
چند دہائیوں پہلے کی بات ہے، 14 اگست 1947ء کو مسلمانانِ برصغیر نے عظیم رہنما محمد علی جناح کی قیادت […]
چند دہائیوں پہلے کی بات ہے، 14 اگست 1947ء کو مسلمانانِ برصغیر نے عظیم رہنما محمد علی جناح کی قیادت میں اپنے لیے ایک آزاد ریاست پاکستان کا حصول ممکن بنایا تھا تاکہ اس میں آزادی کے ساتھ اپنی زندگی اسلامی اصولوں کے مطابق گزار سکیں۔ یہ بٹوارا ہندوؤں کو قبول نہ تھا، لہٰذا جیسے ہی پاکستان بننے کا اعلان ہوا، پورے ملک میں فسادات پھوٹ پڑے۔ ہر طرف ہندو بلوائیوں نے قتل و غارت گری کا بازار گرم کردیا، خاص کر جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں تھے، وہاں اُنہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔
مسلمانانِ برصغیر نے منزلِ مقصود کو پانے کے لیے اپنے بزرگوں کی نشانیاں، جائدادیں سب کچھ قربان کرکے پاکستان کی طرف ہجرت کی۔ یہ روئے زمین پر تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت تھی۔ قیام پاکستان کے بعد مختلف ٹرینیں چلائی گئیں جو مہاجرین کو پاک سرزمین تک پہنچا رہی تھیں۔
امرتسر سے لاہور کے لیے ایک ٹرین مہاجرین کو لے کر نکلی تھی۔ میں اس کا وہ بدقسمت ڈبہ ہوں جس نے اپنے اندر موجود لوگوں کی آنکھوں میں دکھ، غم، خوف، امید، سپنے اور خوشی سب سموئے دیکھے تھے۔
28 اگست 1947ء کو میری ریل گاڑی رات کی تاریکی کا سینہ چیرتے ہوئے اپنی منزلِ مقصود کی طرف رواں دواں تھی… ہاں وہی منزلِ مقصود جس کو پانے کے لیے لاکھوں لوگوں نے اپنا تن من دھن سب کچھ وار دیا تھا۔ میرے اندر بیٹھے ہر فرد نے قربانی دی تھی۔ کسی نے اپنا باپ کھویا تھا، کسی نے اپنی والدہ اور بہن کو کنویں میں چھلانگ لگاتے دیکھا تھا۔ وہ سب ایک دوسرے کا غم بانٹ رہے تھے، اور ابھی نہ جانے ان کے عشق کے مزید کتنے امتحان باقی تھے۔ میں نے دیکھا وہ لوگ دعاؤں اور کلمہ طیبہ کا ورد کررہے تھے، ہر فرد اس خوف میں مبتلا تھا کہ نہ جانے کب بلوائی آجائیں اور اپنے علیحدہ وطن کے حصول کی پاداش میں ان سب کو بھی تہ تیغ کر ڈالیں۔
ٹرین کے ڈرائیور نے سب کو سمجھا دیا تھا کہ جیسے ہی بلوائی حملہ کریں تو آپ لوگ سیٹوں کے نیچے چھپ جائیے گا۔
رات کا تیسرا پہر تھا جب ریل گاڑی اچانک جھٹکے سے رکی۔ میرے آگے والے حصے میں چیخ وپکار مچی ہوئی تھی جب کہ پیچھے کے لوگوں نے جلدی سے اپنے آپ کو سیٹوں کے نیچے چھپا لیا تھا، مگر بلوائی کھینچ کھینچ کر لوگوں کو باہر نکال رہے تھے اور ان کی روح کو جسموں سے الگ کررہے تھے۔ میں نے دیکھا کونے میں ایک سہمی ہوئی عورت اپنے سوئے ہوئے دودھ پیتے بچے کو سینے سے لپٹائے ہوئی تھی، اس نے خاموشی سے اپنے لعل کو اپنے سے الگ کیا اورسیٹ کے نیچے چھپا دیا، اتنے میں ایک بلوائی کی نظر اس پر پڑی اور وہ اسے گھسیٹتے ہوئے ریل گاڑی سے باہر رات کی تاریکیوں میں گم ہوگیا۔ چشم فلک نے ایسے نظارے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے جو میں نے وہاں ایک رات میں دیکھے۔
لاہور اسٹیشن پر لوگ اپنے پیاروں سے ملنے کے لیے بے تاب تھے اور مجھے فکر تھی کہ کہیں اس بچے کو بھی لاشوں کے ساتھ ہی نہ دفنا دیا جائے۔ لیکن مجھے یہ دیکھ کر سکون مل گیا کہ وہ بچہ جو سیٹ کے نیچے سو رہا تھا اپنی سرزمین پر پہنچنے کے بعد کسی ممتا کی ماری کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا۔



