
محمد بن قاسم اور فتحِ سندھ: ایک تاریخی جائزہ
برصغیر پاک و ہند بالخصوص سندھ کی تاریخ میں آٹھویں صدی عیسوی کا آغاز ایک ایسے اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے جس نے اس خطے کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی نقشے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ اسلامی تاریخ کے جھروکوں میں اس عہد کا سب سے روشن باب برصغیر میں اسلامی فتوحات کا باقاعدہ آغاز ہے، جس کی قیادت ایک نوجوان، مدبر اور بہادر سپہ سالار محمد بن قاسم نے کی۔ سندھ میں اسلام کی آمد محض ایک عسکری فتح نہیں تھی، بلکہ یہ اس خطے کے پسے ہوئے، محکوم اور طبقاتی نظام کے ستائے ہوئے عوام کے لیے ایک نئی صبح کا پیغام تھی۔ اس وقت سندھ پر راجہ داہر کی جابرانہ حکومت تھی، جس کے دورِ اقتدار میں مقامی آبادی، خصوصاً نچلی ذاتوں، بدھ مت ماننے والوں اور کسانوں کو سخت سماجی اور معاشی مظالم کا سامنا تھا۔
02 جولائی 711 عیسوی (10 رمضان 92 ہجری) میں محمد بن قاسم کی آمد نے اس ظالمانہ نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور مظلومین کو ظلم و ستم کے اندھیروں سے نجات دلائی۔
اس تاریخی واقعے کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سندھ کے اس وقت کے سیاسی و معاشرتی حالات کا جائزہ لیا جائے۔ سندھ پر برہمن خاندان کی حکومت تھی اور راجہ داہر اس تخت کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ اس دور کا سماجی ڈھانچہ ذات پات کے سخت اور غیر منصفانہ نظام میں جکڑا ہوا تھا۔ برہمن اشرافیہ نے معاشرے کو سختی سے طبقات میں تقسیم کر رکھا تھا، جہاں شودر اور دیگر نچلے طبقے کے لوگوں کو انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا تھا۔ انہیں نہ صرف مذہبی رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں تھی بلکہ ان پر طرح طرح کے بھاری ٹیکس اور سماجی پابندیاں عائد تھیں۔ اس کے علاوہ راجہ داہر کے دور میں بدھ مت کے پیروکاروں کو بھی حکومتی سطح پر تعصب اور جبر کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، حالانکہ سندھ کی ایک بڑی آبادی بدھ مت کی پیروکار تھی۔ بدھ مت کے ماننے والے، جو امن اور رواداری کے قائل تھے، اس ریاستی جبر سے انتہائی دل گرفتہ تھے۔ مورخین اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ راجہ داہر کا اقتدار انصاف پر مبنی نہیں تھا بلکہ یہ مطلق العنان اور جابرانہ نظام کی ایک بدترین مثال تھا، جس نے عوام کو غلامی اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا تھا۔
سندھ میں اس بحران کے دوران خلیفہ ولید بن عبدالملک کی خلافتِ امویہ کے دور میں بصرہ کے حاکم حجاج بن یوسف کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اس مہم کا فوری سبب بنے۔
708 عیسوی (89 ہجری) سری لنکا کے حاکم کی جانب سے بیش قیمتی تحائف، جواہرات اور ریشم کے ساتھ ساتھ مسلمان بیواؤں اور یتیم بچوں کو بحری جہازوں کے ذریعے خلیفہ کے پاس روانہ کیا گیا تھا۔ اس جہاز کو دبیل کی بندرگاہ کے قریب قزاقوں نے لوٹ لیا اور مسافروں کو قید کر لیا۔ جب حجاج بن یوسف نے راجہ داہر سے مطالبہ کیا کہ وہ قزاقوں کو سزا دے اور مظلوم مسلمانوں کو رہا کر کے لوٹا ہوا مال واپس کرے، تو راجہ داہر نے غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ یہ قزاق اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ اس کے علاوہ راجہ داہر نے خلافتِ اسلامیہ کے باغیوں کو بھی اپنی ریاست میں پناہ دے رکھی تھی۔ ان سیاسی اور اخلاقی وجوہات کی بنا پر حجاج بن یوسف نے سندھ میں ایک فوجی مہم روانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پہلا لشکر ایک فوجی کمانڈر عبیداللہ کی قیادت میں روانہ کیا مگر راجہ داہر سے مقابلے میں اسے شکست ہوئی اور جنگ میں مارا گیا۔ اس کے بعد ایک اور لشکر ایک اور فوجی کمانڈر بدیل کی قیادت میں بھیجا مگر اس کا انجام بھی عبیداللہ جیسا ہی ہوا۔ آخر کار حجاج نے ایک فیصلہ کن اور منظم فوجی کاروائی کا ارادہ کیا اور ایک بڑا لشکر تیار کیا،جس کی کمان سترہ سالہ نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم کو سونپی گئی۔
محمد بن قاسم کی قیادت میں اسلامی لشکر نے منظم حکمت عملی کے ساتھ سندھ کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کی۔ اس مہم کا آغاز
