نبی اکرمؐ ، داعی انقلاب

A gold circular emblem with ornate Arabic calligraphy of "Muhammad" surrounded by intricate patterns.

(دوسری اور آخری قسط) ایسا طریق کار اختیار نہ کرنے کی وجہ لیکن اللہ علیم و حکیم نے آپؐ کو […]

(دوسری اور آخری قسط)

ایسا طریق کار اختیار نہ کرنے کی وجہلیکن اللہ علیم و حکیم نے آپؐ کو اس طریق کار پر بھی نہیں چلایا۔ اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ یہ طریقِ کار دعوتِ اسلامی کے لیے موزوں اور مناسب نہیں ہے۔ وہ جانتا تھا کہ معاشرے کے اندر حقیقی اجتماعی انصاف کے سوتے صرف ایک ہمہ گیر نظریہ کے چشمۂ صافی سے ہی پھوٹ سکتے ہیں جو معاملات کی زمامِ کار کلیتاً اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے ہاتھ میں دیتا ہو اور جو معاشرہ ہر اس فیصلے کو برضاورغبت قبول کرتا ہو، جو دولت کی منصفانہ تقسیم اور اجتماعی کفالت کے بارے میں بارگاہِ الٰہی سے صادر ہو، اور معاشرے کے ہرفرد کے دل میں، دینے والے کے دل میں بھی اور پانے والے کے دل میں بھی یہ بات پوری طرح نقش ہوکہ وہ جس نظام کو نافذ کر رہا ہے اس کا شارع خود اللہ سبحانہٗ تعالیٰ ہے، اور اس نظام کی اطاعت سے وہ نہ صرف دُنیا بلکہ آخرت میں بھی فلاح پائےگا۔

معاشرے کی یہ کیفیت نہ ہو کہ کچھ انسانوں کے دل حسدوکینہ کی آگ میں جل رہے ہوں۔ معاشرے کے تمام معاملات تلوار اور ڈنڈے کے زور پر طے کیے جارہے ہوں اور انسانوں کے دل ویران اور ان کی روحیں دم توڑ رہی ہوں۔ جیساکہ آج ان نظاموں کے تحت ہورہا ہے جو غیراللہ کی اُلوہیت پر قائم ہیں۔

اصلاحِ اخلاق کی مہم کیوں نہیں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت جزیرۃ العرب کی اخلاقی سطح ہرپہلو سے انحطاط کے آخری کنارے تک پہنچی ہوئی تھی۔ صرف چند بدویانہ فضائلِ اخلاق خام حالت میں موجود تھے۔ ظلم اور جارحیت نے معاشرے کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ جاہلی دور کا نامور شاعر زہیر ابن ابی سلمیٰ اسی معاشرتی فساد کی طرف اپنے اس شعر میں حکیمانہ انداز سے اشارہ کرتا ہے:

ومن لم یرد عن حوضہٖ بسلاحہٖیُھدّم ومن لا یظلم النَّاس یُظلم

[جو ہتھیار کی طاقت سے اپنا دفاع نہیں کرے گا، تباہ و برباد ہوگا اور جو خود بڑھ کر لوگوں پر ظلم نہیں کرے گا وہ خود (بالآخر) ظلم کا شکار ہوجائے گا۔]

اسی خرابی کی طرف جاہلی دور کا یہ مشہور و معروف مقولہ بھی اشارہ کرتا ہے:اُنْصُرْ اَخَاکَ ظَالِمًا اَوْ مَظْلُوْمًا، اپنے بھائی کی مدد کر، خواہ وہ ظلم کر رہا ہو یا اُس پر ظلم ہورہا ہو۔

شراب خوری اور جوا بازی معاشرتی زندگی کی روایت بن چکے تھے، اور ان پر فخر کیا جاتا تھا۔ جاہلی دور کی تمام شاعری خُمر اور قمار کے محور پر گھومتی ہے۔ طرفہ ابن العبد کہتا ہے:

فلولا ثلاث ھن من عیشۃ الفتٰیوجدّک لم احفل متی قام عوَّدی

[اگر تین چیزیں جو ایک نوجوان کی زندگی کا لازمہ ہیں نہ ہوتیں، تو مجھے کسی چیز کی پروا نہ رہتی بشرطیکہ مجھے تابسدِ رمق غذا ملتی رہتی۔]

