ٹیکنالوجی کے بندوق بردار" یا "فکر کے مجاہد"؟ نوجوان مسلم اور ڈیجیٹل وجود کا بحران

byقاسم علی شاہSeptember 2, 2025
Cover of HamQadam magazine for September 2025, featuring a pensive stone statue on a blue background and Urdu text "خاموش ہے حسی".

افتتاحی جھلک

عمران، ایک ذہین انجینئرنگ کا طالب علم، اپنے فون کی سکرین سے آنکھیں ہٹانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ صبح اٹھتے ہی ریزلٹ چیک کرنا، کلاس میں چوری چھپے ریڈڈٹ اسکرول کرنا، دوپہر کو لنچ پر یوٹیوب شارٹس، شام کو گروپ چیٹس کی بہتات، اور رات سونے سے پہلے انسٹاگرام کا ایک آخری چکر۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی توجہ بکھر رہی ہے، مطالعے کا وقت ضائع ہو رہا ہے، اور وہ پچھلے امتحان میں اچھی کارکردگی نہیں دے سکا۔ پھر بھی، وہ اس ڈیجیٹل دھارے میں بہتا چلا جا رہا ہے۔ اس کے ذہن میں ایک سوال گونجتا ہے: "کیا میں ٹیکنالوجی کا مالک ہوں، یا اس کا غلام بنا دیا گیا ہوں؟"

عمران کی کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، "جنریشن زی" کے لاکھوں مسلم نوجوانوں کی اجتماعی جدوجہد ہے جو ایک ہی وقت میں دو دنیاؤں میں جی رہے ہیں: ایک طرف وہ ڈیجیٹل گلوبل ولیج کے رہنے والے ہیں، تو دوسری طرف اسلامی تہذیب و اقدار کے وارث۔ ان دونوں کے درمیان مفاہمت کا فقدان انہیں نفسیاتی اور فکری طور پر تقسیم کر رہا ہے۔

گہرائی میں اترنے والے حصے

1. یہ مسئلہ کیوں موجود ہے؟ ڈیجیٹل ڈیزائن اور اسلامی اقدار کا تصادم

جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارمز (سوشل میڈیا ایپس، شارٹ ویڈیو ایپس) کو خاص طور پر توجہ کو قابو کرنے اور وقت کو نگل جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان کا کاروباری ماڈل ہی یہ ہے کہ آپ جتنی دیر اسکرین سے چمٹے رہیں، اتنا ہی ان کی آمدنی بڑھے۔ ان کے "الگورتھم" آپ کی کمزوریوں (FOMO، موازنہ، جلد باز) کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مواد کی ایک لامتناہی ڈوری آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

اس کا اسلام کے بنیادی اصولوں سے براہ راست ٹکراؤ ہے:

  • وقت کی قدر: قرآن میں وقت کی قَسم کھائی گئی ہے۔ "والعصر۔ ان الانسان لفی خسر۔" وقت انسانی سرمایہ ہے، جسے بے مقصد بہانا خسارے کا سودا ہے۔
  • توجہ (حفظانِ قلب): اسلامی تصوف میں دل کی حفاظت (حفظانِ قلب) سب سے اہم عمل ہے۔ ہمارے دل پر کون سی چیزیں نقش ہو رہی ہیں؟ شارٹ ویڈیوز کی بے ہنگم بوچھاڑ، نفرت انگیز تبصروں کا طوفان، اور مادی تشہیر کا سیلاب — کیا یہ سب ہمارے "قلب" کو صاف اور مرکوز رکھنے میں مددگار ہیں؟
  • غور و فکر (تدبر): قرآن بار بار "افلا تتفکرون" (کیا تم غور نہیں کرتے) کہتا ہے۔ فوری انعام (Instant Gratification) کی ڈیجیٹل ثقافت ہمیں گہرائی سے سوچنے، صبر سے کام لینے، اور معانی تلاش کرنے کی صلاحیت سے محروم کر رہی ہے۔

2. طلبہ عام طور پر کیا غلطی کرتے ہیں؟

  • "میں تو بس معلومات حاصل کر رہا ہوں": ہم خود کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ہم "پرڈکٹِو" طریقے سے ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ لیکن کیا واقعی؟ کیا آپ جو ویڈیو دیکھ رہے ہیں وہ آپ کی ڈگری، آپ کی روح، یا آپ کی اُمت کے لیے مفید ہے، یا صرف آپ کے "انٹرٹینمنٹ بانڈ" کو بھر رہی ہے؟
  • ڈیجیٹل ہجرت کی بجائے ڈیجیٹل غلامی: ہم نے مغرب سے ٹیکنالوجی تو لے لی، لیکن اس کے پیچھے چلنے والی مادیت پرستی، فردیت اور لذت پسندی کی پوری فلسفیانہ بنیاد بھی بغیر سوچے سمجھے ہڑپ کر لی۔ ہماری "ڈیجیٹل ہجرت" بغیر کسی "مدینہ منورہ" کے ہے — ایک منزل کے بغیر سفر۔
  • "میری آن لائن اور آف لائن شناخت الگ ہے": ہم اپنی آن لائن پرسنلٹی اور حقیقی زندگی کی اقدار میں تضاد پیدا کر لیتے ہیں۔ یہ نفاق کی ایک نئی شکل ہے جو ہماری روحانی صحت کو کھوکھلا کر رہی ہے۔

3. اسلامی عدسے سے حل کی تلاش: ٹیکنالوجی کا "تزکیہ"

