مٹی کی خوشبو

by افروز عنایت•September 15, 2026•
Muslim praying hands glowing with light under a crescent moon and mosque silhouettes.

آج 14 اگست کا دن تھا، اتفاقاً قطر میں آج ہفتے کا دن تھا (یہاں جمعہ اور ہفتے کی چھٹی […]

آج 14 اگست کا دن تھا، اتفاقاً قطر میں آج ہفتے کا دن تھا (یہاں جمعہ اور ہفتے کی چھٹی ہوتی ہے) لہٰذا یہاں چھٹی تھی۔ ہم دونوں ماں بیٹے ناشتا کرکے فارغ ہوئے تو میں نے بیٹے فرحت سے کہا ’’آج یومِ آزادی ہے، پاکستان میں تو بڑی رونق ہوگی‘‘ (یہ پہلا موقع تھا کہ میں 14 اگست کے دن اپنے دیس میں موجود نہ تھی)۔ نہ جانے یہ کہتے ہوئے میں کیوں اداس ہوگئی۔ شاید ان گھڑیوں میں مجھے اپنے وطن کی یاد ستارہی تھی جو میری، بلکہ ہم سب کی پہچان ہے۔

میری بات پر بیٹے نے بھی خوش ہوکر کہا ’’جی امی!‘‘ اُس کی آنکھوں میں بھی ارضِ وطن کی محبت جھلک رہی تھی۔ لیکن بیٹے نے میری آنکھوں میں چھپی اداسی پڑھ لی، وہ میری اداسی دور کرنے کے لیے کہنے لگا ’’امی! آج لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں، موسم بھی اچھا ہورہا ہے۔‘‘ لہٰذا ہم دونوں تیار ہوکر گھر سے نکلے۔

قطر ایک چھوٹا لیکن وسائل سے مالا مال خوب صورت اور پُرامن ملک ہے جہاں رات کی تاریکی میں بھی انسان بے خوف وخطر اکیلے بھی سفر کرسکتا ہے۔ یہاں قانون کی پاسداری ہر بڑے چھوٹے کے لیے لازمی ہے، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پر بلا تفریق امیر غریب، بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

خیر شہر میں ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے رونق تھی، صبح کے گیارہ بجے تھے لیکن سڑکوں پر خاصا ٹریفک تھا جو مکمل طور پر قوانین کے مطابق رواں دواں تھا۔

آسمان پر کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔ سورج ان گھٹاؤں کے درمیان آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ میں قدرت کے ان نظاروں میں کھوئی ہوئی تھی کہ ہلکی پھلکی بارش شروع ہوگئی، میں ذرا پریشان ہوگئی کہ کالی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں، بادل گرج رہے ہیں، اگر بارش تیز ہوگئی تو کہیں راستوں میں پانی نہ جمع ہوجائے اور ہم پھنس نہ جائیں۔ فرحت نے مجھے تسلی دی کہ امی یہاں ایسا کچھ نہیں ہوگا، آپ مطمئن رہیں۔

لیکن مجھے بارش میں اپنے شہر کی سڑکیں اور گٹر یاد آگئے جو ندی نالوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ’’بیٹا! آج تو ہمارے کراچی میں کتنی رونق ہوگی، چارون طرف جشن کا سماں ہوگا، سب پُرجوش ہوں گے۔ جشن آزادی کی وجہ سے تمام شہر روشنیوں سے جگمگا رہے ہوں گے۔ کیا یہاں بھی لوگ نیشنل ڈے وغیرہ پر اسی طرح پُرجوش ہوتے ہیں؟‘‘

’’جی، یقیناً آپ اس مرتبہ یہاں کا بھی جشن آزادی ضرور دیکھیے گا، آپ کو مزا آجائے گا۔‘‘

اب بارش بہت تیز ہوگئی تھی۔ فرحت نے کارنش کی طرف گاڑی کا رُخ موڑ دیا جو وہاں سے صرف دو منٹ کی ڈرائیو پر تھا۔

