
انسان کا انسان سے تعلق اور رشتوں کی اہمیت دنیا کے قدیم ترین، گہرے ترین اور وسیع ترین موضوعات میں […]
انسان کا انسان سے تعلق اور رشتوں کی اہمیت دنیا کے قدیم ترین، گہرے ترین اور وسیع ترین موضوعات میں سے ایک ہے کیوں کہ یہ براہِ راست انسانی وجود، اس کی بقا اور اس کے ارتقا سے جڑا ہوا ہے۔ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جب اس کائنات میں انسان نے شعور کی آنکھ کھولی تو اس نے سب سے پہلے اپنے ارد گرد موجود دوسرے انسانوں کو محسوس کیا اور یہی محسوسات رفتہ رفتہ جذباتی، سماجی اور حیاتیاتی تعلقات کی شکل اختیار کر گئے۔ انسانی تہذیبوں کا پورا ارتقائی سفر دراصل انھی باہمی رابطوں اور رشتوں کے مضبوط تانے بانے کا مرہونِ منت ہے۔ قدیم زمانوں سے لے کر اب تک انسان نے جتنی بھی مادی، سائنسی اور فکری ترقیاں کی ہیں، ان کی بنیاد میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی سماجی یک جہتی اور باہمی تعاون کا جذبہ کار فرما رہا ہے، لیکن موجودہ دور جس تیز رفتاری اور مادی عروج کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اس نے انسانی رشتوں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور آج کا انسان ایک ایسے گہرے بحران کا شکار ہے جہاں وہ مادی طور پر تو ہر سہولت سے آراستہ ہے لیکن باطنی طور پر تنہائی کی اتھاہ گہرائیوں میں گرتا جا رہا ہے۔
موجودہ مادی دور کو اگر ڈیجیٹل تنہائی اور رشتوں کے زوال کا دور کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا کیوں کہ جدید صنعتی اور سائنسی انقلاب نے جہاں انسان کے لیے میلوں کے فاصلے سیکنڈوں میں سمیٹ دیے ہیں اور رابطوں کے لامتناہی ذرائع پیدا کر دیے ہیں، وہاں اس نے انسان کو اس کے قریبی ترین ماحول سے بے گانہ بھی کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے اس دور میں بظاہر ہر فرد سینکڑوں اور ہزاروں لوگوں سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے، ہر لمحہ پیغامات اور تصاویر کا تبادلہ ہوتا رہتا ہے، لیکن یہ سارا نظام ایک مصنوعی اور ورچوئل دنیا تک محدود ہو کر رہ گیا ہے جس میں حقیقی جذبات، مخلصانہ لمس اور روح کی گہرائی مفقود ہے۔ اس مادی دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس نے انسانی رشتوں کی بنیاد خلوص، محبت اور بے غرضی کے بجائے مفاد، افادیت اور مادی فائدے پر رکھ دی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جب تک کسی انسان سے کوئی دنیاوی یا مادی غرض وابستہ رہتی ہے، تعلق قائم رہتا ہے اور جیسے ہی وہ غرض پوری ہو جاتی ہے یا فائدہ ختم ہو جاتا ہے، وہ رشتہ ریت کی دیوار کی طرح ڈھیر ہو جاتا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے سماج کمزور ہونا شروع ہوتا ہے۔
جب کسی معاشرے میں رشتوں کی یہ مرکزیت ختم ہو جاتی ہے اور انسان کا انسان سے فطری اور مخلصانہ تعلق کمزور پڑ جاتا ہے، تو اس کا سب سے پہلا اور ہول ناک اثر فرد کی ذہنی اور نفسیاتی صحت پر پڑتا ہے۔ اگر انسان کا تعلق دوسرے انسان سے حقیقی بنیادوں پر قائم نہیں ہوگا تو اس کا ناگزیر نقصان یہ ہوگا کہ وہ ذہنی، جذباتی اور نفسیاتی طور پر بری طرح ڈسٹرب اور مفلوج ہو جائے گا کیوں کہ انسانی دماغ کی ساخت فطری طور پر اس طرح بنائی گئی ہے کہ اسے زندہ رہنے، پھلنے پھولنے اور پُرسکون رہنے کے لیے دوسرے انسانوں کا ساتھ، ان کی توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق سماجی تنہائی اور اپنوں سے دوری انسان کے اندر ایک ایسا جانکاہ خلا پیدا کر دیتی ہے جو رفتہ رفتہ اسے شدید ترین ڈپریشن، دائمی اضطراب اور وہم کی بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے اور اس وسیع و عریض کائنات میں انسان خود کو بالکل اکیلا، بے یار و مددگار اور غیر محفوظ سمجھنے لگتا ہے، جس سے اس کے جینے کا حوصلہ اور زندگی کی رمق ختم ہونے لگتی ہے۔
ادبی نکتہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو دنیا بھر کے عظیم ادیبوں، مفکروں اور شاعروں نے ہمیشہ رشتوں کی اس حساسیت اور انسان کی باطنی تنہائی کے کرب کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے کیوں کہ ادب انسانی روح کا ترجمان ہوتا ہے اور جب روح پیاسی ہو تو ادب خاموش نہیں رہ سکتا۔ اردو ادب کی تاریخ میں رشتوں کے ٹوٹنے اور انسان کی لامتناہی اداسی کو گہرائی سے بیان کیا گیا ہے اور تخلیق کاروں نے ہمیشہ یہ باور کرایا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اور اس کی زندگی کا حسن صرف دوسرے انسان کے ساتھ جڑے رہنے میں ہی پوشیدہ ہے، ورنہ انسان تنہائی کے اس جنگل میں بھٹک کر اپنی انسانیت ہی کھو بیٹھتا ہے۔ نامور دانش وروں اور ادیبوں کا یہ ماننا رہا ہے کہ موجودہ دور کا سب سے بڑا قحط اناج کا نہیں بلکہ محبت اور مخلصانہ رشتوں کا قحط ہے، جہاں لوگ ایک دوسرے کے قریب تو رہتے ہیں، ایک ہی چھت کے نیچے زندگی گزارتے ہیں، لیکن ان کے دلوں کے درمیان میلوں کے فاصلے ہوتے ہیں اور یہی وہ جذباتی دوری ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور اسے ایک چلتی پھرتی لاش میں تبدیل کر دیتی ہے جس کے پاس مادی آسائشیں تو ہوتی ہیں مگر سکون کی ایک بوند بھی میسر نہیں ہوتی۔
