ڈپریشن کو زہر نہ بنائیے

A man's smiling face is split down the middle, revealing a desolate scene with a cowering, sad figure, dead trees, and broken clocks on the other side.

مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی اندرونی شکست و ریخت بہت سی اقسام کا دباؤ اب ہماری زندگی کا حصہ بن کر […]

مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی اندرونی شکست و ریخت

بہت سی اقسام کا دباؤ اب ہماری زندگی کا حصہ بن کر رہ گیا ہے۔ آج کا انسان بہت سے محاذوں پر لڑ رہا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنے وجود کے محاذ پر۔ ایک طرف دنیا، یا ماحول کا دباؤ ہے اور دوسری طرف اپنی ذات کا دباؤ۔ بہت کچھ کرنا ہے کیونکہ بہت کچھ حاصل کرنا ہے۔ یہ سب کچھ راتوں رات اور آسانی سے حاصل نہیں ہوتا۔ آج کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے انسان کو موقع مل جاتا ہے مگر بڑی کامیابی آسانی سے نہیں ملتی۔

ڈپریشن آج کے دور کا سب سے بڑا معاملہ، سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ بہت عجیب عارضہ ہے کیونکہ انسان کو اِس کی موجودگی کا پتا بھی دیر سے چلتا ہے اور کبھی کبھی تو بہت ہی دیر ہوجاتی ہے۔ ایک بنیادی چیز یہ ہے کہ جن لوگوں کو ڈپریشن لاحق ہوتا ہے خود اُنہیں بھی کبھی کبھی واضح طور پر یہ محسوس نہیں ہوتا، اور وہ کسی بھی کام میں کچھ زیادہ دشواری محسوس نہیں کررہے ہوتے۔ اور اِس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ڈپریشن کا شکار ہوکر زیادہ کام کرتے ہیں، اپنی ڈیڈلائن کے مطابق کام مکمل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ موڈ خراب ہو تب بھی کام کے ذریعے کام چلایا جاتا ہے۔

ایسا کیوں ہے؟ بات بہت سادہ سی ہے۔ غالبؔ نے کہا تھا ؎

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں اِتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں

بہت سوں کا معاملہ یہ ہے کہ جب بہت کام کرنے سے ڈپریشن لاحق ہوتا ہے تو کام اور بڑھالیتے ہیں، اُس میں غرق ہوجاتے ہیں تاکہ ڈپریشن محسوس کرنے کی گنجائش بھی ختم ہوجائے۔

آج کی دنیا میں کام کی نوعیت بھی بدل گئی ہے اور نتائج کے حوالے سے تصورات بھی تبدیل ہوگئے ہیں۔ کارپوریٹ دنیا میں نتائج ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ تعلیم کی دنیا میں بھی یہی سوچ آگئی ہے۔ کسی بھی ٹیچر کی کارکردگی کو اِس طور دیکھا جاتا ہے کہ اُس سے پڑھنے والے کتنے بچے کتنے مارکس لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔ کام بڑھ بھی گیا ہے اور پیچیدہ بھی ہوگیا ہے۔ ایسے میں ہر وقت ذہن پر دباؤ کا برقرار رہنا فطری امر ہے۔ مسابقت بھی بہت بڑھ گئی ہے۔ ہر شعبے میں امیدوار بڑھتے جارہے ہیں اور کام گھٹ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت نے افرادی قوت کے لیے ویسے ہی مسائل کھڑے کردیے ہیں۔ مشینوں سے کام لینے کی روایت پختہ تر ہوتی جارہی ہے۔

فی زمانہ عمومی طور پر ڈپریشن اور خصوصی طور پر ہائی فنکشننگ ڈپریشن کوئی انوکھی بات نہیں۔ ذہن ہر وقت الجھے رہتے ہیں۔ کام کسی نہ کسی طور بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ بیدار ہونے پر سب سے پہلے دن بھر نپٹائے جانے والے کاموں کا سوچ سوچ کر ذہن دباؤ محسوس کرتا ہے۔

دنیا بھر کے شہری علاقوں میں رہنے والے کسی نہ کسی درجے میں ڈپریشن کا شکار رہتے ہی ہیں۔ شہری زندگی مسابقت سے لبریز ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمانے کے چکر میں لوگ گھن چکر ہوجاتے ہیں۔ صبح سے شام تک کام کرنے کا رجحان عام ہے اور ایک سے زائد ملازمتیں کرنے میں بھی کوئی قباحت محسوس نہیں کی جاتی۔

شہری زندگی کا سب سے بڑا تماشا یہ ہے کہ انسان زندگی کا تاوان دیتے دیتے ہی دنیا سے چلا جاتا ہے ؎