712 عیسوی (93 ہجری) میں دبیل کی فتح سے ہوا، جہاں کے قلعے کو تسخیر کرنے کے بعد محمد بن قاسم نے وہاں کے مقامی باشندوں کو مکمل امان دی اور ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا اعلان کیا۔ اسلامی فوج کا یہ رویہ سندھ کے عام لوگوں کے لیے بالکل نیا اور حیرت انگیز تھا، کیونکہ وہ ظالم حکمرانوں کے ہتھکنڈوں کے عادی تھے۔ دبیل کے بعد اسلامی لشکر نے نیرون اور دیگر علاقوں کی طرف رخ کیا۔ ہر مقام پر محمد بن قاسم نے عدل و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور مقامی آبادی کو یقین دلایا کہ ان کا مقصد کسی پر ظلم کرنا نہیں بلکہ ظالم حکمرانوں کے جبر کا خاتمہ کرنا ہے۔
اس فتوحات کے سلسلے میں سب سے بڑا معرکہ
20 جون 712 (10 رمضان 93 ہجری) میں آرور میں پیش آیا، جہاں راجہ داہر نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ اسلامی فوج کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ آرور کے میدان میں راجہ داہر اور محمد بن قاسم کی افواج کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی۔ راجہ داہر اپنی روایتی فوج، ہاتھیوں کے دستے اور زبردست جنگی سازوسامان کے ساتھ میدان میں اترا تھا، لیکن محمد بن قاسم کی بہترین جنگی حکمت عملی، بہادری اور اسلامی فوج کے بلند حوصلے کے سامنے راجہ داہر کے لشکر کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اس جنگ کے دوران راجہ داہر میدانِ جنگ میں ہلاک ہو گیا، جس کے ساتھ ہی سندھ میں برہمن حکومت کا سورج ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ راجہ داہر کے زوال کے ساتھ ہی وہ زنجیریں بھی ٹوٹ گئیں جن میں سندھ کی مظلوم عوام جکڑی ہوئی تھی، اور اس طرح مقامی آبادی کے لیے آزادی کا نیا سورج طلوع ہوا۔
فتح کے بعد محمد بن قاسم نے جو انتظامی اقدامات اٹھائے، وہ انسانی تاریخ میں عدل و رواداری کی بہترین مثال تصور کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے سندھ کے تمام طبقات، بالخصوص بدھ مت کے پیروکاروں اور نچلی ذات کے لوگوں کو مساوی حقوق فراہم کیے۔ مندروں اور عبادت گاہوں کے احترام کو بحال کیا گیا اور برہمنوں کو ان کے پرانے منصب اور ذمہ داریاں واپس دی گئیں تاکہ معاشرے کا نظام بلا تعطل چلتا رہے۔ محمد بن قاسم کی اس روادارانہ پالیسی نے مقامی لوگوں کے دل جیت لیے۔ وہ لوگ جو کل تک راجہ داہر کے مظالم تلے سسک رہے تھے، اب نئے نظام میں خود کو محفوظ اور معزز محسوس کرنے لگے۔ ٹیکسوں کے نظام کو منصفانہ بنایا گیا اور کسانوں و تاجروں کو ظالم جاگیرداروں کے استحصال سے نجات ملی۔
تاریخی حقائق اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سندھ میں اسلام کی آمد محض تلوار کے زور پر نہیں بلکہ محمد بن قاسم کے حسنِ سلوک، عدل، مساوات اور اخلاقِ کریمانہ کی بدولت پھیلی۔ یہاں کے عام لوگوں نے اسلام کے اس پیغام کو کھلے دل سے قبول کیا جو رنگ، نسل، ذات اور پات کی تفریق کے بغیر تمام انسانوں کو برابر کا درجہ دیتا ہے۔ اس فتح کے نتیجے میں سندھ میں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جہاں علم، تجارت اور ثقافت نے نئی راہیں پائیں۔ ملتان اور منصورہ جیسے شہر علم و دانش کے مراکز بن گئے، جہاں عرب اور مقامی تہذیبوں کے امتزاج نے ایک شاندار تمدن کو جنم دیا۔
آج جب ہم اس پوری تاریخ کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ محمد بن قاسم کا سندھ آنے کا مقصد کسی ملک کو لوٹنا یا غلام بنانا نہیں تھا، بلکہ ایک مظلوم خطے کو ظالم اور جابر حکمران کے پنجۂ استبداد سے آزاد کرانا تھا۔ راجہ داہر کے مظالم کی چکی میں پسنے والی عوام کے لیے یہ مہم خدائی نصرت کی مانند تھی۔ محمد بن قاسم نے اپنے قلیل عرصے کے قیام میں سندھ کی تاریخ کا رخ موڑ دیا اور یہاں کے لوگوں کو ایک ایسا نظامِ زندگی عطا کیا جو عدل، رواداری اور بھائی چارے پر مبنی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ کے باسیوں نے اس دور کو ہمیشہ بہتری اور نجات کی علامت کے طور پر یاد رکھا، اور آج بھی اس خطے میں اس تاریخ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
آج کے دور میں ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو مسخ کرنے والی روایات کے بجائے حقائق کی روشنی میں سمجھیں اور نوجوان نسل کو اس روشن ماضی سے روشناس کروائیں۔ ہمیں محمد بن قاسم کے اسوۂ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے معاشرے سے طبقاتی ناانصافیوں، تعصبات اور ظلم کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ملک میں عدل، رواداری اور مساوات پر مبنی ایک حقیقی فلاحی معاشرہ تشکیل پا سکے۔



