
ہمارا جسم ایک شہر ہے جس میں مختلف کام کرنے والے رہتے ہیں۔ ہر محلے یا بستی میں چھوٹے چھوٹے […]
ہمارا جسم ایک شہر ہے جس میں مختلف کام کرنے والے رہتے ہیں۔ ہر محلے یا بستی میں چھوٹے چھوٹے پاور پلانٹس یا کچن ہوتا ہے۔ اس کو مائی ٹو کونڈریا کہتے ہیں۔
پاور ہائوس:مائیٹوکونڈریا کا کام یہ ہے کہ ہم جو کھانا کھاتے ہیں اور جو آکسیجن سانس کے ذریعے لیتے ہیں، ان کو ملا کر بجلی (توانائی) بنائیں تاکہ شہر چلتا رہے۔
دھواں اور چنگاریاں:جب یہ پاور پلانٹ ایندھن جلاتے ہیں تو دھواں اور چنگاریاں نکلتی ہیں۔ دھواں کاربن ڈائی آکسائیڈ سانس کے ذریعے جسم سے باہر نکل جاتا ہے۔
یہ چنگاریاں اڑ کر جلا سکتی ہیں، یہ بہت خطرناک تیر کی طرح ہوتی ہیں، ان چنگاریوں کو فری ریڈیکل کہتے ہیں۔ یہ چنگاریاں (تیر) جراثیم کو مارنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
مثال سے سمجھیں:جسم میں کوئی جراثیم/وائرس آیا، جسم کے سفید سیل اسے گرفتار کرکے اپنے اندر قید کرلیتے ہیں پھر اس خلیہ کے اندر پاور ہائوس سے فری ریڈیکل آتے ہیں اور جراثیم کو تباہ کردیتے ہیں۔ یہ تیر یا چنگاریاں جراثیم/وائرس کو تباہ کرتی ہیں لیکن اگر یہ بہت زیادہ ہوں تو پھر جسم کے خلیات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان تیروں کو قابو کرنے کے لیے صفائی کا عملہ بھی دیا ہے جو ان چنگاریوں/تیروں کو جو صرف تباہ کرنے کا کام جانتے ہیں، قابو کرنے کے لیے جسم میں صفائی کا عملہ بنایا ہے۔ یہ عملہ ان تیروں کو بے اثر کردیتا ہے۔ چوبیس گھنٹے پاور ہائوس سے تیر/چنگاریاں نکلتی ہیں اور انہیں بے اثر کرنے والا عملہ بھی الرٹ رہتا ہے۔ لیکن اگر یہ بیلنس بگڑ جائے یعنی:
٭تیر/چنگاریاں زیادہ بننا شروع ہوجائیں۔
٭یا صفائی کا عملہ کم ہوجائے یا صحیح کام نہ کرسکے تو یہ تیر بے قابو ہوکر جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مائی ٹو کونڈریا سے زیادہ تیر نکلنے کی وجوہات:جسم کے اندر صفائی کا نظام ان تیروں کو کم کرتا رہتا ہے لیکن اگر باہر سے ایسی چیزیں جسم میں داخل ہوں جو تیروں کی پیداوار کو اتنا بڑھا دیں کہ جسم کے لیے ان کو ختم کرنا مشکل ہوجائے تو یہ تیر جسم کو نقصان پہنچاتے ہیں
-1سانس میں زیادہ دھواں، کیمیکلز جسم کے اندر جانا، سانس کے وائرس وغیرہ تیر کی زیادتی کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کی وجوہات یہ ہوتی ہیں:۔
٭انڈسٹریل ایریا کے قریب بچوں کا اسکول ہونا۔ خاص طور پر 5 سے 17 سال کے بچے اگر بورڈنگ میں چوبیس گھنٹے فیکٹری ایریا میں رہیں تو مائی ٹو کونڈریا متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت خراب ہوتی ہے۔ بڑے کم متاثر ہوتے ہیں۔
٭مصروف سڑک پر جہاں دھواں ہو ،رہائش ہونا۔
٭گھر میں، باتھ روم میں کیمیکل کا زیادہ استعمال-
٭مریض کو ضرورت سے زیادہ آکسیجن دینا-
٭سانس کے بہت سے مریضوں کی نارمل آکسیجن، SPO2، 88 سے 92 تک ہوتی ہے۔ ایسے مریضوں کو آکسیجن زیادہ دینے سے بڑی تعداد میں تیر بنتے ہیں۔ یاد رکھیں آکسیجن زیادہ دینا زہر سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، اس سے خطرناک تیر بنتے ہیں جو جسم کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔
کھانے کے ذریعے کیمیکل جسم میں داخل ہونا’فاسٹ فوڈ، ٹن پیک دودھ، ٹن پیک گوشت، مصنوعی شربت کے پیکٹ، چیزوں کو زیادہ دن تک محفوظ رکھنے کے لیے کیمیکل کا استعمال یہ سب کیمیکل جسم میں جاکر خون میں شامل ہوتے ہیں اور ہر جگہ جسم کی فوڈ فیکٹری، مائی ٹو کونڈریا کو تباہ کرتے ہیں۔ فری کیمیکل نکلتے ہیں اور تیر بناتے ہیں۔ ایسی غذا مستقل استعمال کرنے سے یہ تیر جلد میں جاکر جلدی بوڑھا کرتے ہیں، بال گراتے ہیں، جسم میں کمزوری پیدا کرتے حیں، ذیابیطس کی بیماری کی وجہ بنتے ہیں اور ہاضمہ خراب کرتے ہیں۔
یہ تیر معدہ کی دیوار کو تباہ کرتے ہیں۔ برصغیر میں لاکھوں افراد جو کیمیکل والی فاسٹ فوڈ استعمال کرتے ہیں، سینے کی جلن کی شکایت کرتے ہیں۔ سینے میں جلن کی دوا لیتے ہیں۔
دل اور دماغ کی نالیاں:دل اور دماغ کی نالیوں کو یہ تیر اندر سے تباہ کرتے ہیں۔ فالج، یادداشت کی کمزوری، ہاتھ کانپنا یہ سب انہی تیروں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
دل کی نالیوں کی تنگی اور دل کا دورہ بھی یہی تیر نالیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں پھر دورہ پڑتا ہے۔
مائی ٹو کونڈریا کی صحت اور تیروں کا مقابلہ کیسے کریں:
٭ایکسرسائز کریں، پیدل چلیں۔٭فاسٹ فوڈ، ڈبہ کی چیزیں نہ کھائیں، تازہ دودھ، دہی، سبزیاں وغیرہ استعمال کریں۔
٭ہلدی ، ادرک ، لہسن، گوبھی، براکولی،پھل وغیرہ باقاعدگی سے استعمال کریں۔
٭فیکٹری ایریا سے دور رہیں، دھویں والی جگہ سے دور رہائش اختیار کریں۔ کوشش کریں سرسبز ایریا ہو۔
٭گھر کے باہر درخت لگائیں۔ گھروں میں پودے لگائیں۔
٭گھروں کے اندر کیمیکل کم استعمال کریں۔ Organic شیمپو، میک اَپ، فیشل وغیرہ استعمال کریں۔ نیم کا صابن وغیرہ استعمال کریں۔