تماشا اِس سے بڑھ کر اور کیا ہوکہ اِس جینے کی خاطر مر رہا ہوں

آج کی زندگی مسائل پر مسائل پیدا کرتی جارہی ہے۔ بہت سے چھوٹے چھوٹے معاملات مل کر ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر انسان خود کو اُس بحران کے سامنے بالکل بے بس پاتا ہے۔

زندہ رہنے کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ساتھ دینے کے لیے زیادہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔ معیارِ زندگی بلند کرنا تو تب ممکن ہو جب اِنسان گزارے کی سطح سے بلند ہو۔ یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ دو وقت کی روٹی کا ڈھنگ سے اہتمام کرنے ہی میں انسان کھپ جاتا ہے۔ ایک حل یہ تلاش کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت دونوں کام کریں۔ اِس صورت میں گھر کی آمدنی تو بڑھتی ہے مگر دوسرے بہت سے معاملات ادھورے رہ جاتے ہیں۔

ایک بڑی مصیبت یہ ہے کہ بعض معاملات میں انسان ذرا ذرا سی بات پر پھٹ پڑتا ہے۔ نفسی امور کے ماہرین بتاتے ہیں کہ ذہنی پیچیدگیاں اِتنی عجیب ہیں کہ اب آسانی سے سمجھ میں بھی نہیں آتیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ اپنے جامع علاج پر متوجہ نہیں ہوتے۔ ایک یا دو مرتبہ وزٹ کرنے کے بعد وہ پُرسکون ہوجاتے ہیں کہ معاملہ نپٹ گیا۔ ایسا نہیں ہے۔ بہت سی ذہنی پیچیدگیاں ڈھکی چھپی ہوتی ہیں۔ اُنہیں سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ نفسی امور کے ماہرین کسی بھی شخص سے چند باتیں کرکے اُس کے ڈپریشن کی نوعیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔

ماہرین اِس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ذہنی الجھن کو راتوں رات دور نہیں کیا جاسکتا۔ اِس کے لیے ماہرین کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے اپنے رویّے اور ردعمل کو تبدیل کرنا ہوتا ہے۔ لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ کسی ماہرِ نفسیات سے ایک بار مشاورت کرکے وہ اپنی ذہنی الجھن سے نجات پاچکے ہیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔

اگر انسان اپنے ذہن کی الجھن دور کرنے میں کامیاب نہ ہو تو معمولی کام بھی بہت بھاری ہوجاتے ہیں۔ بہت سے لوگ برتن دھونے جیسے معمولی سے کام کو بھی اپنے لیے بوجھ بنالیتے ہیں۔ پھر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ صبح بیدار ہونے پر بستر چھوڑنے میں ایک آدھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔ اب ذرا سوچیے کہ ایسے لوگوں کے لیے کام پر جانا کتنا بڑا کام ہوتا ہوگا!

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو کسی بھی کام سے تھکتے نہیں اور کام کرتے ہی رہتے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے اُن کی زندگی میں کوئی الجھن ہے ہی نہیں۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ دراصل ہمہ وقت مصروف رہ کر اپنے ذہن کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ذہن کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ کوئی الجھن ہے ہی نہیں۔ مصروفیت کا گراف بلند کرکے دراصل ذہنی الجھن پر پردہ ڈالا جارہا ہوتا ہے۔ ماہرین کی زبان میں ایسی کیفیت کو ہائی فنکشننگ ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں انسان ڈپریشن کو کام یا مصروفیت کے ذریعے چھپا رہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی انتہائی نوعیت کا ڈپریشن انسان کو بہت زیادہ کام کرنے کی تحریک دیتا ہے تاکہ بے کاری کا ایک بھی لمحہ نہ آئے اور اصلیت کا پتا ہی نہ چلے۔ ایسے لوگ کچھ نہ کچھ کرتے ہی رہتے ہیں اور اپنے آپ کو نافع ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک معاملہ ہے کیونکہ جب انسان کی آنکھ کھلتی ہے تب اُسے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے بھونڈے طریقے سے اپنے ہی ذہن کو دھوکا دے رہا تھا۔

انٹرنیشنل کلاسیفکیشن آف ڈزیزز (ICD-10) میں ہائی فنکشننگ ڈپریشن کی باضابطہ تشخیص شامل نہیں۔ یہی سبب ہے کہ ماہرینِ نفسیات اور نفسی امور کے کلینکل معالج اِس حوالے سے تشخیص نہیں کرسکتے۔ بہت سے ماہرینِ نفسیات اِس اصطلاح کو مستند تسلیم نہیں کرتے۔

