عالمی منظرنامے میں پاکستان: ابھرتی ذمہ داری اور نوجوانوں کا کردار

August 2, 2025
Black and white portrait of Muhammad Ali Jinnah over a green silhouette of a cheering crowd, with Urdu text and the HamQadam logo.

خبر سے جنم لینے والا سوال

جب ایک پاکستانی طالب علم اقوامِ متحدہ میں وزیرِ اعظم کے خطاب، غزہ کے مسئلے پر عالمی سفارت کاری، یا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی معاہدے کی خبر سنتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک فطری سوال ابھرتا ہے: “یہ سب میرے مستقبل سے کیسے جڑا ہے؟”
اکثر نوجوان عالمی سیاست کو طاقتور ریاستوں کا کھیل سمجھ کر خود کو اس سے الگ کر لیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج کا پاکستان جس عالمی توجہ اور اعتماد کا مرکز بن رہا ہے، وہ براہِ راست آنے والی نسلوں کے مواقع، ذمہ داریوں اور کردار سے جڑا ہے۔
یہ محض سفارتی کامیابیوں کا دور نہیں، بلکہ اخلاقی امتحان کا بھی وقت ہے—کہ آیا ہم ایک ذمہ دار، اصولی اور باوقار قوم کے طور پر ابھریں گے یا محض وقتی فائدوں تک محدود رہیں گے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں نوجوانوں کی فکری تیاری، شعور اور کردار فیصلہ کن بن جاتا ہے۔

پاکستان کا ابھرتا کردار کیوں نمایاں ہو رہا ہے؟

حالیہ مہینوں میں عالمی سطح پر پاکستان کی حیثیت میں واضح تبدیلی نظر آتی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں مؤثر سفارت کاری، غزہ کے معاملے پر متوازن اور اصولی مؤقف، بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی میں دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ، اور سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ—یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کو اب محض ایک “ردِعمل دینے والی ریاست” کے بجائے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ مقام اتفاق سے نہیں ملا۔ دہشت گردی کے خلاف دہائیوں پر محیط تجربہ، امن مشنز میں شرکت، اور علاقائی توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک سنجیدہ ریاست کے طور پر منوایا ہے۔

طلبہ اور نوجوان کہاں غلطی کرتے ہیں؟

اکثر نوجوان ان عالمی پیش رفت کو محض جذباتی فخر یا سوشل میڈیا کی بحث تک محدود کر دیتے ہیں۔

  • یا تو وہ اندھی قوم پرستی میں ہر سوال کو غداری سمجھ لیتے ہیں
  • یا مکمل بداعتمادی میں ریاستی کردار کو سرے سے مسترد کر دیتے ہیں

دونوں رویے فکری کمزوری کی علامت ہیں۔ قائدانہ قومیں نہ اندھی تقلید سے بنتی ہیں، نہ مستقل شکوے سے—بلکہ باشعور تنقید اور تعمیری شراکت سے وجود میں آتی ہیں۔

مسلمان شناخت اور عالمی ذمہ داری

اسلام ریاست اور فرد دونوں کو محض طاقت نہیں بلکہ عدل، امانت اور ذمہ داری کا پابند بناتا ہے۔ قرآن میں امتِ مسلمہ کو “وسط”یعنی متوازن قوم کہا گیا—ایسی قوم جو طاقت اور اخلاق، مفاد اور اصول کے درمیان توازن قائم رکھے۔
پاکستان جب فلسطین جیسے حساس مسئلے پر آواز بلند کرتا ہے، یا مسلم دنیا میں دفاعی شراکت داری کی بات کرتا ہے، تو یہ محض جغرافیائی سیاست نہیں بلکہ ایک اخلاقی مؤقف بھی ہوتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ عالمی سیاست میں کامیابی صرف عسکری یا معاشی نہیں، بلکہ اخلاقی ساکھ سے جڑی ہوتی ہے۔

عالمی تناظر: طاقت کے بدلتے مراکز

دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں صرف امریکا یا یورپ فیصلہ کن قوت نہیں رہے۔ مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔
ایسے میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، معدنی وسائل، توانائی کے امکانات اور دفاعی صلاحیت اسے ایک کلیدی ریاست بناتے ہیں۔ مگر یہ حیثیت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب اندرونی طور پر سیاسی استحکام، تعلیمی ترقی اور اخلاقی یکجہتی موجود ہو۔
یہاں نوجوانوں کا کردار مرکزی ہے—کیونکہ عالمی وقار اندرونی کمزوریوں پر کھڑا نہیں رہ سکتا۔

اخلاقی کشمکش: طاقت یا اصول؟

ہر ابھرتی ریاست کے سامنے یہ سوال آتا ہے: “کیا ہم صرف اپنے مفاد کو دیکھیں یا اصولوں کو بھی؟”
پاکستان کے لیے یہ کشمکش اور بھی اہم ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی گئی تھی۔ اگر ہم عالمی سطح پر مؤثر ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں طاقت کے ساتھ اصولی بیانیہ بھی مضبوط رکھنا ہوگا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نوجوان نسل کو محض تماشائی نہیں بلکہ فکری محافظ بننا ہے۔

عمل کا خاکہ اگر آپ طالب علم ہیں، تو…

  • عالمی سیاست کو جذبات کے بجائے علم اور تجزیے سے سمجھیں
  • بین الاقوامی تعلقات، تاریخ اور معیشت کا سنجیدہ مطالعہ کریں
  • سوشل میڈیا پر ردِعمل کے بجائے دلیل اور شائستگی اپنائیں
  • قومی مفاد کو اخلاقی اصولوں سے جوڑ کر دیکھیں
  • کیمپس میں مکالمے، مباحثے اور پالیسی ڈسکشن کلچر کو فروغ دیں

یہی وہ تیاری ہے جو کل کی قیادت بناتی ہے۔

اختتامی سوچ | ابھرتا پاکستان، باخبر نوجوان

پاکستان کا عالمی سطح پر ابھرتا کردار ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ یہ موقع اس لیے کہ دنیا ہمیں سنجیدگی سے سن رہی ہے، اور امتحان اس لیے کہ ہم اس اعتماد کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔
اگر نوجوان نسل عالمی معاملات کو سطحی نعروں کے بجائے گہرے شعور سے دیکھے، اگر وہ طاقت کو اخلاق اور مفاد کو ذمہ داری سے جوڑے، تو پاکستان محض ایک اہم ریاست نہیں بلکہ ایک باوقار مثال بن سکتا ہے۔
دنیا میں قومیں اسی وقت اثر انداز ہوتی ہیں جب ان کے نوجوان باخبر بھی ہوں اور باکردار بھی۔ یہی اصل عالمی طاقت ہے۔