رنجیت سنگھ کا دورِ حکومت: سکھ راج میں اسلام دشمنی اور جبر

An illustration depicting Sikh warriors on horseback, with flags, riding through a burning, destroyed city with a grand mosque in the background, as distressed people walk through fires in the foreground. Urdu text states "Ranjit Singh's era of government, Sikh rule, enmity against Islam and oppression."

رنجیت سنگھ کا دورِ حکومت: سکھ راج میں اسلام دشمنی اور جبر


مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دورِ حکومت (1792ء تا 1839ء) برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا ایک ایسا پرآشوب اور متنازع باب ہے جس پر مورخین ہمیشہ سے دو آراء کا شکار رہے ہیں۔ ایک طرف جہاں انگریز مورخین اور رنجیت سنگھ کے دربار سے وابستہ خوشامد پسند قلم کار اسے ایک سیکولر، روادار اور انصاف پسند حکمران کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہیں دوسری طرف برصغیر کے معتبر تاریخی دستاویزات، مسلم مورخین کی تحریروں اور زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ رنجیت سنگھ کی مملکت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا، وہ مذہبی تعصب، سیاسی جبر اور ثقافتی استحصال سے بھرپور تھا۔
‎اگرچہ رنجیت سنگھ نے اپنی مملکت کے استحکام کے لیے کچھ مسلم شخصیات کو وزارت کے عہدوں پر بھی فائز کیا، لیکن اس کی ظاہری سیاسی مصلحت پسندی کے پسِ پردہ اسلامی شعائر کی توہین، مساجد کے تقدس پامال کرنے اور مسلمانوں کو محکوم رکھنے کی ایک طویل داستان پوشیدہ ہے۔ رنجیت سنگھ کے دور کے ان سیاہ بابوں کو عام طور پر سیکولرازم کے پردے میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
‎برصغیر پر بالخصوص پنجاب کے خطے میں جب مغل سلطنت کا شیرازہ بکھرا اور افغان درحکومتوں کا اثر و رسوخ کمزور پڑا، تو سکھ مسلوں نے اس طاقت خلا کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ رنجیت سنگھ نے اپنی فتوحات کا آغاز
7 جولائی 1799ء کو لاہور پر قبضہ کرنے سے کیا، جو اس وقت کے مسلم تہذیب و تمدن کا ایک عظیم مرکز تھا۔
‎لاہور کی فتح کے بعد جو کچھ اس شہر اور اس کے باسیوں پر گزری، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ روایتی سکھ جتھوں اور اکالیوں نے جب شہر میں داخل ہو کر لوٹ مار شروع کی تو مسلمانوں کے محلے بالخصوص نشانہ بنے۔ رنجیت سنگھ نے بظاہر امن کا اعلان کیا لیکن اس کے سپاہیوں نے اسلامی عمارتوں، مغل دور کے شاہکار مقابر اور مساجد کے تقدس کا ذرا بھی پاس نہ رکھا۔ مورخین کے مطابق، تاریخی عمارات سے قیمتی سنگِ مرمر، سونا، چاندی اور نقش و نگار نوچ لیے گئے۔ لاہور کے مشہور مقبرہ آصف خان اور مقبرہ نور جہاں کو بری طرح مسخ کیا گیا اور وہاں سے قیمتی پتھر اکھاڑ کر سکھ سرداروں کی عمارتوں میں لگائے گئے۔ اس وحشیانہ عمل سے یہ واضح ہو گیا کہ رنجیت سنگھ کے دل میں مسلم ثقافت اور اسلامی ورثے کے خلاف کس قدر گہرا بغض اور نفرت پائی جاتی تھی۔
‎
‎رنجیت سنگھ کی اسلام دشمن پالیسی کا سب سے المناک اور شرمناک مظہر مساجد کی بندش اور ان کی حرمت کو پامال کرنا تھا۔ اسلامی تاریخ میں مساجد کو جو تقدس حاصل ہے، سکھ فوجیوں نے
اسے دانستہ مجروح کیا۔ 12 اپریل 1801ء کو جب رنجیت سنگھ باضابطہ طور پر پنجاب کا مہاراجہ بنا، تو اس کے بعد ریاست بھر میں مساجد کو اصطبلوں، گوداموں اور فوجیوں کی رہائش گاہوں میں تبدیل کرنے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوا۔ لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد، جو مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت میں تعمیر کی گئی تھی اور جہاں بیک وقت ہزاروں مسلمان سجدہ ریز ہوتے تھے، اسے رنجیت سنگھ نے گھوڑوں کا اصطبل اور بارود خانہ بنا دیا۔ رنجیت سنگھ نے تقریباً 40 سال تک اور اس کے مرنے کے بعد