کارنش پر لوگوں کا بڑا ہجوم تھا جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی، لیکن مجال ہے کہیں بھی فرش یا سڑک پر کاغذ کا ایک ٹکڑا بھی نظر آیا ہو، بلکہ میں ایک چیز دیکھ کر ہنس پڑی کہ ایسی تیز موسلا دھار بارش میں صفائی والا عملہ وائپرز سے مسلسل پانی نکالنے کی کوشش کررہا تھا کیوں کہ یہ ان کی ڈیوٹی کا وقت تھا اور چاروں طرف کیمرے لگے ہوئے تھے، اس لیے وہ بڑی ایمان داری سے اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اور اسی وجہ سے کہیں بھی ہمیں بارش کا پانی جمع نظر آیا، نہ ہی کوڑا کرکٹ نظر آیا۔ہم دونوں ماں بیٹے سامنے بینچ پر بیٹھ گئے۔ فرحت سامنے کیبن سے دوکپ کافی کے لے کر آیا۔

’’میں ان قدرتی مناظر کی بڑی دلدادہ ہوں۔‘‘

فرحت میری طرف دیکھ کر کہنے لگا ’’امی! آپ کو تو یہ سب بہت اچھا لگتا ہے یہ قدرتی مناظر، بارش، سیرو تفریح۔‘‘

میں نے مسکرا کر کہا ’’بالکل، ہر باذوق انسان کو یہ سب چیزیں بہت متاثر کرتی ہیں لیکن…‘‘

’’لیکن کیا امی؟‘‘

’’لیکن یہ کہ یہاں میرے وطن کی مٹی کی وہ سوندھی خوشبو محسوس نہیں ہورہی ہے جو مجھے اور تمہیں بھی ہر دم یہ احساس دلاتی ہے کہ یہ چمن میرا ہے، ہم سب کا ہے جو ہم سب کی پہچان ہے۔‘‘

’’جی امی! آپ نے بالکل درست کہا، لیکن اب ہم نوجوان نسل مجبور ہوکر دیارِ غیر کا رُخ کرتے ہیں جب کہ اپنا وطن جیسا بھی ہے ہماری پہچان ہے۔‘‘

ہم دونوں ماں بیٹے نے دل کی گہرائیوں سے وطنِ عزیز کے لیے دعائیں مانگیں کہ اللہ رب العزت ہماری اس اسلامی پاک سرزمین کو سدا شاد و آباد رکھنا اور دشمنانِ اسلام کے ہر قسم کے شر سے اسے محفوظ رکھنا۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

آج وطن عزیز کے موجودہ حالات کو دیکھ کر مجھے 14 اگست کا وہ یادگار دن یاد آگیا جو وطنِ عزیز سے دور قطر میں مَیں نے اداسی میں گزارا تھا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج مجبور ہوکر نوجوان نسل دیارِ غیر کا رخ کررہی ہے۔ اس وقت یہاں کے عوام بہت سی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، بہت سے مسائل سے گزر رہے ہیں جن کے بارے میں اب تو بچے بھی واقف ہوتے جارہے ہیں، لیکن اپنے وطن کی بات ہی اور ہے۔ اس ارضِ پاک میں بارش میں مٹی سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو بھی ہمیں سرور پہنچاتی ہے، خصوصاً دیار غیر میں اس کی یاد آتی ہے۔

ہم نا امید نہیں ہیں۔ یہ وطن سدا سلامت رہے گا اِن شاء اللہ ۔ یہ سوندھی خوشبو اور یہ ارضِ وطن ایک دن ضرور اسلام کا مضبوط قلعہ بن کر جگمگائے گا کیوں کہ اب ایک محب وطن اور انسانیت کی خدمت کرنے والا طبقہ اٹھ کھڑا ہوا ہے جو وطنِ عزیز اور اس کی فلاح و بہبود کا خواہاں ہے اور کوششوں میں لگا ہوا ہے، جس کے ساتھ وطنِ عزیز کے محب وطن شامل ہیں… اور اِن شاء اللہ ان کے پُرامن عزائم اوران کی جدوجہد ضرور رنگ لائے گی۔ بے شک جس کی روشنی اس چمن کا گوشہ گوشہ روشن کرے گی۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