے بہک جاتا ہے ابھی تک، بھٹکتا پِھرتا ہے زمانے ميں ابھی تک، خوش نمائيوں ميں دُنيا کی اٹکتا پِھرتا ہے ابھی تک، بے قدر و بے وقعت جُملوں کو حقيقت مان ليتا ہے، کاغذ کے پھولوں کو گُل ولالہ جان ليتا ہے، لائی لگ ہے کانوں کا کچّا ہے، باتوں کا ذرا نہ سہی جذبوں کا مگر سچّا ہے، عقل کی باتيں ذرا دير سے سمجھتا ہے، دِل کی زبان ہاں مگر خوب سمجھتا ہے، نظر و شعور کی آگہی کہاں کھو دی تم نے، مرے مہرِ تاباں روشنی وه کہاں کھو دی تم نے، لفظوں سے بنا کے جذبات کا جُھولا لايا ہوں، پِھر آج بہلانے اُسے خود مَيں چلا آيا ہوں !!!!!

عقل کی ہيں يہ باتيں، سمجھ کو ذرا کھول لو تم، بٹھانی ہيں جہاں دِل کا بھی وه کونہ ٹٹول لو تم، يوں توگُر سارے بتائے تھے تم کو، درس سارے ہی تو سُنائے تھے تم کو، بتايا تھا ﷲ نے اشرف المخلوقات بنايا ہے جِسے، محبت کا اپنی اور مغفرت کا يقين دِلايا ہے اُسے، وه ذاتِ باری تعالٰی عطا کی جس نے

جِسم وجاں کی يہ راج دھانی، قلب ونظر کو دی قوتِ جوانی، پھر جذبے کو جوش، احساس کو تڑپ

اور جوانی کو دی عمل کی پاسبانی، آنکھ کو نظّاره ديا، لَب کو جُنبش اور اظہار کو گويائی، دھڑکنيں دِل کو دے ديں اور عقل کو دی بينائی، سوز کيا پيدا تو سوچ بھی خوب بنائی، تخيّل کو فکر کا ہمسوار کيا اور جُہد کو لگن سے ہمکنار کيا، خوش دِلی بنائی پھر تمنّا اس ميں جگائی، زبان کو بولنا سکھايا تو فہم کو تولنا، ياداشت کو حافظہ ديا تو خيالوں کو دی رسائی، اُنس جگايا پھر عطا کی لذّتِ آشنائی، خواہش جب اُٹھائی طلب سے کی اسکی افزائی، محبت کو بنايا تو دِل کی آغوش ميں اُسے سجايا، ذائقہ مُنہ کو ديا اور نفس کو لذّت دے دی، خوشبو کی نمود کی تو ہوا کے سپرد کی، درد کيا پيدا تو آه اسکے سنگ کی، ديد کو تقاضہ ديا تو پھر اُسے تماشہ ديا، چشم کو آئنيہ دار کيا تو آنسو سا اُسے گہرِ

