امید کا پرچم

byطیبہ سلیم•August 16, 2026•
Cartoon children celebrating Pakistan with flags, led by a boy holding a large Pakistan flag.

بارش تھم چکی تھی۔ سبز ہلالی پرچم کے کناروں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ پارک کی گیلی گھاس […]

بارش تھم چکی تھی۔ سبز ہلالی پرچم کے کناروں سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ پارک کی گیلی گھاس پر ننگے پاؤں دوڑتے ہوئے بچے ایک دوسرے کے ہاتھوں سے جھنڈیاں چھین رہے تھے۔ دور لاؤڈ اسپیکر پر ملّی نغمہ گونج رہا تھا ’’دل دل پاکستان…‘‘

ہر14 اگست کو حیدر اسی بینچ پر آکر بیٹھ جاتا تھا۔ وقت نے اس کے سیاہ بالوں پر سفیدی کی برف جما دی تھی۔ جوانی کے خواب روزگار کی دوڑ، بچوں کی پرورش، مہنگائی اور ذمے داریوں کی دھول میں کہیں دب گئے تھے۔ پھر بھی وہ ہر سال اسی امید سے یہاں آتا کہ شاید اِس بار پاکستان کی کہانی کچھ بہتر ہوگی۔

’’ابو! اِس دفعہ پھر بیس ہزار کا بل آیا ہے۔‘‘

صبح بیٹے کے یہ الفاظ ابھی تک اس کے کانوں میں گونج رہے تھے۔ اس نے جیب سے بجلی کا بل نکالا۔ کاغذ اس کی انگلیوں میں کانپ رہا تھا۔ سامنے سبز ہلالی پرچم پوری آب و تاب سے لہرا رہا تھا، مگر اس کے دل میں جشن کے بجائے ایک خاموش اداسی بسی ہوئی تھی۔

اچانک شور کا ایک ریلا پارک میں داخل ہوا۔ چند نوجوان سائیلنسر نکلی موٹر سائیکلیں دوڑاتے گزرے۔ ان کے شور سے ایک چھوٹا سا بچہ ڈر کر اپنی ماں سے لپٹ گیا۔ حیدر نے بے اختیار سر ہلایا۔

’’ہم نے آزادی کا مطلب شاید صرف شور مچانا ہی سمجھ لیا ہے۔‘‘

اسی لمحے ایک نوجوان آکر اس کے برابر بیٹھ گیا۔ کندھے پر پرانا سا بیگ تھا، کپڑے سادہ تھے، مگر آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ حیدر نے اس کی طرف دیکھ کر دھیرے سے پوچھا ’’بیٹا! کیا ہمارے بزرگوں نے ایسا پاکستان چاہا تھا؟ جہاں پانی کے لیے قطاریں ہوں، بجلی کا بل خوف بن جائے، گیس خواب بن جائے، تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہوجائے اور ہر طرف سفارش اور بدعنوانی کا راج ہو؟‘‘

نوجوان نے فوراً جواب نہیں دیا۔

کچھ دیر دونوں خاموش بیٹھے رہے۔ اتنے میں ایک ننھا بچہ دوڑتے ہوئے آیا، اس کے ہاتھ سے قومی پرچم زمین پر گر گیا۔ وہ فوراً جھکا، پرچم کو اٹھایا، اس سے مٹی جھاڑی، ماتھے سے لگایا اور پھر مسکراتا ہوا بھاگ گیا۔ دونوں کی نظریں دیر تک اس بچے کا تعاقب کرتی رہیں۔

نوجوان نے آہستہ سے کہا’’چچا! چھ ماہ پہلے میں بھی یہی سوال کرتا تھا۔‘‘

حیدر نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔

’’ابو بیمار تھے۔ گھر میں راشن ختم ہورہا تھا۔ امی اپنی دوائیں آدھی کردیتی تھیں تاکہ چھوٹے بہن بھائی بھوکے نہ سوئیں۔ میں جاب ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکا تھا۔‘‘ اس کی آواز بھاری ہوگئی۔

’’ایک دن محلے کے ایک دوست نے مجھے ’’بنو قابل‘‘ کے بارے میں بتایا، جہاں مفت میں آئی ٹی کورسز کروائے جاتے ہیں۔ میں نے کمپیوٹر سیکھا، نئی مہارت حاصل کی اور آج پہلی بار اپنی کمائی سے گھر کا پورا راشن خرید کر جارہا ہوں۔‘‘ اس نے بیگ کو محبت سے تھپتھپایا۔

’’چچا! پاکستان کے مسئلے ختم نہیں ہوئے، مگر میری بے بسی ختم ہوگئی۔‘‘

حیدر خاموش رہا۔ ہوا کا ایک نرم جھونکا آیا۔ پرچم ایک بار پھر پوری شان سے لہرا اٹھا۔ حیدر نے جیب سے بجلی کا بل نکالا۔ چند لمحے اسے دیکھتا رہا، پھر اسی جیب میں احتیاط سے رکھ دیا، جس میں ایک ننھا سا سبز ہلالی پرچم بھی رکھا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔

اس نے آہستہ سے کہا ’’پاکستان نہیں ہارا، ہم امید ہار بیٹھے تھے۔‘‘

نوجوان نے پرچم کی طرف دیکھا۔

’’وطن اُس دن بدلتا ہے جب اس کے لوگ بدلنے کا فیصلہ کرلیتے ہیں۔‘‘ اسی لمحے آسمان پر آتش بازی کا پہلا رنگ بکھرا۔ بچے خوشی سے تالیاں بجانے لگے۔

حیدر آہستہ سے اپنی جگہ سے اٹھا۔ آج اس کے ہاتھ میں بجلی کا بل بھی تھا اور اسی ہاتھ میں ایک ننھا سا سبز ہلالی پرچم بھی۔ اسے محسوس ہوا مسائل ابھی باقی ہیں، مگر امید بھی ابھی زندہ ہے، اور شاید قومیں اسی امید کے سہارے اپنا مستقبل لکھتی ہیں۔