فمنھن سبقی العاذلات بشربۃٍکمیت متی ما تعدّ بالماء تزید

[ان میں سے ایک میرا اپنے رقیبوں سے مَے نوشی میں سبقت لے جانا ہے، اور مَے بھی وہ دوآتشہ جس میں اگر پانی ملایا جائے تو اس پر کف آجائے۔]

وما ذال تشرابی الخمور ولذّتیوبذلی وانفاقی طریفی ومتلدی

شراب نوشی، لذت پرستی میں میری رغبت ہے، اور میرا طریقہ ہے کہ کھلا خرچ کروں اور دوسروں پر نثار کروں۔

الٰی ان تحامتنی العشیرۃ کلّھاوافردت افراد البعیر المعبّد

[یہاں تک کہ میرا پورا قبیلہ مجھ سے دُور ہٹ جائے اور مَیں الگ تھلگ کردیا جائوں، جیسے کہ خارش زدہ اُونٹ کو گلّہ سے الگ کر دیا جاتا ہے۔]

زناکاری مختلف شکلوں میں رائج تھی اور اس جاہلی معاشرے کی قابلِ فخر روایت بن چکی تھی۔یہ ایک ایسا حمام ہے جس میں ہردور کا جاہلی معاشرہ عریاں نظر آتا ہے، خواہ وہ دورِ قدیم کا جاہلی معاشرہ ہو یا عہد ِ حاضر کا (نام نہاد مہذب معاشرہ)۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے جاہلی معاشرے کی حالت ان الفاظ میں بیان کی ہے:

جاہلیت میں نکاح کی چار صورتیں تھیں: ایک تو وہ صورت تھی جو آج لوگوں میں جاری ہے، یعنی ایک آدمی دوسرے شخص کو اس کی بیٹی یا اس کی تولیّت میں رہنے والی دوشیزہ کے لیے پیغامِ نکاح دیتا اور اس کا مہر ادا کرکے اس سے نکاح کرلیتا۔ نکاح کی دوسری صورت یہ تھی کہ مرد اپنی بیوی سے، جب کہ وہ حیض سے پاک ہوچکی ہوتی، کہتا کہ فلاں شخص کو بلا، اور اُس سے پیٹ رکھوا۔ چنانچہ وہ خود اس سے الگ رہتا اور اس وقت تک نہ چھوتا جب تک اُس آدمی کے حمل کے آثار ظاہر نہ ہوجاتے۔ آثار ظاہر ہوجانے کے بعد خاوند اگر چاہتا تو اس سے ہم بستری کرلیتا۔وہ یہ طریقہ اس لیے اختیار کرتا، تاکہ اُسے اپنے سے اچھے نسب کا لڑکا ملے۔ نکاح کی اس شکل کو استبضاع کہا جاتا ہے۔

نکاح کی ایک تیسری صورت بھی تھی۔ مردوں کی ایک ٹولی جو دس سے کم ہوتی، جمع ہوجاتی اور مل کر ایک عورت کے پاس جاتی، اور اُس سے مقاربت کرتی۔ جب اُسے حمل ٹھیر جاتا تو بچے کی ولادت پر چند راتیں گزر جانے کے بعد وہ اُن سب کو بلا بھیجتی۔ اس طرح بلاوا ملنے پر کوئی شخص جانے سے انکار نہ کرسکتا تھا۔ جب وہ اُس کے پاس جمع ہوجاتے، تو وہ عورت اُن سے کہتی: تمھیں اپنی کارروائی کا نتیجہ تو معلوم ہوہی چکا ہے۔ میں نے ایک بچہ جنا ہے۔ پھر وہ اُن میں سے ایک کی طرف اشارہ کرکے کہتی کہ یہ تیرا بیٹا ہے۔ اس پر بچّے کا نام اُس شخص کے نام پر رکھ دیا جاتا، اور لڑکا اُس کی طرف منسوب ہوجاتا اور وہ اِس نسبت سے انکار نہ کرسکتا تھا۔

