وسیع گمراہی کے ہتھیار

byابو صباحت•August 14, 2026•
A man stands at a crossroads, one path leading to dark storm clouds and the other to a bright sunset and mosque. In the foreground are books on misinformation, a black mask, a phone displaying "FAKE NEWS," a compass, and a chess king. Urdu text at the top reads "Weapons of Widespread Deception."

آج کی دنیا کو محض اُلجھی ہوئی قرار دینا سادہ لوحی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُلجھن کسی مقام پر […]

آج کی دنیا کو محض اُلجھی ہوئی قرار دینا سادہ لوحی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُلجھن کسی مقام پر رُکی نہیں، دنیا الجھتی ہی جارہی ہے یا یوں کہیے کہ اِسے دن رات الجھایا جارہا ہے۔ جن کے ہاتھوں میں اقتدار آگیا ہے وہ اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کچھ بھی کرنے پر تُلے ہوئے ہیں اور کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہ کرنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ معاملات جتنے الجھے رہیں گے اُن کے مفادات کو اُسی قدر تحفظ حاصل رہے گا۔

بنیادی مسائل اور حساس و نازک ترین معاملات سے عوام کی توجہ ہٹانا ہر دور میں اشرافیہ یعنی حکمراں طبقے کے لیے سب سے بڑا دردِ سر رہا ہے۔ جب ٹیکنالوجیز زیادہ نہیں تھیں اور اُن میں پیش رفت بھی اِس قدر نہیں تھی تب بھی حکمراں طبقہ اِس بات کے لیے کوشاں رہتا تھا کہ لوگوں کی توجہ زیادہ سے زیادہ منقسم رہے اور وہ فضول معاملات کے بارے میں زیادہ سوچتے رہیں۔

فی زمانہ رابطے کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ تصور کرلیا گیا ہے یا لوگوں کے ذہنوں میں یہ نکتہ ٹھونس دیا گیا ہے کہ اُنہیں ہر وقت رابطے میں رہنا چاہیے۔ لوگ بلا ضرورت بھی اپنے آپ کو دوسروں سے منسلک رکھتے ہیں۔ کسی واضح ضرورت یا طلب کے بغیر لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطے میں رہنا کل تک محض فیشن تھا، اب ذہنی عارضے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اور یہ ذہنی عارضہ شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے۔ حکومتیں بھی چاہتی ہیں کہ لوگ رابطے کے دائرے میں گھومتے رہیں کیونکہ جب وہ فضولیات کے سمندر میں غرق رہتے ہیں تب کام کی باتیں نہیں سوچتے، اور یوں حکومت کے کسی بھی غلط اقدام پر انگلی اٹھانے کے قابل نہیں رہتے۔ میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے اور اِس کے نتیجے میں لوگ گمراہ ہو ہی جاتے ہیں۔ آج کی دنیا میں سچائی کو غیر متعلق باتوں میں اِس طور گم کردیا گیا ہے کہ لوگ اُسے تلاش کرنے ہی میں عمر کھپا دیتے ہیں۔

دنیا بھر میں حکومتیں گمراہی کا دھندا چلارہی ہیں۔ رابطے کے جدید ترین طریقوں کو مؤثر طور پر استعمال کرکے حکومتیں عوام کو فضول معاملات کی بھول بھلیوں میں اٹکائے رکھتی ہیں۔ لوگ سوچے سمجھے بغیر دنیا بھر کی باتوں میں اُلجھے رہتے ہیں اور اپنی زندگی کا معیار بلند کرنے کے حوالے سے جو کچھ سوچنا چاہیے وہ سوچتے ہی نہیں، اور جب سوچتے ہی نہیں تو عمل کہاں سے کریں گے؟

ایک طرف سوشل میڈیا ہے اور دوسری طرف ذاتی نوعیت کے رابطے یعنی سیل فون۔ حکومتیں اور سیاسی جماعتیں فون کالز اور ٹیکسٹ میسجنگ کے ذریعے بھی معاملات کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لوگوں سے براہِ راست رابطے کے لیے سیل فون بھی ایک انتہائی کارگر طریقہ ہے۔ عام آدمی کے اسمارٹ فون پر مختلف ایپس کے ذریعے دن رات ’’بمباری‘‘ کی جاتی ہے۔