مزید 10 سال تک اس عظیم الشان عبادت گاہ کے صحن میں سکھوں کے گھوڑے باندھے گئے، جس سے مسلمانوں کے جذبات کو روندنے کی دانستہ کوشش کی گئی۔ اسی طرح لاہور کی تاریخی وزیر خان مسجد اور سنہری مسجد سمیت درجنوں مساجد پر یا تو تالے ڈال دیے گئے یا ان کے حقوقِ ملکیت پر غاصبانہ قبضہ کر لیا گیا۔ مؤرخین درج کرتے ہیں کہ 1805ء میں جب امرتسر اور گرد و نواح کے علاقوں پر سکھ فوج نے مکمل غلبہ حاصل کیا، تو وہاں موجود قدیم مساجد کو یا تو مسمار کر دیا گیا یا انہیں سکھ مت کے ماننے والوں کی تحویل میں دے دیا گیا تاکہ مسلمانوں کی کوئی بھی اجتماعی علامت باقی نہ بچے۔
‎مسلمانوں کے دینی فرائض کی ادائیگی پر پابندیاں عائد کرنا رنجیت سنگھ کی حکومت کا روز کا معمول تھا۔ مورخین بتاتے ہیں کہ
مارچ 1807ء کو جب سکھ فوجوں نے قصور کے افغان حکمران قطب الدین خان کو شکست دی اور قصور پر قبضہ کیا، تو اس کے بعد وہاں کے مسلمانوں پر سخت ترین پابندیاں عائد کی گئیں۔ قصور کی جامع مساجد اور دینی مدارس کو بند کر دیا گیا، علما کو شہر بدر کیا گیا اور اذان دینے پر زبانی و جانی سزاؤں کا قانون نافذ کیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے یہ تصور بھی محال تھا کہ وہ بلند آواز میں اپنے خدا کو پکار سکیں۔ رنجیت سنگھ کے دور میں گائے ذبح کرنے پر مکمل پابندی تھی اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے مسلمان کو براہِ راست موت کی سزا دی جاتی تھی۔
2 جون 1818ء کو جب ملتان کی فتح کے دوران نواب مظفر خان سادات اور غازیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور سکھ فوج نے ملتان کے قلعے پر قبضہ کیا، تو اس کے بعد ملتان کے مسلمانوں کے ساتھ جو مظالم ڈھائے گئے وہ تاریخ کے ماتھے پر بدترین داغ ہیں۔
‎رنجیت سنگھ کے دور میں عدلیہ اور قوانین کا ڈھانچہ بھی مکمل طور پر مسلم دشمنی پر مبنی تھا۔ پنچایت راج اور سکھ روایات کے مطابق فیصلے صادر کیے جاتے تھے جہاں مسلمانوں کے گواہوں کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ مال گزاری اور ٹیکسوں کے نام پر مسلمانوں کا معاشی استحصال کیا گیا۔ کسانوں اور کاریگروں پر بھاری محصول عائد کیے گئے تاکہ وہ معاشی طور پر کبھی سر نہ اٹھا سکیں۔
14 مارچ 1823ء کو نوشہرہ کی خونریز جنگ کے بعد، جو کہ سکھ فوج اور یوسف زئی مجاہدین کے درمیان لڑی گئی تھی، رنجیت سنگھ کی فوج نے خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں شدید تباہی مچائی۔ اس جنگ میں جب سکھوں کو عارضی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تو اس کا غصہ پشاور اور نوشہرہ کے نہتے دیہات کے مسلمانوں پر نکالا گیا۔ دیہات کے دیہات نذرِ آتش کر دیے گئے، مساجد کو گرا دیا گیا اور ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو قیدی بنا کر ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔
‎پشاور اور اس کے گردونواح پر تسلط قائم کرنے کے لیے رنجیت سنگھ کے مشہور اور خونخوار جرنیل ہری سنگھ نلوا نے جو اقدامات کیے، وہ بھی اس کی اسلام دشمنی کے
عکاس ہیں۔ 6 مئی 1834ء کو جب ہری سنگھ نلوا نے پشاور پر قبضہ کیا، تو اس کے بعد پشاور کی تاریخی حیثیت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی. قلعے پر سکھ پرچم لہرانے کے بعد وہاں کے مقامی مسلمانوں پر سخت نگرانی بٹھا دی گئی۔ جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگائی گئی اور دینی کتب کی خرید و فروخت کو جرم قرار دیا گیا۔ پشاور کے بازاروں میں مسلمانوں کو زبردستی سکھ روایات کی پابندی کرنے پر مجبور کیا گیا اور انکار کرنے والوں کو سرعام کوڑے مارے جاتے۔ 1835ء اور 1836ء کے دوران پشاور اور خیبر کے قبائلی علاقوں میں سکھ فوج کی طرف سے جو مہمات چلائی گئیں، ان کا مقصد صریحاً اسلامی آبادی کو خوفزدہ کرنا اور ان کی ثقافتی و مذہبی شناخت کو مٹانا تھا۔ ان تمام کارروائیوں میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی براہِ راست سرپرستی شامل تھی، کیونکہ کوئی بھی جرنیل اس کی مرضی کے بغیر اتنی بڑی مذہبی تبدیلیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔
‎مسلمان خواتین کی عصمت دری اور ان کے ساتھ جبر کے واقعات بھی رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت کا ایک تاریک پہلو ہیں۔ اگرچہ درباری مورخین نے رنجیت سنگھ کی کچھ مسلم بیویوں (جیسے موران سرکار اور گل بہار بیگم) کا ذکر کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ روادار تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ شادیاں زیادہ تر سیاسی مجبوریوں، جبر اور طاقت کے توازن کا نتیجہ تھیں، نہ کہ کسی حسنِ سلوک کا مظہر۔ عام مسلمان رعایا اور خصوصاً مقبوضہ علاقوں کی خواتین کے ساتھ سکھ
فوجیوں کا رویہ انتہائی ظالمانہ تھا۔ 1831ء کے وسط میں جب کشمیر اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں سکھ فوج نے بغاوتوں کو کچلنے کے نام پر آپریشن کیے، تو مسلم خواتین کی بے حرمتی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سکھ فوجیوں نے فتح کے نشے میں چور ہو کر گھروں لوٹے اور اسلامی پردے کے تقدس کو پامال کیا۔ ان مظالم کے خلاف جب بھی کسی مسلمان نے آواز اٹھانے کی جرأت کی، اسے بغاوت قرار دے کر توپ کے آگے اڑا دیا گیا۔
‎رنجیت سنگھ کے دور میں مذہبی تعصب کا عالم یہ تھا کہ اسلامی مدارس اور مکاتبِ فکر کے چراغ گل کر دیے گئے تھے۔ جو مدارس صدیوں سے علم کی روشنی پھیلا رہے تھے، ان کی جائیدادیں اور اوقاف ضبط کر لیے گئے تاکہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں علم اور شعور سے محروم رہ جائیں۔ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری اور حضرت میاں میر کے مزارات کے حوالے سے جو روایات بیان کی جاتی ہیں کہ مہاراجہ ان کا احترام کرتا تھا، وہ دراصل اس کی سیاسی مصلحت کا حصہ تھیں کیونکہ لاہور کے با اثر مسلم طبقات کو قابو میں رکھنا اس کی مجبوری تھی، لیکن عام سطح پر مساجد اور خانقاہوں کی توہین کا سلسلہ کبھی نہیں تھما۔
‎یہ تمام تاریخی حقائق اس بات کا دوٹوک ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دور مسلمانوں کے لیے امن اور رواداری کا نہیں بلکہ مذہبی جبر، ثقافتی یلغار اور سیاسی محکومی کا دور تھا۔ مساجد کو اصطبل بنانا، اذان پر پابندی لگانا، اسلامی ورثے کو مسخ کرنا، دینی تعلیمی نظام کو تباہ کرنا اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا کر رکھنا اس کی حکومت کے نمایاں خدوخال تھے۔ تاریخ کے اس تاریک دور نے برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں یہ احساس گہرا کر دیا کہ اپنی دینی و ملی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک آزاد اور خودمختار خطے کا حصول کتنا ضروری ہے۔ لہذا، رنجیت سنگھ کے دور کو سیکولرازم کا نام دینا تاریخی حقائق کے ساتھ صریح ناانصافی اور حق پوشی کے مترادف ہے، کیونکہ سکھ سلطنت کی بنیادیں مسلمانوں کے خون، ان کے مذہبی جذبات کی پامالی اور اسلامی شعائر کی توہین پر استوار تھیں۔
‎مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دورِ حکومت اور برصغیر کی مسلم تاریخ کے حقائق کو سمجھنے کے لیے چند اہم عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، غیر جانبدار تاریخی مآخذ اور دستاویزات کا از سرِ نو گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تاکہ تعصب سے پاک حقائق سامنے آ سکیں۔ تعلیمی سطح پر نوجوان نسل کو اس پیچیدہ تاریخ سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ متوازن نقطہ نظر اپنا سکیں، اور تاریخی آرکائیوز کو ڈیجیٹلائز کیا جائے تاکہ محققین کو درست معلومات تک رسائی حاصل ہو سکے۔