
انسانی جسم میں دل 72 مرتبہ خون جسم میں پھینکتا ہے۔ دل کے پمپ کرنے پر خون جسم میں جاتا […]
انسانی جسم میں دل 72 مرتبہ خون جسم میں پھینکتا ہے۔ دل کے پمپ کرنے پر خون جسم میں جاتا ہے۔ اس سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر منٹ پر 18 مرتبہ سانس آتی ہے۔ پھیپھڑے پھولتے ہیں، ہوا کے حرکت کرنے سے آواز کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ آنتوں کے حرکت کرنے پرآواز آتی ہے۔ اگر جسم کے ان حصوں میں کوئی بیماری ہوجائے تو ان آوازوں میں تبدیلی آتی ہے۔
4000 سال پہلے:صحت کے ماہر کندھے سے مریض کو پکڑتے اور ہلاتے تھے، پھر پیٹھ پر یا سینے پر کان رکھ کر آوازیں سنتے اور اس سے بیماری معلوم کرنے کی کوشش کرتے۔
800ء میں مسلمان سائنس دان رازی نے پیٹ پر انگلیاں مارکر باقاعدہ تشخیص کے بارے میں دریافت کیا۔ آواز کی لہروں کے ذریعے پیٹ کی بیماری کی تشخیص 1000ء میں بوعلی سینا نے کی، انہوں نے دل کے تیز رفتاری سے خون پھینکنے پر پیدا ہونے والی آوازوں کا تجزیہ کیا اور اس کے صوتی اثرات پر باقاعدہ کام کیا کہ کس طرح نبض کی آواز کی لہروں سے بیماری کی تشخیص ہو۔
1710ء میں آسٹریلین معالج لیو پولو آئن برگت نے جسم پر ہاتھ مارکر گیس اور پانی کے جمع ہونے کی تشخیص کی۔ سینے اور پیٹ دونوں جگہ یہی طریقہ اب تک پریکٹس کیا جاتا ہے۔
آواز کی لہروں سے سینے اور پیٹ میں پانی اور گیس کی تشخیص:1816ء میں فرانسیسی ڈاکٹر رینی لنک کو خواتین کے سینے پر کان لگا کر آواز سننا بہت برا لگتا۔ اس نے کاغذ (گتے) سے پائپ بنایا اور اسے سینے پر رکھا۔ یہ اسٹیتھواسکوپ کی ایجاد تھی۔ اس طرح آواز کی لہروں کے ذریعے تشخیص آسان ہوگئی۔
آواز کی لہروں کے ذریعے تصویر بناکر تشخیص :اسکاٹ لینڈ کے ڈاکٹرز اور انجینئرز نے 1956ء میں الٹرا سائونڈ مشین ایجاد کی۔ الٹرا سائونڈ آواز کی لہروں سے تصویر بناکر دکھاتی ہے۔ یہ گائنی میں، پھر دل، آنکھ وغیرہ میں بھی استعمال ہونے لگی۔
آواز کی لہریں (صوتی اثرات سے علاج)-1 آواز کی لہریں:
مشین کے ذریعے پیدا کرکے فزیو تھراپی میں درد کے علاج، اور زخم جلدی ٹھیک کرنے وغیرہ کے لیے الٹرا سائونڈ مشین استعمال کی جاتی ہے۔
-2 یورولوجی میں (Lithotripsy)آواز کی لہریں مشین سے دی جاتی ہیں جس سے گردے، مثانے، پیشاب کی نالی کی پتھریاں ٹوٹ جاتی ہیں۔
-3 موتیا کی سرجری (Phacosurgery)بغیر ٹانکے کا آپریشن، آواز کی لہروں کا موتیا کی سرجری میں استعمال۔
-4 لیپرو اسکوپی سرجری:کیمرے سے پتے کی سرجری میں بھی آواز کی لہریں استعمال ہوتی ہیں۔ سرجری میں آواز کی لہروں کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہ کم لاگت، آسان اور پیچیدگیوں سے بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔
آواز کی دھیمی لہروں کے دماغ پر اثراتکم فریکوئنسی کی دھیمی لہریں انسانی دماغ میں تبدیلی لاتی ہیں، غصہ کم کرتی ہیں۔ یہ فرد کے دماغ میں ایسی تبدیلی لاتی ہیں کہ اپنے مزاج کے خلاف بھی بات سننے اور مثبت جواب کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ قرآن نے سورہ طہ آیت44 میں بیان کیا ہے۔
آواز کی لہریں دماغ تک کیسے پہنچتی ہیں؟ کان کے پردے سے ٹکراتی ہیں۔ اندر سفر کرتی ہیں اور دماغ کے اندر پہنچتی ہیں۔
حضرت دائود علیہ السلام کی آواز:آپؑ جب اپنی آواز میں تسبیح کرتے تو پرندے وغیرہ بھی اس آواز میں ساتھ ہوتے۔ (سورہ صبا، سورہ ص)
دنیا میں سب سے پُراثر آواز دائود علیہ السلام کی تھی۔ پرندوں کی آوازیں، پہاڑوں سے ہوا کی آوازیں، پانی کے بہنے کی آوازیں، یہ سب مل کر ایسے صوتی اثرات پیدا کرتی ہیں جو انسانی دماغ میں منفی خیالات کو کم کرکے پُرسکون کیفیت کو بڑھاتے ہیں۔ قدرتی آواز جسم کے اعصابی نظام کے حصے Palasympathetic کے ذریعے پریشانی کم کرتی ہیں۔ دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر کو کم کرتی ہے۔
قدرتی آوازیں کم فریکوئنسی کی ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آواز کی فریکوئنسی کے اتار چڑھائو کے ذریعے انسانی دماغ کو سکون دینے کا ذریعہ بنایا۔ بہترین دماغی ٹانک یا دماغی سپلیمنٹ صبح پرندوں کی چہچہاہٹ سننا ہے۔ ماہرین کی رائے یہ ہے کہ اگر براہِ راست سننا ممکن نہ ہو تو یہ آوازیں ٹیپ کرکے سنیں۔
فریکوئنسی کے صوتی اثرات، سورہ رحمن:سورہ رحمن کی تلاوت سننے سے دماغ میں مثبت کیمیکل میں اضافہ اور منفی میں کمی ہوتی ہے۔ ڈپریشن میں سورہ رحمن کے ساتھ یا اکیلے بھی سورہ شمس جس میں ’’ہاہا‘‘ 17 مرتبہ آیا ہے۔ اس کی تلاوت سننے سے ذہنی ٹینشن میں کمی آتی ہے۔
صوتی اثرات کے یہ سپلیمنٹ ایک بہترین دماغی طاقت دیتے ہیں۔