تاب ديا، دُعا کو تہہِ دِل سے اُٹھايا پھر گريۂ دے کے مقام استجاب پہ پہنچايا، تعلق کو رشتے ديئے، مَيں کو اَنا دی، تکبّر کو جذبوں کی آنچ سے پِگلنا سِکھلايا، فطرت اُٹھائی تو صراطِ مستقيم بھی سُجھائی، فيصلے کی قوت بنا کے ضمير کے حوالے کی، جہانِ عمل ميں پھر اسی ضمير کو ہاتھوں کے غلام اور ٹانگوں کے مسافر عطا کيئے، خون جو دوڑا تو زندگی کو گرما گيا، خيال نکلا تو خوابوں پہ چھا گيا، بصارت کی چمک نے جہان روشن کر ديا، سماعت ايسی عطا کی کہ اندر اور باہر کی ہر آواز اور ہر پُکار نے راہنمائی کی، عقل فکر اور سوچ کے ايسے ہتھيار عنايت کيئے کہ جيسی مرضی صورت گھڑ لے اور جيسی چاہے عمارت بنا لے، چہرے کی بناوٹ پہ حُسن کی سجاوٹ دی، گفتگو کا ڈھنگ اس پہ ادائيگی کا سنگ، انداز عطا کيئے اداؤں کا جادو بھی نواز ديا، رنگ کو تغيّر ديا تو ذوقِ لازوال بھی ديا، مزاج کو استقلال ديا اُس پہ پھر تميز کا کمال ديا، عقل و فہم جو سونپی تو قوّتِ فکر، قوّتِ اراده، قوّتِ ايجاد و اجتہاد بھی مرحمت فرمائی، اکيلا بھلا کہاں اور کيسے رہتا، پيدا کيا تو بے بسی کے اس عَالم ميں شفقت و رحم کے بے مثال رشتے عطا کيئے، ہوش کی وادی ميں قدم رکھا تو اپنے سے اپنے ديئے، گھر کے آنگن سے نکلا تو ہمجولی مِل گئے، شعور کی آنکھ کُھلی تو ساتھی اور يار رَل گئے، زندگی کی ہر منزل پر وه کسی نہ کسی محفل ميں تھا، پھر ايک محفل خود اسکے اندر موجود ہے جہاں اپنے ٰخيالوں، اپنی خواہشوں، اپنے منصوبوں، اپنے ارادوں، اپنی فکر، اپنی سوچ، اپنی باتوں، اپنے معيار، اپنے نظريات، اپنی پسند نا پسند، اپنے انداز، اپنے الفاظ، اپنے جذبات، اپنا علم، اپنا ايمان، اپنے دلائل، اپنے جواب، ان سب سے ہر لمحہ وه کھيلتا رہتا ہے، اپنے اندر اپنی محفليں سجاتا اور اُٹھاتا ہے، اپنی ہی عدالتيں لگاتا ہے اور خود ہی کو فيصلے بھی سناتا ہے، اکثر يہ فيصلے اسکے حق ميں ہوتے ہيں اور کبھی يوں بھی ہوتا ہے کہ خود اپنا مجرم ہو جاتا ہے، باہر کی دُنيا پہ نظر ڈالے تو ارض و سمأ کا يہ جہان اپنی ہر نعمت لئے حاضر کھڑا ہے، گردشِ روز و شب اسکی ذرا سی کوشش کو کاميابيوں کی راه دکھاتی ہے، تپشِ خورشيد يخ سردی ميں جسم ہی نہيں لہو بھی گرماتی ہے، چاند تمثيلِ حُسن بنتا ہے تو چاندنی تاريکیٔ شب مٹاتی ہے، چمک ستاروں کی اس پہ جگمگاتی ہے، روانی جھرنوں کی پيامِ سفر ہے تو بُلبُل بھی نغمۂ سحر سے اُٹھاتی ہے، شجر وہَجر دست بستہ خدمت ميں حاضر ہيں، کسی کو اسکے لئے سامانِ زيست کا حُکم ہے تو کوئی اسکے لئے طعام و توانائی کا ذريعہ ہے، بيمار پڑھ جائے انہی ميں شفأ کے جوہر ہيں، پھلوں کو اسی کے لئے لذّت عطا کی اور پھولوں کو رنگ و خوشبو، زمين کے سينے کو پھاڑ کے اس کی خاطر کيا کيا نعمتيں نکالی گئيں، پھر اسی زمين کے اندر بے شمار خزانے اسکے نام کر ديئے گئے، ہواؤں اور بادلوں سے کبھی تم نے پوچھا کس کے لئے چلتی ہو اور کس کے لئے اُٹھتے، کڑکتے اور برستے ہو، چمن کی دلآويزياں کس کے بہلاوے کا ساماں ہيں، اس ميں بِچھا مخمل کا فرش کيا اسی کے خراماں ہونے کو نہيں، گُل ولالہ کتنے رنگ اور خوشبوئيں لئے اسکی راہوں ميں سجے رہتے ہيں، طيّور و زھور کا يہ بُستان کيسے کيسے موسم اور انداز اسکی خاطر بدلتا رہتا ہے، دل آويز واديوں ميں اسکا کبھی گذر نہيں ہوا، وه جو پتھروں سے بنے ہيں سارے کے سارے اس کی راہوں ميں کھڑے ہيں، کہيں چٹيّل اور کہيں سبزه و شجر سے بھرے ہيں، کہيں انہی ميں بے بہا خزانے اور کہيں گوہرِ ناياب دھرے ہيں، صحرا و دريا سے سوال کرنا تھا کيوں بِچھے ہو کيوں چلتے ہو، خاک و ريت کے ذرّوں نے سمجھايا نہيں کيوں بہکتے ہو کيوں بے رُخ ہواؤں ميں اُڑتے ہو؟