عوام کو گمراہ کرنا اور گمراہ ہی رکھنا دنیا بھر میں حکومتوں کا ایک بنیادی مقصد رہا ہے۔ دنیا بھر میں مڈل کلاس کو ختم کرنے کی بھرپور کوششیں ہر دور میں کی جاتی رہی ہیں۔ اِس وقت بھی یہی ہورہا ہے۔ پس ماندہ ممالک میں مڈل کلاس ناپید سی ہوکر رہ گئی ہے۔ اِن ملکوں میں غیرمعمولی دولت مند ہوتے ہیں یا بالکل افلاس زدہ لوگ۔ مڈل کلاس ہوتی ہی نہیں جو حالات کو بدلنے کے بارے میں سوچے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی مڈل کلاس ہے تو سہی مگر اُسے بھی غیر مؤثر رکھنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے تاکہ اشرافیہ کے لیے مشکلات پیدا نہ ہوں۔

ایسا نہیں ہے کہ حکومتیں اور مقتدر ادارے ہی عوام کو گمراہ رکھنا چاہتے ہیں۔ عوام خود بھی گمراہ رہنے اور ایک دوسرے کو گمراہی کی دلدل میں دھکیلنے کے شوقین ہیں۔ سوشل میڈیا کی گمراہ کن پوسٹیں بہت تیزی سے اِدھر اُدھر کی جاتی ہیں۔ لوگ محض تفریحِ طبع کے نام پر بھی بہت سی بے بنیاد باتیں بھیجتے رہتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ذہن الجھے ہوئے رہتے ہیں۔ اور کیوں نہ الجھیں کہ ؎

اِس طرح تو ہوتا ہے اِس طرح کے کاموں میں

ذہن کا معاملہ یہ ہے کہ یہ بھٹکنے میں بالکل دیر نہیں لگاتا اور کام کے نکتے پر واپس آنے میں سخت محنت کرنا پڑتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرنا اور بھٹکنے پر مجبور کرنا بہت آسان ہے۔ ایک ہی موضوع پر بیسیوں پوسٹیں بہت تیزی سے آتی ہیں اور لوگ اُنہیں دیکھ دیکھ کر الجھتے رہتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جاننے کی بھوک یا طلب نے لوگوں کو سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ اسکرولنگ پر مجبور کردیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اُنہیں ریسپانس بھی دینا پڑتا ہے، تبصرے بھی کرنے ہوتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے کسی بھی انسان کو کام کے معاملات سے دور کرنا اور فضول معاملات کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرنا بہت آسان ہے۔ یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ ایک طرف تو حکومت یا ادارے لوگوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف لوگ خود بھی تو ایسا ہی چاہتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا سے مستفید ہونے کے نام پر ایسی تمام پوسٹیں پڑھتے ہیں جو اُنہیں گمراہ کرتی ہیں۔ یہ کھیل بظاہر بہت سادہ مگر درحقیقت بہت خطرناک ہے۔ سوال جذبات پر قابو پانے کا ہے۔

عام آدمی اپنے مسائل کا رونا روتا رہتا ہے۔ وہ بہت کچھ پانا چاہتا ہے مگر پا نہیں سکتا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ اُسے سوچنے کے قابل چھوڑا ہی نہیں جاتا۔ فضول معاملات میں بہت زیادہ دلچسپی لینا یعنی اپنے وجود کو نظر انداز اور تباہ کرتے رہنا… عام آدمی یہی تو کرتا رہتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کی بھول بھلیوں میں گم ہوکر اپنے حقیقی مسائل بھول جاتا ہے اور اُنہیں حل کرنے کی لگن بھی اُس میں باقی نہیں رہتی۔ سوال چند افراد کا نہیں بلکہ پورے پورے معاشروں کا ہے۔ دنیا بھر میں یہ کھیل اِس طور جاری ہے کہ کسی میں بھی اِسے روکنے کی صلاحیت ہے نہ ہمت۔

