بے گناہ مجرم

An illustration of an ornate Middle Eastern court with a seated ruler, a kneeling man presenting a scroll, and other figures.

بنوامیہ کی سلطنت اور خلافت کے بعد عباسی خاندان کی خلافت شروع ہوئی۔ اس خاندان کا دوسرا خلیفہ ابوجعفر منصور […]

بنوامیہ کی سلطنت اور خلافت کے بعد عباسی خاندان کی خلافت شروع ہوئی۔ اس خاندان کا دوسرا خلیفہ ابوجعفر منصور تھا۔ اس نے 136ہجری (754ء) سے 158ہجری (775ء) تک حکومت کی۔ ایک دفعہ کسی شخص نے اس کو خبر دی کہ فلاں شخص کے پاس بنوامیہ کے بہت سے خزانے اور قیمتی چیزیں ہیں، جو اس کے پاس ان (بنوامیہ) کی طرف سے امانت کے طور پر رکھے ہوئے ہیں۔چونکہ عباسی خاندان بنوامیہ کا دشمن تھا اس لیے ابوجعفر منصور نے حکم دیا کہ اس شخص کو گرفتار کرکے میرے سامنے پیش کیا جائے۔ جب اسے گرفتار کرکے منصور کے سامنے پیش کیا گیا تو منصور نے اُس سے کہا:”ہمیں خبر ملی ہے کہ تمہارے پاس بنوامیہ کے لوگوں کے خزانے اور امانتیں ہیں، وہ سب لاکر یہاں حاضر کرو۔“قیدی نے کسی گھبراہٹ یا خوف کے بغیر جواب دیا:”اے امیرالمؤمنین! کیا آپ بنوامیہ کے وارث ہیں؟“منصور: ”نہیں۔“قیدی: ”تو کیا بنوامیہ نے آپ کے حق میں وصیت کی ہے کہ اُن کا مال آپ کو دیا جائے؟“منصور: ”نہیں۔“قیدی: ”جب نہ آپ اُن کے وارث ہیں اور نہ انہوں نے آپ کے حق میں وصیت کی ہے تو آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ اُن کی امانتیں مجھ سے طلب کریں!“منصور: (کچھ دیر سر جھکانے کے بعد) ”مجھے یہ حق اس لیے پہنچتا ہے کہ بنوامیہ نے مسلمانوں پر بہت ظلم ڈھائے تھے اور ان کے مال واسباب پر زبردستی قبضہ کیا تھا۔ اب میں ان مظلوم مسلمانوں کا مال ظالموں کے ہاتھ سے چھین کر سرکاری خزانے (بیت المال) میں جمع کرنا چاہتا ہوں۔“قیدی: ”امیر المؤمنین! آپ جو کچھ فرما رہے ہیں اسے اُس وقت مانا جا سکتا ہے جب آپ شریعت کے مطابق یہ گواہی پیش کریں کہ جو امانتیں میرے پاس ہیں وہ بنوامیہ کے اُس مال و اسباب میں سے ہیں جن پر انہوں نے زبردستی ظلم سے قبضہ کیا تھا۔ کیونکہ بنوامیہ ایسے مال و اسباب کے بھی جائز مالک تھے جس پر انہوں نے زور زبردستی اور ظلم سے قبضہ نہیں کیا تھا۔“منصور قیدی کا جواب سن کر کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اپنے وزیر ربیع سے مخاطب ہوکر کہا:”کیوں ربیع! اس قیدی نے جو کچھ کہا ہے، وہ درست ہی تو ہے۔ شریعت کے مطابق اس کے ذمہ ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔“پھر اس نے قیدی سے پوچھا:”تمہاری کوئی حاجت ہو تو بیان کرو۔“قیدی: ”امیر المؤمنین! میری ایک حاجت تو یہ ہے کہ فوراً ایک قاصد کے ہاتھ میرا خط میرے گھر بھجوا دیں تاکہ میرے گھر والوں کو اطمینان ہوجائے کہ میں خیریت سے ہوں۔ اِس وقت میری گرفتاری کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہوں گے۔ میری دوسری حاجت یہ ہے کہ جس شخص نے آپ کو یہ خبر دی کہ میرے پاس بنوامیہ کی امانتیں پڑی ہیں، اُسے یہاں میرے سامنے بلالیں۔ خدا کی قسم بنوامیہ کا کوئی مال و اسباب میرے پاس نہیں ہے۔ اس شخص نے جھوٹی خبر آپ کو دی۔“منصور نے اپنے وزیر ربیع کو حکم دیا کہ اُس شخص کو میرے سامنے پیش کرو جس نے یہ خبر دی تھی۔ وزیر نے تھوڑی دیر میں اُس شخص کو خلیفہ کے سامنے پیش کردیا۔ اسے دیکھتے ہی بے گناہ قیدی نے عرض کیا:”امیرالمؤمنین! یہ شخص میرا ملازم تھا، جو میرے تین ہزار دینار لے کر بھاگ گیا تھا۔“منصور نے بھگوڑے ملازم سے گرج کر کہا:”سچ بتاؤ کہ حقیقت کیا ہے؟“بھگوڑا ملازم: ”حضور! جو کچھ انھوں نے بیان کیا ہے وہ حقیقت ہے۔ میں واقعی ان کے تین ہزار دینار لے کر بھاگا ہوں۔“ پھر وہ رو رو کر رحم کی بھیک مانگنے لگا۔اب خلیفہ نے بے گناہ قیدی سے مخاطب ہوکر کہا: ”میں آپ سے سفارش کرتا ہوں کہ اس پر رحم کیجیے اور اس کو معاف کردیجیے۔“بے گناہ قیدی: ”میں نے اس کا جرم معاف کیا اور جتنا مال لے کر یہ بھاگا، وہ بھی معاف کرتا ہوں اور تین ہزار دینار اپنے پاس سے دیتا ہوں تاکہ یہ حلال کی روزی کما کر کھائے۔“