ايک دوسرے پيرائے ميں سميٹوں تو چند لفظوں ميں کيفيات، احساسات اور صفاتِ انسانی يوں بھی ہيں

تسليم وانکار، سچ وجھوٹ، خوشی وغمی، نفع و نقصان، احساس وبے حِسّی، تکبّر وعاجزی، قوّت و ضعف، عدل و بے انصافی، خود پرستی وحقيقت پسندی، اعلٰی ظرفی وکمظرفی، رضا و ہٹ درمی، جَبر و اختيار، فرض شناسی و بغاوت، سخاوت و بُخل، اُلفت و نفرت، ہمدردی و غصّہ، حُسنِ خلق و بداخلاقی، دوستی و دشمنی، رحم وعداوت، معافی يا بدلہ، فرحت و افسردگی، کشاده دِلی وتنگ دِلی، آس و ياس، ہنسنا و رونا، سُکھ و دُکھ، عزّت و ذلّت، کيا کيا کہوں کيا کيا گنواؤں، کيسے مَيں کہوں کيا کيا بتلاؤں؟

کہ ؎

)کہہ دو اگر ميرے ربّ کی باتيں لکھنے کے لئے سمندر سياہی بن جائے تو ميرے ربّ کی باتيں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہو جائے اور اگرچہ اسکی مدد کے لئے ہم ايسا ہی اور سمندر لائيں۔(

دَورِ جديد کی عيش مند زندگی کے باسی ہو، احسان ربّ کائنات کا جس نے تمھيں زمانۂ قديم ميں پيدا نہيں کيا، انگلی کے اشاروں پہ جلتی بُجھتی روشنيان ديں ٹمٹماتا دِيّا نہيں ديا، سُبک رفتار و فاخره سوارياں عطا کيں صحرا کا جہاز نہيں ديا، مٹی و پتھر سے بنا گھر نہيں سہولتوں سے مزيّن مسکن عطا کيا، جوہڑوں اور صحراؤں کا پانی نہيں ٹھنڈا تازه اور طرح طرح کا مشروب ديا، لُو و تپش ميں ٹھنڈی ہواؤں کا بھی انتظام کيا، جان جوکھوں کے کام آسان کيئے بجلی سا نوکر ديا، مال و زَر ديا نعمتوں سے جہان سارا بَھر ديا، علم کو معراج بخشی فن کو حيرت افزأ کيا، پُرانا قاصد گيا اس زمانے نے وٹس اپ فيس بُک ايس ايم ايس اور کيا نہيں تيار کيا، کلک پہ اِک تمھاری زمانہ ہے کيسی کيسی جُنبش کا تجھے اختيار ديا،

