آزادی کی حقیقت دادی جان کی زبانی

byعائشہ بی•August 14, 2026•
An older woman sits among children dressed in green and white, surrounded by Pakistani flag decorations.

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی یوم آزادی کی تقریبات کا سوچ کر ہی بچوں کی خوشیاں دوگنی ہوجاتی ہیں […]

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی یوم آزادی کی تقریبات کا سوچ کر ہی بچوں کی خوشیاں دوگنی ہوجاتی ہیں کیونکہ وہ ہر سال تیرہ اگست کی رات جھنڈے اور جھنڈیوں سے گھر سجاتے ہیں گھر پر سب کزنز اور دوست جمع ہوکر ملی نغموں اور ترانوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ دادا جان غبارے بسکٹس اور ٹافیاں بانٹتے ہیں اور انکی امی تائی چچی پھوپھو خالہ ممانیاں سب مل کر انہیں تحفے دیتی ہیں۔ تیرہ اگست کی شام بچے گھر کے صحن میں جمع تھے کچھ صحن اور دروازے کی سجاوٹ میں اور کچھ چھت پر سجاوٹ کر رہے تھے۔ کام سے فارغ ہوکر ہانیہ بریرہ ، صفیہ ارحا ارسلہ پاکستان کے قومی ترانے کی مشق کر رہی تھیں جبکہ سعد ،عقبہ،یسع اور کعب تقریر یاد کررہے تھے ۔

اتنے میں بچوں کی آواز سن کر دادی جان بھی صحن میں رکھی کرسی پر آ کر بیٹھ گئیں۔

سب بچوں نے نعرہ لگایا دادی جان آگئیں نانی جان اگئیں۔ ( کیونکہ دادی جان کچھ بچوں کی نانی بھی تھیں نا) بچوں نے سلام کیا اور دادی جان نے مسکرا کر سلام کا جواب دیا۔

یسع نے پوچھا: “دادی جان! ہم ہر سال یومِ آزادی تو بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں، لیکن مجھے اپنی تقریر میں یہ بتانا ہے کہ آزادی کی اصل حقیقت کیا ہے؟” آپ ہمیں کچھ بتائیں۔ سب بچوں نے مل کر کہا کہ ہاں دادی جان ضرور بتائیں…!

دادی جان مسکرائیں اور بولیں:’’میرے پیارے پیارے بچو! آزادی صرف جھنڈے لہرانے یا آتش بازی کرنے، کیک کاٹنے کا نام نہیں ہے ، میرے بچو! آزادی ایک بہت بڑی نعمت ہے، جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے شمار قربانیاں دیں۔ انہوں نے اپنا گھر بار ، مال، رشتے داروں آرام سب کچھ چھوڑ کر اس پاک وطن جانے کے لئے تیار ہوگیا تھا….. بلکہ اپنی جانیں تک قربان کر دیں تاکہ ہم ایک آزاد ملک میں عزت اور سکون سے اپنے دین کے مطابق زندگی گزار سکیں‘‘۔

ارسلہ نے حیرت سے پوچھا: ’’تو کیا آزاد ملک میں رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم جو جی چاہیں کریں؟‘‘

دادی جان نے بہت ہی نرمی سے جواب دیا:’’نہیں بیٹی! حقیقی آزادی تویہ ہے کہ مسلمانوں کو قرآن اور سنت کے مطابق آزاد وطن میں زندگی گزار سکیں. تم جو جی چاہے کرو یہ آزادی کا مطلب ہرگز نہیں ہے۔ اس پر مرتضیٰ کہنے لگا کہ’’کیونکہ یہ ملک تواسلام کے بنیاد پر ہی بنا ہے۔ دادی جان نے بتایا اور جو چیز بنیاد پہ قائم نہ رہے تو وہ کھوکھلی اور بے جان ہو جاتی ہے۔ ….. بچوں….! ہمیں پاکستان بنانے کا مقصد اسلام اور مسلمانوں کو اپنی پہچان بنانے اور بے دین اور آپس میں گڈ مڈ ہوتے مختلف مذہب کے رسوم و رواج والے معاشرے اور ماحول سے آزادی حاصل کرنا تھا۔ یہ بات ہمیں اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے……..

ارحا نے کہا نانی جان ! پھر تو پاکستان آسانی کے ساتھ بن گیا ہوگا….؟

دادی جان نے کہا ارحا ماشاء اللہ یہ تو بہت ہی اچھا سوال کیا ہے…… اور سب کو معلوم ہی ہے کہ کسی چیز کو حاصل کرنے کے لیے محنت لگن اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس طرح امتحانوں اور کھیل میں کامیابی کے لیے ہم اپنی نیند اور آرام کی قربانی دیتے ہیں کامیابی کے لیے خوب محنت کرتے ہیں اسی طرح اس ارض پاک کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے لاکھوں زخم سینے اور قربانیاں دیں اور اس وطن کی مٹی میں شہداء کا خو نشامل ہے۔ اتنے میں سعد نے جوش میں نعرہ لگایا نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔ پھریسع نے کہا پاکستان کا مطلب کیا ؟ سب نے پرجوش آواز نے کہا لا الہ الا اللہ …. دادی جان نے کہا میں بہت چھوٹی تھی پاکستان بنتے وقت بنیں نے اس ملک کے ابتدائی دور میں ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والوں کے قافلے میں بھی شامل تھی میں نے ان مشکلات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

ازلان نے کہا ’’دادی جان آپ نے کیا کیا دیکھا تھا….؟ ‘‘دادی جان کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے…….

پاکستان بننے کے نام سنتے ہی ہندو اور سکھ مل کر مسلمانوں کے قتل و غارت شروع کردیا تھا…… راستے میں لاشیں ہی لاشیں تھیں دریاؤں اور نہروں میں شہدا کا خون شامل تھا. ان ظالموں نے ننھے منے بچوں کو بھی مار ڈالا تھا……..

اور بھی بہت کچھ برداشت کرنے کے بعدہم نے پیارا وطن حاصل کیا ہے. پیارے بچو یہ وطن ہمارے پرکھوں کی امانت ہے ہماری شناخت ہے ہماری بقا اور آزادی کا نشان ہے۔ اب ہم سب مل کر اسکی حفاظت اور اسکی ترقی کے لیے محنت اور جدوجہد کرنی ہوگی. آپ لوگ محنت اور لگن سے پڑھیں گے آگے بڑھیں گے نا !