خاموش بے حسی

by مجلسِ ادارتSeptember 2, 2025
A blue magazine cover for HamQadam, September 2025, features a pensive stone statue and the title "Silent Insensitivity," along with articles on minerals, extremism, and female education.

وہ فون کال جو نہیں آئی

عمر، لاہور کی ایک یونیورسٹی کا طالب علم، فائنل پراجیکٹ کی آخری رات کو اپنے کمرے میں بیٹھا تھا۔ اس کی لپ ٹاپ اسکرین کی نیلی روشنی نے اس کے چہرے کے تھکے ہوئے نقاب کو نمایاں کیا۔ WhatsApp پر اس کے دوستوں کے گروپ میں میسجز کی بارش ہو رہی تھی: "باس، ہیلپ چاہیے!" "کوئی ہے جو کوڈنگ میں مدد کر سکے؟" "کل ڈیڈ لائن ہے، پاگل ہو رہا ہوں!"

عمر نے ایک میسج ٹائپ کرنا شروع کیا: "میں..." پھر رک گیا۔ ڈیلیٹ کیا۔ پھر لکھا: "کوئی مسئلہ نہیں، سب ٹھیک ہے۔"

اس رات، عمر کی خاموشی اس کے اندر کے طوفان کا پردہ تھی۔ والدین کی غیر منطقی توقعات، دوستوں سے مسابقت کا دباؤ، مستقبل کا خوف، اور یہ احساس کہ وہ "کامیاب" نوجوان کی تعریف پر پورا نہیں اتر رہا۔ اگلی صبح ، سب کے لیے صبح تھی لیکن عمر اور اسکے اعزہ کہ لیے تاریکی کا ساماں تھی۔

یہ کہانی کیا ظاہر کرتی ہے؟

عمر کی کہانی کوئی منفرد واقعہ نہیں۔ یہ ہمارے تعلیمی نظام، خاندانی ڈھانچے اور سماجی توقعات کا ایک مرکب ہے جو نوجوانوں کو ایسی خاموشی میں دھکیل رہا ہے جہاں مدد مانگنا کمزوری سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان میں ذہنی صحت کے عالمی ادارے کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق:
• 18-24 سال کے 34% نوجوان ڈپریشن یا اضطراب کی علامات کا شکار ہیں۔
• صرف 10% پیشہ ور مدد حاصل کرتے ہیں۔
• طلبہ میں خودکشی کی شرح میں پچھلے پانچ سالوں میں 40% اضافہ ہوا ہے۔

لیکن مسئلہ صرف اعداد و شمار نہیں۔ مسئلہ وہ "مثالی مسلمان نوجوان" کا بیانیہ ہے جو ہمیشہ مضبوط، ہمیشہ کامیاب، اور ہمیشہ "شکریہ" کہنے والا ہونا چاہیے۔

اسلامی و اخلاقی تشریح: انسانی کمزوری کا اعتراف

کیا اسلام واقعی ہمیں ایک "سپر ہیرو" کا ماڈل پیش کرتا ہے؟ قرآن اور سنت میں انسانی کمزوری کا کھلا اعتراف ہے:

1. نبی یونس علیہ السلام کی دعا: "لا إله إلا أنت سبحانك إني كنت من الظالمين" — ایک نبی کی گہری پریشانی میں پناہ کی تلاش۔

2. نبی ایوب علیہ السلام کی آزمائش: صبر کا مطلب خاموشی میں برداشت کرنا نہیں، بلکہ اللہ سے رجوع کرنا ہے۔

3. رسول اللہ ﷺ کا فرمان: "مومن مومن کا آئینہ ہے" (ابو داؤد)۔ آئینہ صرف ظاہری شکل نہیں دکھاتا، اندر کی کیفیت بھی عیاں کرتا ہے۔

اسلامی روایت میں، "قلبی سکون" کا حصول عبادت کا مقصد ہے۔ نماز صرف جسمانی حرکت نہیں، بلکہ "إياك نعبد وإياك نستعين" کے ذریعے مدد کی درخواست ہے۔

نوجوانوں کے لیے اہم سوالات:

  1. کیا ہم "کامیابی" کی تعریف صرف ڈگریوں، نوکریوں اور سماجی حیثیت تک محدود کر چکے ہیں؟
  2. جب کوئی دوست کہتا ہے "سب ٹھیک ہے"، کیا ہم اس کی آواز کے پیچھے کی خاموشی سننے کی کوشش کرتے ہیں؟
  3. کیا مسجد یا اسلامی سرکلز ایسے محفوظ مقامات ہیں جہاں نوجوان اپنی نفسیاتی جدوجہد کا اظہار کر سکیں؟

عملی اقدامات: خاموشی توڑنے کا راستہ

انفرادی سطح پر:

• ہفتہ وار "احوال چیک": اپنے دوستوں، بہن بھائیوں سے صرف یہ پوچھنا شروع کریں: "تم واقعی کیسے ہو؟" — اور جواب کو بغیر جج کیے سنیں۔
• ایک "احساسات جرنل": 5 منٹ روزانہ لکھیں۔ کوئی قواعد نہیں، صرف آپ کی اندر کی آواز۔
• حدود بنانا سیکھیں: "نہیں" کہنا ایمان کی مضبوطی کی علامت ہے، کمزوری نہیں۔

اجتماعی سطح پر:

• کیمپس میں "بغیر جج کیے بات" : یونیورسٹی میں ایسا کون سا کمرہ ہو سکتا ہے جہاں کوئی لیکچر نہ ہو، صرف بات چیت ہو؟
• اسلامک سوسائٹی کی ذمہ داری: محض لیکچرز نہیں، بلکہ "Support Circles" بنائیں — چائے اور بات چیت کا غیر رسمی ماحول۔

جدید وسائل کو اسلامی بنیادوں پر اپنانا:

• WhatsApp کے "ذہنی صحت باخبر" گروپس: اسلامی اخلاقیات کے ساتھ — رازداری، ہمدردی، اور عملی مدد۔
• آن لائن کونسلنگ: ایسے مسلمان ماہرین نفسیات سے جو مذہبی و ثقافتی حساسیت رکھتے ہوں۔

اختتامی نوٹ: احیاے نفس — اصلاحی تحریک کی بنیاد

مسلمانوں کی تاریخی عظمت صرف فوجی فتوحات یا سائنسی ایجادات سے نہیں، بلکہ ان کے انسانی مرکزیت سے تھی۔ بغداد کے بیت الحکمت، قرطبہ کے ہسپتال — یہ ایسی جگہیں تھیں جہاں جسم اور ذہن دونوں کی صحت پر یکساں توجہ دی جاتی تھی۔

آج کی اسلامی احیاء تحریک کی بنیاد "احیائے نفس" سے ہوگی۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں عمر جیسا طالب علم بے خوف ہو کر کہہ سکے: "میں ٹھیک نہیں ہوں — اور یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں۔"

جب ہم اپنے نوجوانوں کی اندرونی دنیا کو سنیں گے، تب ہی وہ باہر کی دنیا کو بدلنے کا حوصلہ پائیں گے۔