وسیع تر تباہی کے ہتھیاروں کی اصطلاح فی زمانہ بہت استعمال میں رہی ہے۔ امریکا نے عراق پر وسیع تباہی کے ایٹمی، کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کی تیاری کا الزام عائد کیا اور حملہ کردیا۔ عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی۔ ایٹمی، کیمیائی اور جراثیمی ہتھیاروں کے اثرات نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں۔ ہلاکتیں اپنی جگہ اور صحت کے پیچیدہ مسائل سے بیسیوں برس دوچار رہنے والے اپنی جگہ۔ اب معاملہ ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن یعنی وسیع پیمانے پر گمراہ کرنے، راہ سے بھٹکانے والے ہتھیاروں تک آ پہنچا ہے۔ 1939ء میں اسپین کی جنگ کے دوران بہت بڑے پیمانے پر کی جانے والی بمباری کے تناظر میں ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن (وسیع تباہی کے ہتھیار) کی اصطلاح کا استعمال شروع ہوا تھا۔ ویپنز آف ماس ڈسٹرکشن کی اصطلاح کو 1992ء میں امریکی نیوز چینل سی بی ایس نے طنز و مزاح کے زُمرے میں استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ جب امریکا نے 2003ء میں عراق پر جنگ مسلط کی تب امریکا میں سیاسی مخالفین اور میڈیا والوں نے کہنا شروع کیا کہ ملک میں مسائل بہت بڑھ گئے ہیں اور بش انتظامیہ لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔ تب کساد بازاری چل رہی تھی۔ اینرون اور ورلڈ کام کے گھپلے منظرِعام پر آچکے تھے۔ بے روزگاری بڑھ رہی تھی۔ معیشت جامد ہوچکی تھی۔ امریکا نے لوگوں کی توجہ مسائل سے ہٹانے کے لیے پہلے افغانستان اور پھر عراق پر جنگ مسلط کی۔ حالیہ امریکا ایران جنگ کو بھی امریکا میں لوگ بچیوں کی آبرو ریزی کے اسکینڈل (ایپسٹین) کو دبانے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایپسٹین فائلز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام چار ہزار بار آیا ہے۔ امریکا میں لوگ بہت کچھ سوچ رہے ہیں اور لازم ہوچکا ہے کہ اُن کی توجہ بنیادی مسائل اور سیاسی گھوٹالوں سے ہٹائی جائے۔ آج کی حکومتیں یہی تو کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پورٹلز یا پلیٹ فارم یہی تو کام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کا بنیادی مقصد عوام کو مصروف رکھنا ہے یعنی لایعنی و لاحاصل باتوں میں الجھائے رکھنا ہے۔ ایک ہی چیز بار بار دکھائی جاتی ہے۔ لوگ ایک ہی پوسٹ کو مختلف حوالوں اور ذرائع سے بار بار پڑھتے ہیں۔ وہ کسی متبادل کے بارے میں سوچتے ہی نہیں… اور سوچیں کیسے؟ اُنہیں سوچنے ہی نہیں دیا جاتا۔ زمینی حقیقتیں مسخ ہوتی ہیں تو ہوتی رہیں۔ جس طور کوئی بیماری پھیلنے کی صورت میں وبا بنتی ہے بالکل اُسی طرح نام نہاد ’’معلومات‘‘ بھی وبا کی صورت پھیلتی جاتی ہیں۔ گمراہ کرنے والے سوشل میڈیا کو ہر اعتبار سے قاتل قرار دیا جاسکتا ہے۔

ہمارے پاس اسمارٹ فون ہے مگر کیا ہم اسمارٹ ہیں؟ ہیں، مگر جتنے ہونے چاہئیں اُتنے نہیں۔ ہم سوچنا بھول چکے ہیں۔ معقول فیصلے ہم سے ہو نہیں پارہے۔ حقیقت پسندی ہمارے لیے زہر بن چکی ہے۔ سیاست و سفارت میں ’’پرسنا نان گراٹا‘‘ یعنی ’’ناپسندیدہ شخصیت‘‘ کی اصطلاح عام ہے۔ اب ہر کھلی حقیقت ہمارے لیے شدید ناپسندیدہ ہوچکی ہے۔ کیا ہم غیر ضروری نوٹیفکیشنز دیکھتے ہیں؟ اگر ہاں، تو پھر ہم کہاں کے اسمارٹ ہوئے؟ جو ایپ ہمارے انہماک کو منتشر رکھتی ہو اُسے ایک طرف ہٹانے دینے ہی میں دانش مندی ہے، مگر کیا ہم ایسی دانش مندی کے حامل ہیں؟ اور اُسے بروئے کار بھی لاتے ہیں؟ افسوس کہ ہم میں سے بیشتر کا حال بہت بُرا ہے۔