نکاح کی چوتھی قسم یہ تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہوجاتے اور مل کر ایک عورت کے پاس جاتے، جس کے پاس جانے میں کسی کو کوئی رکاوٹ نہ ہوتی تھی۔ دراصل یہ پیشہ ور فاحشہ عورتیں تھیں اور علامت کے طور پر اپنے دروازوں پر جھنڈے نصب کرلیتیں۔ جو شخص بھی اپنی حاجت پوری کرنا چاہتا، اُن کے پاس چلا جاتا۔ ایسی عورتوں میں سے اگر کسی کو حمل ٹھیرجاتا تو وضع حمل کے بعد سارے لوگ اُس کے پاس اکٹھے ہوجاتے، اور ایک قیافہ شناس کو بلا لیتے۔ وہ اُن میں سے جس کی طرف اس لڑکے کو منسوب کرتا وہ لڑکا اس شخص کا قرار پاتا اور وہ اُس سے انکار نہ کرسکتا۔(بخاری، کتاب النکاح)

سوال کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو ایک اصلاحی تنظیم کے قیام کا اعلان کرکے اس کے ذریعے اصلاحِ اخلاق، تزکیۂ نفوس اور تطہیرِ معاشرہ کا کام شروع کر دیتے۔ کیونکہ جس طرح ہرمصلحِ اخلاق کو اپنے ماحول کے اندر چند پاکیزہ اور سلیم الفطرت نفوس ملتے رہے ہیں، اسی طرح آپؐ کو بھی ایک ایسا پاک سرشت گروہ بالیقین دستیاب ہوجاتا جو اپنے ہم جنسوں کے اخلاقی انحطاط اور زوال پر دلی دُکھ محسوس کرتا۔ یہ گروہ اپنی سلامتی ٔ فطرت اور نفاستِ طبع کے پیش نظر آپؐ کی دعوتِ تطہیر و اصلاح پر لازماً لبیک کہتا۔

یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کام کا بیڑا اُٹھاتے تو بڑی آسانی سے اچھے انسانوں کی ایک جماعت کی تنظیم میں کامیاب ہوجاتے۔ یہ جماعت اپنی اخلاقی طہارت اور روحانی پاکیزگی کی وجہ سے دوسرے انسانوں سے بڑھ کر عقیدئہ توحید کو قبول کرنے اور اُس کی گراں بار ذمہ داریوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہوتی اور اس حکیمانہ آغاز سے آپ کی یہ دعوت کہ اُلوہیت صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے، پہلے ہی مرحلہ میں تُند و تیز مخالفت سے دوچار نہ ہوتی۔

اس طریقہ میں کیا کمزو ری تھی؟یہ راستہ بھی منزلِ مقصود کو نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے یہ معلوم تھا کہ اخلاق کی تعمیر صرف عقیدہ کی بنیاد پر ہی ہوسکتی ہے۔ ایک ایسا عقیدہ جو ایک طرف اخلاقی اقدار اور معیارِ ردّوقبول فراہم کرے اور دوسری طرف اس بالاتر قوت کا تعین بھی کرے، جس سے یہ اقدار و معیارات ماخوذ ہوں، اور انھیں سند کا درجہ حاصل ہو اور اُس جزاوسزا کی نشان دہی بھی کرے جو اِن اقدار و معیارات کی پابندی یا اُن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اُس بالاتر قوت کی طرف سے دی جائے گی۔ دلوں پر اِس نوعیت کے عقیدہ کی تفہیم اور بالاتر قوت کے تصور کے بغیر اقدارومعیارات خواہ وہ کتنے ہی بلندپایہ کیوں نہ ہوں مسلسل تغیر کا نشانہ بنے رہیں گے، اور ان کی بنیاد پر جو بھی اخلاقی نظام قائم ہوگا وہ ڈانواں ڈول ہی رہے گا۔ چنانچہ اُس کے پاس کوئی ضابطہ نہ ہوگا، کوئی نگران اور محتسب طاقت نہ ہوگی، کیونکہ دل جزا و سزا کے کسی لالچ یا خوف سے بالکل خالی ہوں گے۔