اسلام ہر نئی چیز کو رد یا قبول کرنے کا حکم نہیں دیتا، بلکہ "تزکیہ" (پاکیزہ بنانا) کی تعلیم دیتا ہے۔ ٹیکنالوجی کا تزکیہ کیسے ہو؟

  • نیت کا جائزہ (احسان کا اصول): رسول اللہ ﷺ نے "احسان" کی تعریف یوں کی: "کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو..." اس اصول کو ٹیکنالوجی پر لاگو کریں: جب بھی فون اٹھائیں، اسکرین آن کریں، اپنی نیت کو دیکھیں۔ کیا میں یہ کام اللہ کو دیکھتے ہوئے کر رہا ہوں؟ کیا یہ وقت کا صحیح استعمال ہے؟
  • "ڈیجیٹل وضو" کا تصور: جس طرح نماز سے پہلے جسم کے اعضاء دھوتے ہیں، اسی طرح اہم کاموں (مطالعہ، عبادت، خاندانی وقت) سے پہلے "ڈیجیٹل وضو" ضروری ہے۔ موبائل کو سائیلنٹ/ڈیجیٹل ویجر پر رکھنا، غیر ضروری نوٹیفکیشنز بند کرنا، اور ذہن کو ڈیجیٹل شور سے پاک کرنا۔
  • علم کی نیت سے استعمال: اسلامی تاریخ میں بغداد کے "بیت الحکمت" اور قرطبہ کی لائبریریاں علم کے مراکز تھے۔ آج کا انٹرنیٹ ایک "عالمی بیت الحکمت" ہے۔ لیکن ہم اسے "عالمی سیر گاہ" بنا کر استعمال کر رہے ہیں۔ علم حاصل کرنے، مثبت پیغام پھیلانے، اور اُمت کی خدمت کے لیے اس کا استعمال کریں۔

4. طلبہ کے لیے عملی خاکہ: ایک ہفتے کا "ڈیجیٹل احیاء" چیلنج

اگر آپ طالب علم ہیں، تو آپ کا لائحہ عمل یہ ہے:

دن 1-2: تشخیص (Muḥāsabah)

  • اپنے فون کے "سکرین ٹائم" کو چیک کریں۔ کس ایپ پر سب سے زیادہ وقت جا رہا ہے؟
  • از خود پوچھیں: کیا یہ وقت میری تعلیم، میری روح، یا میری اُمت کے کسی کام آیا؟
  • ایک فہرست بنائیں: 1) وہ ڈیجیٹل عادتیں جو مفید ہیں (آن لائن کورسز، تحقیقی مقالے)۔ 2) وہ عادتیں جو وقت کا ضیاع ہیں (بے مقصد اسکرولنگ)۔

دن 3-4: کنٹرول حاصل کرنا

  • ٹیکنالوجی کی جگہ طے کریں: کھانے کےاوقات، خاندانکےساتھ تفریح کے اوقات اور مطالعے کے وقت فون ایک مخصوص جگہ (دوسرے کمرے میں) رکھیں۔
  • نوٹیفکیشنز کو قید کریں: صرف انتہائی ضروری چیزیں (خاندان، فوری کام) ہی نوٹیفائی کر سکیں۔ باقی سب بند۔
  • ایک "ڈیجیٹل مؤذن" بنائیں: فون پر "پریئر ٹائم" یا "اسٹڈی ٹائم" کے دوران خود کار طریقے سے "ڈیجیٹل ویجر" لگ جانے کا نظام ترتیب دیں۔

دن 5-7: تعمیرنو

  • ایک "علمی فیِڈ" بنائیں: اپنے سوشل میڈیا کو صرف تعلیمی، تحقیقی، اسلامی اور تعمیری چینلز سے بھریں۔ منفی یا بے مقصد صفحات کو ان فالو کریں۔
  • "ڈیجیٹل صدقہ" کا تصور: روزانہ صرف ایک ایسی چیز پوسٹ کریں، شیئر کریں یا لکھیں جو کسی کے علم، ایمان یا عملی زندگی میں فائدہ مند ہو۔
  • حقیقی تعلق (Silat al-Rahim): ہر روز کم از کم ایک شخص سے فون کال پر بات کریں (میسج نہیں)۔ ہفتے میں ایک رشتے دار یا بزرگ سے ملاقات کریں۔

"جنریشن زی" کے مسلم نوجوان تاریخ کے ایک منفرد موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہمارے پاس وہ ٹیکنالوجی ہے جو پہلے کسی نسل کے پاس نہیں تھی، اور وہ اسلامی ورثہ ہے جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ خطرہ یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کے "بندوق بردار" بن کر رہ جائیں — جو دوسروں کے بنائے ہوئے الگورتھم کا بے اختیار اوزار ہیں۔ موقع یہ ہے کہ ہم "فکر کے مجاہد" بنیں — جو ٹیکنالوجی کو اپنی اسلامی شناخت، اپنے علمی مقاصد اور اپنی اُمت کی تعمیر نو کے لیے استعمال کریں۔

اس کی شروعات ایک سادہ سوال سے ہوتی ہے: آج، میں نے اپنی سکرین پر جو وقت گزارا، کیا وہ میری آخرت کے "حساب" میں میرے حق میں جائے گا، یا خلاف؟ اسی سوال کا جواب تلاش کرنا ہی ہماری ڈیجیٹل زندگی کا "احیاء" ہے۔