
طلبہ یونین
افتتاحی جھلک
کسی سرکاری جامعہ کے گیٹ پر داخل ہوتے ہی نئے طالب علم کو دو طرح کے چہرے ملتے ہیں: ایک وہ جو مسکرا کر داخلہ فارم بھرنے میں مدد دیتا ہے، اور دوسرا وہ جو طاقت، شناخت اور “ہم اور وہ” کے نعروں سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ابتدا میں سب کچھ ایک سرگرم، متحرک کیمپس کا حصہ لگتا ہے، مگر کچھ ہی عرصے بعد یہ سرگرمی فکری تربیت کے بجائے خوف، دباؤ اور تصادم میں بدل جاتی ہے۔
یہ سوال اسی لمحے جنم لیتا ہے: کیا طلبہ یونین کا مقصد یہی تھا؟
اسلامی روایت میں علم، اخلاق اور ذمہ داری ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہاں سیاست بھی خدمت اور اصلاح کا نام ہے، نہ کہ غلبہ اور تشدد۔ مگر ہم نے کتاب کے ساتھ قلم رکھنے کے بجائے کتاب چھین کر ہاتھ میں کلاشنکوف تھما دی۔ اس تحریر میں ہم اسی تضاد کو سمجھنے، اس کے اسباب جاننے اور ایک امید افزا راستہ تجویز کرنے کی کوشش کریں گے—وعظ کے بغیر، مگر ذمہ داری کے احساس کے ساتھ۔
یہ مسئلہ کیوں موجود ہے؟
قیامِ پاکستان کے بعد طلبہ یونینز نے قوم سازی میں مثبت کردار ادا کیا۔ مگر وقت کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی براہِ راست مداخلت نے اس پلیٹ فارم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جب طلبہ تنظیمیں اداروں کی فلاح کے بجائے پارٹی لائن پر چلنے لگیں تو مکالمہ کمزور اور طاقت کا استعمال بڑھ گیا۔
مزید یہ کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ اور ریاستی سطح پر مؤثر ضابطہ اخلاق کی عدم موجودگی نے خلا پیدا کیا—اور خلا ہمیشہ طاقتور بیانیہ پُر کرتا ہے، چاہے وہ مثبت ہو یا منفی۔
طلبہ عام طور پر کیا غلطی کرتے ہیں؟
نوجوانی جوش اور شناخت کی تلاش کا زمانہ ہے۔ اسی تلاش میں بہت سے طلبہ:
- تنقیدی سوچ کے بغیر وابستگی اختیار کر لیتے ہیں۔
- تعلیم اور کردار کو ثانوی سمجھنے لگتے ہیں۔
- اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ بیٹھتے ہیں۔
یہ غلطیاں فرد کو وقتی طاقت تو دیتی ہیں، مگر طویل المدت نقصان پورے معاشرے کو ہوتا ہے—تعلیمی تعطل، تشدد، اور اعتماد کی کمی۔
مسلمان شناخت اور معاشرے پر اثرات
اسلام میں علم امانت ہے اور اختلاف آداب کے ساتھ۔ جب مسلمان طلبہ تشدد کی راہ اپناتے ہیں تو یہ ہماری اجتماعی اخلاقی شناخت کو مجروح کرتا ہے۔ سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں بتاتی ہے کہ قیادت خدمت ہے، غلبہ نہیں؛ اور اصلاح دلیل سے ہوتی ہے، ڈنڈے سے نہیں۔
آج کیمپس میں پھیلتی عدم برداشت ہمیں ایک ایسے سماج کی طرف دھکیل رہی ہے جہاں مکالمہ مر جاتا ہے اور طاقت بولتی ہے—یہ راستہ نہ اسلامی ہے، نہ تعمیری۔
عالمی و پاکستانی سیاق
دنیا بھر میں طلبہ تنظیمیں موجود ہیں، مگر ترقی یافتہ معاشروں میں ان کا محور سہولت، نمائندگی اور تربیت ہے۔ وہاں تشدد کی گنجائش نہیں؛ اہلیت، حاضری اور کارکردگی بنیادی شرط ہیں۔
پاکستان میں مسئلہ طلبہ کی نمائندگی نہیں، بلکہ سیاسی سرپرستی کے ساتھ غیر جوابدہ طاقت ہے۔ جب فنڈنگ، ہدایات اور تحفظ باہر سے آئے تو کیمپس کا مقصد پیچھے رہ جاتا ہے۔
اخلاقی کشمکش اور مفاہمت
کیا حل مکمل پابندی ہے؟ یا بے لگام آزادی؟
اسلامی اخلاق ہمیں توازن سکھاتے ہیں: آزادی کے ساتھ ذمہ داری، طاقت کے ساتھ جوابدہی۔ نہ تو طلبہ کو آواز سے محروم کیا جائے، نہ ہی اداروں کو یرغمال بنایا جائے۔ مفاہمت اسی وقت ممکن ہے جب قواعد واضح ہوں اور سب پر یکساں لاگو ہوں۔
اگر آپ طالب علم ہیں، تو آپ کا لائحہ عمل یہ ہے:
- اختلاف کے آداب سیکھیں:دلیل، ڈیٹا اور شائستگی۔
- شفاف نمائندگی کا مطالبہ کریں:اہلیت، حاضری اور تشدد سے پاک منشور۔
- اسلامی اخلاق اپنائیں:امانت، عدل، اور رحم—یہی قیادت کی بنیاد ہے۔
- ڈیجیٹل ذمہ داری:نفرت انگیز مواد سے اجتناب، مکالمہ کی ترویج۔
اختتامیہ
طلبہ یونین مسئلہ نہیں—غلط استعمال مسئلہ ہے۔ اگر ہم نے کتاب کو پھر سے مرکز بنا لیا، اور قیادت کو خدمت کے معنی دے دیے، تو کیمپس امید کی نرسری بن سکتے ہیں۔ نوجوان محض تماشائی نہیں؛ وہ مستقبل کے معمار ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم طاقت کے شور کے بجائے علم کی روشنی چنیں گے۔ کلاشنکوف وقتی خوف پیدا کرتی ہے، مگر کتاب مستقل تبدیلی۔ اور یہی تبدیلی—اسلامی اخلاق کے ساتھ—پاکستان کے کیمپسز کو پھر سے امن، فکر اور ترقی کا گہوارہ بنا سکتی ہے۔