ہمہ گیر انقلابصبر آزما کوششوں سے جب عقیدئہ اُلوہیت دلوں میں راسخ ہوگیا اور اس ہمہ گیر بالاتر قوت کا تصور بھی دلوں میں اُتر گیا جس سے اِس عقیدہ کو سند حاصل ہوتی تھی، دوسرے لفظوں میں جب انسانوں نے اپنے ربّ کو پہچان لیا اور صرف اُسی کی بندگی کرنے لگے، جب انسان خواہشاتِ نفس کی غلامی سے، اور اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کی آقائی سے آزاد ہوگئے اور لا الٰہ الا اللہ کا تصور دلوں میں پوری طرح نقش ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے اس عقیدہ کے ماننے والوں کے ذریعے وہ سب کچھ عطا فرما دیا جو وہ تصور کرسکتے تھے۔ اللہ کی زمین رُومی اور ایرانی سامراج سے پاک ہوگئی، لیکن اس تطہیر کا مُدعا یہ نہیں تھا کہ اب اللہ کی زمین پر عربوں کا سکّہ رواں ہو بلکہ یہ انقلاب اس لیے تھا کہ اللہ کی زمین پر اللہ ہی کا بول بالا ہو۔ چنانچہ زمین اللہ کے سب باغیوں سے، خواہ وہ رُومی تھے یا ایرانی یا عربی پاک کردی گئی۔

نیا اسلامی معاشرہ ظلم اور لُوٹ کھسوٹ سے بالکل پاک تھا۔ یہ اسلامی نظام تھا اور اس میں عدلِ الٰہی پوری طرح جلوہ گر تھا۔ یہاں صرف میزانِ الٰہی میں ہر صحیح و غلط کو تولا جاتا تھا۔ اِس عدلِ اجتماعی کی بنیاد توحید تھی اور اس کا اصطلاحی نام ’اسلام‘ تھا۔ اس کے ساتھ کسی اور نام یا اصطلاح کا اضافہ کبھی گوارا نہیں کیا گیا۔ اس پر صرف یہ عبارت کندہ تھی: ’لا الٰہ الا اللہ‘۔

نفوس اور اخلاق میں نکھار آگیا۔ قلوب و اَرواح کا تزکیہ ہوگیا اور یہ اصلاح اس انداز سے ہوئی کہ چند مستثنیٰ مثالوں کو چھوڑ کر ان حدود و تعزیرات کے استعمال کی نوبت ہی نہ آئی، جن کو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا تھا۔ اس لیے کہ اب ضمیروں کے اندر پولیس کی چوکیاں قائم ہوگئیں۔ اب اللہ کی خوشنو دی کی طلب، اجر کی خواہش، اللہ کے غضب اور عذاب کا خو ف محتسب کا فرض انجام دے رہا تھا۔ الغرض انسانی نظام، انسانی اخلاق اور انسانی زندگی کمال کی اُس بلندی تک پہنچ گئی جس تک نہ پہلے کبھی پہنچی تھی، اور نہ صدرِ اوّل کے بعد آج تک پہنچ سکی ہے۔

یہ انقلابِ عظیم کیسے برپا ہوا؟یہ انقلابِ عظیم اور کمالِ انسانیت صرف اِس بنا پر حاصل ہوا کہ جن لوگوں نے دینِ حق کو ایک ریاست، ایک نظام اور جامع قانون وشریعت کی شکل میں قائم کیا تھا، وہ خود پہلے اسے اپنے قلب و ضمیر اور اپنی زندگی میں قائم کرچکے تھے۔ اسے عقیدہ و فکر کے طور پر تسلیم کرچکے تھے۔ اپنے اخلاق کو اس سے آراستہ و پیراستہ کرچکے تھے، اپنی عبادات میں اسے سند کا درجہ دے چکے تھے اور اپنے معاملات میں اس کا سکّہ رواں کرچکے تھے۔ اُس دین کی اقامت پر اُن سے صرف ایک ہی وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ وعدہ ان کے غلبہ و اقتدار کا وعدہ نہ تھا، حتیٰ کہ یہ وعدہ بھی نہ تھا کہ یہ دین لازماً انھی کے ہاتھوں غالب ہوگا۔ یہ وعدہ اس دُنیا کی کسی بھی چیز سے متعلق نہ تھا، ایک ہی وعدہ جو ان سے کیا گیا تھا وہ جنّت کا وعدہ تھا۔ یہی ایک وعدہ تھا جو صبر آزما جہاد اور زُہرہ گداز آزمایشیں جھیلنے اور پامردی و استقامت کے ساتھ راہِ دعوت پر رواں دواں رہنے اور پھر جاہلیت کا مقابلہ لا الٰہ الا اللہ میں پنہاں حقیقت کبریٰ کے ساتھ کرنے پر ان سے کیا گیا تھا۔ لا الٰہ الا اللہ میں پنہاں حقیقت کبریٰ جو ہر زمان و مکان کے فرماں روائوں کے لیے ناگوار رہی ہے۔