جرمن ماہرِ نفسیات الرِچ ہیگرل کا کہنا ہے کہ اگر کچھ لوگ غیر معمولی ڈپریشن کے باوجود کام جاری رکھتے ہیں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اِس کا سبب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اُن کی شخصیت جان دار ہو۔ بہت سے معاملات میں ایسا بھی ہوتا ہے کہ لوگ ڈپریشن کا شکار تو ہوتے ہیں مگر پھر بھی دوسروں کا بھلا سوچ رہے ہوتے ہیں، اُن کی مدد کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایسے لوگ آسانی سے ہار بھی نہیں مانتے۔ ہیگرل کا کہنا ہے کہ ایسے لوگ باہر تو سب سے ہنس ہنس کر ملتے ہیں، مدد کرتے ہیں، مگر جیسے ہی گھر آتے ہیں نڈھال ہوکر بستر پر گر پڑتے ہیں۔ اُن کی توانائی کا گراف اچانک گر جاتا ہے۔

ہیگرل کا کہنا ہے کہ دوسروں کی طرح ہائی فنکشننگ ڈپریشن سے متاثر ہونے والے افراد میں بھی تھکن کا احساس، مسلسل تناؤ، احساسِ جرم، بے ترتیب بھوک، بے ترتیب نیند اور خواہ مخواہ پریشان ہونے کا مادّہ پایا جاتا ہے۔

جرمن شہر بون کے ایل وی آرکلینک میں ہیڈ فزیشن، سائیکاٹری اور سائیکو تھراپی کے ماہر ڈینیل ہوئز کہتے ہیں کہ اُن کے کلینک میں ہائی فنکشننگ ڈپریشن کی اصطلاح استعمال کرنے کے بجائے ڈپریشن کی درجہ بندی معمولی، درمیانی اور شدید کے الفاظ کے ساتھ کی جاتی ہے۔ ہوئز کا کہنا ہے کہ ہائی فنکشننگ ڈپریشن ICD-10 میں شامل نہیں مگر اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ ہوتا ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک اُنہیں شدید ڈپریشن والے جتنے لوگ بھی ملے ہیں وہ زندگی کے روزمرہ تقاضوں کو نبھانے میں ناکامی پر اندرونی شکست و ریخت کا شکار ہوگئے تھے۔

امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹیمپا میں راجرز بیہیویئرل ہیلتھ نامی کلینکل نیٹ ورک کی ماہرِ نفسیات ایڈریانے مک کُلرز کہتی ہیں کہ ایک بڑی الجھن یہ ہے کہ بہت سے لوگ ڈپریشن کو کامیابی کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اِس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ غیرمعمولی کامیابی سے ہم کنار ہونے والے ڈپریشن کا شکار نہیں ہوتے، یا یہ کہ بھرپور کامیابی اور مالی آسودگی انسان کو بہت سی ذہنی پیچیدگیوں سے بچا لیتی ہے۔ ایڈریانے مک کُلرز کے خیال میں ہائی فنکشننگ ڈپریشن کی اصطلاح ڈپریشن کی اِس شکل کو شناخت کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایسی کیفیت سے دوچار فرد یہ سوچ کر خوش ہو رہتا ہے کہ جب تک میں کام کررہا ہوں اور کامیاب ہورہا ہوں تب تک سب ٹھیک ہے، فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ سوچ بہت خطرناک ہے۔ بہت سے ملکوں میں خودکشی کا ایک بڑا اور بنیادی سبب ڈپریشن ہے۔ انسان سوچتا ہے، نہ سمجھتا ہے۔ وہ ذہن میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں پر طرح طرح کے پردے ڈالتا رہتا ہے۔ اور پھر جب یہ پردے حالات کے ہاتھوں ہٹتے ہیں تو سارا بگاڑ پلک جھپکتے میں سامنے آجاتا ہے۔ ایڈریانے مک کُلرز اس مفروضے کو بھی مسترد کرتی ہیں کہ ہائی فنکشننگ ڈپریشن معمولی درجے کی ذہنی پیچیدگی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ بہت سے لوگ جب ڈپریشن کو اپنے ذہن پر سوار ہوتا دیکھتے ہیں تو اُسے ناکامی سے دوچار کرنے یا اُس پر محض پردہ ڈالنے کے لیے زیادہ کام کرنے لگتے ہیں اور غیرمعمولی پیداواری سرگرمی کی صورت میں یہ سوچ کر خوش ہولیتے ہیں کہ ڈپریشن کو ہرادیا۔