کيا سوچتے ہو کيا سمجھتے ہو، کيسا خيال ہے تمھارا، کيا ہے عبس اس نے يہ سارا ؟؟؟

بنا کے سب يہ، عطا کر کے سب يہ، کہيں وه سو گيا ہے يا کہيں کھو گيا ہے ؟؟ کہ اسکے جہاں ميں تم بے لگام پھرتے ہو، نہ اسکی رضا کی فکر نہ اسکے قہر سے ڈرتے ہو، خواہشيں آزاد کر ليں، فکريں بيمار کر ليں، ذوق بہک گئے، خيال بھٹک گئے، دِل کہاں کہاں نہ اٹک گئے، جذبے يونہی قفس سے چھلک گئے، ديدے بھی بے راہروی ميں پڑ گئے، سماعتوں کو لگے تالے ، بصارتوں پہ پردے پڑگئے ، يہ کدھر تم چلے تھے اور کدھر کو نکل گئے، عقل ڈوبی اور دِل کی بھی نبض ڈوبی، پہنائی تھی تربيّت کی وه قُبا کيا ہوئی، پھونکی تھی نصيحت کی وه نوَا کيا ہوئی، راہيں عمل کی کہاں کھو گئيں، جُہد کی وه اَيمأ کيا ہوئی، پيامِ دانشوری کہاں ہے، حقيقت کيوں نہ دُنيا کی تم پہ کُشا ہوئی، ديدهٔ بينأ تيرے پاس تھا، باطن ميں بھرا ايمان کا بھی خزينہ تيرے پاس تھا، پھر حالت تيری کيوں بے سر و سامان ہوئی، شرّر تيرے اِرادوں ميں برق تيرے افعالوں ميں، کيوں آج پھر کاہلی تيری اَدا ہوئی، بچپن کے وه سبق کيا ہوئے، ديئے تھے درس وه کيا ہوئے، طوفان زمانے کے تمھيں اڑا لے گئے، کِن کِن

راہوں ميں بہکا لے گئے، فکر آلوده ہوئی اور عمل دگر گوں، قوّتِ شر کے سمندر تمھيں بہا لے گئے، تہذيب مکدّر ہوئی سيرت کھو گئی، جديديّت کے جادو کس زينے پہ تمھيں چڑھا لے گئے، خيالوں کو آوارگی دے دی خواہشوں کو اپنی بے لگامی دے دی، سوچوں کے کون سے فلسفے تمھيں سمجھا لے گئے، معيار گِر گئے نظريات کھو گئے يہ کس کی تھی متاع اور کون اسے اُڑا لے گئے، پسند پست ہوئی بصيرت بھی سرگذشت ہوئی، منصوبے ڈوبے اِرادوں پہ پڑا پانی، نفس کے يہ تھپيڑے کونسی منزل دِکھا لے گئے، باتوں ميں ظرف نہيں لفظوں ميں حرف نہيں، کون تھے وه لہجے تمھارے چُرا لے گئے، سُنی سُنائی باتوں کو عِلم کہتے ہو گھڑی گھڑائی باتوں کو دليل کہتے ہو، عِلم کا وه منبأ کيا ہوا تحقيق و جستجو تم سے کون ہتھيا لے گئے،