بے ذہنی پر مشتمل اسکرولنگ ہمارے کس کام کی؟ یہ تو اپنے وجود کو داؤ پر لگانے والی بات ہوئی۔ وقت ہماری سب سے بڑی دولت ہے اور ہم اپنی اِس حقیقی دولت ہی کو انتہائی فراخ دلی سے ضایع کرنے پر تُلے رہتے ہیں۔ اسمارٹ فون بہت کام کی چیز ہے مگر یہ ہر وقت چیک کرنے کی چیز نہیں۔ ہر پوسٹ اس قابل نہیں ہوتی کہ اُس پر تبصرہ کیا جائے۔ کوئی نئی پوسٹ کسی کو بھیجی جائے، کچھ ٹائپ کیا جائے، تبصرہ کیا جائے یا وائس میسیجنگ کی جائے تو بہرحال وقت صَرف ہوتا ہے۔ اب یہ آپ کو طے کرنا ہے کہ وقت کو صَرف کرنا ہے یا ضایع کرنا ہے۔

اپنے انہماک کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے آپ کو بہت کچھ کرنا ہے۔ کسی بھی فضول پوسٹ کو دیکھنا بھی نہیں ہے اور آگے بڑھانا بھی نہیں ہے۔ آج کل ملٹی ٹاسکنگ کا بہت چرچا ہے یعنی بیک وقت کئی کام کرنا۔ سوشل میڈیا کے ذریعے عام آدمی کے ذہن میں یہ بات ٹھونک اور ٹھونس دی گئی ہے کہ وہ بیک کئی کام کرسکتا ہے۔ ہر انسان کو بار بار یقین دلایا جاتا ہے کہ اُس میں تو صلاحیتیں بھری پڑی ہیں۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہر انسان میں کئی طرح کی صلاحیتیں ہوتی ہیں مگر محض باصلاحیت ہونے سے کام نہیں بنتا، دال نہیں گلتی۔ صلاحیت کو پروان چڑھانا پڑتا ہے، مہارت یقینی بنانا ہوتی ہے۔

اللہ نے بعض لوگوں کو یہ صلاحیت بخشی ہوتی ہے کہ بیک وقت کئی کام کرسکتے ہیں، مگر یہ بھی مہارت اور مشق ہی کا معاملہ ہے۔ ناگزیر نہ ہو تو بیک وقت کئی کام کرنا نِری حماقت ہے کیونکہ کام کم ہوتا ہے اور توانائی زیادہ ضایع ہوتی ہے۔ مونو ٹاسکنگ کی طرف جائیے یعنی ایک وقت میں ایک کام۔ اگر آپ کسی کام کو پوری توجہ سے کریں تو وہ تیزی سے مکمل ہوتا ہے اور معیار بھی بلند رہتا ہے۔ سوشل میڈیا نے جس انداز سے ناک میں دم کر رکھا ہے اُس کے پیشِ نظر لازم ہے کہ آف اسکرین بھی رہا جائے۔ اس بات کا خیال ہمیں خود رکھنا ہے کہ ہمارا اسمارٹ فون وسیع گمراہی کا ہتھیار نہ بنے۔ وقت بھی محدود ہے اور ہماری صلاحیتیں بھی۔ بیک وقت بہت سے معاملات پر توجہ دینے کا مطلب ہے کسی بھی بات پر خاطر خواہ توجہ نہ دینا۔ مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا بیوپاری ہیں جن کا بنیادی کام توجہ ہٹانا ہے۔ شکار ہونے سے بچیے۔