سماجیات کے ماہرین اس صورت حال کو پورے معاشرتی تانے بانے کی تباہی سے تعبیر کرتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک ایک مضبوط اور صحت مند سماج کبھی بھی اینٹ اور گارے کے مکانات یا بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بنتا، بلکہ وہ افراد کے باہمی اعتماد، صلہ رحمی، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شرکت اور خاندانی نظام کی مضبوطی سے وجود میں آتا ہے۔ جب کسی سماج میں فرد تنہا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے دکھ بانٹنے کے لیے کسی مخلص کندھے سے محروم ہو جاتا ہے، تو معاشرے میں ‘سوشل کیپیٹل یعنی وہ باہمی نیٹ ورک اور سماجی سرمایہ ختم ہو جاتا ہے جو لوگوں کو بحرانوں کے وقت ایک دوسرے کی مدد کے لیے ابھارتا ہے، جس کا نتیجہ خاندانی نظام کے بکھراؤ، طلاقوں کی شرح میں اضافے، بوڑھے والدین کی بے قدری اور بچوں کی نفسیاتی تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ایک ایسا سماج جہاں رشتوں کی جگہ مادیت لے لے، وہ اندرونی طور پر اتنا کمزور اور کھوکھلا ہو جاتا ہے کہ معمولی سی لہر یا کوئی بھی ناگہانی حادثہ اس پورے نظام کو زمین بوس کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے اور وہاں ہمدردی کے بجائے بے حسی اور خود غرضی کا راج ہو جاتا ہے۔
جدید نفسیات اور نیورو سائنس کے شعبے میں ہونے والی سائنسی تحقیقات اور مشاہدات نے بھی اس بات پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے کہ انسانی رشتوں کی کمزوری براہِ راست انسان کی جسمانی اور ذہنی صحت کو برباد کر دیتی ہے، چنانچہ دنیا کی طویل ترین سائنسی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ جو لوگ اپنے خاندان، مخلص دوستوں اور اپنی کمیونٹی کے ساتھ گہرے اور جذباتی طور پر مضبوط روابط رکھتے ہیں، وہ نہ صرف ذہنی طور پر زیادہ مطمئن اور خوش رہتے ہیں بلکہ ان کی جسمانی صحت بھی ان لوگوں کے مقابلے میں کہیں بہتر ہوتی ہے جو تنہائی پسند یا سماجی طور پر کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ جب ہم کسی مخلص انسان سے گفتگو کرتے ہیں، اپنے دل کا غبار ہلکا کرتے ہیں، یا کسی کا درد بانٹتے ہیں تو ہمارے اعصابی نظام سے ایسے مثبت ہارمونز خارج ہوتے ہیں جو ہمارے ذہنی تناؤ کو جڑ سے ختم کرتے ہیں اور ہمیں تحفظ کا احساس دلاتے ہیں، لیکن اس کے برعکس جب انسان تنہا رہ جاتا ہے تو اسٹریس ہارمونز کا مسلسل اخراج اس کے پورے مدافعتی اور اعصابی نظام کو تباہ کر دیتا ہے جس سے وہ نہ صرف نفسیاتی مریض بن جاتا ہے بلکہ وقت سے پہلے بوڑھا اور مختلف مہلک بیماریوں کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔
اس سنگین صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی اپنے سماج کی بقا اور اپنی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے رشتوں کی اہمیت کو دوبارہ پہچانیں اور اس مادی دوڑ کے مسموم اثرات سے خود کو بچانے کی سنجیدہ کوشش کریں کیوں کہ انسان کی اصل خوب صورتی اور اس کا ذہنی سکون صرف دوسرے انسان کے مخلصانہ اور بے غرض ساتھ میں ہی پوشیدہ ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں ڈیجیٹل اسکرینوں کے وقت کو کم کر کے اپنے والدین، جیون ساتھی، اپنے بچوں اور مخلص دوستوں کو حقیقی اور معیاری وقت دینا ہوگا، جہاں باتوں میں صرف لفظ نہ ہوں بلکہ جذبات اور احساسات کی گرم جوشی بھی شامل ہو اور ہمیں دوسروں کو سننے کی عادت ڈالنی ہوگی کیوں کہ آج کے دور کا انسان بولنا تو چاہتا ہے لیکن کوئی اس کی کہانی سننے والا نہیں ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے میں توقعات کو کم کر کے خلوص کو ترجیح دیں گے، ایک دوسرے کی خطاؤں کو درگزر کریں گے اور خاندانی اقدار کو دوبارہ زندہ کریں گے، تبھی ہم ایک ایسے مضبوط، صحت مند اور پرسکون سماج کی بنیاد رکھ سکیں گے جہاں کوئی بھی فرد خود کو تنہا محسوس نہیں کرے گا اور جہاں ہر انسان کا دوسرے انسان سے تعلق اس کی سب سے بڑی طاقت اور اس کا سب سے بڑا ذہنی و نفسیاتی سرمایہ ثابت ہوگا۔