روش بدلی چلن بدلے، ذرا سی اِک مسکراہٹ کے بدلے، لفظوں کے وار ہوئے، دھوکے سے تم شکار ہوئے، دِل ہار گئے ايمان ہار گئے، حُوريں تيری منتظر ہيں تم اِک پرِکاه پہ سب ہار گئے، عشق کا جو اُس نے سودا ديا تھا، وه اُسی کے لئے تھا اُسی کے لئے تھا، متاعِ انمول يہ اِک بے مايہ پہ ہار گئے، گِرتے اشک جو اسکے خوف سے اُسی کی رضا کے لئے، موتيوں کی يہ لڑی تم اِک بے وقعت پہ ڈال گئے، دِل کا يہ تم نے کيا حال کيا ہے، قہقہوں کو اپنے کہاں پائمال کيا ہے، مسرّتيں کھو ديں چہرے کو کيسا جمال ديا ہے، کہيں پہ بھائی، کسی سے شاسائی اور کہيں پہ آشنائی، روش کيسی ہے تم نے يہ اپنائی، يہ انداز يہ اسلوب ہمارے نہيں، ڈھنگ اس نے کبھی زندگی کے سنوارے نہيں، عِلم کے يہ کيسے گہوارے ہيں، نسلِ نو کے اخلاق جس نے بگاڑے ہيں، ننگے سَر پھرتی ہيں، آنکھوں سے آنکھيں چار وه کرتی ہيں، اَداؤں کے بھی سرِعام وَار وه کرتی ہيں، بہکے ہوئے اِس شباب نے عِلم و فن کے کيسے يہ مطلب سُدھارے ہيں، عزّت وغيرت کے جنازے مِل کے روز يہ اُٹھاتے ہيں، تہذيب کے تقدّس کو کيوں خاک ميں مِلاتے ہيں، درّاجہ ناری ہو کہ سيّاره سواری ہو، حيا بھاتی نہيں شرم ان کو مگر آتی نہيں، گلی ہو کہ بازار ہو يا کوئی شاپنگ مال ہو، ہاتھوں ميں ڈال کے ہاتھ يہ ننگِ تہذيب اس ظلم کو عُروجِ انسانيّت بتاتے ہيں، بزمِ طرب ہے کہ بزمِ شرم ہے ريستورانوں ميں اور جگہ جگہ يہ جو سجاتے ہيں، کيسی يہ رشتہ داری ہے رشتوں کے تعلق جس نے سارے ہی بگاڑے ہيں، خود غرضی ہے اور خود پرستی ہے جہاں اپنی ذات اپنی خواہش اور اپنی سوچ کے ہی نظّارے ہيں، مَيں نہ مانوں کی روش نے ہميشہ تباہی کے ہی سامان اُتارے ہيں۔

وه حُسن کيا جو بے نقاب سرِعام چلے، وه عشق ہی کيا جو بے لگام چلے، حُسن جو اُس نے عطا کيا ہے جلوں کو اِس نے سرِعام لُٹا ديا ہے، ادائيں امانت ہيں کس کی اور اُنہيں کس کس کے نام کيا ہے، چہرے جو مستور نہيں دِل اُن کے وفا سے معمور نہيں، سُن اے بنت الاسلام تو بھی ذرا، دِل ہتھيلی پہ اُٹھائے يہ جو پِھرتے ہيں آواره، دين وايمان کا انہيں شعور نہيں، عزّت وغيرت ميں عظمت کا جو اس نے مقام ديا ہے، بے ضمير اور بے غيرتوں نے اُسے گلی گلی ميں فدا کيا ہے، اے نسلِ نو اے مستقبل کے معمارو ! يہ فسانہ تمھارا تھا کيا اور کيا تم نے کيا ہے؟؟؟

عيش پسند زندگی، کھانوں کھاجوں کی درِندگی ، لذّتوں اور خواہشوں کی شرمندگی، فکر وخيال کی پراگندگی، سير سپاٹوں کی آوارگی، دن ہے کہاں رات کہاں، دن کيسے بيتا رات کہاں کھوئی، نہ لباس ميں تہذيب نہ رہن سہن ميں تميز، بےدُھلی شکل اُس پہ آدھی سوئی آدھی جاگی عقل، پير ميں چپل،