بہت سوں کا یہ حال ہے کہ اپنی ذہنی صحت کے گرتے ہوئے معیار کی پردہ پوشی کرنے کے لیے زیادہ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ تھکن سے اِس قدر چُور ہوجائیں کہ ڈپریشن کو کام کرنے کا موقع ہی نہ ملے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان کو کسی بھی معاملے میں یا چند معاملات میں احساسِ جرم ستاتا ہے۔ ایسے میں وہ زیادہ کام کرتا ہے، زیادہ سے زیادہ مصروف رہتا ہے تاکہ ضمیر کی آواز سُنائی ہی نہ دے، احساسِ جرم پریشان ہی نہ کرے۔

جرمن شہر کولون سے تعلق رکھنے والے سائیکو تھراپسٹ ڈینیل ویگنر کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ڈپریشن سے جان چھڑانے کے لیے زیادہ مستعدی سے کام کرتے ہیں، اچھے نتائج حاصل کرتے ہیں۔ جب معاشرہ سراہتا ہے تو ایسے لوگ بہت سُکھ محسوس کرتے ہیں۔ وہ دراصل اپنے ڈپریشن اور دیگر ذہنی پیچیدگیوں کو کسی نہ کسی طور دبانے، کچلنے کی کوشش کررہے ہوتے ہیں۔

دردکُش دوائیں درد کو ختم نہیں کرتیں بلکہ اُس کا احساس دلانے والے میکینزم کو تھوڑی دیر کے لیے سلا دیتی ہیں۔ ذہنی پیچیدگی کو دبانے، دبوچنے کے لیے غیرمعمولی مصروفیت اور اعلیٰ کارکردگی کے مظاہرے کا بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

ڈینیل ویگنر کہتے ہیں کہ کسی بھی ماہرِ نفسیات کا بنیادی کام یہ ہوتا ہے کہ مریض کے ذہن کی سمت بدلنے کے بجائے اُسے حقیقت کا سامنا کرنے کے قابل بنائے۔ اِس کے لیے وہ بیدار مغزی کی راہ تجویز کرتے ہیں۔ وہ ذہنی الجھن میں مبتلا افراد پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنی الجھنوں سے نظر چُرانے کے بجائے اُن کا سامنا کریں۔ جذبات کو کچلنے کے بجائے اُنہیں شناخت کرنے کی طرف جانا چاہیے۔ کسی بھی طرح کے جذبات کو سمجھنے سے گریز کی صورت میں خرابی بڑھتی ہے۔ ڈپریشن کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ اُسے شناخت کرکے اُس کا تدارک کرنے کے بجائے مصروفیت کا گراف بلند کرنا اور بہتر کارکردگی کے ذریعے معاملات کی پردہ پوشی معقول طریقہ نہیں۔

گہرے سانس لینے اور کسی ماہر کی راہ نمائی میں کیے جانے والے مراقبے سے بھی خاصی مدد ملتی ہے۔ اِس کا مقصد کسی چیز کو بدلنا نہیں بلکہ پوری طرح بیدار مغز کے ساتھ مشاہدہ کرنا اور معاملات کو سمجھنا ہے۔

فی زمانہ کسی بھی موضوع پر بہت سا مواد بہت آسانی سے میسر ہے مگر ماہرانہ رائے پھر ماہرانہ رائے ہوتی ہے۔ کسی بھی شعبے کے ماہر یا ماہرین سے مشاورت کے بغیر معاملات کو درست نہیں کیا جاسکتا۔ نفسی امور کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے۔ اگر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ اُس کا ذہن الجھ گیا ہے تو انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات ہی کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے اُسے کسی مستند ماہرِ نفسیات سے مشورہ کرنا چاہیے تاکہ اپنی ذہنی پیچیدگی کو سمجھ سکے اور تدارک کی راہ نکالنے میں آسانی محسوس ہو۔

زندگی معقولیت کے دائرے میں رہتے ہوئے بسر کرنی چاہیے۔ ذہنی پیچیدگی سے نجات پانے کے لیے ماہرانہ رائے لینا لازم ہے تاکہ ڈپریشن اور دیگر عوارض سے بہ طریقِ احسن نپٹا جاسکے۔ نفسی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ انسان کو خاموش رہ کر غور کرنا چاہیے۔ جب کوئی ایسا کرتا ہے تو ذہن بہت بوجھل سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے میں انسان چاہتا ہے کہ اپنے ماحول کو چھوڑ کر بھاگ جائے، ذمہ داریوں سے جان چھڑالے۔

ڈپریشن آج کی ایک بڑی حقیقت ہے۔ یہ محض ذہنی عارضہ ہے۔ اِس کا تدارک کیجیے، دباکر یا دبوچ کر اِسے اپنے لیے زہر نہ بنائیے۔