جب اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمائش کی بھٹی میں ڈالا اور وہ ثابت قدم رہے اور ہرنفسانی خواہش اور حظ سے دست بردار ہوگئے، اور جب اللہ تعالیٰ نے جان لیا کہ وہ اب کسی طور پر کسی دُنیاوی جزا اور صلہ کے منتظر نہیں، نہ انھیں اس کا ہی انتظار ہے کہ یہ دعوت لازماً اُن ہی کے ہاتھوں غلبہ حاصل کرے، اور یہ دین ان ہی کی قربانیوں اورکوششوں سے بالاو برتر ہو، ان کے دلوں میں نہ آبا واجدادکا تفاخر باقی رہا ہے، نہ قومی گھمنڈ کے جراثیم، نہ وطن و ملک کی بڑائی کا جذبہ اور نہ قبائلی اور نسبی عصبیتوں کی خُوبُو۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے انھیں ان خوبیوں سے آراستہ دیکھا، تب جاکر اُن کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ یہ لوگ اب ’امانت عظمیٰ‘ (یعنی خلافت ِ ارضی) کے بار کو اُٹھا سکتے ہیں۔ یہ اس عقیدے میں کھرےہیں جس کا تقاضا ہے کہ ہرطرح کی حاکمیت صرف اللہ سبحانہٗ تعالیٰ ہی کے لیے مخصوص ہو، دل و ضمیر پر، اخلاق و عبادات پر، جان و مال پر، اور حالات و ظروف پر صرف اُسی کی حاکمیت ہو۔ اللہ کو یہ معلوم تھا کہ یہ اس سیاسی اقتدار کے سچے محافظ ثابت ہوں گے، جو اُن کے ہاتھوں میں اس غرض کے لیے دیا جائے گا تاکہ شریعت الٰہی کو نافذ کریں اور عدلِ الٰہی کو قائم کریں، مگر اس اقتدار میں سے ان کی اپنی ذات کے لیے یا اپنی قوم کے لیے کوئی حصہ نہ ہو۔ بلکہ وہ حاکمیت سراسر اللہ تعالیٰ کے لیے خالص ہو اور اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی خدمت کے لیے ہو، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس اقتدار کا منبع صرف اللہ ہی ہے اور اُسی نے اسے ان کی تحویل میں دیا ہے۔

اگر دعوتِ اسلامی کا قافلہ اس انداز سے روانۂ سفر نہ ہوتا، اور دوسرے تمام جھنڈوں کو پھینک کر صرف اسی جھنڈے یعنی ’لا الٰہ الا اللہ‘ کے پرچمِ توحید کو بلند نہ کرتا، اور اس راہ کو اختیار نہ کرتا جو ظاہر میں دشوار گزار اور جاں گسل راہ تھی، مگر حقیقت میں آسان اور بابرکت تھی، تو اِس مبارک اور پاکیزہ نظام کا کوئی جز بھی اتنے بلند معیار کے ساتھ ہرگز بروئے عمل نہ آسکتا تھا۔ اِسی طرح اگر یہ دعوت اپنے ابتدائی مراحل میں قومی نعرہ بن کر سامنے آتی یا اقتصادی تحریک کے لبادے میں ظاہر ہوتی، یا اصلاحی مہم کا قالب اختیار کرتی، یا ’لا الٰہ الا اللہ‘ کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے شعار اور نعرے بھی شامل کرلیتی، تو یہ پاکیزہ و مبارک نظام جو اس دعوت کے نتیجے میں قائم ہوا، کبھی خالص ربانی نظام بن کر جلوہ گر نہ ہوسکتا۔