ہاتھ ميں کتاب نہ جيب ميں قلم، پابندئ وقت نہيں پابندئ ضابطہ بھی نہيں، کيسی ہيں يہ درسگاہيں اور کيسے ہيں يہ علم و ہُنر کے راہی، کونسی ہے منزل اور کيسی يہ فلاحی، لمحے نيٹ ميں کھو رہے ہيں، صلاحيتيں فيس بک پہ گُھل رہی ہيں، آنکھيں تھک جائيں دماغ پھٹ جائيں، کمر ٹوٹ جائے، سحر اسی ميں پھوٹ جائے، کوئی فکر ہی نہيں کوئی حساب نہيں، ضمير سے جو اُٹھتی ہے آواز اسکو بھی جواب نہيں، اے مرے لعلِ بے بہا کہاں ڈوبا تو کہاں کھو گيا ہے؟ لمحہ لمحہ تيرا تجھی پہ رو گيا ہے، يہ وقت يوں کھونے کا نہيں، جوانی کا يہ جوہر برباد ہونے کا نہيں، اِدھر نہ اُدھر اس دَم تيرا وقت عالی قدر ہے، فقط تکميلِ تعليم ہو محور اور اسی پہ مطلوب تمھاری نظر ہے، پڑا ہے وقت بڑا ہے کہ نعمتيں يہ ساری تمھارے ہی ليئے ہيں، بيٹے آدم کے اور حوّا کی بيٹياں انہی پہ تو جيئے ہيں، نہ حوسِ دُنيا ہی مرغوب ہے اور نہ ترکِ دُنيا ہی مطلوب ہے، اس کو تو بس يہ چاہيے کون اسکی دُنيا سے يوں گذرتا ہے، رضا ميں اُسکی جيتا ہے اور اُسی ميں مرتا ہے، حدود و قيود سارے اس نے بنائے اور بتائے ہيں، اسلوب و مطلوب بھی گنوائے ہيں، کون ہے نالہ جس کا شب گير ہو، سحر جس کی فجر سے پہلے اور شب عشأ سے قريب ہو، قرآن دِل ميں اور عمل ميں اسکی تصوير ہو، ہوں ہادیٔ

برحقﷺ رہبر اور فکرِ آخرت کی ہی تدبير ہو، پيام سارے دے اسی کی خدائی کے اور عَلم سارے اُٹھيں اسی کی کبريائی کے، تپشِ کلام ہو ذوقِ غلبہ بھی ہو، عمل ميں تيرے پھر حق کا جلوه بھی ہو، سوز تيرا زمانے کی نہج بدل دے، نوا بھی تہہِ دِل کو پلٹ دے، کُشا ہوں تجھ پہ رَاز خودی کے اور اپنی ہی تقدير تُو خود بدل دے، غالب اور مِير پڑھتے ہو وارث کی بھی ہير پڑھتے ہو، پروين شاکر پھرفراز ڈھونڈتے ہو ايليا کے شعروں ميں کونسا راز، کبھی اقبال سے بھی شناسائی کر لو خود کو پا لو اور اپنی خدائی کر لو، ظاہر تو ضرور سنورے گا باطن کی بھی ذرا صفائی کر لو، سُن کے نغمہ و ساز مِرا گونج اُٹھے گا نعرهٔ انقلاب مستانہ وار ترا، پھر نہ ٹہرنا کہن پہ اور اپنے اُس بجن پہ، عہد چاہيے مجھے بدلنے کا مِرے اِس سُخن پہ۔

لفظوں کی بڑی تلاش تھی، لکھ ديئے جوڑ ديئے جُنبشِ قلم پہ جو آئے ہيں، ممکن ہے بظاہر کچھ معنی اور ہوں انکے مگر مَيں نے مطلب ان کو اپنے سارے بتلائے ہيں، اشارے اور استعارے بھی سمجھائے ہيں، خوش نما لباس بھی زيبِ تن کروائے ہيں، جوش اور ولولوں کے بھی جادو جگائے ہيں، اب تم ذرا بنا لينا، سنوار لينا، نظرِغائر سے گذار لينا، سوچوں ميں اپنی بٹھا لينا دِل ميں بھی کچھ اُتار لينا، کہنے کو بہت کچھ ابھی باقی ہے تمھاری دلچسپی کی مگر نايابی ہے، پھر آخر يہی کہنا ہے لورياں ميرے لفظوں کی نہ آج سُلا ديں تمھيں، جُھوم جُھوم آج يہ اس لئے آئی ہيں کہ خوابِ غفلت سے جگا ديں تمھيں، جگا ديں تمھيں، ہاں جگا ديں تمھيں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!!!!!!!!!!!!!

تمھارا بابا ٧ اگست ٢٠١٩